Loading...

Loading...
کتب
۲۸ احادیث
کثیر بن قیس کہتے ہیں کہ میں ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا اور ان سے کہنے لگا: اے ابو الدرداء! میں آپ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے اس حدیث کے لیے آیا ہوں جس کے متعلق مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں میں آپ کے پاس کسی اور غرض سے نہیں آیا ہوں، اس پر ابوالدرداء نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص طلب علم کے لیے راستہ طے کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اسے جنت کی راہ چلاتا ہے اور فرشتے طالب علم کی بخشش کی دعا کرتے ہیں یہاں تک کہ مچھلیاں پانی میں دعائیں کرتی ہیں، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہی ہے جیسے چودھویں رات کی تمام ستاروں پر، اور علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور نبیوں نے اپنا وارث درہم و دینار کا نہیں بنایا بلکہ علم کا وارث بنایا تو جس نے علم حاصل کیا اس نے ایک وافر حصہ لیا ۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا عبد الله بن داود، سمعت عاصم بن رجاء بن حيوة، يحدث عن داود بن جميل، عن كثير بن قيس، قال كنت جالسا مع ابي الدرداء في مسجد دمشق فجاءه رجل فقال يا ابا الدرداء اني جيتك من مدينة الرسول صلى الله عليه وسلم لحديث بلغني انك تحدثه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ما جيت لحاجة . قال فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به طريقا من طرق الجنة وان الملايكة لتضع اجنحتها رضا لطالب العلم وان العالم ليستغفر له من في السموات ومن في الارض والحيتان في جوف الماء وان فضل العالم على العابد كفضل القمر ليلة البدر على ساير الكواكب وان العلماء ورثة الانبياء وان الانبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ورثوا العلم فمن اخذه اخذ بحظ وافر
اس سند سے بھی ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
حدثنا محمد بن الوزير الدمشقي، حدثنا الوليد، قال لقيت شبيب بن شيبة فحدثني به، عن عثمان بن ابي سودة، عن ابي الدرداء، - يعني عن النبي صلى الله عليه وسلم - بمعناه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حصول علم کے لیے کوئی راستہ طے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور جس کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا تو اسے اس کا نسب آگے نہیں کر سکے گا ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زايدة، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من رجل يسلك طريقا يطلب فيه علما الا سهل الله له به طريق الجنة ومن ابطا به عمله لم يسرع به نسبه
ابونملہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس ایک یہودی بھی تھا کہ اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا تو یہودی نے کہا: اے محمد! کیا جنازہ بات کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے یہودی نے کہا: جنازہ بات کرتا ہے ( مگر دنیا کے لوگ نہیں سنتے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بات تم سے اہل کتاب بیان کریں نہ تو تم ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب، بلکہ یوں کہو: ہم ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر، اگر وہ بات جھوٹ ہو گی تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی، اور اگر سچ ہو گی تو تم نے اس کی تکذیب نہیں کی ۔
حدثنا احمد بن محمد بن ثابت المروزي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، اخبرني ابن ابي نملة الانصاري، عن ابيه، انه بينما هو جالس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده رجل من اليهود مر بجنازة فقال يا محمد هل تتكلم هذه الجنازة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الله اعلم " . فقال اليهودي انها تتكلم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما حدثكم اهل الكتاب فلا تصدقوهم ولا تكذبوهم وقولوا امنا بالله ورسله فان كان باطلا لم تصدقوه وان كان حقا لم تكذبوه
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے آپ کی خاطر یہودیوں کی تحریر سیکھ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی میں اپنی خط و کتابت کے سلسلہ میں یہودیوں سے مامون نہیں ہوں تو میں اسے سیکھنے لگا، ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے اس میں مہارت حاصل کر لی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لکھوانا ہوتا تو میں ہی لکھتا اور جب کہیں سے کوئی مکتوب آتا تو اسے میں ہی پڑھتا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابن ابي الزناد، عن ابيه، عن خارجة، - يعني ابن زيد بن ثابت - قال قال زيد بن ثابت امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم فتعلمت له كتاب يهود وقال " اني والله ما امن يهود على كتابي " . فتعلمته فلم يمر بي الا نصف شهر حتى حذقته فكنت اكتب له اذا كتب واقرا له اذا كتب اليه
