Loading...

Loading...
کتب
۲۶ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض شاہان عجم کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ وہ ایسے خطوط کو جو بغیر مہر کے ہوں نہیں پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا۔
حدثنا عبد الرحيم بن مطرف الرواسي، حدثنا عيسى، عن سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال اراد رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يكتب الى بعض الاعاجم فقيل له انهم لا يقرءون كتابا الا بخاتم فاتخذ خاتما من فضة ونقش فيه " محمد رسول الله
اس سند سے بھی انس سے عیسیٰ بن یونس کی روایت کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر یہ انگوٹھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی وہ ایک کنویں کے پاس تھے کہ اسی دوران انگوٹھی کنویں میں گر گئی، انہوں نے حکم دیا تو اس کا سارا پانی نکالا گیا لیکن وہ اسے پا نہیں سکے۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، عن سعيد، عن قتادة، عن انس، بمعنى حديث عيسى بن يونس زاد فكان في يده حتى قبض وفي يد ابي بكر حتى قبض وفي يد عمر حتى قبض وفي يد عثمان فبينما هو عند بير اذ سقط في البير فامر بها فنزحت فلم يقدر عليه
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، واحمد بن صالح، قالا حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، قال حدثني انس، قال كان خاتم النبي صلى الله عليه وسلم من ورق فصه حبشي
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا حميد الطويل، عن انس بن مالك، قال كان خاتم النبي صلى الله عليه وسلم من فضة كله فصه منه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنائی، اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کے پیٹ کی جانب رکھا اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، جب آپ نے انہیں سونے کی انگوٹھیاں پہنے دیکھا تو اسے پھینک دیا، اور فرمایا: اب میں کبھی اسے نہیں پہنوں گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا، پھر آپ کے بعد وہی انگوٹھی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے پھر ان کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ نے پہنی یہاں تک کہ وہ بئراریس میں گر پڑی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان سے لوگوں کا اختلاف اس وقت تک نہیں ہوا جب تک انگوٹھی ان کے ہاتھ میں رہی ( جب وہ گر گئی تو پھر اختلافات اور فتنے رونما ہونے شروع ہو گئے ) ۔
حدثنا نصير بن الفرج، حدثنا ابو اسامة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال اتخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم خاتما من ذهب وجعل فصه مما يلي بطن كفه ونقش فيه " محمد رسول الله " . فاتخذ الناس خواتم الذهب فلما راهم قد اتخذوها رمى به وقال " لا البسه ابدا " . ثم اتخذ خاتما من فضة نقش فيه " محمد رسول الله " . ثم لبس الخاتم بعده ابو بكر ثم لبسه بعد ابي بكر عمر ثم لبسه بعده عثمان حتى وقع في بير اريس . قال ابو داود ولم يختلف الناس على عثمان حتى سقط الخاتم من يده
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس روایت میں مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «محمد رسول الله» کندہ کرایا، اور فرمایا: کوئی میری اس انگوٹھی کے طرز پر کندہ نہ کرائے پھر راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ايوب بن موسى، عن نافع، عن ابن عمر، في هذا الخبر عن النبي صلى الله عليه وسلم فنقش فيه " محمد رسول الله " . وقال " لا ينقش احد على نقش خاتمي هذا " . ثم ساق الحديث
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً یہی حدیث مروی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے اسے ڈھونڈا لیکن وہ ملی نہیں، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری انگوٹھی بنوائی، اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا۔ راوی کہتے ہیں: وہ اسی سے مہر لگایا کرتے تھے، یا کہا: اسے پہنا کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا ابو عاصم، عن المغيرة بن زياد، عن نافع، عن ابن عمر، بهذا الخبر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال فالتمسوه فلم يجدوه فاتخذ عثمان خاتما ونقش فيه " محمد رسول الله " . قال فكان يختم به او يتختم به
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی تو لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں اور پہننے لگے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی پھینک دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زیاد بن سعد، شعیب اور ابن مسافر نے زہری سے روایت کیا ہے، اور سبھوں نے «من ورق» کہا ہے۔
