Loading...

Loading...
کتب
۳۰ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر تاکیدی حکم دئیے رمضان کے قیام کی ترغیب دلاتے، پھر فرماتے: جس نے رمضان میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک معاملہ اسی طرح رہا، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع تک یہی معاملہ رہا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح عقیل، یونس اور ابواویس نے «من قام رمضان» کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور عقیل کی روایت میں «من صام رمضان وقامه» ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، ومحمد بن المتوكل، قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، - قال الحسن في حديثه ومالك بن انس - عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرغب في قيام رمضان من غير ان يامرهم بعزيمة ثم يقول " من قام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه " . فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم والامر على ذلك ثم كان الامر على ذلك في خلافة ابي بكر - رضى الله عنه - وصدرا من خلافة عمر رضى الله عنه . قال ابو داود وكذا رواه عقيل ويونس وابو اويس " من قام رمضان " . وروى عقيل " من صام رمضان وقامه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے روزے رمضان ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، اور جس نے شب قدر میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے اور محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا مخلد بن خالد، وابن ابي خلف، - المعنى - قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم " من صام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ومن قام ليلة القدر ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه " . قال ابو داود وكذا رواه يحيى بن ابي كثير عن ابي سلمة ومحمد بن عمرو عن ابي سلمة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی تو آپ کے ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلی رات کو بھی پڑھی تو لوگوں کی تعداد بڑھ گئی پھر تیسری رات کو بھی لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ہی نہیں، جب صبح ہوئی تو فرمایا: میں نے تمہارے عمل کو دیکھا، لیکن مجھے سوائے اس اندیشے کے کسی اور چیز نے نکلنے سے نہیں روکا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کر دی جائے ۱؎ اور یہ بات رمضان کی ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى في المسجد فصلى بصلاته ناس ثم صلى من القابلة فكثر الناس ثم اجتمعوا من الليلة الثالثة فلم يخرج اليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما اصبح قال " قد رايت الذي صنعتم فلم يمنعني من الخروج اليكم الا اني خشيت ان يفرض عليكم " . وذلك في رمضان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ رمضان میں مسجد کے اندر الگ الگ نماز پڑھا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا، میں نے آپ کے لیے چٹائی بچھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی، پھر آگے انہوں نے یہی واقعہ ذکر کیا، اس میں ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اللہ کی قسم! میں نے بحمد اللہ یہ رات غفلت میں نہیں گذاری اور نہ ہی مجھ پر تمہارا یہاں ہونا مخفی رہا ۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا عبدة، عن محمد بن عمرو، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، قالت كان الناس يصلون في المسجد في رمضان اوزاعا فامرني رسول الله صلى الله عليه وسلم فضربت له حصيرا فصلى عليه بهذه القصة قالت فيه قال - تعني النبي صلى الله عليه وسلم - " ايها الناس اما والله ما بت ليلتي هذه بحمد الله غافلا ولا خفي على مكانكم
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، اخبرنا داود بن ابي هند، عن الوليد بن عبد الرحمن، عن جبير بن نفير، عن ابي ذر، قال صمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم رمضان فلم يقم بنا شييا من الشهر حتى بقي سبع فقام بنا حتى ذهب ثلث الليل فلما كانت السادسة لم يقم بنا فلما كانت الخامسة قام بنا حتى ذهب شطر الليل فقلت يا رسول الله لو نفلتنا قيام هذه الليلة . قال فقال " ان الرجل اذا صلى مع الامام حتى ينصرف حسب له قيام ليلة " . قال فلما كانت الرابعة لم يقم فلما كانت الثالثة جمع اهله ونساءه والناس فقام بنا حتى خشينا ان يفوتنا الفلاح . قال قلت ما الفلاح قال السحور ثم لم يقم بنا بقية الشهر
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، اخبرنا داود بن ابي هند، عن الوليد بن عبد الرحمن، عن جبير بن نفير، عن ابي ذر، قال صمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم رمضان فلم يقم بنا شييا من الشهر حتى بقي سبع فقام بنا حتى ذهب ثلث الليل فلما كانت السادسة لم يقم بنا فلما كانت الخامسة قام بنا حتى ذهب شطر الليل فقلت يا رسول الله لو نفلتنا قيام هذه الليلة . قال فقال " ان الرجل اذا صلى مع الامام حتى ينصرف حسب له قيام ليلة " . قال فلما كانت الرابعة لم يقم فلما كانت الثالثة جمع اهله ونساءه والناس فقام بنا حتى خشينا ان يفوتنا الفلاح . قال قلت ما الفلاح قال السحور ثم لم يقم بنا بقية الشهر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو جاگتے اور ( عبادت کے لیے ) کمربستہ ہو جاتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویعفور کا نام عبدالرحمٰن بن عبید بن نسطاس ہے۔
