Loading...

Loading...
کتب
۳۷ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: ”قتل خطا ۱؎ کی دیت ۲؎ بیس بنت مخاض ۳؎، بیس ابن مخاض، بیس بنت لبون ۴؎، بیس جذعہ ۵؎ اور بیس حقہ ۶؎ ہے“۔ ہم کو ابوہشام رفاعی نے ابن ابی زائدہ اور ابوخالد احمر سے اور انہوں نے حجاج بن ارطاۃ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں اور عبداللہ بن مسعود سے یہ حدیث موقوف طریقہ سے بھی آئی ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ۴- اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دیت تین سال میں لی جائے گی، ہر سال دیت کا تہائی حصہ لیا جائے گا، ۵- اور ان کا خیال ہے کہ دیت خطا عصبہ پر ہے، ۶- بعض لوگوں کے نزدیک عصبہ وہ ہیں جو باپ کی جانب سے آدمی کے قرابت دار ہوں، مالک اور شافعی کا یہی قول ہے، ۷- بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ عصبہ میں سے جو مرد ہیں انہی پر دیت ہے، عورتوں اور بچوں پر نہیں، ان میں سے ہر آدمی کو چوتھائی دینار کا مکلف بنایا جائے گا، ۸- کچھ لوگ کہتے ہیں: آدھے دینار کا مکلف بنایا جائے گا، ۹- اگر دیت مکمل ہو جائے گی تو ٹھیک ہے ورنہ سب سے قریبی قبیلہ کو دیکھا جائے گا اور ان کو اس کا مکلف بنایا جائے گا۔
حدثنا علي بن سعيد الكندي الكوفي، اخبرنا ابن ابي زايدة، عن الحجاج، عن زيد بن جبير، عن خشف بن مالك، قال سمعت ابن مسعود، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في دية الخطا عشرين بنت مخاض وعشرين بني مخاض ذكورا وعشرين بنت لبون وعشرين جذعة وعشرين حقة . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو . حدثنا ابو هشام الرفاعي، اخبرنا ابن ابي زايدة، وابو خالد الاحمر عن الحجاج بن ارطاة، نحوه . قال ابو عيسى حديث ابن مسعود لا نعرفه مرفوعا الا من هذا الوجه وقد روي عن عبد الله موقوفا . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا وهو قول احمد واسحاق . وقد اجمع اهل العلم على ان الدية توخذ في ثلاث سنين في كل سنة ثلث الدية وراوا ان دية الخطا على العاقلة . وراى بعضهم ان العاقلة قرابة الرجل من قبل ابيه . وهو قول مالك والشافعي . وقال بعضهم انما الدية على الرجال دون النساء والصبيان من العصبة يحمل كل رجل منهم ربع دينار . وقد قال بعضهم الى نصف دينار فان تمت الدية والا نظر الى اقرب القبايل منهم فالزموا ذلك
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا، اگر وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں اور چاہیں تو اس سے دیت لیں، دیت کی مقدار تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس خلفہ ۱؎ ہے اور جس چیز پر وارث مصالحت کر لیں وہ ان کے لیے ہے اور یہ دیت کے سلسلہ میں سختی کی وجہ سے ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا احمد بن سعيد الدارمي، اخبرنا حبان، وهو ابن هلال حدثنا محمد بن راشد، اخبرنا سليمان بن موسى، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قتل مومنا متعمدا دفع الى اولياء المقتول فان شاءوا قتلوا وان شاءوا اخذوا الدية وهي ثلاثون حقة وثلاثون جذعة واربعون خلفة وما صالحوا عليه فهو لهم " . وذلك لتشديد العقل . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن عمرو حديث حسن غريب
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت بارہ ہزار درہم مقرر کی۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معاذ بن هاني، حدثنا محمد بن مسلم الطايفي، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه جعل الدية اثنى عشر الفا
ہم سے سعید بن عبدالرحمٰن المخزومی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار کے واسطے سے بیان کیا، عمرو بن دینار نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اس روایت میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا، ابن عیینہ کی روایت میں محمد بن مسلم طائفی کی روایت کی بنسبت کچھ زیادہ باتیں ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہمارے علم میں محمد بن مسلم کے علاوہ کسی نے اس حدیث میں ”ابن عباس“ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ۲- بعض اہل علم کے نزدیک اسی حدیث پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ۳- اور بعض اہل اعلم کے نزدیک دیت دس ہزار ( درہم ) ہے، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے، ۴- امام شافعی کہتے ہیں: ہم اصل دیت صرف اونٹ کو سمجھتے ہیں اور وہ سو اونٹ یا اس کی قیمت ہے۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه ولم يذكر فيه عن ابن عباس وفي حديث ابن عيينة كلام اكثر من هذا . قال ابو عيسى ولا نعلم احدا يذكر في هذا الحديث عن ابن عباس غير محمد بن مسلم . والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم وهو قول احمد واسحاق . وراى بعض اهل العلم الدية عشرة الاف وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة . وقال الشافعي لا اعرف الدية الا من الابل وهي ماية من الابل او قيمتها
