Loading...

Loading...
کتب
۲۹ احادیث
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے رضاعت سے بھی وہ سارے رشتے حرام کر دئیے ہیں جو نسب سے حرام ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابن عباس اور ام حبیبہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس سلسلے میں ہم ان کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں جانتے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب، عن علي بن ابي طالب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله حرم من الرضاع ما حرم من النسب " . قال وفي الباب عن عايشة وابن عباس وام حبيبة . قال ابو عيسى حديث علي حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام قرار دے دیئے ہیں جو ولادت ( نسب ) سے حرام ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ان کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف ہے۔
حدثنا بندار، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، حدثنا مالك، ح وحدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن سليمان بن يسار، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله حرم من الرضاعة ما حرم من الولادة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم لا نعلم بينهم في ذلك اختلافا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا آئے، وہ مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے، تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کیا یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرے پاس آ سکتے ہیں کیونکہ وہ تیرے چچا ہیں“، اس پر انہوں نے عرض کیا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے نہیں، تو آپ نے فرمایا: ”تیرے چچا ہیں، وہ تیرے پاس آ سکتے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے انہوں نے «لبن فحل» ( مرد کے دودھ ) کو حرام کہا ہے۔ اس باب میں اصل عائشہ کی حدیث ہے، ۳- اور بعض اہل علم نے «لبن فحل» ( مرد کے دودھ ) کی رخصت دی ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا ابن نمير، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت جاء عمي من الرضاعة يستاذن على فابيت ان اذن له حتى استامر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فليلج عليك فانه عمك " . قالت انما ارضعتني المراة ولم يرضعني الرجل . قال " فانه عمك فليلج عليك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم كرهوا لبن الفحل والاصل في هذا حديث عايشة وقد رخص بعض اهل العلم في لبن الفحل والقول الاول اصح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کے پاس دو لونڈیاں ہوں، ان میں سے ایک نے ایک لڑکی کو دودھ پلایا ہے اور دوسری نے ایک لڑکے کو۔ تو کیا اس لڑکے کے لیے جائز ہے کہ وہ اس لڑکی سے شادی کرے۔ انہوں نے ( ابن عباس رضی الله عنہما ) نے کہا: نہیں۔ اس لیے کہ «لقاح» ایک ہی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہی اس باب میں اصل ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا مالك، ح وحدثنا الانصاري، حدثنا معن، قال حدثنا مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن عمرو بن الشريد، عن ابن عباس، انه سيل عن رجل، له جاريتان ارضعت احداهما جارية والاخرى غلاما ايحل للغلام ان يتزوج بالجارية فقال لا اللقاح واحد . قال ابو عيسى وهذا تفسير لبن الفحل وهذا الاصل في هذا الباب وهو قول احمد واسحاق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار یا دو بار چھاتی سے دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام فضل، ابوہریرہ، زبیر بن عوام اور ابن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس حدیث کو دیگر کئی لوگوں نے بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ایک یا دو بار دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی“۔ اور محمد بن دینار نے بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير عن الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اس میں محمد بن دینار بصریٰ نے زبیر کے واسطے کا اضافہ کیا ہے۔ لیکن یہ غیر محفوظ ہے، ۳- محدثین کے نزدیک صحیح ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے جسے انہوں نے بطریق: «عبد الله بن الزبير عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: صحیح ابن زبیر کی روایت ہے جسے انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے اور محمد بن دینار کی روایت جس میں: زبیر کے واسطے کا اضافہ ہے وہ دراصل ہشام بن عروہ سے مروی ہے جسے انہوں نے اپنے والد عروہ سے اور انہوں نے زبیر سے روایت کی ہے، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ۶- عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قرآن میں ( پہلے ) دس رضعات والی آیت نازل کی گئی پھر اس میں سے پانچ منسوخ کر دی گئیں تو پانچ رضاعتیں باقی رہ گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو معاملہ انہیں پانچ پر قائم رہا ۲؎، ۷- اور عائشہ رضی اللہ عنہا اور بعض دوسری ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اسی کا فتویٰ دیتی تھیں، اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ ۸- امام احمد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ”ایک بار یا دو بار کے چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی“ کے قائل ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی عائشہ رضی الله عنہا کے پانچ رضعات والے قول کی طرف جائے تو یہ قوی مذہب ہے۔ لیکن انہیں اس کا فتویٰ دینے کی ہمت نہیں ہوئی، ۹- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ جب پیٹ تک پہنچ جائے تو اس سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔ یہی سفیان ثوری، مالک بن انس، اوزاعی، عبداللہ بن مبارک، وکیع اور اہل کوفہ کا قول ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، قال حدثنا المعتمر بن سليمان، قال سمعت ايوب، يحدث عن عبد الله بن ابي مليكة، عن عبد الله بن الزبير، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تحرم المصة ولا المصتان " . قال وفي الباب عن ام الفضل وابي هريرة والزبير بن العوام وابن الزبير . وروى غير واحد هذا الحديث عن هشام بن عروة عن ابيه عن عبد الله بن الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تحرم المصة ولا المصتان " . وروى محمد بن دينار عن هشام بن عروة عن ابيه عن عبد الله بن الزبير عن الزبير عن النبي عليه الصلاة والسلام . وزاد فيه محمد بن دينار البصري عن الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم وهو غير محفوظ . والصحيح عند اهل الحديث حديث ابن ابي مليكة عن عبد الله بن الزبير عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . وسالت محمدا عن هذا فقال الصحيح عن ابن الزبير عن عايشة وحديث محمد بن دينار خطا اخطا فيه محمد بن دينار وزاد فيه عن الزبير وانما هو هشام بن عروة عن ابيه عن الزبير . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم . وقالت عايشة انزل في القران عشر رضعات معلومات . فنسخ من ذلك خمس وصار الى خمس رضعات معلومات . فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم والامر على ذلك . حدثنا بذلك اسحاق بن موسى الانصاري حدثنا معن حدثنا مالك عن عبد الله بن ابي بكر عن عمرة عن عايشة بهذا . وبهذا كانت عايشة تفتي وبعض ازواج النبي صلى الله عليه وسلم وهو قول الشافعي واسحاق . وقال احمد بحديث النبي صلى الله عليه وسلم " لا تحرم المصة ولا المصتان " . وقال ان ذهب ذاهب الى قول عايشة في خمس رضعات فهو مذهب قوي . وجبن عنه ان يقول فيه شييا . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم يحرم قليل الرضاع وكثيره اذا وصل الى الجوف . وهو قول سفيان الثوري ومالك بن انس والاوزاعي وعبد الله بن المبارك ووكيع واهل الكوفة . عبد الله بن ابي مليكة هو عبد الله بن عبيد الله بن ابي مليكة ويكنى ابا محمد وكان عبد الله قد استقضاه على الطايف وقال ابن جريج عن ابن ابي مليكة قال ادركت ثلاثين من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
عقبہ بن حارث رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نے ایک عورت سے شادی کی تو ایک کالی کلوٹی عورت نے ہمارے پاس آ کر کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ میں نے فلاں کی بیٹی فلاں سے شادی کی ہے، اب ایک کالی کلوٹی عورت نے آ کر کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، وہ جھوٹ کہہ رہی ہے۔ آپ نے اپنا چہرہ مجھ سے پھیر لیا تو میں آپ کے چہرے کی طرف سے آیا، آپ نے ( پھر ) اپنا چہرہ پھیر لیا۔ میں نے عرض کیا: وہ جھوٹی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ وہ کہہ چکی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ اپنی بیوی اپنے سے علاحدہ کر دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عقبہ بن حارث رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو کئی اور بھی لوگوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کیا ہے اور ابن ابی ملیکہ نے عقبہ بن حارث سے روایت کی ہے اور ان لوگوں نے اس میں عبید بن ابی مریم کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، نیز اس میں «دعها عنك» ”اسے اپنے سے علاحدہ کر دو“، کا ذکر بھی نہیں ہے۔ اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ انہوں نے رضاعت کے سلسلے میں ایک عورت کی شہادت کو درست قرار دیا ہے، ۴- ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: رضاعت کے سلسلے میں ایک عورت کی شہادت جائز ہے۔ لیکن اس سے قسم بھی لی جائے گی۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ۵- اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ایک عورت کی گواہی درست نہیں جب تک کہ وہ ایک سے زائد نہ ہوں۔ یہ شافعی کا قول ہے، ۶- وکیع کہتے ہیں: ایک عورت کی گواہی فیصلے میں درست نہیں۔ اور اگر ایک عورت کی گواہی سن کر وہ بیوی سے علاحدگی اختیار کر لے تو یہ عین تقویٰ ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ايوب، عن عبد الله بن ابي مليكة، قال حدثني عبيد بن ابي مريم، عن عقبة بن الحارث، قال وسمعته من، عقبة ولكني لحديث عبيد احفظ قال تزوجت امراة فجاءتنا امراة سوداء فقالت اني قد ارضعتكما . فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت تزوجت فلانة بنت فلان فجاءتنا امراة سوداء فقالت اني قد ارضعتكما وهي كاذبة . قال فاعرض عني . قال فاتيته من قبل وجهه فاعرض عني بوجهه فقلت انها كاذبة . قال " وكيف بها وقد زعمت انها قد ارضعتكما دعها عنك " . قال وفي الباب عن ابن عمر . قال ابو عيسى حديث عقبة بن الحارث حديث حسن صحيح . وقد روى غير واحد هذا الحديث عن ابن ابي مليكة عن عقبة بن الحارث ولم يذكروا فيه عن عبيد بن ابي مريم ولم يذكروا فيه " دعها عنك " . والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم اجازوا شهادة المراة الواحدة في الرضاع . وقال ابن عباس تجوز شهادة امراة واحدة في الرضاع ويوخذ يمينها . وبه يقول احمد واسحاق . وقد قال بعض اهل العلم لا تجوز شهادة المراة الواحدة حتى يكون اكثر . وهو قول الشافعي . سمعت الجارود يقول سمعت وكيعا يقول لا تجوز شهادة امراة واحدة في الحكم ويفارقها في الورع
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ انتڑیوں کو پھاڑ دے ۱؎، اور یہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ رضاعت کی حرمت اس وقت ہوتی ہے جب بچے کی عمر دو برس سے کم ہو، اور جو دو برس پورے ہونے کے بعد ہو تو اس سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر، عن ام سلمة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحرم من الرضاعة الا ما فتق الامعاء في الثدى وكان قبل الفطام " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان الرضاعة لا تحرم الا ما كان دون الحولين وما كان بعد الحولين الكاملين فانه لا يحرم شييا . وفاطمة بنت المنذر بن الزبير بن العوام هي امراة هشام بن عروة
حجاج اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ کے رسول! مجھ سے حق رضاعت کس چیز سے ادا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ایک جان: غلام یا لونڈی کے ذریعہ سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح اسے یحییٰ بن سعید قطان، حاتم بن اسماعیل اور کئی لوگوں نے بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن حجاج بن حجاج عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ اور سفیان بن عیینہ نے بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن حجاج بن أبي حجاج عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے اور ابن عیینہ کی حدیث غیر محفوظ ہے۔ صحیح وہی ہے جسے ان لوگوں نے ہشام بن عروۃ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔ ( یعنی: «حجاج بن حجاج» والی نہ کہ «حجاج بن أبي حجاج» والی ) ۳- اور «مايذهب عني مذمة الرضاعة» سے مراد رضاعت کا حق اور اس کا ذمہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: جب تم دودھ پلانے والی کو ایک غلام دے دو، یا ایک لونڈی تو تم نے اس کا حق ادا کر دیا، ۴- ابوالطفیل رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک عورت آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر بچھا دی، یہاں تک کہ وہ اس پر بیٹھ گئی، جب وہ چلی گئی تو کہا گیا: یہی وہ عورت تھی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن حجاج بن حجاج الاسلمي، عن ابيه، انه سال النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ما يذهب عني مذمة الرضاع فقال " غرة عبد او امة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ومعنى قوله ما يذهب عني مذمة الرضاع . يقول انما يعني به ذمام الرضاعة وحقها يقول اذا اعطيت المرضعة عبدا او امة فقد قضيت ذمامها . ويروى عن ابي الطفيل قال كنت جالسا مع النبي صلى الله عليه وسلم اذ اقبلت امراة فبسط النبي صلى الله عليه وسلم رداءه حتى قعدت عليه فلما ذهبت قيل هي كانت ارضعت النبي صلى الله عليه وسلم . هكذا رواه يحيى بن سعيد القطان وحاتم بن اسماعيل وغير واحد عن هشام بن عروة عن ابيه عن حجاج بن حجاج عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروى سفيان بن عيينة عن هشام بن عروة عن ابيه عن حجاج بن ابي حجاج عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم . وحديث ابن عيينة غير محفوظ والصحيح ما روى هولاء عن هشام بن عروة عن ابيه . وهشام بن عروة يكنى ابا المنذر وقد ادرك جابر بن عبد الله وابن عمر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ کے شوہر غلام تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا، تو انہوں نے خود کو اختیار کیا، ( عروہ کہتے ہیں ) اگر بریرہ کے شوہر آزاد ہوتے تو آپ بریرہ کو اختیار نہ دیتے ۱؎۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا جرير بن عبد الحميد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان زوج بريرة عبدا فخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم فاختارت نفسها ولو كان حرا لم يخيرها
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ کے شوہر آزاد تھے، پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں کہ بریرہ کا شوہر غلام تھا، ۳- عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: میں نے بریرہ کے شوہر کو دیکھا ہے، وہ غلام تھے اور انہیں مغیث کہا جاتا تھا، ۴- اسی طرح کی ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی گئی ہے، ۵- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب لونڈی آزاد مرد کے نکاح میں ہو اور وہ آزاد کر دی جائے تو اسے اختیار نہیں ہو گا۔ اسے اختیار صرف اس صورت میں ہو گا، جب وہ آزاد کی جائے اور وہ کسی غلام کی زوجیت میں ہو۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۶- لیکن اعمش نے بطریق: «إبراهيم عن الأسود عن عائشة» روایت کی ہے کہ بریرہ کے شوہر آزاد تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا۔ اور ابو عوانہ نے بھی اس حدیث کو بطریق: «الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة» بریرہ کے قصہ کے سلسلہ میں روایت کیا ہے، اسود کہتے ہیں: بریرہ کے شوہر آزاد تھے، ۷- تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے ۱؎۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان زوج بريرة حرا فخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . هكذا روى هشام عن ابيه عن عايشة قالت كان زوج بريرة عبدا . وروى عكرمة عن ابن عباس قال رايت زوج بريرة وكان عبدا يقال له مغيث . وهكذا روي عن ابن عمر . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وقالوا اذا كانت الامة تحت الحر فاعتقت فلا خيار لها وانما يكون لها الخيار اذا اعتقت وكانت تحت عبد . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وروى الاعمش عن ابراهيم عن الاسود عن عايشة قالت كان زوج بريرة حرا فخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم . وروى ابو عوانة هذا الحديث عن الاعمش عن ابراهيم عن الاسود عن عايشة في قصة بريرة قال الاسود وكان زوجها حرا . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من التابعين ومن بعدهم وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ بریرہ کے شوہر بنی مغیرہ کے ایک کالے کلوٹے غلام تھے، جس دن بریرہ آزاد کی گئیں، اللہ کی قسم، گویا میں انہیں مدینے کے گلی کوچوں اور کناروں میں اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں کہ ان کے آنسو ان کی داڑھی پر بہہ رہے ہیں، وہ انہیں منا رہے ہیں کہ وہ انہیں ساتھ میں رہنے کے لیے چن لیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن سعيد بن ابي عروبة، عن ايوب، وقتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان زوج، بريرة كان عبدا اسود لبني المغيرة يوم اعتقت بريرة والله لكاني به في طرق المدينة ونواحيها وان دموعه لتسيل على لحيته يترضاها لتختاره فلم تفعل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وسعيد بن ابي عروبة هو سعيد بن مهران ويكنى ابا النضر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ صاحب فراش ( یعنی شوہر یا مالک ) کا ہو گا ۱؎ اور زانی کے لیے پتھر ہوں گے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، عثمان، عائشہ، ابوامامہ، عمرو بن خارجہ، عبداللہ بن عمر، براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الولد للفراش وللعاهر الحجر " . قال وفي الباب عن عمر وعثمان وعايشة وابي امامة وعمرو بن خارجة وعبد الله بن عمرو والبراء بن عازب وزيد بن ارقم . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم . وقد رواه الزهري عن سعيد بن المسيب وابي سلمة عن ابي هريرة
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو آپ زینب رضی الله عنہا کے پاس تشریف لائے اور آپ نے اپنی ضرورت پوری کی اور باہر تشریف لا کر فرمایا: ”عورت جب سامنے آتی ہے تو وہ شیطان کی شکل میں آتی ہے ۱؎، لہٰذا جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے بھلی لگے تو اپنی بیوی کے پاس آئے اس لیے کہ اس کے پاس بھی اسی جیسی چیز ہے جو اس کے پاس ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث صحیح حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- ہشام دستوائی دراصل ہشام بن سنبر ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا هشام بن ابي عبد الله، وهو الدستوايي عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى امراة فدخل على زينب فقضى حاجته وخرج وقال " ان المراة اذا اقبلت اقبلت في صورة شيطان فاذا راى احدكم امراة فاعجبته فليات اهله فان معها مثل الذي معها " . قال وفي الباب عن ابن مسعود . قال ابو عيسى حديث جابر حديث صحيح حسن غريب . وهشام الدستوايي هو هشام بن سنبر
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں معاذ بن جبل، سراقہ بن مالک بن جعشم، عائشہ، ابن عباس، عبداللہ بن ابی اوفی، طلق بن علی، ام سلمہ، انس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا النضر بن شميل، اخبرنا محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لو كنت امرا احدا ان يسجد لاحد لامرت المراة ان تسجد لزوجها " . قال وفي الباب عن معاذ بن جبل وسراقة بن مالك بن جعشم وعايشة وابن عباس وعبد الله بن ابي اوفى وطلق بن علي وام سلمة وانس وابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة
طلق بن علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی بیوی کو اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے بلائے تو اسے فوراً آنا چاہیئے اگرچہ وہ تنور پر ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ملازم بن عمرو، قال حدثني عبد الله بن بدر، عن قيس بن طلق، عن ابيه، طلق بن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتاته وان كانت على التنور " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت مر جائے اور اس کا شوہر اس سے خوش ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى الكوفي، حدثنا محمد بن فضيل، عن عبد الله بن عبد الرحمن ابي نصر، عن مساور الحميري، عن امه، عن ام سلمة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما امراة ماتت وزوجها عنها راض دخلت الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان میں سب سے کامل مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو، حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكمل المومنين ايمانا احسنهم خلقا وخياركم خياركم لنسايهم خلقا " . قال وفي الباب عن عايشة وابن عباس . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة هذا حديث حسن صحيح
