Loading...

Loading...
کتب
۳۰ احادیث
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: قرآن ایک مہینے میں پڑھا کرو ، انہوں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تین دن میں پڑھا کرو ۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ احمد بن حنبل کہتے تھے: عیسیٰ بن شاذان سمجھدار آدمی ہیں۔
حدثنا محمد بن حفص ابو عبد الرحمن القطان، خال عيسى بن شاذان اخبرنا ابو داود، اخبرنا الحريش بن سليم، عن طلحة بن مصرف، عن خيثمة، عن عبد الله بن عمرو، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرا القران في شهر " . قال ان بي قوة . قال " اقراه في ثلاث " . قال ابو علي سمعت ابا داود يقول سمعت احمد - يعني ابن حنبل - يقول عيسى بن شاذان كيس
ابن الہاد کہتے ہیں کہ مجھ سے نافع بن جبیر بن مطعم نے پوچھا: تم کتنے دنوں میں قرآن پڑھتے ہو؟ تو میں نے کہا: میں اس کے حصے نہیں کرتا، یہ سن کر مجھ سے نافع نے کہا: ایسا نہ کہو کہ میں اس کے حصے نہیں کرتا، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے قرآن کا ایک حصہ پڑھا ۱؎ ۔ ابن الہاد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے اسے مغیرہ بن شعبہ سے نقل کیا ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، اخبرنا ابن ابي مريم، اخبرنا يحيى بن ايوب، عن ابن الهاد، قال سالني نافع بن جبير بن مطعم فقال لي في كم تقرا القران فقلت ما احزبه . فقال لي نافع لا تقل ما احزبه فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " قرات جزءا من القران " . قال حسبت انه ذكره عن المغيرة بن شعبة
اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ثقیف کے ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وفد کے وہ لوگ جن سے معاہدہ ہوا تھا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے اور بنی مالک کا قیام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خیمے میں کرایا، ( مسدد کہتے ہیں: اوس بھی اس وفد میں شامل تھے، جو ثقیف کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا ) اوس کہتے ہیں: تو ہر رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد ہمارے پاس آتے اور ہم سے گفتگو کرتے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں اضافہ ہے کہ ( آپ گفتگو ) کھڑے کھڑے کرتے اور دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے آپ کبھی ایک پیر پر اور کبھی دوسرے پیر پر بوجھ ڈالتے اور زیادہ تر ان واقعات کا تذکرہ کرتے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم قریش کی جانب سے پیش آئے تھے، پھر فرماتے: ہم اور وہ برابر نہ تھے، ہم مکہ میں کمزور اور ناتواں تھے، پھر جب ہم نکل کر مدینہ آ گئے تو جنگ کا ڈول ہمارے اور ان کے بیچ رہتا، کبھی ہم ان پر غالب آتے اور کبھی وہ ہم پر ۔ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسب معمول وقت پر آنے میں تاخیر ہو گئی تو ہم نے آپ سے پوچھا: آج رات آپ نے آنے میں تاخیر کر دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج قرآن مجید کا میرا ایک حصہ تلاوت سے رہ گیا تھا، مجھے اسے پورا کئے بغیر آنا اچھا نہ لگا ۔ اوس کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے پوچھا کہ وہ لوگ کیسے حصے مقرر کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلا حزب ( حصہ ) تین سورتوں کا، دوسرا حزب ( حصہ ) پانچ سورتوں کا، تیسرا سات سورتوں کا، چوتھا نو سورتوں کا، پانچواں گیارہ اور چھٹا تیرہ سورتوں کا اور ساتواں پورے مفصل کا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسعید ( عبداللہ بن سعید الاشیخ ) کی روایت کامل ہے۔