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «موضحہ» ( ہڈی کھل جانے والے زخم ) ۱؎ میں پانچ اونٹ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول یہی ہے کہ «موضحہ» ( ہڈی کھل جانے والے زخم ) میں پانچ اونٹ ہیں۔
حدثنا حميد بن مسعدة، اخبرنا يزيد بن زريع، اخبرنا حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " في المواضح خمس خمس " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . والعمل على هذا عند اهل العلم وهو قول سفيان الثوري والشافعي واحمد واسحاق ان في الموضحة خمسا من الابل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں کی دیت کے بارے میں فرمایا: ”دونوں ہاتھ اور دونوں پیر برابر ہیں، ( دیت میں ) ہر انگلی کے بدلے دس اونٹ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے ابن عباس کی حدیث حسن صحیح اور غریب ہے، ۲- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں۔
حدثنا ابو عمار، حدثنا الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، عن يزيد بن عمرو النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " دية الاصابع اليدين والرجلين سواء عشر من الابل لكل اصبع " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي موسى وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . والعمل على هذا عند اهل العلم وبه يقول سفيان والشافعي واحمد واسحاق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت میں یہ اور یہ برابر ہیں، یعنی چھنگلیا انگوٹھا“ ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، ومحمد بن جعفر، قالا حدثنا شعبة، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " هذه وهذه سواء " . يعني الخنصر والابهام . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوسفر سعید بن احمد کہتے ہیں کہ ایک قریشی نے ایک انصاری کا دانت توڑ دیا، انصاری نے معاویہ رضی الله عنہ سے فریاد کی، اور ان سے کہا: امیر المؤمنین! اس ( قریشی ) نے میرا دانت توڑ دیا ہے، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: ہم تمہیں ضرور راضی کریں گے، دوسرے ( یعنی قریشی ) نے معاویہ رضی الله عنہ سے بڑا اصرار کیا اور ( یہاں تک منت سماجت کی کہ ) انہیں تنگ کر دیا، معاویہ اس سے مطمئن نہ ہوئے، چنانچہ معاویہ نے اس سے کہا: تمہارا معاملہ تمہارے ساتھی کے ہاتھ میں ہے، ابو الدرداء رضی الله عنہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ابو الدرداء رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے، میرے کانوں نے اسے سنا ہے اور دل نے اسے محفوظ رکھا ہے، آپ فرما رہے تھے: ”جس آدمی کے بھی جسم میں زخم لگے اور وہ اسے صدقہ کر دے ( یعنی معاف کر دے ) تو اللہ تعالیٰ اسے ایک درجہ بلندی عطا کرتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے، انصاری نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے سنا ہے؟ ابو الدرداء نے کہا: میرے دونوں کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے، اس نے کہا: تو میں اس کی دیت معاف کر دیتا ہوں، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: لیکن میں تمہیں محروم نہیں کروں گا، چنانچہ انہوں نے اسے کچھ مال دینے کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہمیں یہ صرف اسی سند سے معلوم ہے، مجھے نہیں معلوم کہ ابوسفر نے ابو الدرداء سے سنا ہے، ۲- ابوسفر کا نام سعید بن احمد ہے، انہیں ابن یحمد ثوری بھی کہا جاتا ہے۔
حدثنا احمد بن محمد، حدثنا عبد الله بن المبارك، حدثنا يونس بن ابي اسحاق، حدثنا ابو السفر، قال دق رجل من قريش سن رجل من الانصار فاستعدى عليه معاوية فقال لمعاوية يا امير المومنين ان هذا دق سني . قال معاوية انا سنرضيك والح الاخر على معاوية فابرمه فلم يرضه فقال له معاوية شانك بصاحبك . وابو الدرداء جالس عنده قال ابو الدرداء سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من رجل يصاب بشيء في جسده فيتصدق به الا رفعه الله به درجة وحط عنه به خطيية " . قال الانصاري اانت سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سمعته اذناى ووعاه قلبي . قال فاني اذرها له . قال معاوية لا جرم لا اخيبك . فامر له بمال . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . ولا اعرف لابي السفر سماعا من ابي الدرداء وابو السفر اسمه سعيد بن احمد ويقال ابن يحمد الثوري
