Loading...

Loading...
کتب
۳۹ احادیث
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، پھر اس مقام پر آپ نے قیامت تک پیش آنے والی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جسے بیان نہ فرما دیا ہو، تو جو اسے یاد رکھ سکا اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا، اور وہ آپ کے ان اصحاب کو معلوم ہے، اور جب ان میں سے کوئی چیز ظہور پذیر ہو جاتی ہے تو مجھے یاد آ جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی فرمایا تھا، جیسے کوئی کسی کے غائب ہو جانے پر اس کے چہرہ کو یاد رکھتا ہے اور دیکھتے ہی اسے پہچان لیتا ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن حذيفة، قال قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم قايما فما ترك شييا يكون في مقامه ذلك الى قيام الساعة الا حدثه حفظه من حفظه ونسيه من نسيه قد علمه اصحابه هولاء وانه ليكون منه الشىء فاذكره كما يذكر الرجل وجه الرجل اذا غاب عنه ثم اذا راه عرفه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت میں چار ( بڑے بڑے ) فتنے ہوں گے ان کا آخری فناء ( قیامت ) ہو گا ۱؎ ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا ابو داود الحفري، عن بدر بن عثمان، عن عامر، عن رجل، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يكون في هذه الامة اربع فتن في اخرها الفناء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے آپ نے فتنوں کے تذکرہ میں بہت سے فتنوں کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ فتنہ احلاس کا بھی ذکر فرمایا تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسی نفرت و عداوت اور قتل و غارت گری ہے کہ انسان ایک دوسرے سے بھاگے گا، اور باہم برسر پیکار رہے گا، پھر اس کے بعد فتنہ سراء ہے جس کا فساد میرے اہل بیت کے ایک شخص کے پیروں کے نیچے سے رونما ہو گا، وہ گمان کرے گا کہ وہ مجھ سے ہے حالانکہ وہ مجھ سے نہ ہو گا، میرے اولیاء تو وہی ہیں جو متقی ہوں، پھر لوگ ایک شخص پر اتفاق کر لیں گے جیسے سرین ایک پسلی پر ( یعنی ایسے شخص پر اتفاق ہو گا جس میں استقامت نہ ہو گی جیسے سرین پہلو کی ہڈی پر سیدھی نہیں ہوتی ) ، پھر «دھیماء» ( اندھیرے ) کا فتنہ ہو گا جو اس امت کے ہر فرد کو پہنچ کر رہے گا، جب کہا جائے گا کہ فساد ختم ہو گیا تو وہ اور بھڑک اٹھے گا جس میں صبح کو آدمی مومن ہو گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا، یہاں تک کہ لوگ دو خیموں میں بٹ جائیں گے، ایک خیمہ اہل ایمان کا ہو گا جس میں کوئی منافق نہ ہو گا، اور ایک خیمہ اہل نفاق کا جس میں کوئی ایماندار نہ ہو گا، تو جب ایسا فتنہ رونما ہو تو اسی روز، یا اس کے دو سرے روز سے دجال کا انتظار کرنے لگ جاؤ ۔
حدثنا يحيى بن عثمان بن سعيد الحمصي، حدثنا ابو المغيرة، حدثني عبد الله بن سالم، حدثني العلاء بن عتبة، عن عمير بن هاني العنسي، قال سمعت عبد الله بن عمر، يقول كنا قعودا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر الفتن فاكثر في ذكرها حتى ذكر فتنة الاحلاس فقال قايل يا رسول الله وما فتنة الاحلاس قال " هي هرب وحرب ثم فتنة السراء دخنها من تحت قدمى رجل من اهل بيتي يزعم انه مني وليس مني وانما اوليايي المتقون ثم يصطلح الناس على رجل كورك على ضلع ثم فتنة الدهيماء لا تدع احدا من هذه الامة الا لطمته لطمة فاذا قيل انقضت تمادت يصبح الرجل فيها مومنا ويمسي كافرا حتى يصير الناس الى فسطاطين فسطاط ايمان لا نفاق فيه وفسطاط نفاق لا ايمان فيه فاذا كان ذاكم فانتظروا الدجال من يومه او من غده
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قسم اللہ کی میں نہیں جانتا کہ میرے اصحاب بھول گئے ہیں؟ یا ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ بھول گئے ہیں، قسم اللہ کی ایسا نہیں ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک ہونے والے کسی ایسے فتنہ کے سردار کا ذکر چھوڑ دیا ہو جس کے ساتھ تین سویا اس سے زیادہ افراد ہوں، اور اس کا اور اس کے باپ اور اس کے قبیلہ کا نام لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا نہ دیا ہو۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا ابن ابي مريم، اخبرنا ابن فروخ، اخبرني اسامة بن زيد، اخبرني ابن لقبيصة بن ذويب، عن ابيه، قال قال حذيفة بن اليمان والله ما ادري انسي اصحابي ام تناسوا والله ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم من قايد فتنة الى ان تنقضي الدنيا يبلغ من معه ثلاثماية فصاعدا الا قد سماه لنا باسمه واسم ابيه واسم قبيلته