حدثنا مسدد، اخبرنا قران بن تمام، ح وحدثنا عبد الله بن سعيد، اخبرنا ابو خالد، - وهذا لفظه - عن عبد الله بن عبد الرحمن بن يعلى، عن عثمان بن عبد الله بن اوس، عن جده، - قال عبد الله بن سعيد في حديثه اوس بن حذيفة - قال قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم في وفد ثقيف - قال - فنزلت الاحلاف على المغيرة بن شعبة وانزل رسول الله صلى الله عليه وسلم بني مالك في قبة له . قال مسدد وكان في الوفد الذين قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم من ثقيف قال كان كل ليلة ياتينا بعد العشاء يحدثنا . قال ابو سعيد قايما على رجليه حتى يراوح بين رجليه من طول القيام واكثر ما يحدثنا ما لقي من قومه من قريش ثم يقول لا سواء كنا مستضعفين مستذلين - قال مسدد بمكة - فلما خرجنا الى المدينة كانت سجال الحرب بيننا وبينهم ندال عليهم ويدالون علينا فلما كانت ليلة ابطا عن الوقت الذي كان ياتينا فيه فقلنا لقد ابطات عنا الليلة . قال انه طرا على جزيي من القران فكرهت ان اجيء حتى اتمه . قال اوس سالت اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف يحزبون القران قالوا ثلاث وخمس وسبع وتسع واحدى عشرة وثلاث عشرة وحزب المفصل وحده . قال ابو داود وحديث ابي سعيد اتم
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن کو تین دن سے کم میں پڑھتا ہے سمجھتا نہیں ہے ۔
حدثنا محمد بن المنهال، اخبرنا يزيد بن زريع، اخبرنا سعيد، عن قتادة، عن ابي العلاء، يزيد بن عبد الله بن الشخير عن عبد الله، - يعني ابن عمرو - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يفقه من قرا القران في اقل من ثلاث
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: قرآن کتنے دنوں میں پڑھا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن میں ، پھر فرمایا: ایک ماہ میں ، پھر فرمایا: بیس دن میں ، پھر فرمایا: پندرہ دن میں ، پھر فرمایا: دس دن میں ، پھر فرمایا: سات دن میں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات سے نیچے نہیں اترے۔
حدثنا نوح بن حبيب، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن سماك بن الفضل، عن وهب بن منبه، عن عبد الله بن عمرو، انه سال النبي صلى الله عليه وسلم في كم يقرا القران قال " في اربعين يوما " . ثم قال " في شهر " . ثم قال " في عشرين " . ثم قال " في خمس عشرة " . ثم قال " في عشر " . ثم قال " في سبع " . لم ينزل من سبع
علقمہ اور اسود کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں ایک رکعت میں مفصل پڑھ لیتا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تم اس طرح پڑھتے ہو جیسے شعر جلدی جلدی پڑھا جاتا ہے یا جیسے سوکھی کھجوریں درخت سے جھڑتی ہیں؟ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو ہم مثل سورتوں کو جیسے نجم اور رحمن ایک رکعت میں، اقتربت اور الحاقة ایک رکعت میں، والطور اور الذاريات ایک رکعت میں، إذا وقعت اور نون ایک رکعت میں، سأل سائل اور النازعات ایک رکعت میں، ويل للمطففين اور عبس ایک رکعت میں، المدثر اور المزمل ایک رکعت میں، هل أتى اور لا أقسم بيوم القيامة ایک رکعت میں، عم يتسائلون اور المرسلات ایک رکعت میں، اور اسی طرح الدخان اور إذا الشمس كورت ایک رکعت میں ملا کر پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن مسعود کی ترتیب ہے، اللہ ان پر رحم کرے۔
حدثنا عباد بن موسى، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن علقمة، والاسود، قالا اتى ابن مسعود رجل فقال اني اقرا المفصل في ركعة . فقال اهذا كهذ الشعر ونثرا كنثر الدقل لكن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرا النظاير السورتين في ركعة الرحمن والنجم في ركعة واقتربت والحاقة في ركعة والطور والذاريات في ركعة واذا وقعت ون في ركعة وسال سايل والنازعات في ركعة وويل للمطففين وعبس في ركعة والمدثر والمزمل في ركعة وهل اتى ولا اقسم بيوم القيامة في ركعة . وعم يتساءلون والمرسلات في ركعة والدخان واذا الشمس كورت في ركعة . قال ابو داود هذا تاليف ابن مسعود رحمه الله
