Loading...

Loading...
کتب
۱۸ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مویشی کی نگہبانی، یا شکار یا کھیتی کی رکھوالی کے علاوہ کسی اور غرض سے کتا پالے تو ہر روز اس کے ثواب میں سے ایک قیراط کے برابر کم ہوتا جائے گا ۱؎ ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اتخذ كلبا الا كلب ماشية او صيد او زرع انتقص من اجره كل يوم قيراط
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے بھی امتوں میں سے ایک امت ہیں ۱؎ تو میں ان کے قتل کا ضرور حکم دیتا، تو اب تم ان میں سے خالص کالے کتوں کو قتل کرو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد، حدثنا يونس، عن الحسن، عن عبد الله بن مغفل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لولا ان الكلاب امة من الامم لامرت بقتلها فاقتلوا منها الاسود البهيم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے مارنے کا حکم دیا یہاں تک کہ کوئی عورت دیہات سے اپنے ساتھ کتا لے کر آتی تو ہم اسے بھی مار ڈالتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے سے منع فرما دیا اور فرمایا کہ صرف کالے کتوں کو مارو۔
حدثنا يحيى بن خلف، حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، عن جابر، قال امر نبي الله صلى الله عليه وسلم بقتل الكلاب حتى ان كانت المراة تقدم من البادية - يعني بالكلب - فنقتله ثم نهانا عن قتلها وقال " عليكم بالاسود
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں تو وہ میرے لیے شکار پکڑ کر لاتا ہے تو کیا میں اسے کھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑو، اور اللہ کا نام اس پر لو تو ان کا شکار جس کو وہ تمہارے لیے روکے رکھیں کھاؤ ۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اگرچہ وہ شکار کو قتل کر ڈالیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگرچہ وہ قتل کر ڈالیں جب تک دوسرا غیر شکاری کتا اس کے قتل میں شریک نہ ہو ، میں نے پوچھا: میں لاٹھی یا بے پر اور بے کانسی کے تیر سے شکار کرتا ہوں ( جو بوجھ اور وزن سے جانور کو مارتا ہے ) تو کیا اسے کھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لاٹھی، یا بے پر، اور بے کانسی کے تیر اللہ کا نام لے کر مارو، اور وہ تیر شکار کے جسم میں گھس کر پھاڑ ڈالے تو کھاؤ، اور اگر وہ شکار کو چوڑا ہو کر لگے تو مت کھاؤ ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن همام، عن عدي بن حاتم، قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم قلت اني ارسل الكلاب المعلمة فتمسك على افاكل قال " اذا ارسلت الكلاب المعلمة وذكرت اسم الله فكل مما امسكن عليك " . قلت وان قتلن قال " وان قتلن ما لم يشركها كلب ليس منها " . قلت ارمي بالمعراض فاصيب افاكل قال " اذا رميت بالمعراض وذكرت اسم الله فاصاب فخزق فكل وان اصاب بعرضه فلا تاكل
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم ان کتوں سے شکار کرتے ہیں ( آپ کیا فرماتے ہیں؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتوں کو اللہ کا نام لے کر شکار پر چھوڑو تو وہ جو شکار تمہارے لیے پکڑ کر رکھیں انہیں کھاؤ گرچہ وہ انہیں مار ڈالیں سوائے ان کے جنہیں کتا کھا لے، اگر کتا اس میں سے کھا لے تو پھر نہ کھاؤ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہو ۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابن فضيل، عن بيان، عن عامر، عن عدي بن حاتم، قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم قلت انا نصيد بهذه الكلاب فقال لي " اذا ارسلت كلابك المعلمة وذكرت اسم الله عليها فكل مما امسكن عليك وان قتل الا ان ياكل الكلب فان اكل الكلب فلا تاكل فاني اخاف ان يكون انما امسكه على نفسه
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم بسم اللہ کہہ کر تیر چلاؤ، پھر اس شکار کو دوسرے روز پاؤ ( یعنی شکار تیر کی چوٹ کھا کر نکل گیا پھر دوسرے روز ملا ) اور وہ تمہیں پانی میں نہ ملا ہو ۱؎، اور نہ تمہارے تیر کے زخم کے سوا اور کوئی نشان ہو تو اسے کھاؤ، اور جب تمہارے کتے کے ساتھ دوسرا کتا بھی شامل ہو گیا ہو ( یعنی دونوں نے مل کر شکار مارا ہو ) تو پھر اس کو مت کھاؤ، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ اس جانور کو کس نے قتل کیا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ دوسرے کتے نے اسے قتل کیا ہو ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن عاصم الاحول، عن الشعبي، عن عدي بن حاتم، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا رميت بسهمك وذكرت اسم الله فوجدته من الغد ولم تجده في ماء ولا فيه اثر غير سهمك فكل واذا اختلط بكلابك كلب من غيرها فلا تاكل لا تدري لعله قتله الذي ليس منها
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے تیر کا شکار پانی میں گر پڑے اور ڈوب کر مر جائے تو اسے مت کھاؤ ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، اخبرني عاصم الاحول، عن الشعبي، عن عدي بن حاتم، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا وقعت رميتك في ماء فغرق فمات فلا تاكل