سبیع بن خالد کہتے ہیں کہ تستر فتح کئے جانے کے وقت میں کوفہ آیا، وہاں سے میں خچر لا رہا تھا، میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ چند درمیانہ قد و قامت کے لوگ ہیں، اور ایک اور شخص بیٹھا ہے جسے دیکھ کر ہی تم پہچان لیتے کہ یہ اہل حجاز میں کا ہے، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ تو لوگ میرے ساتھ ترش روئی سے پیش آئے، اور کہنے لگے: کیا تم انہیں نہیں جانتے؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں، پھر حذیفہ نے کہا: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے، اور میں آپ سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا، تو لوگ انہیں غور سے دیکھنے لگے، انہوں نے کہا: جس پر تمہیں تعجب ہو رہا ہے وہ میں سمجھ رہا ہوں، پھر وہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ اس خیر کے بعد جسے اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے کیا شر بھی ہو گا جیسے پہلے تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے عرض کیا: پھر اس سے بچاؤ کی کیا صورت ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تلوار ۱؎ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کی طرف سے کوئی خلیفہ ( حاکم ) زمین پر ہو پھر وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگائے، اور تمہارا مال لوٹ لے جب بھی تم اس کی اطاعت کرو ورنہ تم درخت کی جڑ چبا چبا کر مر جاؤ ۲؎ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر دجال ظاہر ہو گا، اس کے ساتھ نہر بھی ہو گی اور آگ بھی جو اس کی آگ میں داخل ہو گیا تو اس کا اجر ثابت ہو گیا، اور اس کے گناہ معاف ہو گئے، اور جو اس کی ( اطاعت کر کے ) نہر میں داخل ہو گیا تو اس کا گناہ واجب ہو گیا، اور اس کا اجر ختم ہو گیا میں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر قیامت قائم ہو گی ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن نصر بن عاصم، عن سبيع بن خالد، قال اتيت الكوفة في زمن فتحت تستر اجلب منها بغالا فدخلت المسجد فاذا صدع من الرجال واذا رجل جالس تعرف اذا رايته انه من رجال اهل الحجاز قال قلت من هذا فتجهمني القوم وقالوا اما تعرف هذا هذا حذيفة بن اليمان صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال حذيفة ان الناس كانوا يسالون رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخير وكنت اساله عن الشر فاحدقه القوم بابصارهم فقال اني قد ارى الذي تنكرون اني قلت يا رسول الله ارايت هذا الخير الذي اعطانا الله ايكون بعده شر كما كان قبله قال " نعم " . قلت فما العصمة من ذلك قال " السيف " . قلت يا رسول الله ثم ماذا يكون قال " ان كان لله خليفة في الارض فضرب ظهرك واخذ مالك فاطعه والا فمت وانت عاض بجذل شجرة " . قلت ثم ماذا قال " ثم يخرج الدجال معه نهر ونار فمن وقع في ناره وجب اجره وحط وزره ومن وقع في نهره وجب وزره وحط اجره " . قال قلت ثم ماذا قال " ثم هي قيام الساعة
خالد بن خالد یشکری سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: پھر تلوار کے بعد کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باقی لوگ رہیں گے مگر دلوں میں ان کے فساد ہو گا، اور ظاہر میں صلح ہو گی پھر آگے انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔ راوی کہتے ہیں: قتادہ اسے ( تلوار کو ) اس فتنہ ارتداد پر محمول کرتے تھے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہوا، اور «اقذاء» کی تفسیر «قذی» سے یعنی غبار اور گندگی سے جو آنکھ یا پینے کی چیز میں پڑ جاتی ہے، اور «ھدنہ» کی تفسیر صلح سے«دخن» کی تفسیر دلوں کے فساد اور کینوں سے کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن قتادة، عن نصر بن عاصم، عن خالد بن خالد اليشكري، بهذا الحديث قال قلت بعد السيف قال " بقية على اقذاء وهدنة على دخن " . ثم ساق الحديث قال كان قتادة يضعه على الردة التي في زمن ابي بكر " على اقذاء " . يقول قذى . " وهدنة " . يقول صلح " على دخن " . على ضغاين
