Loading...

Loading...
کتب
۲۸ احادیث
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی، اگر تیری رہنمائی سے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو بھی ہدایت دیدے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹ سے ( جو بہت قیمتی اور عزیز ہوتے ہیں ) بہتر ہے ۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن ابيه، عن سهل، - يعني ابن سعد - عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " والله لان يهدى بهداك رجل واحد خير لك من حمر النعم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل سے روایت کرو، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حدثوا عن بني اسراييل ولا حرج
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے بنی اسرائیل کی باتیں اس قدر بیان کرتے کہ صبح ہو جاتی اور صرف فرض نماز ہی کے لیے اٹھتے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ، حدثني ابي، عن قتادة، عن ابي حسان، عن عبد الله بن عمرو، قال كان نبي الله صلى الله عليه وسلم يحدثنا عن بني اسراييل حتى يصبح ما يقوم الا الى عظم صلاة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ایسا علم صرف دنیاوی مقصد کے لیے سیکھا جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سريج بن النعمان، حدثنا فليح، عن ابي طوالة عبد الله بن عبد الرحمن بن معمر الانصاري، عن سعيد بن يسار، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من تعلم علما مما يبتغى به وجه الله عز وجل لا يتعلمه الا ليصيب به عرضا من الدنيا لم يجد عرف الجنة يوم القيامة " . يعني ريحها
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو امیر ہو یا مامور ہو یا فریبی ۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا ابو مسهر، حدثني عباد بن عباد الخواص، عن يحيى بن ابي عمرو السيباني، عن عمرو بن عبد الله السيباني، عن عوف بن مالك الاشجعي، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يقص الا امير او مامور او مختال
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں غریب و خستہ حال مہاجرین کی جماعت میں جا بیٹھا، ان میں بعض بعض کی آڑ میں برہنگی کے سبب چھپتا تھا اور ایک قاری ہم میں قرآن پڑھ رہا تھا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے درمیان آ کر کھڑے ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گیا، آپ نے ہمیں سلام کیا پھر فرمایا: تم لوگ کیا کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا: ہمارے یہ قاری ہیں ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہے تھے اور ہم اللہ کی کتاب سن رہے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبھی تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان میں آ کر بیٹھ گئے تاکہ اپنے آپ کو ہمارے برابر کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے حلقہ بنا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو سبھی لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور ان سب کا رخ آپ کی طرف ہو گیا۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میرے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو نہیں پہچانا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فقرائے مہاجرین کی جماعت! تمہارے لیے قیامت کے دن نور کامل کی بشارت ہے، تم لوگ جنت میں مالداروں سے آدھے دن پہلے داخل ہو گے، اور یہ پانچ سو برس ہو گا ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا جعفر بن سليمان، عن المعلى بن زياد، عن العلاء بن بشير المزني، عن ابي الصديق الناجي، عن ابي سعيد الخدري، قال جلست في عصابة من ضعفاء المهاجرين وان بعضهم ليستتر ببعض من العرى وقاري يقرا علينا اذ جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام علينا فلما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم سكت القاري فسلم ثم قال " ما كنتم تصنعون " . قلنا يا رسول الله انه كان قاري لنا يقرا علينا فكنا نستمع الى كتاب الله . قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الحمد لله الذي جعل من امتي من امرت ان اصبر نفسي معهم " . قال فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم وسطنا ليعدل بنفسه فينا ثم قال بيده هكذا فتحلقوا وبرزت وجوههم له - قال - فما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم عرف منهم احدا غيري . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابشروا يا معشر صعاليك المهاجرين بالنور التام يوم القيامة تدخلون الجنة قبل اغنياء الناس بنصف يوم وذاك خمسماية سنة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو فجر سے لے کر طلوع شمس تک اللہ کا ذکر کرتی ہو میرے نزدیک اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ امر ہے، اور میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کے ذکرو اذکار میں منہمک رہتی ہو میرے نزدیک چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثني عبد السلام، - يعني ابن مطهر ابو ظفر - حدثنا موسى بن خلف العمي، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان اقعد مع قوم يذكرون الله تعالى من صلاة الغداة حتى تطلع الشمس احب الى من ان اعتق اربعة من ولد اسماعيل ولان اقعد مع قوم يذكرون الله من صلاة العصر الى ان تغرب الشمس احب الى من ان اعتق اربعة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ پر سورۃ نساء پڑھو میں نے عرض کیا: کیا میں آپ کو پڑھ کے سناؤں؟ جب کہ وہ آپ پر اتاری گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میں اوروں سے سنوں پھر میں نے آپ کو «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد» اس وقت کیا ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے ( سورة النساء: ۴۱ ) تک پڑھ کر سنایا، اور اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا حفص بن غياث، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عبيدة، عن عبد الله، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرا على سورة النساء " . قال قلت اقرا عليك وعليك انزل قال " اني احب ان اسمعه من غيري " . قال فقرات عليه حتى اذا انتهيت الى قوله { فكيف اذا جينا من كل امة بشهيد } الاية فرفعت راسي فاذا عيناه تهملان