حدثنا محمد بن سليمان، لوين عن ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، انه راى في يد النبي صلى الله عليه وسلم خاتما من ورق يوما واحدا فصنع الناس فلبسوا وطرح النبي صلى الله عليه وسلم فطرح الناس . قال ابو داود رواه عن الزهري زياد بن سعد وشعيب وابن مسافر كلهم قال من ورق
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس خصلتیں ناپسند فرماتے تھے، زردی یعنی خلوق کو، سفید بالوں کے تبدیل کرنے کو ۱؎، تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کو، سونے کی انگوٹھی پہننے کو، بے موقع و محل اجنبیوں کے سامنے عورتوں کے زیب و زینت کے ساتھ اور بن ٹھن کر نکلنے کو، شطرنج کھیلنے کو، معوذات کے علاوہ سے جھاڑ پھونک کرنے کو، تعویذ اور گنڈے لٹکانے کو اور ناجائز جگہ منی ڈالنے کو، اور بچے کے فساد کو یعنی اسے کمزور کرنے کو اس طرح پر کہ ایام رضاعت میں اس کی ماں سے صحبت کرے البتہ اسے حرام نہیں ٹھہراتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اہل بصرہ اس حدیث کی سند میں منفرد ہیں، واللہ اعلم
حدثنا مسدد، حدثنا المعتمر، قال سمعت الركين بن الربيع، يحدث عن القاسم بن حسان، عن عبد الرحمن بن حرملة، ان ابن مسعود، كان يقول كان نبي الله صلى الله عليه وسلم يكره عشر خلال الصفرة - يعني الخلوق - وتغيير الشيب وجر الازار والتختم بالذهب والتبرج بالزينة لغير محلها والضرب بالكعاب والرقى الا بالمعوذات وعقد التمايم وعزل الماء لغير او غير محله او عن محله وفساد الصبي غير محرمه . قال ابو داود انفرد باسناد هذا الحديث اهل البصرة والله اعلم
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، وہ پتیل کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے، میں تجھ سے بتوں کی بدبو محسوس کر رہا ہوں؟ تو اس نے اپنی انگوٹھی پھینک دی، پھر لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے، میں تجھے جہنمیوں کا زیور پہنے ہوئے دیکھتا ہوں؟ تو اس نے پھر اپنی انگوٹھی پھینک دی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاندی کی بنواؤ اور اسے ایک مثقال سے کم رکھو ۱؎ ۔
حدثنا الحسن بن علي، ومحمد بن عبد العزيز بن ابي رزمة، - المعنى - ان زيد بن حباب، اخبرهم عن عبد الله بن مسلم السلمي المروزي ابي طيبة، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، ان رجلا، جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم وعليه خاتم من شبه فقال له " ما لي اجد منك ريح الاصنام " . فطرحه ثم جاء وعليه خاتم من حديد فقال " ما لي ارى عليك حلية اهل النار " . فطرحه فقال يا رسول الله من اى شىء اتخذه قال " اتخذه من ورق ولا تتمه مثقالا " . ولم يقل محمد عبد الله بن مسلم . ولم يقل الحسن السلمي المروزي
معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی لوہے کی تھی اس پر چاندی کی پالش تھی کبھی کبھی وہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں ہوتی۔ ٍ راوی کہتے ہیں: اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے امین معیقیب تھے۔
حدثنا ابن المثنى، وزياد بن يحيى، والحسن بن علي، قالوا حدثنا سهل بن حماد ابو عتاب، حدثنا ابو مكين، نوح بن ربيعة حدثني اياس بن الحارث بن المعيقيب، وجده، من قبل امه ابو ذباب عن جده، قال كان خاتم النبي صلى الله عليه وسلم من حديد ملوي عليه فضة . قال فربما كان في يده قال وكان المعيقيب على خاتم النبي صلى الله عليه وسلم
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کہو: اے اللہ! مجھے ہدایت دے، اور درستگی پر قائم رکھ، اور ہدایت سے سیدھی راہ پر چلنے کی نیت رکھو، درستگی سے تیر کی طرح سیدھا رہنے یعنی سیدھی راہ پر جمے رہنے کی نیت کرو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا کہ انگوٹھی اس انگلی یا اس انگلی میں رکھوں انگشت شہادت یعنی کلمہ کی یا درمیانی انگلی میں ( عاصم جو حدیث کے راوی ہیں نے شک کیا ہے ) اور مجھے «قسیہ» اور «میثرہ» سے منع فرمایا۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: «قسیہ» کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایک قسم کے کپڑے ہیں جو شام یا مصر سے آتے تھے، ان کی دھاریوں میں ترنج ( چکوترہ ) بنے ہوئے ہوتے تھے اور «میثرہ» وہ بچھونا ( بستر ) ہے جسے عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے بنایا کرتی تھیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا عاصم بن كليب، عن ابي بردة، عن علي، - رضى الله عنه - قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " قل اللهم اهدني وسددني واذكر بالهداية هداية الطريق واذكر بالسداد تسديدك السهم " . قال ونهاني ان اضع الخاتم في هذه او في هذه للسبابة والوسطى - شك عاصم - ونهاني عن القسية والميثرة . قال ابو بردة فقلنا لعلي ما القسية قال ثياب تاتينا من الشام او من مصر مضلعة فيها امثال الاترج قال والميثرة شىء كانت تصنعه النساء لبعولتهن
