Loading...

Loading...
کتب
۱۲ احادیث
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یہ دین برابر قائم رہے گا یہاں تک کہ تم پر بارہ خلیفہ ہوں گے، ان میں سے ہر ایک پر امت اتفاق کرے گی پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی بات سنی جسے میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا: آپ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ سارے خلفاء قریش میں سے ہوں گے ۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا مروان بن معاوية، عن اسماعيل، - يعني ابن ابي خالد - عن ابيه، عن جابر بن سمرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يزال هذا الدين قايما حتى يكون عليكم اثنا عشر خليفة كلهم تجتمع عليه الامة " . فسمعت كلاما من النبي صلى الله عليه وسلم لم افهمه قلت لابي ما يقول قال " كلهم من قريش
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یہ دین بارہ خلفاء تک برابر غالب رہے گا لوگوں نے یہ سن کر اللہ اکبر کہا، اور ہنگامہ کرنے لگے پھر آپ نے ایک بات آہستہ سے فرمائی، میں نے اپنے والد سے پوچھا: ابا جان! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ سب قریش میں سے ہوں گے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا داود، عن عامر، عن جابر بن سمرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يزال هذا الدين عزيزا الى اثنى عشر خليفة " . قال فكبر الناس وضجوا ثم قال كلمة خفية قلت لابي يا ابة ما قال قال " كلهم من قريش
اس سند سے بھی جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس گئے تو قریش کے لوگ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: پھر قتل ہو گا ۔
حدثنا ابن نفيل، حدثنا زهير، حدثنا زياد بن خيثمة، حدثنا الاسود بن سعيد الهمداني، عن جابر بن سمرة، بهذا الحديث زاد فلما رجع الى منزله اتته قريش فقالوا ثم يكون ماذا قال " ثم يكون الهرج
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا، یہاں تک کہ اس میں ایک شخص کو مجھ سے یا میرے اہل بیت میں سے اس طرح کا برپا کرے گا کہ اس کا نام میرے نام پر، اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہو گا، وہ عدل و انصاف سے زمین کو بھر دے گا، جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے ۔ سفیان کی روایت میں ہے: دنیا نہیں جائے گی یا ختم نہیں ہو گی تاآنکہ عربوں کا مالک ایک ایسا شخص ہو جائے جو میرے اہل بیت میں سے ہو گا اس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر اور ابوبکر کے الفاظ سفیان کی روایت کے مفہوم کے مطابق ہیں۔
حدثنا مسدد، ان عمر بن عبيد، حدثهم ح، وحدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو بكر، - يعني ابن عياش ح وحدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، ح وحدثنا احمد بن ابراهيم، حدثنا عبيد الله بن موسى، اخبرنا زايدة، ح وحدثنا احمد بن ابراهيم، حدثني عبيد الله بن موسى، عن فطر، - المعنى واحد - كلهم عن عاصم، عن زر، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لو لم يبق من الدنيا الا يوم " . قال زايدة في حديثه " لطول الله ذلك اليوم " . ثم اتفقوا " حتى يبعث فيه رجلا مني " . او " من اهل بيتي يواطي اسمه اسمي واسم ابيه اسم ابي " . زاد في حديث فطر " يملا الارض قسطا وعدلا كما مليت ظلما وجورا " . وقال في حديث سفيان " لا تذهب او لا تنقضي الدنيا حتى يملك العرب رجل من اهل بيتي يواطي اسمه اسمي " . قال ابو داود لفظ عمر وابي بكر بمعنى سفيان
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر زمانہ سے ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو بھی اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کھڑا بھیجے گا وہ اسے عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جیسے یہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا الفضل بن دكين، حدثنا فطر، عن القاسم بن ابي بزة، عن ابي الطفيل، عن علي، - رضى الله تعالى عنه - عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لو لم يبق من الدهر الا يوم لبعث الله رجلا من اهل بيتي يملاها عدلا كما مليت جورا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مہدی میری نسل سے فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے ۔
حدثنا احمد بن ابراهيم، حدثنا عبد الله بن جعفر الرقي، حدثنا ابو المليح الحسن بن عمر، عن زياد بن بيان، عن علي بن نفيل، عن سعيد بن المسيب، عن ام سلمة، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " المهدي من عترتي من ولد فاطمة " . قال عبد الله بن جعفر وسمعت ابا المليح يثني على علي بن نفيل ويذكر منه صلاحا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہدی میری اولاد میں سے کشادہ پیشانی، اونچی ناک والے ہوں گے، وہ روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جیسے کہ وہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے، ان کی حکومت سات سال تک رہے گی ۔
