Loading...

Loading...
کتب
۲۰ احادیث
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ کے ساتھ جہاد کیا، مجھے ایک کوڑا پڑا ملا، ان دونوں نے کہا: اسے پھینک دو، میں نے کہا: نہیں، بلکہ اگر اس کا مالک مل گیا تو میں اسے دے دوں گا اور اگر نہ ملا تو خود میں اپنے کام میں لاؤں گا، پھر میں نے حج کیا، میرا گزر مدینے سے ہوا، میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ مجھے ایک تھیلی ملی تھی، اس میں سو ( ۱۰۰ ) دینار تھے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نے فرمایا: ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ ، چنانچہ میں ایک سال تک اس کی پہچان کراتا رہا، پھر آپ کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سال اور پہچان کراؤ ، میں نے ایک سال اور پہچان کرائی، اس کے بعد پھر آپ کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سال پھر پہچان کراؤ ، چنانچہ میں ایک سال پھر پہچان کراتا رہا، پھر آپ کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے کوئی نہ ملا جو اسے جانتا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تعداد یاد رکھو اور اس کا بندھن اور اس کی تھیلی بھی، اگر اس کا مالک آ جائے ( تو بہتر ) ورنہ تم اسے اپنے کام میں لے لینا ۔ شعبہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ سلمہ نے «عرفها» تین بار کہا تھا یا ایک بار۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا شعبة، عن سلمة بن كهيل، عن سويد بن غفلة، قال غزوت مع زيد بن صوحان وسلمان بن ربيعة فوجدت سوطا فقالا لي اطرحه . فقلت لا ولكن ان وجدت صاحبه والا استمتعت به فحججت فمررت على المدينة فسالت ابى بن كعب فقال وجدت صرة فيها ماية دينار فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " عرفها حولا " . فعرفتها حولا ثم اتيته فقال " عرفها حولا " . فعرفتها حولا ثم اتيته فقال " عرفها حولا " . فعرفتها حولا ثم اتيته فقلت لم اجد من يعرفها . فقال " احفظ عددها ووكاءها ووعاءها فان جاء صاحبها والا فاستمتع بها " . وقال ولا ادري اثلاثا قال " عرفها " . او مرة واحدة
اس سند سے بھی شعبہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے وہ کہتے ہیں: «عرفها حولا» تین بار کہا، البتہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ آپ نے اسے ایک سال میں کرنے کے لیے کہا یا تین سال میں۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، بمعناه قال " عرفها حولا " . وقال ثلاث مرار قال فلا ادري قال له ذلك في سنة او في ثلاث سنين
حماد کہتے ہیں سلمہ بن کہیل نے ہم سے اسی سند سے اور اسی مفہوم کی حدیث بیان کی کی اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لقطہٰ کی ) پہچان کرانے کے سلسلے میں فرمایا: دو یا تین سال تک ( اس کی پہچان کراؤ ) ، اور فرمایا: اس کی تعداد جان لو اور اس کی تھیلی اور اس کے سر بندھن کی پہچان کر لو ، اس میں اتنا مزید ہے: اگر اس کا مالک آ جائے اور اس کی تعداد اور سر بندھن بتا دے تو اسے اس کے حوالے کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «فعرف عددها» کا کلمہ اس حدیث میں سوائے حماد کے کسی اور نے نہیں ذکر کیا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، حدثنا سلمة بن كهيل، باسناده ومعناه قال في التعريف قال عامين او ثلاثة . وقال " اعرف عددها ووعاءها ووكاءها " . زاد " فان جاء صاحبها فعرف عددها ووكاءها فادفعها اليه " . قال ابو داود ليس يقول هذه الكلمة الا حماد في هذا الحديث يعني " فعرف عددها
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ ( پڑی ہوئی چیز ) کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ، پھر اس کی تھیلی اور سر بندھن کو پہچان لو، پھر اسے خرچ کر ڈالو، اب اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! گمشدہ بکری کو ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو پکڑ لو، اس لیے کہ وہ یا تو تمہارے لیے ہے، یا تمہارے بھائی کے لیے، یا بھیڑیئے کے لیے ، اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! گمشدہ اونٹ کو ہم کیا کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے یہاں تک کہ آپ کے رخسار سرخ ہو گئے یا آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا: تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اس