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں ہر اس حدیث کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا یاد رکھنے کے لیے لکھ لیتا، تو قریش کے لوگوں نے مجھے لکھنے سے منع کر دیا، اور کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر سنی ہوئی بات کو لکھ لیتے ہو؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں، غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں باتیں کرتے ہیں، تو میں نے لکھنا چھوڑ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس سے حق بات کے سوا کچھ نہیں نکلتا ۔
حدثنا مسدد، وابو بكر بن ابي شيبة قالا حدثنا يحيى، عن عبيد الله بن الاخنس، عن الوليد بن عبد الله بن ابي مغيث، عن يوسف بن ماهك، عن عبد الله بن عمرو، قال كنت اكتب كل شىء اسمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم اريد حفظه فنهتني قريش وقالوا اتكتب كل شىء تسمعه ورسول الله صلى الله عليه وسلم بشر يتكلم في الغضب والرضا فامسكت عن الكتاب فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فاوما باصبعه الى فيه فقال " اكتب فوالذي نفسي بيده ما يخرج منه الا حق
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے ایک حدیث کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ایک شخص کو اس حدیث کے لکھنے کا حکم دیا، تو زید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ کی حدیثوں میں سے کچھ نہ لکھیں تو انہوں نے اسے مٹا دیا ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا ابو احمد، حدثنا كثير بن زيد، عن المطلب بن عبد الله بن حنطب، قال دخل زيد بن ثابت على معاوية فساله عن حديث، فامر انسانا يكتبه فقال له زيد ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امرنا ان لا نكتب شييا من حديثه فمحاه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ تشہد اور قرآن کے علاوہ کچھ نہیں لکھتے تھے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابو شهاب، عن الحذاء، عن ابي المتوكل الناجي، عن ابي سعيد الخدري، قال ما كنا نكتب غير التشهد والقران
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب مکہ فتح ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کا ذکر کیا، پھر کہا کہ ایک یمنی شخص کھڑا ہوا جسے ابو شاہ کہا جاتا تھا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے ( یہ خطبہ ) لکھ دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کے لیے لکھ دو ۔
حدثنا مومل، قال حدثنا الوليد، ح وحدثنا العباس بن الوليد بن مزيد، قال اخبرني ابي، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثنا ابو سلمة، - يعني ابن عبد الرحمن - قال حدثني ابو هريرة، قال لما فتحت مكة قام النبي صلى الله عليه وسلم فذكر الخطبة خطبة النبي صلى الله عليه وسلم قال فقام رجل من اهل اليمن يقال له ابو شاه فقال يا رسول الله اكتبوا لي . فقال " اكتبوا لابي شاه
ولید (ولید بن مزید) کہتے ہیں میں نے ابوعمرو ( اوزاعی ) سے کہا: وہ لوگ لکھ دیں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: وہ خطبہ جسے آپ سے اس روز ابوشاہ نے سنا تھا۔
حدثنا علي بن سهل الرملي، قال حدثنا الوليد، قال قلت لابي عمرو ما يكتبوه قال الخطبة التي سمعها يوميذ منه
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے زبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور صحابہ کی طرح حدیثیں کیوں نہیں بیان کرتے؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طرح کی قربت و منزلت حاصل تھی لیکن میں نے آپ کو بیان فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا خالد، ح وحدثنا مسدد، حدثنا خالد، - المعنى - عن بيان بن بشر، - قال مسدد ابو بشر - عن وبرة بن عبد الرحمن، عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن ابيه، قال قلت للزبير ما يمنعك ان تحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم كما يحدث عنه اصحابه فقال اما والله لقد كان لي منه وجه ومنزلة ولكني سمعته يقول " من كذب على متعمدا فليتبوا مقعده من النار
جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اپنی عقل سے کوئی بات کہی اور درستگی کو پہنچ گیا تو بھی اس نے غلطی کی ۔
حدثنا عبد الله بن محمد بن يحيى، حدثنا يعقوب بن اسحاق المقري الحضرمي، حدثنا سهيل بن مهران، - اخو حزم القطعي - حدثنا ابو عمران، عن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال في كتاب الله عز وجل برايه فاصاب فقد اخطا
ابو سلام ایک شخص سے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی ( اہم ) بات بیان کرتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے ( تاکہ اچھی طرح سامع کی سمجھ میں آ جائے ) ۔
حدثنا عمرو بن مرزوق، اخبرنا شعبة، عن ابي عقيل، هاشم بن بلال عن سابق بن ناجية، عن ابي سلام، عن رجل، خدم النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا حدث حديثا اعاده ثلاث مرات