حدثنا نصر بن علي، وداود بن امية، ان سفيان، اخبرهم عن ابي يعفور، - وقال داود عن ابن عبيد بن نسطاس، - عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا دخل العشر احيا الليل وشد الميزر وايقظ اهله . قال ابو داود وابو يعفور اسمه عبد الرحمن بن عبيد بن نسطاس
حدثنا احمد بن سعيد الهمداني، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني مسلم بن خالد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا اناس في رمضان يصلون في ناحية المسجد فقال " ما هولاء " . فقيل هولاء ناس ليس معهم قران وابى بن كعب يصلي وهم يصلون بصلاته . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اصابوا ونعم ما صنعوا " . قال ابو داود ليس هذا الحديث بالقوي مسلم بن خالد ضعيف
حدثنا احمد بن سعيد الهمداني، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني مسلم بن خالد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا اناس في رمضان يصلون في ناحية المسجد فقال " ما هولاء " . فقيل هولاء ناس ليس معهم قران وابى بن كعب يصلي وهم يصلون بصلاته . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اصابوا ونعم ما صنعوا " . قال ابو داود ليس هذا الحديث بالقوي مسلم بن خالد ضعيف
زر کہتے ہیں کہ ابومنذر! مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیے؟ اس لیے کہ ہمارے شیخ یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جو پورے سال قیام کرے اسے پا لے گا، ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ رات رمضان میں ہے ( مسدد نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے لیکن انہیں یہ ناپسند تھا کہ لوگ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں یا ان کی خواہش تھی کہ لوگ بھروسہ نہ کر لیں، ( آگے سلیمان بن حرب اور مسدد دونوں کی روایتوں میں اتفاق ہے ) اللہ کی قسم! یہ رات رمضان میں ہے اور ستائیسویں رات ہے، اس سے باہر نہیں، میں نے پوچھا: اے ابومنذر! آپ کو یہ کیوں کر معلوم ہوا؟ انہوں نے جواب دیا: اس علامت سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بتائی تھی۔ ( عاصم کہتے ہیں میں نے زر سے پوچھا: وہ علامت کیا تھی؟ جواب دیا: اس رات ( کے بعد جو صبح ہوتی ہے اس میں ) سورج طشت کی طرح نکلتا ہے، جب تک بلندی کو نہ پہنچ جائے، اس میں کرنیں نہیں ہوتیں۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومسدد، - المعنى - قالا حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم، عن زر، قال قلت لابى بن كعب اخبرني عن ليلة القدر، يا ابا المنذر فان صاحبنا سيل عنها . فقال من يقم الحول يصبها . فقال رحم الله ابا عبد الرحمن والله لقد علم انها في رمضان - زاد مسدد ولكن كره ان يتكلوا او احب ان لا يتكلوا ثم اتفقا - والله انها لفي رمضان ليلة سبع وعشرين لا يستثني . قلت يا ابا المنذر انى علمت ذلك قال بالاية التي اخبرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم . قلت لزر ما الاية قال تصبح الشمس صبيحة تلك الليلة مثل الطست ليس لها شعاع حتى ترتفع
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی سلمہ کی مجلس میں تھا، اور ان میں سب سے چھوٹا تھا، لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے شب قدر کے بارے میں کون پوچھے گا؟ یہ رمضان کی اکیسویں صبح کی بات ہے، تو میں نکلا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھی، پھر آپ کے گھر کے دروازے پر کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: اندر آ جاؤ ، میں اندر داخل ہو گیا، آپ کا شام کا کھانا آیا تو آپ نے مجھے دیکھا کہ میں کھانا تھوڑا ہونے کی وجہ سے کم کم کھا رہا ہوں، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو فرمایا: مجھے میرا جوتا دو ، پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے؟ ، میں نے کہا: جی ہاں، مجھے قبیلہ بنی سلمہ کے کچھ لوگوں نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ شب قدر کے سلسلے میں پوچھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آج کون سی رات ہے؟ ، میں نے کہا: بائیسویں رات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی شب قدر ہے ، پھر لوٹے اور فرمایا: یا کل کی رات ہو گی آپ کی مراد تیئسویں رات تھی۔