نصر بن عاصم لیثی کہتے ہیں کہ ہم بنی لیث کے کچھ لوگوں کے ساتھ یشکری کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا: ہم بنی لیث کے لوگ ہیں ہم آپ کے پاس حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پوچھنے آئے ہیں؟ تو انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتنہ اور شر ہو گا میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شر کے بعد پھر خیر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حذیفہ! اللہ کی کتاب کو پڑھو اور جو کچھ اس میں ہے اس کی پیروی کرو آپ نے یہ تین بار فرمایا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس شر کے بعد پھر خیر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «هدنة على الدخن» ہو گا اور جماعت ہو گی جس کے دلوں میں کینہ و فساد ہو گا میں نے عرض کیا:«هدنة على الدخن» کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے دل اس حالت پر نہیں واپس آئیں گے جس پر پہلے تھے ۱؎ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک ایسا اندھا اور بہرا فتنہ ہو گا ( اور اس کے قائد ) جہنم کے دروازوں پر بلانے والے ہوں گے، تو اے حذیفہ! تمہارا جنگل میں درخت کی جڑ چبا چبا کر مر جانا بہتر ہو گا اس بات سے کہ تم ان میں کسی کی پیروی کرو ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، حدثنا سليمان، - يعني ابن المغيرة - عن حميد، عن نصر بن عاصم الليثي، قال اتينا اليشكري في رهط من بني ليث فقال من القوم فقلنا بنو ليث اتيناك نسالك عن حديث حذيفة فذكر الحديث قال قلت يا رسول الله هل بعد هذا الخير شر قال " فتنة وشر " . قال قلت يا رسول الله هل بعد هذا الشر خير قال " يا حذيفة تعلم كتاب الله واتبع ما فيه " . ثلاث مرار . قال قلت يا رسول الله هل بعد هذا الشر خير قال " هدنة على دخن وجماعة على اقذاء فيها او فيهم " . قلت يا رسول الله الهدنة على الدخن ما هي قال " لا ترجع قلوب اقوام على الذي كانت عليه " . قال قلت يا رسول الله ابعد هذا الخير شر قال " فتنة عمياء صماء عليها دعاة على ابواب النار فان تمت يا حذيفة وانت عاض على جذل خير لك من ان تتبع احدا منهم
اس سند سے بھی حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ ان دنوں میں اگر مسلمانوں کا کوئی خلیفہ ( حاکم ) تمہیں نہ ملے تو بھاگ کر ( جنگل میں ) چلے جاؤ یہاں تک کہ وہیں مر جاؤ، اگر تم درخت کی جڑ چبا چبا کر مر جاؤ ( تو بہتر ہے ایسے بے دینوں میں رہنے سے ) اس روایت کے آخر میں یہ ہے کہ میں نے کہا: پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کی گھوڑی بچہ جننا چاہتی ہو تو وہ نہ جن سکے گی یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ابو التياح، عن صخر بن بدر العجلي، عن سبيع بن خالد، بهذا الحديث عن حذيفة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " فان لم تجد يوميذ خليفة فاهرب حتى تموت فان تمت وانت عاض " . وقال في اخره قال قلت فما يكون بعد ذلك قال " لو ان رجلا نتج فرسا لم تنتج حتى تقوم الساعة
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی امام سے بیعت کی، اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا، اور اس سے عہد و اقرار کیا تو اسے چاہیئے کہ جہاں تک ہو سکے وہ اس کی اطاعت کرے، اور اگر کوئی دوسرا امام بن کر اس سے جھگڑنے آئے تو اس دوسرے کی گردن مار دے ۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں اسے میرے دونوں کانوں نے سنا ہے، اور میرے دل نے یاد رکھا ہے، میں نے کہا: یہ آپ کے چچا کے لڑکے معاویہ رضی اللہ عنہ ہم سے تاکیداً کہتے ہیں کہ ہم یہ یہ کریں تو انہوں نے کہا: ان کی اطاعت ان چیزوں میں کرو جس میں اللہ کی