Loading...

Loading...
کتب
۲۶ احادیث
اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
حدثنا مومل بن هشام، حدثنا اسماعيل، عن ابي الاشهب، عن عبد الرحمن بن طرفة بن عرفجة بن اسعد، عن ابيه، ان عرفجة، بمعناه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجاشی کی طرف سے کچھ زیور ہدیہ میں آئے اس میں سونے کی ایک انگوٹھی تھی جس میں یمنی نگینہ جڑا ہوا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک لکڑی سے بغیر اس کی طرف التفات کئے پکڑا، یا اپنی بعض انگلیوں سے پکڑا، پھر اپنی نواسی زینب کی بیٹی امامہ بنت ابی العاص کو بلایا اور فرمایا: بیٹی! اسے تو پہن لے ۔
حدثنا ابن نفيل، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، قال حدثني يحيى بن عباد، عن ابيه، عباد بن عبد الله عن عايشة، رضى الله عنها قالت قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم حلية من عند النجاشي اهداها له فيها خاتم من ذهب فيه فص حبشي - قالت - فاخذه رسول الله صلى الله عليه وسلم بعود معرضا عنه او ببعض اصابعه ثم دعى امامة ابنة ابي العاص ابنة ابنته زينب فقال " تحلى بهذا يا بنية
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے محبوب کو آگ کا بالا پہنانا چاہے تو وہ اسے سونے کی بالی پہنا دے، اور جو اپنے محبوب کو آگ کا طوق ۱؎ پہنانا چاہے تو اسے سونے کا طوق پہنا دے اور جو اپنے محبوب کو آگ کا کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا کنگن پہنا دے، البتہ سونے کے بجائے چاندی تمہارے لیے جائز ہے، لہٰذا تم اسی کو ناک یا کان میں استعمال کرو اور اس سے کھیلو۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن اسيد بن ابي اسيد البراد، عن نافع بن عياش، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من احب ان يحلق حبيبه حلقة من نار فليحلقه حلقة من ذهب ومن احب ان يطوق حبيبه طوقا من نار فليطوقه طوقا من ذهب ومن احب ان يسور حبيبه سوارا من نار فليسوره سوارا من ذهب ولكن عليكم بالفضة فالعبوا بها
حذیفہ کی بہن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! کیا زیور بنانے کے لیے تمہیں چاندی نہیں ملتی، سنو! تم میں جو عورت بھی سونے کا زیور پہنے گی تو اسے قیامت کے دن اسی سے عذاب دیا جائے گا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن منصور، عن ربعي بن حراش، عن امراته، عن اخت، لحذيفة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يا معشر النساء اما لكن في الفضة ما تحلين به اما انه ليس منكن امراة تحلى ذهبا تظهره الا عذبت به
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے سونے کا ہار پہنا تو قیامت کے دن اس کے گلے میں آگ کا ہار پہنایا جائے گا، اور جس عورت نے اپنے کان میں سونے کی بالی پہنی تو قیامت کے دن اس کے کان میں اسی کے ہم مثل آگ کی بالی پہنائی جائے گی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان بن يزيد العطار، حدثنا يحيى، ان محمود بن عمرو الانصاري، حدثه ان اسماء بنت يزيد حدثته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ايما امراة تقلدت قلادة من ذهب قلدت في عنقها مثله من النار يوم القيامة وايما امراة جعلت في اذنها خرصا من ذهب جعل في اذنها مثله من النار يوم القيامة
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیتوں کی کھال پر سواری کرنے اور سونا پہننے سے منع فرمایا ہے مگر جب «مقطّع» یعنی تھوڑا اور معمولی ہو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوقلابہ کی ملاقات معاویہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا اسماعيل، حدثنا خالد، عن ميمون القناد، عن ابي قلابة، عن معاوية بن ابي سفيان، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن ركوب النمار وعن لبس الذهب الا مقطعا . قال ابو داود ابو قلابة لم يلق معاوية