سلیمان بن عمرو بن احوص کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ اور ( لوگوں کو ) نصیحت کی اور انہیں سمجھایا۔ پھر راوی نے اس حدیث میں ایک قصہ کا ذکر کیا اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”سنو! عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو۔ اس لیے کہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں۔ تم اس ( ہمبستری اور اپنی عصمت اور اپنے مال کی امانت وغیرہ ) کے علاوہ اور کچھ اختیار نہیں رکھتے ( اور جب وہ اپنا فرض ادا کرتی ہوں تو پھر ان کے ساتھ بدسلوکی کا جواز کیا ہے ) ہاں اگر وہ کسی کھلی ہوئی بیحیائی کا ارتکاب کریں ( تو پھر تمہیں انہیں سزا دینے کا ہے ) پس اگر وہ ایسا کریں تو انہیں بستروں سے علاحدہ چھوڑ دو اور انہیں مارو لیکن اذیت ناک مار نہ ہو، اس کے بعد اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو پھر انہیں سزا دینے کا کوئی اور بہانہ نہ تلاش کرو، سنو! جس طرح تمہارا تمہاری بیویوں پر حق ہے اسی طرح تم پر تمہاری بیویوں کا بھی حق ہے۔ تمہارا حق تمہاری بیویوں پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر ایسے لوگوں کو نہ روندنے دیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو، اور تمہارے گھر میں ایسے لوگوں کو آنے کی اجازت نہ دیں جنہیں تم اچھا نہیں سمجھتے۔ سنو! اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم ان کے لباس اور پہنے میں اچھا سلوک کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- «عوان عندكم» کا معنی ہے تمہارے ہاتھوں میں قیدی ہیں۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا الحسين بن علي الجعفي، عن زايدة، عن شبيب بن غرقدة، عن سليمان بن عمرو بن الاحوص، قال حدثني ابي انه، شهد حجة الوداع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فحمد الله واثنى عليه وذكر ووعظ فذكر في الحديث قصة فقال " الا واستوصوا بالنساء خيرا فانما هن عوان عندكم ليس تملكون منهن شييا غير ذلك الا ان ياتين بفاحشة مبينة فان فعلن فاهجروهن في المضاجع واضربوهن ضربا غير مبرح فان اطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا الا ان لكم على نسايكم حقا ولنسايكم عليكم حقا فاما حقكم على نسايكم الا يوطين فرشكم من تكرهون ولا ياذن في بيوتكم لمن تكرهون الا وحقهن عليكم ان تحسنوا اليهن في كسوتهن وطعامهن " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ومعنى قوله " عوان عندكم " . يعني اسرى في ايديكم
علی بن طلق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! ہم میں ایک شخص صحرا ( بیابان ) میں ہوتا ہے، اور اس کو ہوا خارج ہو جاتی ہے ( اور وضو ٹوٹ جاتا ہے ) اور پانی کی قلت بھی ہوتی ہے ( تو وہ کیا کرے؟ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کی جب ہوا خارج ہو جائے تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے، اور عورتوں کی دبر میں صحبت نہ کرو، اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی بن طلق کی حدیث حسن ہے، ۲- اور میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ سوائے اس ایک حدیث کے علی بن طلق کی کوئی اور حدیث مجھے نہیں معلوم، جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو، اور طلق بن علی سحیمی کی روایت سے میں یہ حدیث نہیں جانتا۔ گویا ان کی رائے یہ ہے کہ یہ صحابہ میں سے کوئی اور آدمی ہیں، ۳- اس باب میں عمر، خزیمہ بن ثابت، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، وهناد، قالا حدثنا ابو معاوية، عن عاصم الاحول، عن عيسى بن حطان، عن مسلم بن سلام، عن علي بن طلق، قال اتى اعرابي النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله الرجل منا يكون في الفلاة فتكون منه الرويحة ويكون في الماء قلة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا فسا احدكم فليتوضا ولا تاتوا النساء في اعجازهن فان الله لا يستحيي من الحق " . قال وفي الباب عن عمر وخزيمة بن ثابت وابن عباس وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث علي بن طلق حديث حسن . وسمعت محمدا يقول لا اعرف لعلي بن طلق عن النبي صلى الله عليه وسلم غير هذا الحديث الواحد ولا اعرف هذا الحديث من حديث طلق بن علي السحيمي . وكانه راى ان هذا رجل اخر من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس شخص کی طرف ( رحمت کی نظر سے ) نہیں دیکھے گا جو کسی مرد یا کسی عورت کی دبر میں صحبت کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن الضحاك بن عثمان، عن مخرمة بن سليمان، عن كريب، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ينظر الله الى رجل اتى رجلا او امراة في الدبر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وروى وكيع هذا الحديث