کا جوتا ۱؎ اور اس کا مشکیزہ اس کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک آ جائے ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن يزيد، مولى المنبعث عن زيد بن خالد الجهني، ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اللقطة فقال " عرفها سنة ثم اعرف وكاءها وعفاصها ثم استنفق بها فان جاء ربها فادها اليه " . فقال يا رسول الله فضالة الغنم فقال " خذها فانما هي لك او لاخيك او للذيب " . قال يا رسول الله فضالة الابل فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى احمرت وجنتاه - او احمر وجهه - وقال " ما لك ولها معها حذاوها وسقاوها حتى ياتيها ربها
اس سند سے بھی مالک سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ: وہ اپنی سیرابی کے لیے پانی پر آ جاتا ہے اور درخت کھا لیتا ہے ، اس روایت میں گمشدہ بکری کے سلسلے میں «خذها» ( اسے پکڑ لو ) کا لفظ نہیں ہے، البتہ لقطہٰ کے سلسلے میں فرمایا: ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا مالک آ جائے تو بہتر ہے ورنہ تم خود اس کو استعمال کر لو ، اس میں «استنفق»کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری، سلیمان بن بلال اور حماد بن سلمہ نے اسے ربیعہ سے اسی طرح روایت کیا ہے لیکن ان لوگوں نے «خذها» کا لفظ نہیں کہا ہے۔
حدثنا ابن السرح، حدثنا ابن وهب، اخبرني مالك، باسناده ومعناه زاد " سقاوها ترد الماء وتاكل الشجر " . ولم يقل " خذها " . في ضالة الشاء وقال في اللقطة " عرفها سنة فان جاء صاحبها والا فشانك بها " . ولم يذكر " استنفق " . قال ابو داود رواه الثوري وسليمان بن بلال وحماد بن سلمة عن ربيعة مثله لم يقولوا " خذها
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: تم ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا ڈھونڈنے والا آ جائے تو اسے اس کے حوالہ کر دو ورنہ اس کی تھیلی اور سر بندھن کی پہچان رکھو اور پھر اسے کھا جاؤ، اب اگر اس کا ڈھونڈھنے والا آ جائے تو اسے ( اس کی قیمت ) ادا کر دو ۔
حدثنا محمد بن رافع، وهارون بن عبد الله، - المعنى - قالا حدثنا ابن ابي فديك، عن الضحاك، - يعني ابن عثمان - عن سالم ابي النضر، عن بسر بن سعيد، عن زيد بن خالد الجهني، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن اللقطة فقال " عرفها سنة فان جاء باغيها فادها اليه والا فاعرف عفاصها ووكاءها ثم كلها فان جاء باغيها فادها اليه
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( لقطے کے متعلق ) پوچھا گیا پھر راوی نے ربیعہ کی طرح حدیث ذکر کی اور کہا: لقطے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک تم اس کی تشہیر کرو، اب اگر اس کا مالک آ جائے تو تم اسے اس کے حوالہ کر دو، اور اگر نہ آئے تو تم اس کے ظرف اور سر بندھن کو پہچان لو پھر اسے اپنے مال میں ملا لو، پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے اس کو دے دو ۔
حدثنا احمد بن حفص، حدثني ابي، حدثني ابراهيم بن طهمان، عن عباد بن اسحاق، عن عبد الله بن يزيد، عن ابيه، يزيد مولى المنبعث عن زيد بن خالد الجهني، انه قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر نحو حديث ربيعة . قال وسيل عن اللقطة فقال " تعرفها حولا فان جاء صاحبها دفعتها اليه والا عرفت وكاءها وعفاصها ثم افضها في مالك فان جاء صاحبها فادفعها اليه
یحییٰ بن سعید اور ربیعہ سے قتیبہ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: اگر اس کا ڈھونڈنے والا آ جائے اور تھیلی اور گنتی کی پہچان بتائے تو اسے اس کو دے دو ۔ اور حماد نے بھی عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے عمرو بن شعیب نے «عن ابیہ عن جدہ» عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل مرفوعاً روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ زیادتی جو حماد بن سلمہ نے سلمہ بن کہیل، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ اور ربیعہ کی حدیث ( یعنی حدیث نمبر: ۱۷۰۲ -۱۷۰۳ ) میں کی ہے: «إن جاء صاحبها فعرف عفاصها ووكاءها فادفعها إليه» یعنی: اگر اس کا مالک آ جائے اور اس کی تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتا دے تو اس کو دے دو ، اس میں: «فعرف عفاصها ووكاءها» تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتا دے کا جملہ محفوظ نہیں ہے۔ اور عقبہ بن سوید کی حدیث میں بھی جسے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے یعنی «عرفها سنة» ( ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ) موجود ہے۔ اور عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: «عرفها سنة» تم ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، عن حماد بن سلمة، عن يحيى بن سعيد، وربيعة، باسناد قتيبة ومعناه وزاد فيه " فان جاء باغيها فعرف عفاصها وعددها فادفعها اليه " . وقال حماد ايضا عن عبيد الله بن عمر عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله . قال ابو داود وهذه الزيادة التي زاد حماد بن سلمة في حديث سلمة بن كهيل ويحيى بن سعيد وعبيد الله بن عمر وربيعة " ان جاء صاحبها فعرف عفاصها ووكاءها فادفعها اليه " . ليست بمحفوظة " فعرف عفاصها ووكاءها " . وحديث عقبة بن سويد عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم ايضا قال " عرفها سنة " . وحديث عمر بن الخطاب ايضا عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " عرفها سنة
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے لقطہٰ ملے تو وہ ایک یا دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لے ۱؎ اور اسے نہ چھپائے اور نہ غائب کرے، اگر اس کے مالک کو پا جائے تو اسے واپس کر دے، ورنہ وہ اللہ عزوجل کا مال ہے جسے وہ چاہتا ہے دیتا ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد يعني الطحان، ح وحدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، - المعنى - عن خالد الحذاء، عن ابي العلاء، عن مطرف، - يعني ابن عبد الله - عن عياض بن حمار، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من وجد لقطة فليشهد ذا عدل - او ذوى عدل - ولا يكتم ولا يغيب فان وجد صاحبها فليردها عليه والا فهو مال الله عز وجل يوتيه من يشاء
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت پر لٹکتے ہوئے پھل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حاجت مند اسے کھائے اور چھپا کر نہ لے جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں، اور جو اس میں سے کچھ چھپا کر لے جائے تو اس کا دو گنا جرمانہ دے اور سزا الگ ہو گی، اور جب میوہ پک کر سوکھنے کے لیے کھلیان میں ڈال دیا جائے اور اس میں سے کوئی اس قدر چرا کر لے جائے جس کی قیمت سپر ( ڈھال ) کی قیمت کے برابر ہو تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔ اس کے بعد گمشدہ اونٹ اور بکری کا ذکر کیا جیسا کہ اوروں نے ذکر کیا ہے، اس میں ہے: آپ سے لقطے کے سلسلے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لقطہٰ گزر گاہ عام یا آباد گاؤں میں ملے تو ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو اور اگر نہ آئے تو وہ تمہارا ہے اور جو لقطہٰ کسی اجڑے یا غیر آباد مقام پر ملے تو اس میں اور رکاز ( جاہلیت کے دفینہ ) میں پانچواں حصہ حاکم کو دینا ہو گا ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده عبد الله بن عمرو بن العاص، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه سيل عن الثمر المعلق فقال " من اصاب بفيه من ذي حاجة غير متخذ خبنة فلا شىء عليه ومن خرج بشىء منه فعليه غرامة مثليه والعقوبة ومن سرق منه شييا بعد ان ييويه الجرين فبلغ ثمن المجن فعليه القطع " . وذكر في ضالة الابل والغنم كما ذكره غيره قال وسيل عن اللقطة فقال " ما كان منها في طريق الميتاء او القرية الجامعة فعرفها سنة فان جاء طالبها فادفعها اليه وان لم يات فهي لك وما كان في الخراب - يعني - ففيها وفي الركاز الخمس
اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ گمشدہ بکری کے سلسلہ میں آپ نے فرمایا: اسے پکڑے رکھو ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن الوليد، - يعني ابن كثير - حدثني عمرو بن شعيب، باسناده بهذا قال في ضالة الشاء قال " فاجمعها
اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بکری تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی، تو اسے پکڑے رکھو ۔ اسی طرح ایوب اور یعقوب بن عطا نے عمرو بن شعیب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: تو تم اسے پکڑے رکھو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن عبيد الله بن الاخنس، عن عمرو بن شعيب، بهذا باسناده قال في ضالة الغنم " لك او لاخيك او للذيب خذها قط " . كذا قال فيه ايوب ويعقوب بن عطاء عن عمرو بن شعيب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " فخذها