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کتے یا باز کو تم سدھا رکھو اور اسے اللہ کا نام لے کر یعنی ( بسم اللہ کہہ کر ) شکار کے لیے چھوڑو تو جس شکار کو اس نے تمہارے لیے روک رکھا ہو اسے کھاؤ ۔ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اگرچہ اس نے مار ڈالا ہو؟ آپ نے فرمایا: جب اس نے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کچھ کھایا نہ ہو تو سمجھ لو کہ اس نے شکار کو تمہارے لیے روک رکھا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: باز جب کھا لے تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں اور کتا جب کھا لے تو وہ مکروہ ہے اگر خون پی لے تو کوئی حرج نہیں۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا مجالد، عن الشعبي، عن عدي بن حاتم، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما علمت من كلب او باز ثم ارسلته وذكرت اسم الله فكل مما امسك عليك " . قلت وان قتل قال " اذا قتله ولم ياكل منه شييا فانما امسكه عليك " . قال ابو داود الباز اذا اكل فلا باس به والكلب اذا اكل كره وان شرب الدم فلا باس به
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے کے سلسلہ میں فرمایا: جب تم اپنے ( شکاری ) کتے کو چھوڑو، اور اللہ کا نام لے کر ( یعنی بسم اللہ کہہ ) کر چھوڑو تو ( اس کا شکار ) کھاؤ اگرچہ وہ اس میں سے کھا لے ۱؎ اور اپنے ہاتھ سے کیا ہوا شکار کھاؤ ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا هشيم، حدثنا داود بن عمرو، عن بسر بن عبيد الله، عن ابي ادريس الخولاني، عن ابي ثعلبة الخشني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في صيد الكلب " اذا ارسلت كلبك وذكرت اسم الله فكل وان اكل منه وكل ما ردت عليك يداك
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنے شکار کو تیر مارتا ہے پھر اسے دو دو تین تین دن تک تلاش کرتا پھرتا ہے، پھر اسے مرا ہوا پاتا ہے، اور اس کا تیر اس میں پیوست ہوتا ہے تو کیا وہ اسے کھائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگر چاہے یا فرمایا: کھا سکتا ہے اگر چاہے ۔
حدثنا الحسين بن معاذ بن خليف، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا داود، عن عامر، عن عدي بن حاتم، انه قال يا رسول الله احدنا يرمي الصيد فيقتفي اثره اليومين والثلاثة ثم يجده ميتا وفيه سهمه اياكل قال " نعم ان شاء " . او قال " ياكل ان شاء
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پر کے تیر کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب وہ اپنی تیزی سے پہنچے تو کھاؤ ( یعنی جب وہ تیزی سے گھس گیا ہو ) ، اور جو تیر چوڑائی میں لگا ہو تو مت کھاؤ کیونکہ وہ چوٹ کھایا ہوا ہے ۔ پھر میں نے کہا: میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں ( اس بارے میں کیا حکم ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب«بِسْمِ اللهِ» پڑھ کر چھوڑو تو کھاؤ، ورنہ نہ کھاؤ، اور اگر کتے نے اس میں سے کھایا ہو تو اس کو مت کھاؤ، اس لیے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہے ۔ پھر میں نے پوچھا: میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں کہ دوسرا کتا بھی آ کر اس کے ساتھ لگ جاتا ہے ( تب کیا کروں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مت کھاؤ، اس لیے کہ «بِسْمِ اللهِ» تم نے صرف اپنے ہی کتے پر کہا ہے ۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا شعبة، عن عبد الله بن ابي السفر، عن الشعبي، قال قال عدي بن حاتم سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن المعراض فقال " اذا اصاب بحده فكل واذا اصاب بعرضه فلا تاكل فانه وقيذ " . قلت ارسل كلبي . قال " اذا سميت فكل والا فلا تاكل وان اكل منه فلا تاكل فانما امسك لنفسه " . فقال ارسل كلبي فاجد عليه كلبا اخر فقال " لا تاكل لانك انما سميت على كلبك
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سدھائے اور بےسدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شکار تم سدھائے ہوئے کتے سے کرو اس پر اللہ کا نام لو ( یعنی «بِسْمِ اللهِ» کہو ) اور کھاؤ، اور جو شکار اپنے غیر سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ کرو اور اس کے ذبح کو پاؤ ( یعنی زندہ پاؤ ) تو ذبح کر کے کھاؤ ( ورنہ نہ کھاؤ کیونکہ وہ کتا جو تربیت یافتہ نہیں ہے تو اس کا مار ڈالنا ذبح کے قائم مقام نہیں ہو سکتا ) ۔
حدثنا هناد بن السري، عن ابن المبارك، عن حيوة بن شريح، قال سمعت ربيعة بن يزيد الدمشقي، يقول اخبرني ابو ادريس الخولاني، عايذ الله قال سمعت ابا ثعلبة الخشني، يقول قلت يا رسول الله اني اصيد بكلبي المعلم وبكلبي الذي ليس بمعلم قال " ما صدت بكلبك المعلم فاذكر اسم الله وكل وما اصدت بكلبك الذي ليس بمعلم فادركت ذكاته فكل
