Loading...

Loading...
کتب
۱۵ احادیث
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن مجید میں ( ۱۵ ) سجدے ۱؎ پڑھائے: ان میں سے تین مفصل میں ۲؎ اور دو سورۃ الحج میں ۳؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گیارہ سجدے نقل کئے ہیں، لیکن اس کی سند کمزور ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم بن البرقي، حدثنا ابن ابي مريم، اخبرنا نافع بن يزيد، عن الحارث بن سعيد العتقي، عن عبد الله بن منين، - من بني عبد كلال - عن عمرو بن العاص، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اقراه خمس عشرة سجدة في القران منها ثلاث في المفصل وفي سورة الحج سجدتان . قال ابو داود روي عن ابي الدرداء عن النبي صلى الله عليه وسلم احدى عشرة سجدة واسناده واه
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، اخبرنا ابن وهب، اخبرني ابن لهيعة، ان مشرح بن هاعان ابا المصعب، حدثه ان عقبة بن عامر حدثه قال قلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم افي سورة الحج سجدتان قال " نعم ومن لم يسجدهما فلا يقراهما
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مکہ سے مدینہ آ جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مفصل ( سورتوں ) میں سے کسی سورۃ میں سجدہ نہیں کیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا ازهر بن القاسم، - قال محمد رايته بمكة - حدثنا ابو قدامة، عن مطر الوراق، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يسجد في شىء من المفصل منذ تحول الى المدينة
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ النجم پڑھ کر سنائی تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا وكيع، عن ابن ابي ذيب، عن يزيد بن عبد الله بن قسيط، عن عطاء بن يسار، عن زيد بن ثابت، قال قرات على رسول الله صلى الله عليه وسلم النجم فلم يسجد فيها
اس سند سے بھی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً آئی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زید امام تھے لیکن انہوں نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔
حدثنا ابن السرح، اخبرنا ابن وهب، حدثنا ابو صخر، عن ابن قسيط، عن خارجة بن زيد بن ثابت، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه . قال ابو داود كان زيد الامام فلم يسجد فيها
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ رہا جس نے سجدہ نہ کیا ہو، البتہ ایک شخص نے تھوڑی سی ریت یا مٹی مٹھی میں لی اور اسے اپنے منہ ( یعنی پیشانی ) تک اٹھایا اور کہنے لگا: میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کے بعد اسے دیکھا کہ وہ حالت کفر میں قتل کیا گیا۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا سورة النجم فسجد فيها وما بقي احد من القوم الا سجد فاخذ رجل من القوم كفا من حصى او تراب فرفعه الى وجهه وقال يكفيني هذا . قال عبد الله فلقد رايته بعد ذلك قتل كافرا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورۃ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك الذي خلق» میں سجدہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوہریرہ چھ ہجری میں غزوہ خیبر کے سال اسلام لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ سجدے آپ کے آخری فعل ہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن ايوب بن موسى، عن عطاء بن ميناء، عن ابي هريرة، قال سجدنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في { اذا السماء انشقت } و { اقرا باسم ربك الذي خلق}
ابورافع نفیع الصائغ بصریٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء پڑھی، آپ نے «إذا السماء انشقت» کی تلاوت کی اور سجدہ کیا، میں نے کہا: یہ سجدہ کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے یہ سجدہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( نماز پڑھتے ہوئے ) کیا ہے اور میں برابر اسے کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ سے جا ملوں۔
حدثنا مسدد، حدثنا المعتمر، قال سمعت ابي، حدثنا بكر، عن ابي رافع، قال صليت مع ابي هريرة العتمة فقرا { اذا السماء انشقت } فسجد فقلت ما هذه السجدة قال سجدت بها خلف ابي القاسم صلى الله عليه وسلم فلا ازال اسجد بها حتى القاه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سورۃ ص کا سجدہ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال ليس { ص } من عزايم السجود وقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسجد فيها
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ص پڑھی، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورۃ کی تلاوت کی، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سجدہ دراصل ایک نبی ۱؎ کی توبہ تھی، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو ، چنانچہ آپ اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو، - يعني ابن الحارث - عن ابن ابي هلال، عن عياض بن عبد الله بن سعد بن ابي سرح، عن ابي سعيد الخدري، انه قال قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر { ص } فلما بلغ السجدة نزل فسجد وسجد الناس معه فلما كان يوم اخر قراها فلما بلغ السجدة تشزن الناس للسجود فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انما هي توبة نبي ولكني رايتكم تشزنتم للسجود " . فنزل فسجد وسجدوا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال سجدے والی آیت پڑھی تو تمام لوگوں نے سجدہ کیا، کچھ ان میں سوار تھے اور کچھ زمین پر سجدہ کرنے والے تھے حتیٰ کہ سوار اپنے ہاتھ پر سجدہ کر رہے تھے۔
حدثنا محمد بن عثمان الدمشقي ابو الجماهر، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن مصعب بن ثابت بن عبد الله بن الزبير، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا عام الفتح سجدة فسجد الناس كلهم منهم الراكب والساجد في الارض حتى ان الراكب ليسجد على يده
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سورۃ پڑھ کر سناتے ( ابن نمیر کی روایت میں ہے ) نماز کے علاوہ میں ( آگے یحییٰ بن سعید اور ابن نمیر سیاق حدیث میں متفق ہیں ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( سجدہ کی آیت آنے پر ) سجدہ کرتے، ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض کو اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ مل پاتی ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، ح وحدثنا احمد بن ابي شعيب، حدثنا ابن نمير، - المعنى - عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا علينا السورة - قال ابن نمير في غير الصلاة ثم اتفقا - فيسجد ونسجد معه حتى لا يجد احدنا مكانا لموضع جبهته
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو قرآن سناتے، جب کسی سجدے کی آیت سے گزرتے تو الله أكبر کہتے اور سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ ہم بھی سجدہ کرتے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: یہ حدیث ثوری کو اچھی لگتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہیں یہ اس لیے پسند تھی کہ اس میں الله أكبر کا ذکر ہے۔
حدثنا احمد بن الفرات ابو مسعود الرازي، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا عبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا علينا القران فاذا مر بالسجدة كبر وسجد وسجدنا . قال عبد الرزاق وكان الثوري يعجبه هذا الحديث . قال ابو داود يعجبه لانه كبر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں قرآن کے سجدوں میں کئی بار «سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته» یعنی میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اپنی قوت و طاقت سے اسے پیدا کیا اور اس کے کان اور آنکھ بنائے کہتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، حدثنا خالد الحذاء، عن رجل، عن ابي العالية، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في سجود القران بالليل يقول في السجدة مرارا " سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته
ابوتمیمہ طریف بن مجالد ہجیمی کہتے ہیں کہ جب ہم قافلہ کے ساتھ مدینہ آئے تو میں فجر کے بعد وعظ کہا کرتا تھا، اور ( سجدہ کی آیت پڑھنے کے بعد ) سجدہ کرتا تھا تو مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے تین مرتبہ منع کیا، لیکن میں باز نہیں آیا، آپ نے پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی لیکن کسی نے سجدہ نہیں کیا یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔
حدثنا عبد الله بن الصباح العطار، حدثنا ابو بحر، حدثنا ثابت بن عمارة، حدثنا ابو تميمة الهجيمي، قال لما بعثنا الركب - قال ابو داود يعني الى المدينة قال - كنت اقص بعد صلاة الصبح فاسجد فنهاني ابن عمر فلم انته ثلاث مرار ثم عاد فقال اني صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم ومع ابي بكر وعمر وعثمان - رضى الله عنهم - فلم يسجدوا حتى تطلع الشمس