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بھی بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی اپنے داہنے ہاتھ میں پہنتے تھے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني سليمان بن بلال، عن شريك بن ابي نمر، عن ابراهيم بن عبد الله بن حنين، عن ابيه، عن علي، - رضى الله تعالى عنه - عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال شريك واخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يتختم في يمينه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے اور اس کا نگینہ آپ کی ہتھیلی کے نچلے حصہ کی طرف ہوتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن اسحاق اور اسامہ نے یعنی ابن زید نے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔
حدثنا نصر بن علي، حدثني ابي، حدثنا عبد العزيز بن ابي رواد، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يتختم في يساره وكان فصه في باطن كفه . قال ابو داود قال ابن اسحاق واسامة - يعني ابن زيد - عن نافع باسناده في يمينه
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔
حدثنا هناد، عن عبدة، عن عبيد الله، عن نافع، ان ابن عمر، كان يلبس خاتمه في يده اليسرى
محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے صلت بن عبداللہ بن نوفل بن عبدالمطلب کو اپنے داہنے ہاتھ کی چھنگلی میں انگوٹھی پہنے دیکھا تو کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اسی طرح اپنی انگوٹھی پہنے اور اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کی پشت کی طرف کئے دیکھا، اور کہا: یہ مت سمجھنا کہ صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی ایسا کرتے تھے، بلکہ وہ ذکر کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی انگوٹھی ایسے ہی پہنا کرتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن اسحاق، قال رايت على الصلت بن عبد الله بن نوفل بن عبد المطلب خاتما في خنصره اليمنى فقلت ما هذا قال رايت ابن عباس يلبس خاتمه هكذا وجعل فصه على ظهرها . قال ولا يخال ابن عباس الا قد كان يذكر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يلبس خاتمه كذلك
عامر بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ان کی ایک لونڈی زبیر کی ایک بچی کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر گئی، اس بچی کے پاؤں میں گھنٹیاں تھیں یعنی گھونگھرو تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کاٹ دیا، اور کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ہر گھنٹی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔
حدثنا علي بن سهل، وابراهيم بن الحسن، قالا حدثنا حجاج، عن ابن جريج، اخبرني عمر بن حفص، ان عامر بن عبد الله، - قال علي بن سهل ابن الزبير - اخبره ان مولاة لهم ذهبت بابنة الزبير الى عمر بن الخطاب وفي رجلها اجراس فقطعها عمر ثم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان مع كل جرس شيطانا
عبدالرحمٰن بن حسان کی لونڈی بنانہ کہتی ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھیں کہ اسی دوران ایک لڑکی آپ کے پاس آئی، اس کے پاؤں میں گھونگھرو بج رہے تھے تو آپ نے کہا: اسے میرے پاس نہ آنے دو جب تک تم انہیں کاٹ نہ دو، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں گھنٹی ہو ۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، حدثنا روح، حدثنا ابن جريج، عن بنانة، مولاة عبد الرحمن بن حسان الانصاري عن عايشة، قالت بينما هي عندها اذ دخل عليها بجارية وعليها جلاجل يصوتن فقالت لا تدخلنها على الا ان تقطعوا جلاجلها وقالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تدخل الملايكة بيتا فيه جرس
عبدالرحمٰن بن طرفہ کہتے ہیں کہ کے دادا عرفجہ بن اسعد کی ناک جنگ کلاب ۱؎ کے دن کاٹ لی گئی، تو انہوں نے چاندی کی ایک ناک بنوائی، انہیں اس کی بدبو محسوس ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا، تو انہوں نے سونے کی ناک بنوا لی ۲؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، ومحمد بن عبد الله الخزاعي، - المعنى - قالا حدثنا ابو الاشهب، عن عبد الرحمن بن طرفة، ان جده، عرفجة بن اسعد قطع انفه يوم الكلاب فاتخذ انفا من ورق فانتن عليه فامره النبي صلى الله عليه وسلم فاتخذ انفا من ذهب
اس سند سے بھی عرفجہ بن اسعد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، یزید کہتے ہیں میں نے ابواشہب سے پوچھا: عبدالرحمٰن بن طرفہ نے اپنے دادا عرفجہ کا زمانہ پایا ہے، تو انہوں نے کہا: ہاں ( پایا ہے ) ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يزيد بن هارون، وابو عاصم قالا حدثنا ابو الاشهب، عن عبد الرحمن بن طرفة، عن عرفجة بن اسعد، بمعناه . قال يزيد قلت لابي الاشهب ادرك عبد الرحمن بن طرفة جده عرفجة قال نعم