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عرض کیا: ابوثعلبہ! جس جانور کو تم اپنے تیر و کمان سے یا اپنے کتے سے مارو اسے کھاؤ ۔ ابن حرب کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ: وہ کتا سدھایا ہوا ( شکاری ) ہو، اور اپنے ہاتھ سے ( یعنی تیر سے ) شکار کیا ہوا جانور ہو تو کھاؤ خواہ اس کو ذبح کر سکو یا نہ کر سکو ۔
حدثنا محمد بن المصفى، حدثنا محمد بن حرب، ح وحدثنا محمد بن المصفى، حدثنا بقية، عن الزبيدي، حدثنا يونس بن سيف، حدثنا ابو ادريس الخولاني، حدثني ابو ثعلبة الخشني، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا ثعلبة كل ما ردت عليك قوسك وكلبك " . زاد عن ابن حرب " المعلم ويدك فكل ذكيا وغير ذكي
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ نامی ایک دیہاتی نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس شکار کے لیے تیار سدھائے ہوئے کتے ہیں، ان کے شکار کے سلسلہ میں مجھے بتائیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس سدھائے ہوئے کتے ہیں تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں انہیں کھاؤ ۔ ابو ثعلبہ نے کہا: خواہ میں ان کو ذبح کر سکوں یا نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔ ابو ثعلبہ نے کہا: اگرچہ وہ کتے اس جانور میں سے کھا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ اس جانور میں سے کھا لیں ۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے تیر کمان سے شکار کے متعلق بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا تیر کمان جو تمہیں لوٹا دے اسے کھاؤ، خواہ تم اسے ذبح کر پاؤ یا نہ کر پاؤ ۔ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ شکار تیر کھا کر میری نظروں سے اوجھل ہو جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگرچہ وہ تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے جب تک کہ گلے سڑے نہیں، اور تمہارے تیر کے سوا اس کی ہلاکت کا کوئی اور اثر معلوم نہ ہو سکے ۔ پھر انہوں نے کہا: مجوسیوں ( پارسیوں ) کے برتن کے متعلق بتائیے جب کہ ہمیں اس کے سوا دوسرا برتن نہ ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دھو ڈالو اور اس میں کھاؤ ۔
حدثنا محمد بن المنهال الضرير، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا حبيب المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان اعرابيا، يقال له ابو ثعلبة قال يا رسول الله ان لي كلابا مكلبة فافتني في صيدها . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان كان لك كلاب مكلبة فكل مما امسكن عليك " . قال ذكيا او غير ذكي قال " نعم " . قال فان اكل منه قال " وان اكل منه " . فقال يا رسول الله افتني في قوسي . قال " كل ما ردت عليك قوسك " . قال " ذكيا او غير ذكي " . قال وان تغيب عني قال " وان تغيب عنك ما لم يصل او تجد فيه اثرا غير سهمك " . قال افتني في انية المجوس ان اضطررنا اليها . قال " اغسلها وكل فيها
ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ جانور کے بدن سے جو چیز کاٹی جائے وہ مردار ہے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي واقد، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ما قطع من البهيمة وهي حية فهي ميتة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صحراء اور بیابان میں رہے گا اس کا دل سخت ہو جائے گا، اور جو شکار کے پیچھے رہے گا وہ ( دنیا یا دین کے کاموں سے ) غافل ہو جائے گا، اور جو شخص بادشاہ کے پاس آئے جائے گا وہ فتنہ و آزمائش میں پڑے گا ( اس سے دنیا بھی خراب ہو سکتی ہے اور آخرت بھی ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني ابو موسى، عن وهب بن منبه، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم - وقال مرة سفيان ولا اعلمه الا عن النبي صلى الله عليه وسلم - وقال " من سكن البادية جفا ومن اتبع الصيد غفل ومن اتى السلطان افتتن
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسدد والی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: جو شخص بادشاہ کے ساتھ چمٹا رہے گا وہ فتنے میں پڑے گا اور اتنا اضافہ ہے: جو شخص بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا اتنا ہی وہ اللہ سے دور ہوتا جائے گا ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا الحسن بن الحكم النخعي، عن عدي بن ثابت، عن شيخ، من الانصار عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعنى مسدد قال " ومن لزم السلطان افتتن " . زاد " وما ازداد عبد من السلطان دنوا الا ازداد من الله بعدا
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی شکار کو تیر مارو اور تین دن بعد اس جانور کو اس طرح پاؤ کہ تمہارا تیر اس میں موجود ہو تو جب تک کہ اس میں سے بدبو پیدا نہ ہو اسے کھاؤ ۱؎ ۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا حماد بن خالد الخياط، عن معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن ابيه، عن ابي ثعلبة الخشني، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا رميت الصيد فادركته بعد ثلاث ليال وسهمك فيه فكله ما لم ينتن