حدثنا احمد بن حفص بن عبد الله السلمي، حدثنا ابي، حدثنا ابراهيم بن طهمان، عن عباد بن اسحاق، عن محمد بن مسلم الزهري، عن ضمرة بن عبد الله بن انيس، عن ابيه، قال كنت في مجلس بني سلمة وانا اصغرهم، فقالوا من يسال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ليلة القدر وذلك صبيحة احدى وعشرين من رمضان . فخرجت فوافيت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة المغرب ثم قمت بباب بيته فمر بي فقال " ادخل " . فدخلت فاتي بعشايه فراني اكف عنه من قلته فلما فرغ قال " ناولني نعلي " . فقام وقمت معه فقال " كان لك حاجة " . قلت اجل ارسلني اليك رهط من بني سلمة يسالونك عن ليلة القدر فقال " كم الليلة " . فقلت اثنتان وعشرون قال " هي الليلة " . ثم رجع فقال " او القابلة " . يريد ليلة ثلاث وعشرين
عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک غیر آباد جگہ پر میرا گھر ہے میں اسی میں رہتا ہوں اور بحمداللہ وہیں نماز پڑھتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسی رات بتا دیجئیے کہ میں اس میں اس مسجد میں آیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیئسویں شب کو آیا کرو ۔ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے پوچھا: تمہارے والد کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب عصر پڑھنی ہوتی تو مسجد میں داخل ہوئے پھر کسی کام سے باہر نہیں نکلتے یہاں تک کہ فجر پڑھ لیتے، پھر جب فجر پڑھ لیتے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے اور اس پر بیٹھ کر اپنے بادیہ کو واپس آ جاتے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، اخبرنا محمد بن اسحاق، حدثنا محمد بن ابراهيم، عن ابن عبد الله بن انيس الجهني، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله ان لي بادية اكون فيها وانا اصلي فيها بحمد الله فمرني بليلة انزلها الى هذا المسجد . فقال " انزل ليلة ثلاث وعشرين " . فقلت لابنه كيف كان ابوك يصنع قال كان يدخل المسجد اذا صلى العصر فلا يخرج منه لحاجة حتى يصلي الصبح فاذا صلى الصبح وجد دابته على باب المسجد فجلس عليها فلحق بباديته
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے ( یعنی شب قدر کو ) رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو جب نو راتیں باقی رہ جائیں ( یعنی اکیسویں شب کو ) اور جب سات راتیں باقی رہ جائیں ( یعنی تئیسویں شب کو ) اور جب پانچ راتیں باقی رہ جائیں ( یعنی پچیسویں شب کو ) ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، اخبرنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " التمسوها في العشر الاواخر من رمضان في تاسعة تبقى وفي سابعة تبقى وفي خامسة تبقى
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے ( دہے ) میں اعتکاف فرماتے تھے، ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف فرمایا یہاں تک کہ جب اکیسویں رات آئی جس میں آپ اعتکاف سے نکل آتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے اب وہ آخر کے دس دن بھی اعتکاف کریں، میں نے یہ ( قدر کی ) رات دیکھ لی تھی پھر مجھے بھلا دی گئی اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس رات کی صبح کو کیچڑ اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں، لہٰذا تم یہ رات آخری عشرے میں تلاش کرو اور وہ بھی طاق راتوں میں ۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر اسی رات یعنی اکیسویں کی رات میں بارش ہوئی چونکہ مسجد چھپر کی تھی، اس لیے ٹپکی۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر اکیسویں رات کی صبح کو پانی اور کیچڑ کا نشان تھا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن محمد بن ابراهيم بن الحارث التيمي، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي سعيد الخدري، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعتكف العشر الاوسط من رمضان فاعتكف عاما حتى اذا كانت ليلة احدى وعشرين وهي الليلة التي يخرج فيها من اعتكافه قال " من كان اعتكف معي فليعتكف العشر الاواخر وقد رايت هذه الليلة ثم انسيتها وقد رايتني اسجد من صبيحتها في ماء وطين فالتمسوها في العشر الاواخر والتمسوها في كل وتر " . قال ابو سعيد فمطرت السماء من تلك الليلة وكان المسجد على عريش فوكف المسجد . فقال ابو سعيد فابصرت عيناى رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلى جبهته وانفه اثر الماء والطين من صبيحة احدى وعشرين
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے نویں، ساتویں اور پانچویں شب میں ڈھونڈو ۔ ابونضرہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوسعید! آپ ہم میں سے سب سے زیادہ اعداد و شمار جانتے ہیں، انہوں نے کہا: ہاں، میں نے کہا: نویں، ساتویں اور پانچویں رات سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: جب ( ۲۱ ) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات نویں ہے، اور جب ( ۲۳ ) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات ساتویں ہے، اور جب ( ۲۵ ) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات پانچویں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم اس میں سے کچھ مجھ پر مخفی رہ گیا ہے یا نہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الاعلى، اخبرنا سعيد، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " التمسوها في العشر الاواخر من رمضان والتمسوها في التاسعة والسابعة والخامسة " . قال قلت يا ابا سعيد انكم اعلم بالعدد منا . قال اجل . قلت ما التاسعة والسابعة والخامسة قال اذا مضت واحدة وعشرون فالتي تليها التاسعة واذا مضى ثلاث وعشرون فالتي تليها السابعة واذا مضى خمس وعشرون فالتي تليها الخامسة . قال ابو داود لا ادري اخفي على منه شىء ام لا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: شب قدر کو رمضان کی سترہویں، اکیسویں اور تئیسویں رات میں تلاش کرو ، پھر چپ ہو گئے۔