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک لڑکی زیور پہنے ہوئے کہیں جانے کے لیے نکلی، ایک یہودی نے اسے پکڑ کر پتھر سے اس کا سر کچل دیا اور اس کے پاس جو زیور تھے وہ اس سے چھین لیا، پھر وہ لڑکی ایسی حالت میں پائی گئی کہ اس میں کچھ جان باقی تھی، چنانچہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے اس سے پوچھا: ”تمہیں کس نے مارا ہے، فلاں نے؟“ اس نے سر سے اشارہ کیا: نہیں، آپ نے پوچھا: ”فلاں نے؟“ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا ( جس نے اس کا سر کچلا تھا ) تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا یعنی ہاں! تو یہودی پکڑا گیا، اور اس نے اعتراف جرم کر لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، اور اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں: قصاص صرف تلوار سے لیا جائے گا ۱؎۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا همام، عن قتادة، عن انس، قال خرجت جارية عليها اوضاح فاخذها يهودي فرضخ راسها بحجر واخذ ما عليها من الحلي . قال فادركت وبها رمق فاتي بها النبي صلى الله عليه وسلم فقال " من قتلك افلان " . قالت براسها لا . قال " ففلان " . حتى سمي اليهودي فقالت براسها اى نعم . قال فاخذ فاعترف فامر به رسول الله صلى الله عليه وسلم فرضخ راسه بين حجرين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وهو قول احمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم لا قود الا بالسيف
عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کی بربادی اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل ہونے سے کہیں زیادہ کمتر و آسان ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے محمد بن بشار نے بسند «محمد بن جعفر حدثنا شعبة عن يعلى بن عطاء عن أبيه عن عبد الله بن عمرو» اسی طرح روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۲- یہ روایت ابن ابی عدی کی روایت کے بالمقابل زیادہ صحیح ہے ( یعنی موقوف ہونا زیادہ صحیح ہے ) ، ۳- عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کو ابن ابی عدی نے شعبہ سے، بسند «يعلى بن عطاء عن أبيه عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے، جب کہ محمد بن جعفر اور ان کے علاوہ دوسروں نے شعبہ سے بسند «يعلى بن عطاء» روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، اسی طرح سفیان ثوری نے یعلیٰ بن عطاء سے موقوفا روایت کی ہے اور یہ ( موقوف روایت ابن ابی عدی کی ) مرفوع حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۴- اس باب میں سعد، ابن عباس، ابوسعید، ابوہریرہ، عقبہ بن عامر، ابن مسعود اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( آخرت میں ) بندوں کے درمیان سب سے پہلے خون کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ کی حدیث حسن صحیح ہے، اسی طرح کئی لوگوں نے اعمش سے مرفوعاً روایت کی ہے، ۲- اور بعض نے اعمش سے روایت کی ہے ان لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کہا ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا شعبة، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اول ما يحكم بين العباد في الدماء " . قال ابو عيسى حديث عبد الله حديث حسن صحيح . وهكذا روى غير واحد عن الاعمش مرفوعا وروى بعضهم عن الاعمش ولم يرفعوه
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( آخرت میں ) بندوں کے درمیان سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا“۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اول ما يقضى بين العباد في الدماء
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آسمان اور زمین والے ( سارے کے سارے ) ایک مومن کے خون میں ملوث ہو جائیں تو اللہ ان ( سب ) کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا الحسين بن حريث، حدثنا الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، عن يزيد الرقاشي، حدثنا ابو الحكم البجلي، قال سمعت ابا سعيد الخدري، وابا، هريرة يذكران عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لو ان اهل السماء واهل الارض اشتركوا في دم مومن لاكبهم الله في النار " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وابو الحكم البجلي هو عبد الرحمن بن ابي نعم الكوفي
سراقہ بن مالک بن جعشم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ( تو دیکھا ) کہ آپ باپ کو بیٹے سے قصاص دلواتے تھے اور بیٹے کو باپ سے قصاص نہیں دلواتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سراقہ رضی الله عنہ کی اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اس کی سند صحیح نہیں ہے، اسے اسماعیل بن عیاش نے مثنیٰ بن صباح سے روایت کی ہے اور مثنیٰ بن صباح حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں، ۲- اس حدیث کو ابوخالد اُحمر نے بطریق: «عن الحجاج بن أرطاة عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۴- یہ حدیث عمرو بن شعیب سے مرسلاً بھی مروی ہے، اس حدیث میں اضطراب ہے، ۴- اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ باپ جب اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو بدلے میں ( قصاصاً ) اسے قتل نہیں کیا جائے گا اور جب باپ اپنے بیٹے پر ( زنا کی ) تہمت لگائے تو اس پر حد قذف نافذ نہیں ہو گی۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا المثنى بن الصباح، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن سراقة بن مالك بن جعشم، قال حضرت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقيد الاب من ابنه ولا يقيد الابن من ابيه . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه من حديث سراقة الا من هذا الوجه وليس اسناده بصحيح رواه اسماعيل بن عياش عن المثنى بن الصباح . والمثنى بن الصباح يضعف في الحديث . وقد روى هذا الحديث ابو خالد الاحمر عن الحجاج بن ارطاة عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم وقد روي هذا الحديث عن عمرو بن شعيب مرسلا وهذا حديث فيه اضطراب . والعمل على هذا عند اهل العلم ان الاب اذا قتل ابنه لا يقتل به واذا قذف ابنه لا يحد
