Loading...

Loading...
کتب
۸۱ احادیث
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ بن دعامہ سے، انہوں نے ابوالعالیہ رفیع سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ میرے سامنے چند معتبر حضرات نے گواہی دی، جن میں سب سے زیادہ معتبر میرے نزدیک عمر رضی اللہ عنہ تھے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔ ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے کہ میں نے ابوالعالیہ سے سنا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے چند لوگوں نے یہ حدیث بیان کی۔ ( جو پہلے ذکر ہوئی ) ۔
حدثنا حفص بن عمر، قال حدثنا هشام، عن قتادة، عن ابي العالية، عن ابن عباس، قال شهد عندي رجال مرضيون وارضاهم عندي عمر ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الصلاة بعد الصبح حتى تشرق الشمس، وبعد العصر حتى تغرب. حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن شعبة، عن قتادة، سمعت ابا العالية، عن ابن عباس، قال حدثني ناس، بهذا
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن هشام، قال اخبرني ابي قال، اخبرني ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تحروا بصلاتكم طلوع الشمس ولا غروبها ". وقال حدثني ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا طلع حاجب الشمس فاخروا الصلاة حتى ترتفع، واذا غاب حاجب الشمس فاخروا الصلاة حتى تغيب ". تابعه عبدة
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن هشام، قال اخبرني ابي قال، اخبرني ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تحروا بصلاتكم طلوع الشمس ولا غروبها ". وقال حدثني ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا طلع حاجب الشمس فاخروا الصلاة حتى ترتفع، واذا غاب حاجب الشمس فاخروا الصلاة حتى تغيب ". تابعه عبدة
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے ابی اسامہ کے واسطے سے بیان کیا۔ انہوں نے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے خبیب بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے حفص بن عاصم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی خرید و فروخت اور دو طرح کے لباس اور دو وقتوں کی نمازوں سے منع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور نماز عصر کے بعد غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ( اور کپڑوں میں ) اشتمال صماء یعنی ایک کپڑا اپنے اوپر اس طرح لپیٹ لینا کہ شرمگاہ کھل جائے۔ اور ( احتباء ) یعنی ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ ( اور خرید و فروخت میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منابذہ اور ملامسہ سے منع فرمایا۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، عن ابي اسامة، عن عبيد الله، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيعتين وعن لبستين وعن صلاتين نهى عن الصلاة بعد الفجر حتى تطلع الشمس، وبعد العصر حتى تغرب الشمس، وعن اشتمال الصماء وعن الاحتباء في ثوب واحد يفضي بفرجه الى السماء، وعن المنابذة والملامسة
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہ کہا ہمیں امام مالک نے نافع سے خبر دی، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی تم میں سے انتظار میں نہ بیٹھا رہے کہ سورج طلوع ہوتے ہی نماز کے لیے کھڑا ہو جائے، اسی طرح سورج کے ڈوبنے کے انتظار میں بھی نہ رہنا چاہیے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يتحرى احدكم فيصلي عند طلوع الشمس ولا عند غروبها
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے صالح سے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا مجھ سے عطاء بن یزید جندعی لیثی نے بیان کیا کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ فجر کی نماز کے بعد کوئی نماز سورج کے بلند ہونے تک نہ پڑھی جائے، اسی طرح عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني عطاء بن يزيد الجندعي، انه سمع ابا سعيد الخدري، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا صلاة بعد الصبح حتى ترتفع الشمس، ولا صلاة بعد العصر حتى تغيب الشمس
ہم سے محمد بن ابان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ابوالتیاح یزید بن حمید سے، کہا کہ میں نے حمران بن ابان سے سنا، وہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ انھوں نے فرمایا کہ تم لوگ تو ایک ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے لیکن ہم نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس سے منع فرمایا تھا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کی مراد عصر کے بعد دو رکعتوں سے تھی ( جسے آپ کے زمانہ میں بعض لوگ پڑھتے تھے ) ۔