اطاعت ہو، اور جس میں اللہ کی نافرمانی ہو اس میں ان کا کہنا نہ مانو۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الاعمش، عن زيد بن وهب، عن عبد الرحمن بن عبد رب الكعبة، عن عبد الله بن عمرو، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من بايع اماما فاعطاه صفقة يده وثمرة قلبه فليطعه ما استطاع فان جاء اخر ينازعه فاضربوا رقبة الاخر " . قلت انت سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سمعته اذناى ووعاه قلبي . قلت هذا ابن عمك معاوية يامرنا ان نفعل ونفعل . قال اطعه في طاعة الله واعصه في معصية الله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرابی اور بربادی ہے عربوں کے لیے اس شر سے جو قریب آ چکا ہے، اس میں وہی شخص فلاح یاب رہے گا جو اپنا ہاتھ روکے رکھے ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن شيبان، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ويل للعرب من شر قد اقترب افلح من كف يده
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان مدینہ ہی میں محصور کر دئیے جائیں یہاں تک کہ ان کی عملداری صرف مقام سلاح تک رہ جائے ۔
قال ابو داود حدثت عن ابن وهب، قال حدثنا جرير بن حازم، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوشك المسلمون ان يحاصروا الى المدينة حتى يكون ابعد مسالحهم سلاح
ابن شہاب زہری کہتے ہیں اور سلاح خیبر کے قریب ایک جگہ ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، عن عنبسة، عن يونس، عن الزهري، قال وسلاح قريب من خيبر
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی یا فرمایا: میرے لیے میرے رب نے زمین سمیٹ دی، تو میں نے مشرق و مغرب کی ساری جگہیں دیکھ لیں، یقیناً میری امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک زمین میرے لیے سمیٹی گئی، مجھے سرخ و سفید دونوں خزانے دئیے گئے، میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو کسی عام قحط سے ہلاک نہ کرے، ان پر ان کے علاوہ باہر سے کوئی ایسا دشمن مسلط نہ کرے جو انہیں جڑ سے مٹا دے، اور ان کا نام باقی نہ رہنے پائے، تو میرے رب نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو وہ بدلتا نہیں میں تیری امت کے لوگوں کو عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا، اور نہ ہی ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط کروں گا جو ان میں سے نہ ہو، اور ان کو جڑ سے مٹا دے گو ساری زمین کے کافر مل کر ان پر حملہ کریں، البتہ ایسا ہو گا کہ تیری امت کے لوگ خود آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے، انہیں قید کریں گے، اور میں اپنی امت پر گمراہ کر دینے والے ائمہ سے ڈرتا ہوں، اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو پھر وہ اس سے قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی، اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ میری امت کے کچھ لوگ مشرکین سے مل نہ جائیں اور کچھ بتوں کو نہ پوجنے لگ جائیں، اور عنقریب میری امت میں تیس ( ۳۰ ) کذاب پیدا ہوں گے، ان میں ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا ( ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے ) وہ غالب رہے گا، ان کا مخالف ان کو ضرر نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے ۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومحمد بن عيسى، قالا حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي اسماء، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله زوى لي الارض " . او قال " ان ربي زوى لي الارض فرايت مشارقها ومغاربها وان ملك امتي سيبلغ ما زوي لي منها واعطيت الكنزين الاحمر والابيض واني سالت ربي لامتي ان لا يهلكها بسنة بعامة ولا يسلط عليهم عدوا من سوى انفسهم فيستبيح بيضتهم وان ربي قال لي يا محمد اني اذا قضيت قضاء فانه لا يرد ولا اهلكهم بسنة بعامة ولا اسلط عليهم عدوا من سوى انفسهم فيستبيح بيضتهم ولو اجتمع عليهم من بين اقطارها او قال باقطارها حتى يكون بعضهم يهلك بعضا وحتى يكون بعضهم يسبي بعضا وانما اخاف على امتي الايمة المضلين واذا وضع السيف في امتي لم يرفع عنها الى يوم القيامة ولا تقوم الساعة حتى تلحق قبايل من امتي بالمشركين وحتى تعبد قبايل من امتي الاوثان وانه سيكون في امتي كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبي وانا خاتم النبيين لا نبي بعدي ولا تزال طايفة من امتي على الحق " . قال ابن عيسى " ظاهرين " . ثم اتفقا " لا يضرهم من خالفهم حتى ياتي امر الله
