Loading...

Loading...
کتب
۳۹ احادیث
عبدالرحمٰن بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑے چل رہا تھا کہ وہ اچانک ایک لٹکے ہوئے سر کے پاس آئے اور کہنے لگے: بدبخت ہے جس نے اسے قتل کیا، پھر جب کچھ اور آگے بڑھے تو کہا: میں تو اسے بدبخت ہی سمجھ رہا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص میری امت میں سے کسی شخص کی طرف چلا تاکہ وہ اسے ( ناحق ) قتل کرے، پھر وہ اسے قتل کر دے تو قتل کرنے والا جہنم میں ہو گا، اور جسے قتل کیا گیا ہے وہ جنت میں ہو گا ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا ابو عوانة، عن رقبة بن مصقلة، عن عون بن ابي جحيفة، عن عبد الرحمن، - يعني ابن سمرة - قال كنت اخذا بيد ابن عمر في طريق من طرق المدينة اذ اتى على راس منصوب فقال شقي قاتل هذا . فلما مضى قال وما ارى هذا الا قد شقي سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من مشى الى رجل من امتي ليقتله فليقل هكذا فالقاتل في النار والمقتول في الجنة " . قال ابو داود رواه الثوري عن عبد الرحمن بن سمير او سميرة ورواه ليث بن ابي سليم عن عون عن عبد الرحمن بن سميرة . قال ابو داود قال لي الحسن بن علي حدثنا ابو الوليد - يعني بهذا الحديث - عن ابي عوانة وقال هو في كتابي ابن سبرة وقالوا سمرة وقالوا سميرة هذا كلام ابي الوليد
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! میں نے عرض کیا: تعمیل حکم کے لیے حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر انہوں نے حدیث ذکر کی اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! اس دن تمہارا کیا حال ہو گا؟ جب مدینہ میں اتنی موتیں ہوں گی کہ گھر یعنی قبر ایک غلام کے بدلہ میں ملے گا؟ ۱؎ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، یا کہا: اللہ اور اس کے رسول میرے لیے ایسے موقع پر کیا پسند فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: صبر کو لازم پکڑنا یا فرمایا: صبر کرنا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ارشاد فرمائیں تعمیل حکم کے لیے حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا حال ہو گا جب تم احجار الزیت ۲؎ کو خون میں ڈوبا ہوا دیکھو گے میں نے عرض کیا: جو اللہ اور اس کے رسول میرے لیے پسند فرمائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس جگہ کو لازم پکڑنا جہاں کے تم ہو ۳؎ ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی تلوار لے کر اسے اپنے کندھے پر نہ رکھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو تم ان کے شریک بن جاؤ گے میں نے عرض کیا: پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر کو لازم پکڑنا میں نے عرض کیا: اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلواروں کی چمک تمہاری نگاہیں خیرہ کر دے گی تو تم اپنا کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لینا ( اور قتل ہو جانا ) وہ تمہارا اور اپنا دونوں کا گناہ سمیٹ لے گا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن ابي عمران الجوني، عن المشعث بن طريف، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا ذر " . قلت لبيك يا رسول الله وسعديك . فذكر الحديث قال فيه " كيف انت اذا اصاب الناس موت يكون البيت فيه بالوصيف " . قلت الله ورسوله اعلم او قال ما خار الله لي ورسوله . قال " عليك بالصبر " . او قال " تصبر " . ثم قال لي " يا ابا ذر " . قلت لبيك وسعديك . قال " كيف انت اذا رايت احجار الزيت قد غرقت بالدم " . قلت ما خار الله لي ورسوله . قال " عليك بمن انت منه " . قلت يا رسول الله افلا اخذ سيفي واضعه على عاتقي قال " شاركت القوم اذا " . قلت فما تامرني قال " تلزم بيتك " . قلت فان دخل على بيتي قال " فان خشيت ان يبهرك شعاع السيف فالق ثوبك على وجهك يبوء باثمك واثمه " . قال ابو داود لم يذكر المشعث في هذا الحديث غير حماد بن زيد
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے سامنے فتنے ہوں گے اندھیری رات کی گھڑیوں کی طرح ۱؎ ان میں صبح کو آدمی مومن رہے گا اور شام کو کافر، اور شام کو مومن رہے گا اور صبح کو کافر، اس میں بیٹھا ہوا کھڑے شخص سے بہتر ہو گا، اور کھڑا چلنے والے سے بہتر ہو گا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا ، لوگوں نے عرض کیا: تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر کا ٹاٹ بن جانا ۲؎۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عاصم الاحول، عن ابي كبشة، قال سمعت ابا موسى، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان بين ايديكم فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل فيها مومنا ويمسي كافرا ويمسي مومنا ويصبح كافرا القاعد فيها خير من القايم والقايم فيها خير من الماشي والماشي فيها خير من الساعي " . قالوا فما تامرنا قال " كونوا احلاس بيوتكم