حدثنا محمد بن ابان، قال حدثنا غندر، قال حدثنا شعبة، عن ابي التياح، قال سمعت حمران بن ابان، يحدث عن معاوية، قال انكم لتصلون صلاة، لقد صحبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فما رايناه يصليها، ولقد نهى عنهما، يعني الركعتين بعد العصر
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدہ نے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ سے خبر دی، انہوں نے خبیب سے، انہوں نے حفص بن عاصم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا، نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور نماز عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک۔
حدثنا محمد بن سلام، قال حدثنا عبدة، عن عبيد الله، عن خبيب، عن حفص بن عاصم، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاتين بعد الفجر حتى تطلع الشمس، وبعد العصر حتى تغرب الشمس
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب سے کہا، انہوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، آپ نے فرمایا کہ جس طرح میں نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھتے دیکھا، میں بھی اسی طرح نماز پڑھتا ہوں، کسی کو روکتا نہیں۔ دن اور رات کے جس حصہ میں جی چاہے نماز پڑھ سکتا ہے، البتہ سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز نہ پڑھا کرو۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال اصلي كما رايت اصحابي يصلون، لا انهى احدا يصلي بليل ولا نهار ما شاء، غير ان لا تحروا طلوع الشمس ولا غروبها
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ پاک سے جا ملے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پہلے نماز پڑھنے میں بڑی دشواری پیش آتی تھی۔ پھر اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے لیکن اس خوف سے کہ کہیں ( صحابہ بھی پڑھنے لگیں اور اس طرح ) امت کو گراں باری ہو، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نہیں پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا ہلکا رکھنا پسند تھا۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا عبد الواحد بن ايمن، قال حدثني ابي انه، سمع عايشة، قالت والذي ذهب به ما تركهما حتى لقي الله، وما لقي الله تعالى حتى ثقل عن الصلاة، وكان يصلي كثيرا من صلاته قاعدا تعني الركعتين بعد العصر وكان النبي صلى الله عليه وسلم يصليهما، ولا يصليهما في المسجد مخافة ان يثقل على امته، وكان يحب ما يخفف عنهم
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ عروہ نے خبر دی، کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میرے بھانجے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات میرے یہاں کبھی ترک نہیں کیں۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا هشام، قال اخبرني ابي قالت، عايشة ابن اختي ما ترك النبي صلى الله عليه وسلم السجدتين بعد العصر عندي قط
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن اسود نے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے فرمایا کہ دو رکعتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ترک نہیں فرمایا، پوشیدہ ہو یا عام لوگوں کے سامنے، صبح کی نماز سے پہلے دو رکعات اور عصر کی نماز کے بعد دو رکعات۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا عبد الواحد، قال حدثنا الشيباني، قال حدثنا عبد الرحمن بن الاسود، عن ابيه، عن عايشة، قالت ركعتان لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعهما سرا ولا علانية ركعتان قبل صلاة الصبح، وركعتان بعد العصر
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے ابواسحاق سے بیان کیا، کہا کہ ہم نے اسود بن یزید اور مسروق بن اجدع کو دیکھا کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس کہنے پر گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی میرے گھر میں عصر کے بعد تشریف لائے تو دو رکعت ضرور پڑھتے۔
حدثنا محمد بن عرعرة، قال حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، قال رايت الاسود ومسروقا شهدا على عايشة قالت ما كان النبي صلى الله عليه وسلم ياتيني في يوم بعد العصر الا صلى ركعتين