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا“ ۱؎۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا الاحمر، عن الحجاج بن ارطاة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن عمر بن الخطاب، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يقاد الوالد بالولد
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجدوں میں حدود نہیں قائم کی جائیں گی اور بیٹے کے بدلے باپ کو ( قصاص میں ) قتل نہیں کیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس سند سے اس حدیث کو ہم صرف اسماعیل بن مسلم کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں اور اسماعیل بن مسلم مکی کے حفظ کے سلسلے میں بعض اہل علم نے کلام کیا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن اسماعيل بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقام الحدود في المساجد ولا يقتل الوالد بالولد " . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه بهذا الاسناد مرفوعا الا من حديث اسماعيل بن مسلم . واسماعيل بن مسلم المكي قد تكلم فيه بعض اهل العلم من قبل حفظه
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان شخص کا خون جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، حلال نہیں سوائے تین باتوں میں سے کسی ایک کے: یا تو وہ شادی شدہ زانی ہو، یا جان کو جان کے بدلے مارا جائے، یا وہ اپنا دین چھوڑ کر جماعت مسلمین سے الگ ہو گیا ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عثمان، عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحل دم امري مسلم يشهد ان لا اله الا الله واني رسول الله الا باحدى ثلاث الثيب الزاني والنفس بالنفس والتارك لدينه المفارق للجماعة " . قال وفي الباب عن عثمان وعايشة وابن عباس . قال ابو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! جس نے کسی ایسے ذمی ۱؎ کو قتل کیا جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ حاصل تھی تو اس نے اللہ کے عہد کو توڑ دیا، لہٰذا وہ جنت کی خوشبو نہیں پا سکے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت ( دوری ) سے آئے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوہریرہ کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے، ۳- اس باب میں ابوبکرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معدي بن سليمان، هو البصري عن ابن عجلان، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الا من قتل نفسا معاهدة له ذمة الله وذمة رسوله فقد اخفر بذمة الله فلا يرح رايحة الجنة وان ريحها ليوجد من مسيرة سبعين خريفا " . قال وفي الباب عن ابي بكرة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ عامر کے دو آدمیوں کو مسلمانوں کے برابر دیت دی، ( کیونکہ ) ان دونوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد و پیمان تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حدیث کے راوی ابوسعد بقال کا نام سعید بن مرزبان ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا يحيى بن ادم، عن ابي بكر بن عياش، عن ابي سعد، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم ودى العامريين بدية المسلمين وكان لهما عهد من رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وابو سعد البقال اسمه سعيد بن المرزبان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب اللہ نے اپنے رسول کے لیے مکہ کو فتح کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”جس کا کوئی شخص مارا گیا ہو اسے دو باتوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہے: یا تو معاف کر دے یا ( قصاص میں ) اسے قتل کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ( کماسیأتی ) ، ۲- اس باب میں وائل بن حجر، انس، ابوشریح اور خویلد بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، ويحيى بن موسى، قالا حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني يحيى بن ابي كثير، حدثني ابو سلمة، حدثني ابو هريرة، قال لما فتح الله على رسوله مكة قام في الناس فحمد الله واثنى عليه ثم قال " ومن قتل له قتيل فهو بخير النظرين اما ان يعفو واما ان يقتل " . قال وفي الباب عن وايل بن حجر وانس وابي شريح خويلد بن عمرو