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قسم اللہ کی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے دور رہا، نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے دور رہا، اور جو اس میں پھنس گیا پھر اس نے صبر کیا تو پھر اس کا کیا کہنا ۔
حدثنا ابراهيم بن الحسن المصيصي، حدثنا حجاج، - يعني ابن محمد - حدثنا الليث بن سعد، قال حدثني معاوية بن صالح، ان عبد الرحمن بن جبير، حدثه عن ابيه، عن المقداد بن الاسود، قال ايم الله لقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان السعيد لمن جنب الفتن ان السعيد لمن جنب الفتن ان السعيد لمن جنب الفتن ولمن ابتلي فصبر فواها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک بہرا گونگا اور اندھا فتنہ ہو گا ۱؎ جو اس میں جھانکے گا اسے وہ اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اور زبان چلانا اس میں ایسے ہو گا جیسے تلوار چلانا ۔
حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث، حدثني ابن وهب، حدثني الليث، عن يحيى بن سعيد، قال قال خالد بن ابي عمران عن عبد الرحمن بن البيلماني، عن عبد الرحمن بن هرمز، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ستكون فتنة صماء بكماء عمياء من اشرف لها استشرفت له واشراف اللسان فيها كوقوع السيف
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک ایسا فتنہ ہو گا جو پورے عرب کو گھیر لے گا جو اس میں مارے جائیں گے جہنم میں جائیں گے، اس میں زبان کا چلانا تلوار چلانے سے بھی زیادہ سخت ہو گا ۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا ليث، عن طاوس، عن رجل، يقال له زياد عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انها ستكون فتنة تستنظف العرب قتلاها في النار اللسان فيها اشد من وقع السيف " . قال ابو داود رواه الثوري عن ليث عن طاوس عن الاعجم
عبداللہ بن عبدالقدوس نے «عن رجل يقال له زياد» کے بجائے «زیاد سیمین کوش» کہا ہے جس کے معنی سفید کان والا کے ہیں۔
حدثنا محمد بن عيسى بن الطباع، حدثنا عبد الله بن عبد القدوس، قال زياد سيمين كوش
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان کا بہتر مال بکریاں ہوں، جنہیں لے کر وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر پھرتا اور اپنا دین لے کر وہ فساد اور فتنوں سے بھاگتا ہو ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوشك ان يكون خير مال المسلم غنما يتبع بها شعف الجبال ومواقع القطر يفر بدينه من الفتن
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ میں لڑائی کے ارادہ سے نکلا ( تاکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑوں ) تو مجھے ( راستہ میں ) ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مل گئے، انہوں نے کہا: تم لوٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب دو مسلمان اپنی تلوار لے کر ایک دوسرے کو مارنے اٹھیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قاتل ( کا جہنم میں جانا ) تو سمجھ میں آتا ہے لیکن کا حال ایسا کیوں ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہا تھا ۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، ويونس، عن الحسن، عن الاحنف بن قيس، قال خرجت وانا اريد، - يعني في القتال - فلقيني ابو بكرة فقال ارجع فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا تواجه المسلمان بسيفيهما فالقاتل والمقتول في النار " . قال يا رسول الله هذا القاتل فما بال المقتول قال " انه اراد قتل صاحبه
اس سند سے بھی حسن سے اسی مفہوم کی حدیث مختصراً مروی ہے۔
حدثنا محمد بن المتوكل العسقلاني، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن ايوب، عن الحسن، باسناده ومعناه مختصرا . قال ابو داود لمحمد - يعني ابن المتوكل - اخ ضعيف يقال له الحسين