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، وہ قلابہ سے نقل کرتے ہیں کہ ابوالملیح عامر بن اسامہ ہذلی نے ان سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم ابر کے دن ایک مرتبہ بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ صحابی کے ساتھ تھے، انہوں نے فرمایا کہ نماز سویرے پڑھا کرو۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عصر کی نماز چھوڑی اس کا عمل اکارت ہو گیا۔
حدثنا معاذ بن فضالة، قال حدثنا هشام، عن يحيى هو ابن ابي كثير عن ابي قلابة، ان ابا المليح، حدثه قال كنا مع بريدة في يوم ذي غيم فقال بكروا بالصلاة فان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ترك صلاة العصر حبط عمله
ہم سے عمران بن میسرہ نے روایت کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، کہا ہم ( خیبر سے لوٹ کر ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات میں سفر کر رہے تھے۔ کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ اب پڑاؤ ڈال دیتے تو بہتر ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں نماز کے وقت بھی تم سوتے نہ رہ جاؤ۔ اس پر بلال رضی اللہ عنہ بولے کہ میں آپ سب لوگوں کو جگا دوں گا۔ چنانچہ سب لوگ لیٹ گئے۔ اور بلال رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی پیٹھ کجاوہ سے لگا لی۔ اور ان کی بھی آنکھ لگ گئی اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج کے اوپر کا حصہ نکل چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال! تو نے کیا کہا تھا۔ وہ بولے آج جیسی نیند مجھے کبھی نہیں آئی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ارواح کو جب چاہتا ہے قبض کر لیتا ہے اور جس وقت چاہتا ہے واپس کر دیتا ہے۔ اے بلال! اٹھ اور اذان دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور جب سورج بلند ہو کر روشن ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔
حدثنا عمران بن ميسرة، قال حدثنا محمد بن فضيل، قال حدثنا حصين، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال سرنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ليلة فقال بعض القوم لو عرست بنا يا رسول الله. قال " اخاف ان تناموا عن الصلاة ". قال بلال انا اوقظكم. فاضطجعوا واسند بلال ظهره الى راحلته، فغلبته عيناه فنام، فاستيقظ النبي صلى الله عليه وسلم وقد طلع حاجب الشمس فقال " يا بلال اين ما قلت ". قال ما القيت على نومة مثلها قط. قال " ان الله قبض ارواحكم حين شاء، وردها عليكم حين شاء، يا بلال قم فاذن بالناس بالصلاة ". فتوضا فلما ارتفعت الشمس وابياضت قام فصلى
ہم سے معاذ بن فضالہ نے حدیث نقل کی، انہوں نے کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر ( ایک مرتبہ ) سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور وہ کفار قریش کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ اور آپ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! سورج غروب ہو گیا، اور نماز عصر پڑھنا میرے لیے ممکن نہ ہو سکا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں نے بھی نہیں پڑھی۔ پھر ہم وادی بطحان میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز کے لیے وضو کیا، ہم نے بھی وضو بنایا۔ اس وقت سورج ڈوب چکا تھا۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
حدثنا معاذ بن فضالة، قال حدثنا هشام، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن جابر بن عبد الله، ان عمر بن الخطاب، جاء يوم الخندق بعد ما غربت الشمس، فجعل يسب كفار قريش قال يا رسول الله ما كدت اصلي العصر حتى كادت الشمس تغرب. قال النبي صلى الله عليه وسلم " والله ما صليتها ". فقمنا الى بطحان، فتوضا للصلاة، وتوضانا لها فصلى العصر بعد ما غربت الشمس، ثم صلى بعدها المغرب
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آ جائے اس کو پڑھ لے۔ اس قضاء کے سوا اور کوئی کفارہ اس کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اور ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ) نماز میرے یاد آنے پر قائم کر۔ موسیٰ نے کہا کہ ہم سے ہمام نے حدیث بیان کی کہ میں نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ یوں پڑھتے تھے نماز پڑھ میری یاد کے لیے۔ حبان بن ہلال نے کہا، ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، پھر ایسی ہی حدیث بیان کی۔