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پکڑے رکھو، یہاں تک کہ اس کا ڈھونڈھنے والا اس تک آ جائے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، ح وحدثنا ابن العلاء، حدثنا ابن ادريس، عن ابن اسحاق، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا . قال في ضالة الشاء " فاجمعها حتى ياتيها باغيها
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ایک دینار ملا تو وہ اسے لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، انہوں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ اللہ عزوجل کا دیا ہوا رزق ہے ، چنانچہ اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما نے کھایا، اس کے بعد ان کے پاس ایک عورت دینار ڈھونڈھتی ہوئی آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! دینار ادا کر دو ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا عبد الله بن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن بكير بن الاشج، عن عبيد الله بن مقسم، حدثه عن رجل، عن ابي سعيد الخدري، ان علي بن ابي طالب، وجد دينارا فاتى به فاطمة فسالت عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " هو رزق الله عز وجل " . فاكل منه رسول الله صلى الله عليه وسلم واكل علي وفاطمة فلما كان بعد ذلك اتته امراة تنشد الدينار فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا علي اد الدينار
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں ایک دینار پڑا ملا، جس سے انہوں نے آٹا خریدا، آٹے والے نے انہیں پہچان لیا، اور دینار واپس کر دیا تو علی رضی اللہ عنہ نے اسے واپس لے لیا اور اسے بھنا کر اس میں سے دو قیراط ۱؎ کا گوشت خریدا
حدثنا الهيثم بن خالد الجهني، حدثنا وكيع، عن سعد بن اوس، عن بلال بن يحيى العبسي، عن علي، رضى الله عنه انه التقط دينارا فاشترى به دقيقا فعرفه صاحب الدقيق فرد عليه الدينار فاخذه علي وقطع منه قيراطين فاشترى به لحما
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے بتایا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رو رہے تھے، تو انہوں نے پوچھا: یہ دونوں کیوں رو رہے ہیں؟ فاطمہ نے کہا: بھوک ( سے رو رہے ہیں ) ، علی رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو بازار میں ایک دینار پڑا پایا، وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: فلاں یہودی کے پاس جائیے اور ہمارے لیے آٹا لے لیجئے، چنانچہ وہ یہودی کے پاس گئے اور اس سے آٹا خریدا، تو یہودی نے پوچھا: تم اس کے داماد ہو جو کہتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟ وہ بولے: ہاں، اس نے کہا: اپنا دینار رکھ لو اور آٹا لے جاؤ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ آٹا لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو وہ بولیں: فلاں قصاب کے پاس جائیے اور ایک درہم کا گوشت لے آئیے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ گئے اور اس دینار کو ایک درہم کے بدلے گروی رکھ دیا اور ایک درہم کا گوشت لے آئے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آٹا گوندھا، ہانڈی چڑھائی اور روٹی پکائی، اور اپنے والد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بلا بھیجا، آپ تشریف لائے تو وہ بولیں: اللہ کے رسول! میں آپ سے واقعہ بیان کرتی ہوں اگر آپ اسے ہمارے لیے حلال سمجھیں تو ہم بھی کھائیں اور ہمارے ساتھ آپ بھی کھائیں، اس کا واقعہ ایسا اور ایسا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا نام لے کر کھاؤ ، ابھی وہ لوگ اپنی جگہ ہی پر تھے کہ اسی دوران ایک لڑکا اللہ اور اسلام کی قسم دے کر اپنے کھوئے ہوئے دینار کے متعلق پوچھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: بازار میں مجھ سے ( میرا دینار ) گر گیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! قصاب کے پاس جاؤ اور اس سے کہو: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے کہہ رہے ہیں: دینار مجھے بھیج دو، تمہارا درہم میرے ذمے ہے ، چنانچہ اس نے وہ دینار بھیج دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس ( لڑکے ) کو دے دیا۔