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تمہیں تین آفتوں سے بچا لیا ہے: ایک یہ کہ تمہارا نبی تم پر ایسی بدعا نہیں کرے گا کہ تم سب ہلاک ہو جاؤ، دوسری یہ کہ اہل باطل اہل حق پر غالب نہیں آئیں گے، تیسری یہ کہ تم سب گمراہی پر متفق نہیں ہو گے ۔
حدثنا محمد بن عوف الطايي، حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثني ابي، - قال ابن عوف وقرات في اصل اسماعيل - قال حدثني ضمضم، عن شريح، عن ابي مالك، - يعني الاشعري - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله اجاركم من ثلاث خلال ان لا يدعو عليكم نبيكم فتهلكوا جميعا وان لا يظهر اهل الباطل على اهل الحق وان لا تجتمعوا على ضلالة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی چکی پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سال تک گردش میں رہے گی، پھر اگر وہ ہلاک ہوئے تو ان کی راہ وہی ہو گی جو ان لوگوں کی راہ رہی جو ہلاک ہوئے اور اگر ان کا دین قائم رہا تو ستر سال تک قائم رہے گا میں نے عرض کیا: کیا اس زمانہ سے جو باقی ہے یا اس سے جو گزر گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس زمانہ سے جو گزر گیا ۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن منصور، عن ربعي بن حراش، عن البراء بن ناجية، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تدور رحى الاسلام لخمس وثلاثين او ست وثلاثين او سبع وثلاثين فان يهلكوا فسبيل من هلك وان يقم لهم دينهم يقم لهم سبعين عاما " . قال قلت امما بقي او مما مضى قال " مما مضى " . قال ابو داود من قال خراش فقد اخطا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ سمٹ جائے گا، علم کم ہو جائے گا، فتنے رونما ہوں گے، لوگوں پر بخیلی ڈال دی جائے گی، اور «هرج» کثرت سے ہو گا آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل، قتل ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة، حدثني يونس، عن ابن شهاب، قال حدثني حميد بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يتقارب الزمان وينقص العلم وتظهر الفتن ويلقى الشح ويكثر الهرج " . قيل يا رسول الله اية هو قال " القتل القتل
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک ایسا فتنہ رونما ہو گا کہ اس میں لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے سے بہتر ہو گا، بیٹھا کھڑے سے بہتر ہو گا، کھڑا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت کے لیے آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس اونٹ ہو وہ اپنے اونٹ سے جا ملے، جس کے پاس بکری ہو وہ اپنی بکری سے جا ملے، اور جس کے پاس زمین ہو تو وہ اپنی زمین ہی میں جا بیٹھے عرض کیا: جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو وہ کیا کرے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنی تلوار لے کر اس کی دھار ایک پتھر سے مار کر کند کر دے ( اسے لڑنے کے لائق نہ رہنے دے ) پھر چاہیئے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے وہ ( فتنوں سے ) گلو خلاصی حاصل کرے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن عثمان الشحام، قال حدثني مسلم بن ابي بكرة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انها ستكون فتنة يكون المضطجع فيها خيرا من الجالس والجالس خيرا من القايم والقايم خيرا من الماشي والماشي خيرا من الساعي " . قال يا رسول الله ما تامرني قال " من كانت له ابل فليلحق بابله ومن كانت له غنم فليلحق بغنمه ومن كانت له ارض فليلحق بارضه " . قال فمن لم يكن له شىء من ذلك قال " فليعمد الى سيفه فليضرب بحده على حرة ثم لينج ما استطاع النجاء