خالد بن دہقان کہتے ہیں کہ جنگ قسطنطنیہ میں ہم ذلقیہ ۱؎ میں تھے، اتنے میں فلسطین کے اشراف و عمائدین میں سے ایک شخص آیا، اس کی اس حیثیت کو لوگ جانتے تھے، اسے ہانی بن کلثوم بن شریک کنانی کہا جاتا تھا، اس نے آ کر عبداللہ بن ابی زکریا کو سلام کیا، وہ ان کے مقام و مرتبہ سے واقف تھا، ہم سے خالد نے کہا: تو ہم سے عبداللہ بن زکریا نے حدیث بیان کی عبداللہ بن زکریا نے کہا میں نے ام الدرداء رضی اللہ عنہا سے سنا ہے وہ کہہ رہی تھیں کہ میں نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ہر گناہ کو اللہ بخش سکتا ہے سوائے اس کے جو مشرک ہو کر مرے یا مومن ہو کر کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے ، تو ہانی بن کلثوم نے کہا: میں نے محمود بن ربیع کو بیان کرتے سنا وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے، اور عبادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا: جو کسی مومن کو ناحق قتل کرے، پھر اس پر خوش بھی ہو، تو اللہ اس کا کوئی عمل قبول نہ فرمائے گا نہ نفل اور نہ فرض ۔ خالد نے ہم سے کہا: پھر ابن ابی زکریا نے مجھ سے بیان کیا وہ ام الدرداء سے روایت کر رہے تھے، اور وہ ابوالدرداء سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برابر مومن ہلکا پھلکا اور صالح رہتا ہے، جب تک وہ ناحق خون نہ کرے، اور جب وہ ناحق کسی کو قتل کر دیتا ہے تو تھک جاتا اور عاجز ہو جاتا ہے ۔ ہانی بن کلثوم نے بیان کیا، وہ محمود بن ربیع سے، محمود عبادہ بن صامت سے، عبادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اسی کے ہم مثل روایت کر رہے تھے۔
حدثنا مومل بن الفضل الحراني، حدثنا محمد بن شعيب، عن خالد بن دهقان، قال كنا في غزوة القسطنطينية بذلقية فاقبل رجل من اهل فلسطين - من اشرافهم وخيارهم يعرفون ذلك له يقال له هاني بن كلثوم بن شريك الكناني - فسلم على عبد الله بن ابي زكريا وكان يعرف له حقه قال لنا خالد فحدثنا عبد الله بن ابي زكريا قال سمعت ام الدرداء تقول سمعت ابا الدرداء يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " كل ذنب عسى الله ان يغفره الا من مات مشركا او مومن قتل مومنا متعمدا " . فقال هاني بن كلثوم سمعت محمود بن الربيع يحدث عن عبادة بن الصامت انه سمعه يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " من قتل مومنا فاعتبط بقتله لم يقبل الله منه صرفا ولا عدلا " . قال لنا خالد ثم حدثني ابن ابي زكريا عن ام الدرداء عن ابي الدرداء ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يزال المومن معنقا صالحا ما لم يصب دما حراما فاذا اصاب دما حراما بلح " . وحدث هاني بن كلثوم عن محمود بن الربيع عن عبادة بن الصامت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم مثله سواء
خالد بن دہقان کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن یحییٰ غسانی سے قول نبوی «اعتبط بقتلہ» کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے کہا: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کو فتنے میں یہ سمجھ کر قتل کرتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں، پھر وہ اللہ سے توبہ و استغفار نہیں کرتے یعنی اس ( قتل ) سے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اعتبط» اعتبط کے معنی ( ناحق ) خون بہانے کے ہیں۔
حدثنا عبد الرحمن بن عمرو، عن محمد بن مبارك، حدثنا صدقة بن خالد، او غيره قال قال خالد بن دهقان سالت يحيى بن يحيى الغساني عن قوله " اعتبط بقتله " . قال الذين يقاتلون في الفتنة فيقتل احدهم فيرى انه على هدى لا يستغفر الله - يعني - من ذلك . قال ابو داود وقال فاعتبط يصب دمه صبا
خارجہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اسی جگہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ آیت کریمہ «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها» اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قصداً قتل کر ڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ( النساء: ۹۳ ) ( سورۃ الفرقان کی آیت ) «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق» اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ نے حرام کر دیا ہے بجز حق کے قتل نہیں کرتے ( الفرقان: ۶۸ ) کے چھ مہینے کے بعد نازل ہوئی ہے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا حماد، اخبرنا عبد الرحمن بن اسحاق، عن ابي الزناد، عن مجالد بن عوف، ان خارجة بن زيد، قال سمعت زيد بن ثابت، في هذا المكان يقول انزلت هذه الاية { ومن يقتل مومنا متعمدا فجزاوه جهنم خالدا فيها } بعد التي في الفرقان { والذين لا يدعون مع الله الها اخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله الا بالحق } بستة اشهر