عروہ کہتے ہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے بغل میں بیٹھے تھے اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں تو وہ کہنے لگے: سن اے حجرے والی! دو بار یہ جملہ کہا، جب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نماز سے فارغ ہوئیں تو کہنے لگیں: کیا تمہیں اس پر اور اس کی حدیث پر تعجب نہیں کہ وہ کیسے جلدی جلدی بیان کر رہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کلام کرتے تو اگر شمار کرنے والا اسے شمار کرنا چاہتا تو شمار کر لیتا ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم صاف صاف اور بالکل واضح انداز میں بات کرتے تھے ) ۔
حدثنا محمد بن منصور الطوسي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، قال جلس ابو هريرة الى جنب حجرة عايشة - رضى الله عنها - وهي تصلي فجعل يقول اسمعي يا ربة الحجرة مرتين . فلما قضت صلاتها قالت الا تعجب الى هذا وحديثه ان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليحدث الحديث لو شاء العاد ان يحصيه احصاه
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تمہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر تعجب نہیں کہ وہ آئے اور میرے حجرے کے ایک جانب بیٹھے اور مجھے سنانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے لگے، میں نفل نماز پڑھ رہی تھی، تو وہ قبل اس کے کہ میں اپنی نماز سے فارغ ہوتی اٹھے ( اور چلے گئے ) اور اگر میں انہیں پاتی تو ان سے کہتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح جلدی جلدی باتیں نہیں کرتے تھے۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، ان عروة بن الزبير، حدثه ان عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت الا يعجبك ابو هريرة جاء فجلس الى جانب حجرتي يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم يسمعني ذلك وكنت اسبح فقام قبل ان اقضي سبحتي ولو ادركته لرددت عليه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يسرد الحديث مثل سردكم
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی باتوں سے منع فرمایا ہے جس میں بکثرت غلطی واقع ہو ۱؎۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، حدثنا عيسى، عن الاوزاعي، عن عبد الله بن سعد، عن الصنابحي، عن معاوية، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الغلوطات
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے فتوی دیا اور سلیمان بن داود مہری کی روایت میں ہے جس کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا۔ تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہو گا ۔ سلیمان مہری نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسے امر کا مشورہ دیا جس کے متعلق وہ یہ جانتا ہو کہ بھلائی اس کے علاوہ دوسرے میں ہے تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو عبد الرحمن المقري، حدثنا سعيد، - يعني ابن ابي ايوب - عن بكر بن عمرو، عن مسلم بن يسار ابي عثمان، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من افتى " . ح وحدثنا سليمان بن داود اخبرنا ابن وهب حدثني يحيى بن ايوب عن بكر بن عمرو عن عمرو بن ابي نعيمة عن ابي عثمان الطنبذي - رضيع عبد الملك بن مروان - قال سمعت ابا هريرة يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من افتي بغير علم كان اثمه على من افتاه " . زاد سليمان المهري في حديثه " ومن اشار على اخيه بامر يعلم ان الرشد في غيره فقد خانه " . وهذا لفظ سليمان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے کوئی دین کا مسئلہ پوچھا گیا اور اس نے اسے چھپا لیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا علي بن الحكم، عن عطاء، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سيل عن علم فكتمه الجمه الله بلجام من نار يوم القيامة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ( علم دین ) مجھ سے سنتے ہو اور لوگ تم سے سنیں گے اور پھر جن لوگوں نے تم سے سنا ہے لوگ ان سے سنیں گے ۔
حدثنا زهير بن حرب، وعثمان بن ابي شيبة، قالا حدثنا جرير، عن الاعمش، عن عبد الله بن عبد الله، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تسمعون ويسمع منكم ويسمع ممن سمع منكم
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا یہاں تک کہ اسے دوسروں تک پہنچا دیا کیونکہ بہت سے حاملین فقہ ایسے ہیں جو فقہ کو اپنے سے زیادہ فقہ و بصیرت والے کو پہنچا دیتے ہیں، اور بہت سے فقہ کے حاملین خود فقیہ نہیں ہوتے ہیں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، حدثني عمر بن سليمان، - من ولد عمر بن الخطاب - عن عبد الرحمن بن ابان، عن ابيه، عن زيد بن ثابت، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " نضر الله امرا سمع منا حديثا فحفظه حتى يبلغه فرب حامل فقه الى من هو افقه منه ورب حامل فقه ليس بفقيه