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس حدیث میں کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ( اس فتنہ و فساد کے زمانہ میں ) اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے، اور اپنا ہاتھ مجھے قتل کرنے کے لیے بڑھائے تو میں کیا کروں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم آدم کے نیک بیٹے ( ہابیل ) کی طرح ہو جاؤ ، پھر یزید نے یہ آیت پڑھی «لئن بسطت إلى يدك» ۱؎۔
حدثنا يزيد بن خالد الرملي، حدثنا مفضل، عن عياش، عن بكير، عن بسر بن سعيد، عن حسين بن عبد الرحمن الاشجعي، انه سمع سعد بن ابي وقاص، عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الحديث قال فقلت يا رسول الله ارايت ان دخل على بيتي وبسط يده ليقتلني قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كن كابنى ادم " . وتلا يزيد { لين بسطت الى يدك } الاية
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا پھر انہوں نے ابی بکرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی بعض باتیں ذکر کیں اس میں یہ اضافہ ہے: اس فتنہ میں جو لوگ قتل کئے جائیں گے وہ جہنم میں جائیں گے اور اس میں مزید یہ ہے کہ میں نے پوچھا: ابن مسعود! یہ فتنہ کب ہو گا؟ کہا: یہ وہ زمانہ ہو گا جب قتل شروع ہو چکا ہو گا، اس طرح سے کہ آدمی اپنے ساتھی سے بھی مامون نہ رہے گا، میں نے عرض کیا: اگر میں یہ زمانہ پاؤں تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم اپنی زبان اور ہاتھ روکے رکھنا، اور اپنے گھر کے کمبلوں میں کا ایک کمبل بن جانا ۱؎، پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ قتل کئے گئے تو میرے دل میں یکایک خیال گزرا کہ شاید یہ وہی فتنہ ہو جس کا ذکر ابن مسعود نے کیا تھا، چنانچہ میں سواری پر بیٹھا اور دمشق آ گیا، وہاں خریم بن فاتک سے ملا اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ اسے انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے جیسے ابن مسعود نے اسے مجھ سے بیان کیا تھا۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا ابي، حدثنا شهاب بن خراش، عن القاسم بن غزوان، عن اسحاق بن راشد الجزري، عن سالم، حدثني عمرو بن وابصة الاسدي، عن ابيه، وابصة، عن ابن مسعود، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فذكر بعض حديث ابي بكرة قال " قتلاها كلهم في النار " . قال فيه قلت متى ذلك يا ابن مسعود قال تلك ايام الهرج حيث لا يامن الرجل جليسه . قلت فما تامرني ان ادركني ذلك الزمان قال تكف لسانك ويدك وتكون حلسا من احلاس بيتك . فلما قتل عثمان طار قلبي مطاره فركبت حتى اتيت دمشق فلقيت خريم بن فاتك فحدثته فحلف بالله الذي لا اله الا هو لسمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم كما حدثنيه ابن مسعود
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے کچھ فتنے ہیں جیسے تاریک رات کی گھڑیاں ( کہ ہر گھڑی پہلی سے زیادہ تاریک ہوتی ہے ) ان فتنوں میں صبح کو آدمی مومن رہے گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا، اور شام کو مومن رہے گا، اور صبح کو کافر ہو جائے گا، اس میں بیٹھا شخص کھڑے شخص سے بہتر ہو گا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، تو تم ایسے فتنے کے وقت میں اپنی کمانیں توڑ دینا، ان کے تانت کاٹ ڈالنا، اور اپنی تلواروں کی دھار کو پتھروں سے مار کر ختم کر دینا ۱؎، پھر اگر اس پر بھی کوئی تم میں سے کسی پر چڑھ آئے، تو اسے چاہیئے کہ وہ آدم کے نیک بیٹے ( ہابیل ) کے مانند ہو جائے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن محمد بن جحادة، عن عبد الرحمن بن ثروان، عن هزيل، عن ابي موسى الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان بين يدى الساعة فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل فيها مومنا ويمسي كافرا ويمسي مومنا ويصبح كافرا القاعد فيها خير من القايم والماشي فيها خير من الساعي فكسروا قسيكم وقطعوا اوتاركم واضربوا سيوفكم بالحجارة فان دخل - يعني على احد منكم - فليكن كخير ابنى ادم