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس نے کسی رات میں سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتیں پڑھیں تو یہ اس کے لیے کافی ہوں گی ۔
حدثنا حفص بن عمر، اخبرنا شعبة، عن منصور، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، قال سالت ابا مسعود وهو يطوف بالبيت فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قرا الايتين من اخر سورة البقرة في ليلة كفتاه
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دس آیتوں ( کی تلاوت ) کے ساتھ قیام اللیل کرے گا وہ غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا، جو سو آیتوں ( کی تلاوت ) کے ساتھ قیام کرے گا وہ عابدوں میں لکھا جائے گا، اور جو ایک ہزار آیتوں ( کی تلاوت ) کے ساتھ قیام کرے گا وہ بے انتہاء ثواب جمع کرنے والوں میں لکھا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن حجیرہ الاصغر سے مراد عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن حجیرہ ہیں۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرنا عمرو، ان ابا سوية، حدثه انه، سمع ابن حجيرة، يخبر عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قام بعشر ايات لم يكتب من الغافلين ومن قام بماية اية كتب من القانتين ومن قام بالف اية كتب من المقنطرين " . قال ابو داود ابن حجيرة الاصغر عبد الله بن عبد الرحمن بن حجيرة
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے قرآن مجید پڑھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان تین سورتوں کو پڑھو جن کے شروع میں «الر» ہے ۱؎ ، اس نے کہا: میں عمر رسیدہ ہو چکا ہوں، میرا دل سخت اور زبان موٹی ہو گئی ہے ( اس لیے اس قدر نہیں پڑھ سکتا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر «حم»والی تینوں سورتیں پڑھا کرو ، اس شخص نے پھر وہی پہلی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو «مسبحات» میں سے تین سورتیں پڑھا کرو ، اس شخص نے پھر پہلی بات دہرا دی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایک جامع سورۃ سکھا دیجئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو «إذا زلزلت الأرض» سکھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فارغ ہوئے تو اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول برحق بنا کر بھیجا، میں کبھی اس پر زیادہ نہیں کروں گا، جب آدمی واپس چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: «أفلح الرويجل» ( بوڑھا کامیاب ہو گیا ) ۔
حدثنا يحيى بن موسى البلخي، وهارون بن عبد الله، قالا اخبرنا عبد الله بن يزيد، اخبرنا سعيد بن ابي ايوب، حدثني عياش بن عباس القتباني، عن عيسى بن هلال الصدفي، عن عبد الله بن عمرو، قال اتى رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال اقريني يا رسول الله . فقال " اقرا ثلاثا من ذوات الراء " . فقال كبرت سني واشتد قلبي وغلظ لساني . قال " فاقرا ثلاثا من ذوات حم " . فقال مثل مقالته . فقال " اقرا ثلاثا من المسبحات " . فقال مثل مقالته فقال الرجل يا رسول الله اقريني سورة جامعة . فاقراه النبي صلى الله عليه وسلم { اذا زلزلت الارض } حتى فرغ منها . فقال الرجل والذي بعثك بالحق لا ازيد عليها ابدا ثم ادبر الرجل فقال النبي صلى الله عليه وسلم " افلح الرويجل " . مرتين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی ایک سورۃ جو تیس آیتوں والی ہے اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے اور وہ «تبارك الذي بيده الملك» ہے ۔
حدثنا عمرو بن مرزوق، اخبرنا شعبة، اخبرنا قتادة، عن عباس الجشمي، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " سورة من القران ثلاثون اية تشفع لصاحبها حتى يغفر له { تبارك الذي بيده الملك}