حدثنا سهل بن تمام بن بزيع، حدثنا عمران القطان، عن قتادة، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المهدي مني اجلى الجبهة اقنى الانف يملا الارض قسطا وعدلا كما مليت جورا وظلما يملك سبع سنين
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک خلیفہ کی موت کے وقت اختلاف ہو گا تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص مکہ کی طرف بھاگتے ہوئے نکلے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اس کو امامت کے لیے پیش کریں گے، اسے یہ پسند نہ ہو گا، پھر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان لوگ اس سے بیعت کریں گے، اور شام کی جانب سے ایک لشکر اس کی طرف بھیجا جائے گا تو مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیداء میں وہ سب کے سب دھنسا دئیے جائیں گے، جب لوگ اس صورت حال کو دیکھیں گے تو شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں اس کے پاس آئیں گی، حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے بیعت کریں گی، اس کے بعد ایک شخص قریش میں سے اٹھے گا جس کا ننہال بنی کلب میں ہو گا جو ایک لشکر ان کی طرف بھیجے گا، وہ اس پر غالب آئیں گے، یہی کلب کا لشکر ہو گا، اور نامراد رہے گا وہ شخص جو کلب کے مال غنیمت میں حاضر نہ رہے، وہ مال غنیمت تقسیم کرے گا اور لوگوں میں ان کے نبی کی سنت کو جاری کرے گا، اور اسلام اپنی گردن زمین میں ڈال دے گا، وہ سات سال تک حکمرانی کرے گا، پھر وفات پا جائے گا، اور مسلمان اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بعض نے ہشام سے نو سال کی روایت کی ہے اور بعض نے سات کی۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن صالح ابي الخليل، عن صاحب، له عن ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يكون اختلاف عند موت خليفة فيخرج رجل من اهل المدينة هاربا الى مكة فياتيه ناس من اهل مكة فيخرجونه وهو كاره فيبايعونه بين الركن والمقام ويبعث اليه بعث من الشام فيخسف بهم بالبيداء بين مكة والمدينة فاذا راى الناس ذلك اتاه ابدال الشام وعصايب اهل العراق فيبايعونه بين الركن والمقام ثم ينشا رجل من قريش اخواله كلب فيبعث اليهم بعثا فيظهرون عليهم وذلك بعث كلب والخيبة لمن لم يشهد غنيمة كلب فيقسم المال ويعمل في الناس بسنة نبيهم صلى الله عليه وسلم ويلقي الاسلام بجرانه الى الارض فيلبث سبع سنين ثم يتوفى ويصلي عليه المسلمون " . قال ابو داود قال بعضهم عن هشام " تسع سنين " . وقال بعضهم " سبع سنين
اس سند سے قتادہ سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں نو سال ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معاذ کے علاوہ نے ہشام سے نو سال کی روایت کی ہے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا عبد الصمد، عن همام، عن قتادة، بهذا الحديث وقال " تسع سنين " . قال ابو داود وقال غير معاذ عن هشام " تسع سنين
اس سند سے بھی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتی ہیں، معاذ کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا ابو العوام، حدثنا قتادة، عن ابي الخليل، عن عبد الله بن الحارث، عن ام سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث وحديث معاذ اتم
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دھنسائے جانے والے لشکر کا واقعہ روایت کرتی ہیں اس میں ہے: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا کیا حال ہو گا جو نہ چاہتے ہوئے زبردستی لایا گیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا البتہ قیامت کے دن وہ اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن عبد العزيز بن رفيع، عن عبيد الله ابن القبطية، عن ام سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بقصة جيش الخسف قلت يا رسول الله فكيف بمن كان كارها قال " يخسف بهم ولكن يبعث يوم القيامة على نيته
ابواسحاق کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حسن رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا، اور کہا: یہ میرا بیٹا سردار ہو گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام رکھا ہے، اور عنقریب اس کی نسل سے ایک ایسا شخص پیدا ہو گا جس کا نام تمہارے نبی کے نام جیسا ہو گا، اور سیرت میں ان کے مشابہ ہو گا البتہ صورت میں مشابہ نہ ہو گا پھر انہوں نے «سيملأ الأرض عدلاً» کا واقعہ ذکر کیا۔