Loading...

Loading...
کتب
۱۱ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمامات ( غسل خانوں ) میں داخل ہونے سے منع فرمایا، پھر آپ نے مردوں کو تہبند باندھ کر جانے کی رخصت دی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن عبد الله بن شداد، عن ابي عذرة، عن عايشة، رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن دخول الحمامات ثم رخص للرجال ان يدخلوها في الميازر
ابوالملیح کہتے ہیں اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو انہوں نے ان سے پوچھا: تم کہاں کی ہو؟ ان سب نے کہا: ہم اہل شام سے تعلق رکھتی ہیں، یہ سن کر وہ بولیں: شاید تم اس علاقہ کی ہو جہاں کی عورتیں بھی غسل خانوں میں داخل ہوتی ہیں، ان سب نے کہا: ہاں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو بھی عورت اپنے کپڑے اپنے گھر کے علاوہ کہیں اور اتارتی ہے تو وہ اپنے پردے کو جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے پھاڑ دیتی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ جریر کی روایت ہے جو زیادہ کامل ہے اور جریر نے ابوالملیح کا ذکر نہیں کیا ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
حدثنا محمد بن قدامة، حدثنا جرير، ح وحدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، - جميعا - عن منصور، عن سالم بن ابي الجعد، - قال ابن المثنى - عن ابي المليح، قال دخل نسوة من اهل الشام على عايشة - رضى الله عنها - فقالت ممن انتن قلن من اهل الشام . قالت لعلكن من الكورة التي تدخل نساوها الحمامات قلن نعم . قالت اما اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من امراة تخلع ثيابها في غير بيتها الا هتكت ما بينها وبين الله تعالى " . قال ابو داود هذا حديث جرير وهو اتم ولم يذكر جرير ابا المليح قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب عجم کی سر زمین تمہارے لیے فتح کر دی جائے گی اور اس میں تمہیں ایسے گھر ملیں گے جنہیں حمام کہا جائے گا تو اس میں مرد بغیر تہ بند کے داخل نہ ہوں اور عورتوں کو ان میں جانے سے روکو سوائے بیمار یا زچہ کے ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا عبد الرحمن بن زياد بن انعم، عن عبد الرحمن بن رافع، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انها ستفتح لكم ارض العجم وستجدون فيها بيوتا يقال لها الحمامات فلا يدخلنها الرجال الا بالازر وامنعوها النساء الا مريضة او نفساء
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بغیر تہ بند کے ( میدان میں ) نہاتے دیکھا تو آپ منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ حیاء دار ہے پردہ پوشی کرنے والا ہے اور حیاء اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہائے تو ستر کو چھپا لے ۔
حدثنا عبد الله بن محمد بن نفيل، حدثنا زهير، عن عبد الملك بن ابي سليمان العرزمي، عن عطاء، عن يعلى، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يغتسل بالبراز بلا ازار فصعد المنبر فحمد الله واثنى عليه ثم قال صلى الله عليه وسلم " ان الله عز وجل حيي ستير يحب الحياء والستر فاذا اغتسل احدكم فليستتر
اس سند سے بھی صفوان بن یعلیٰ اپنے والد سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: پہلی روایت زیادہ کامل ہے۔
حدثنا محمد بن احمد بن ابي خلف، حدثنا الاسود بن عامر، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، عن صفوان بن يعلى، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث . قال ابو داود الاول اتم
زرعہ بن عبدالرحمٰن بن جرہد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں جرہد اصحاب صفہ میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بیٹھے اور میری ران کھلی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ ران ستر ہے ( اس کو چھپانا چاہیئے ) ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي النضر، عن زرعة بن عبد الرحمن بن جرهد، عن ابيه، - قال كان جرهد هذا من اصحاب الصفة - قال جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم عندنا وفخذي منكشفة فقال " اما علمت ان الفخذ عورة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ران نہ کھولو اور کسی زندہ یا مردہ کی ران کو نہ دیکھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں نکارت ہے۔
حدثنا علي بن سهل الرملي، حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرت عن حبيب بن ابي ثابت، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تكشف فخذك ولا تنظر الى فخذ حى ولا ميت " . قال ابو داود هذا الحديث فيه نكارة
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک بھاری پتھر اٹھائے ہوئے چل رہا تھا کہ اسی دوران میرا کپڑا ( تہبند میرے جسم سے کھل کر ) گر پڑا تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کپڑا اٹھا کر باندھ لو اور ننگے نہ چلو ۔
حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا يحيى بن سعيد الاموي، عن عثمان بن حكيم، عن ابي امامة بن سهل، عن المسور بن مخرمة، قال حملت حجرا ثقيلا فبينا امشي فسقط عني ثوبي فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " خذ عليك ثوبك ولا تمشوا عراة
معاویہ بن حکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنا ستر کس سے چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ستر سب سے چھپاؤ سوائے اپنی بیوی اور اپنی لونڈیوں کے وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب لوگ ملے جلے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم سے ہو سکے کہ تمہارا ستر کوئی نہ دیکھے تو اسے کوئی نہ دیکھے وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی تنہا خالی جگہ میں ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے بہ نسبت اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے شرم کی جائے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا ابي ح، وحدثنا ابن بشار، حدثنا يحيى، نحوه عن بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، قال قلت يا رسول الله عوراتنا ما ناتي منها وما نذر قال " احفظ عورتك الا من زوجتك او ما ملكت يمينك " . قال قلت يا رسول الله اذا كان القوم بعضهم في بعض قال " ان استطعت ان لا يرينها احد فلا يرينها " . قال قلت يا رسول الله اذا كان احدنا خاليا قال " الله احق ان يستحيا منه من الناس
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مرد کسی مرد کے ستر کو نہ دیکھے اور کوئی عورت کسی عورت کے ستر کو نہ دیکھے اور نہ کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا ابن ابي فديك، عن الضحاك بن عثمان، عن زيد بن اسلم، عن عبد الرحمن بن ابي سعيد الخدري، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ينظر الرجل الى عرية الرجل ولا المراة الى عرية المراة ولا يفضي الرجل الى الرجل في ثوب واحد ولا تفضي المراة الى المراة في ثوب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ( ایک کپڑے میں ) ہرگز نہ لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ لیٹے سوائے بیٹے اور باپ کے ۔ راوی کہتے ہیں: آپ نے تیسرے کا بھی ذکر کیا لیکن میں اسے بھول گیا۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا ابن علية، عن الجريري، ح وحدثنا مومل بن هشام، قال حدثنا اسماعيل، عن الجريري، عن ابي نضرة، عن رجل، من الطفاوة عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يفضين رجل الى رجل ولا امراة الى امراة الا ولدا او والدا " . قال وذكر الثالثة فنسيتها