حدثنا جعفر بن مسافر التنيسي، حدثنا ابن ابي فديك، حدثنا موسى بن يعقوب الزمعي، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، اخبره ان علي بن ابي طالب دخل على فاطمة وحسن وحسين يبكيان فقال ما يبكيهما قالت الجوع فخرج علي فوجد دينارا بالسوق فجاء الى فاطمة فاخبرها فقالت اذهب الى فلان اليهودي فخذ دقيقا فجاء اليهودي فاشترى به دقيقا فقال اليهودي انت ختن هذا الذي يزعم انه رسول الله قال نعم . قال فخذ دينارك ولك الدقيق . فخرج علي حتى جاء فاطمة فاخبرها فقالت اذهب الى فلان الجزار فخذ لنا بدرهم لحما فذهب فرهن الدينار بدرهم لحم فجاء به فعجنت ونصبت وخبزت وارسلت الى ابيها فجاءهم فقالت يا رسول الله اذكر لك فان رايته لنا حلالا اكلناه واكلت معنا من شانه كذا وكذا . فقال " كلوا باسم الله " . فاكلوا فبينما هم مكانهم اذا غلام ينشد الله والاسلام الدينار فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم فدعي له فساله . فقال سقط مني في السوق . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا علي اذهب الى الجزار فقل له ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لك ارسل الى بالدينار ودرهمك على " . فارسل به فدفعه رسول الله صلى الله عليه وسلم اليه
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لکڑی، کوڑے، رسی اور ان جیسی چیزوں کے بارے میں رخصت دی کہ اگر آدمی انہیں پڑا پائے تو اسے کام میں لائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے نعمان بن عبدالسلام نے مغیرہ ابوسلمہ سے اسی طریق سے روایت کیا ہے اور اسے شبابہ نے مغیرہ بن مسلم سے انہوں نے ابو الزبیر سے ابوالزبیر نے جابر سے روایت کیا ہے، راوی کہتے ہیں: لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے یعنی اسے جابر رضی اللہ عنہ پر موقوف کہا ہے۔
حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا محمد بن شعيب، عن المغيرة بن زياد، عن ابي الزبير المكي، انه حدثه عن جابر بن عبد الله، قال رخص لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في العصا والسوط والحبل واشباهه يلتقطه الرجل ينتفع به . قال ابو داود رواه النعمان بن عبد السلام عن المغيرة ابي سلمة باسناده ورواه شبابة عن مغيرة بن مسلم عن ابي الزبير عن جابر قال كانوا لم يذكر النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گمشدہ اونٹ اگر چھپا دیا جائے تو ( چھپانے والے پر ) اس کا جرمانہ ہو گا، اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو گا ۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن عمرو بن مسلم، عن عكرمة، - احسبه - عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ضالة الابل المكتومة غرامتها ومثلها معها
عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجی کے لقطے سے منع فرمایا۔ احمد کہتے ہیں: ابن وہب نے کہا: یعنی حاجی کے لقطے کے بارے میں کہ وہ اسے چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لے، ابن موہب نے«أخبرني عمرو» کے بجائے «عن عمرو» کہا ہے۔
حدثنا يزيد بن خالد بن موهب، واحمد بن صالح، قالا حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو، عن بكير، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عبد الرحمن بن عثمان التيمي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن لقطة الحاج . قال احمد قال ابن وهب يعني في لقطة الحاج يتركها حتى يجدها صاحبها قال ابن موهب عن عمرو
منذر بن جریر کہتے ہیں میں جریر کے ساتھ بوازیج ۱؎ میں تھا کہ چرواہا گائیں لے کر آیا تو ان میں ایک گائے ایسی تھی جو ان کی گایوں میں سے نہیں تھی، جریر نے اس سے پوچھا: یہ کیسی گائے ہے؟ اس نے کہا: یہ گایوں میں آ کر مل گئی ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کس کی ہے، جریر نے کہا: اسے نکالو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: گمشدہ جانور کو کوئی گم راہ ہی اپنے پاس جگہ دیتا ہے ۲؎۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا خالد، عن ابي حيان التيمي، عن المنذر بن جرير، قال كنت مع جرير بالبوازيج فجاء الراعي بالبقر وفيها بقرة ليست منها فقال له جرير ما هذه قال لحقت بالبقر لا ندري لمن هي . فقال جرير اخرجوها فقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا ياوي الضالة الا ضال