حدثنا حكيم بن سيف الرقي، اخبرنا عبيد الله، - يعني ابن عمرو - عن زيد، - يعني ابن ابي انيسة - عن ابي اسحاق، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن ابيه، عن ابن مسعود، قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " اطلبوها ليلة سبع عشرة من رمضان وليلة احدى وعشرين وليلة ثلاث وعشرين " . ثم سكت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو اخیر کی سات راتوں میں تلاش کرو ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تحروا ليلة القدر في السبع الاواخر
معاویہ بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا: شب قدر ستائیسویں رات ہے ۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، اخبرنا شعبة، عن قتادة، انه سمع مطرفا، عن معاوية بن ابي سفيان، عن النبي صلى الله عليه وسلم في ليلة القدر قال " ليلة القدر ليلة سبع وعشرين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے متعلق پوچھا گیا اور میں ( اس گفتگو کو ) سن رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پورے رمضان میں کسی بھی رات ہو سکتی ہے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان اور شعبہ نے یہ حدیث ابواسحاق کے واسطے سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوفًا روایت کی ہے اور ان دونوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً نہیں نقل کیا ہے۔
حدثنا حميد بن زنجويه النسايي، اخبرنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا محمد بن جعفر بن ابي كثير، اخبرنا موسى بن عقبة، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن عبد الله بن عمر، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا اسمع عن ليلة القدر فقال " هي في كل رمضان " . قال ابو داود رواه سفيان وشعبة عن ابي اسحاق موقوفا على ابن عمر لم يرفعاه الى النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قرآن مجید ایک مہینے میں پڑھا کرو ، انہوں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بیس دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پندرہ دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دس دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات دن میں پڑھا کرو، اور اس پر ہرگز زیادتی نہ کرنا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسلم ( مسلم بن ابراہیم ) کی روایت زیادہ کامل ہے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، وموسى بن اسماعيل، قالا اخبرنا ابان، عن يحيى، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال له " اقرا القران في شهر " . قال اني اجد قوة . قال " اقرا في عشرين " . قال اني اجد قوة . قال " اقرا في خمس عشرة " . قال اني اجد قوة . قال " اقرا في عشر " . قال اني اجد قوة . قال " اقرا في سبع ولا تزيدن على ذلك " . قال ابو داود وحديث مسلم اتم
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کیا کرو ، پھر میرے اور آپ کے درمیان کم و زیادہ کرنے کی بات ہوئی ۱؎ آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن افطار کیا کرو ۔ عطا کہتے ہیں: ہم نے اپنے والد سے روایت میں اختلاف کیا ہے، ہم میں سے بعض نے سات دن اور بعض نے پانچ دن کی روایت کی ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، اخبرنا حماد، عن عطاء بن السايب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " صم من كل شهر ثلاثة ايام واقرا القران في شهر " . فناقصني وناقصته فقال " صم يوما وافطر يوما " . قال عطاء واختلفنا عن ابي فقال بعضنا سبعة ايام وقال بعضنا خمسا
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن کتنے دنوں میں ختم کروں؟ فرمایا: ایک ماہ میں ، کہا: میں اس سے زیادہ کی قدرت رکھتا ہوں ( ابوموسیٰ یعنی محمد بن مثنیٰ اس بات کو باربار دہراتے رہے ) آپ اسے کم کرتے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے سات دن میں ختم کیا کرو ، کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، فرمایا: وہ قرآن نہیں سمجھتا جو اسے تین دن سے کم میں پڑھے ۱؎ ۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا عبد الصمد، اخبرنا همام، اخبرنا قتادة، عن يزيد بن عبد الله، عن عبد الله بن عمرو، انه قال يا رسول الله في كم اقرا القران قال " في شهر " . قال اني اقوى من ذلك - يردد الكلام ابو موسى - وتناقصه حتى قال " اقراه في سبع " . قال اني اقوى من ذلك . قال " لا يفقه من قراه في اقل من ثلاث