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو آپ نے کہا: جب سورۃ الفرقان کی آیت «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق» نازل ہوئی تو اہل مکہ کے مشرک کہنے لگے: ہم نے بہت سی ایسی جانیں قتل کی ہیں جنہیں اللہ نے حرام کیا ہے اور ہم نے اللہ کے علاوہ دوسرے معبودوں کو پکارا ہے، اور برے کام کئے ہیں تو اللہ نے«إلا من تاب وآمن وعمل عملا صالحا فأولئك يبدل الله سيئاتهم حسنات» سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے ( الفرقان: ۷۰ ) نازل فرمائی تو یہ ان لوگوں کے لیے ہے۔ انہوں نے مزید کہا: اور سورۃ نساء کی آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» الآیۃ، ایسے وقت کے لیے ہے جب آدمی مسلمان ہو جائے اور شرعی احکام کو جان لے پھر جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کر دے تو ایسے شخص کی سزا جہنم ہو گی، اور اس کی توبہ بھی قبول نہ ہو گی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عباس کے اس قول کو مجاہد سے بیان کیا تو انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا سوائے اس شخص کے جو شرمندہ ہو ( یعنی دل سے توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہو گی ) ۔
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا جرير، عن منصور، عن سعيد بن جبير، او حدثني الحكم، عن سعيد بن جبير، قال سالت ابن عباس فقال لما نزلت التي في الفرقان { والذين لا يدعون مع الله الها اخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله الا بالحق } قال مشركو اهل مكة قد قتلنا النفس التي حرم الله ودعونا مع الله الها اخر واتينا الفواحش . فانزل الله { الا من تاب وامن وعمل عملا صالحا فاوليك يبدل الله سيياتهم حسنات } فهذه لاوليك قال واما التي في النساء { ومن يقتل مومنا متعمدا فجزاوه جهنم } الاية قال الرجل اذا عرف شرايع الاسلام ثم قتل مومنا متعمدا فجزاوه جهنم لا توبة له . فذكرت هذا لمجاهد فقال الا من ندم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی قصہ میں مروی ہے کہ «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر» سے مراد اہل شرک ہیں اور آیت کریمہ «يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله» اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو جاؤ ( الزمر: ۵۳ ) نازل ہوئی۔
حدثنا احمد بن ابراهيم، حدثنا حجاج، عن ابن جريج، حدثني يعلى، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، في هذه القصة في { الذين لا يدعون مع الله الها اخر } اهل الشرك قال ونزل { يا عبادي الذين اسرفوا على انفسهم}
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» ( کا حکم باقی ہے ) اسے کسی اور آیت نے منسوخ نہیں کیا ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن المغيرة بن النعمان، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال { ومن يقتل مومنا متعمدا } قال ما نسخها شىء
ابومجلز سے اللہ تعالیٰ کے قول «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» کے متعلق مروی ہے کہ ایسے شخص کا بدلہ تو یہی ہے لیکن اگر اللہ اسے معاف کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابو شهاب، عن سليمان التيمي، عن ابي مجلز، في قوله { ومن يقتل مومنا متعمدا فجزاوه جهنم } قال هي جزاوه فان شاء الله ان يتجاوز عنه فعل
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے آپ نے ایک فتنہ اور اس کی ہولناکی کا ذکر کیا تو ہم نے یا لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر اس فتنہ نے ہم کو پا لیا تو ہم کو تو تباہ کر ڈالے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں، بس تمہارا قتل ہو جانا ہی کافی ہو گا ۔ سعید کہتے ہیں: میں نے اپنے بھائیوں کو ( جمل و صفین میں ) قتل ہوتے دیکھ لیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، سلام بن سليم عن منصور، عن هلال بن يساف، عن سعيد بن زيد، قال كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فذكر فتنة فعظم امرها فقلنا او قالوا يا رسول الله لين ادركتنا هذه لتهلكنا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلا ان بحسبكم القتل " . قال سعيد فرايت اخواني قتلوا
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اس امت پر اللہ کی رحمت ہے آخرت میں اسے عذاب ( دائمی ) نہیں ہو گا اور دنیا میں اس کا عذاب: فتنوں، زلزلوں اور قتل کی شکل میں ہو گا ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا كثير بن هشام، حدثنا المسعودي، عن سعيد بن ابي بردة، عن ابيه، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امتي هذه امة مرحومة ليس عليها عذاب في الاخرة عذابها في الدنيا الفتن والزلازل والقتل