حدثنا ابو نعيم، وموسى بن اسماعيل، قالا حدثنا همام، عن قتادة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من نسي صلاة فليصل اذا ذكرها، لا كفارة لها الا ذلك ". {واقم الصلاة لذكري} قال موسى قال همام سمعته يقول بعد {واقم الصلاة لذكري}.وقال حبان حدثنا همام، حدثنا قتادة، حدثنا انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے حدیث بیان کی، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے جو ابی کثیر کے بیٹے ہیں حدیث بیان کی ابوسلمہ سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر ( ایک دن ) کفار کو برا بھلا کہنے لگے۔ فرمایا کہ سورج غروب ہو گیا، لیکن میں ( لڑائی کی وجہ سے ) نماز عصر نہ پڑھ سکا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم وادی بطحان کی طرف گئے۔ اور ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ) غروب شمس کے بعد پڑھی اس کے بعد مغرب پڑھی۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن هشام، قال حدثنا يحيى هو ابن ابي كثير عن ابي سلمة، عن جابر، قال جعل عمر يوم الخندق يسب كفارهم وقال ما كدت اصلي العصر حتى غربت. قال فنزلنا بطحان، فصلى بعد ما غربت الشمس، ثم صلى المغرب
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، کہا ہم سے عوف اعرابی نے، کہا کہ ہم سے ابوالمنہال سیار بن سلامہ نے، انہوں نے کہا کہ میں اپنے باپ سلامہ کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان سے میرے والد صاحب نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازیں کس طرح ( یعنی کن کن اوقات میں ) پڑھتے تھے۔ ہم سے اس کے بارے میں بیان فرمائیے۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «هجير» ( ظہر ) جسے تم صلوٰۃ اولیٰ کہتے ہو سورج ڈھلتے ہی پڑھتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عصر پڑھنے کے بعد کوئی بھی شخص اپنے گھر واپس ہوتا اور وہ بھی مدینہ کے سب سے آخری کنارہ پر تو سورج ابھی صاف اور روشن ہوتا۔ مغرب کے بارے میں آپ نے جو کچھ بتایا مجھے یاد نہیں رہا۔ اور فرمایا کہ عشاء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تاخیر پسند فرماتے تھے۔ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ صبح کی نماز سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوتے تو ہم اپنے قریب بیٹھے ہوئے دوسرے شخص کو پہچان لیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھتے تھے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا عوف، قال حدثنا ابو المنهال، قال انطلقت مع ابي الى ابي برزة الاسلمي فقال له ابي حدثنا كيف، كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي المكتوبة قال كان يصلي الهجير وهى التي تدعونها الاولى حين تدحض الشمس، ويصلي العصر، ثم يرجع احدنا الى اهله في اقصى المدينة والشمس حية، ونسيت ما قال في المغرب. قال وكان يستحب ان يوخر العشاء. قال وكان يكره النوم قبلها والحديث بعدها، وكان ينفتل من صلاة الغداة حين يعرف احدنا جليسه، ويقرا من الستين الى الماية
ہم سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعلی عبیداللہ حنفی نے، کہا ہم سے قرہ بن خالد سدوسی نے، انہوں نے کہا کہ ایک دن حسن بصری رحمہ اللہ نے بڑی دیر کی۔ اور ہم آپ کا انتظار کرتے رہے۔ جب ان کے اٹھنے کا وقت قریب ہو گیا تو آپ آئے اور ( بطور معذرت ) فرمایا کہ میرے ان پڑوسیوں نے مجھے بلا لیا تھا ( اس لیے دیر ہو گئی ) پھر بتلایا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ہم ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے۔ تقریباً آدھی رات ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ اس کے بعد خطبہ دیا۔ پس آپ نے فرمایا کہ دوسروں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے۔ لیکن تم لوگ جب تک نماز کے انتظار میں رہے ہو گویا نماز ہی کی حالت میں رہے ہو۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر لوگ کسی خیر کے انتظار میں بیٹھے رہیں تو وہ بھی خیر کی حالت ہی میں ہیں۔ قرہ بن خالد نے کہا کہ حسن کا یہ قول بھی انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کا ہے جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدثنا عبد الله بن الصباح، قال حدثنا ابو علي الحنفي، حدثنا قرة بن خالد، قال انتظرنا الحسن وراث علينا حتى قربنا من وقت قيامه، فجاء فقال دعانا جيراننا هولاء. ثم قال قال انس نظرنا النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة حتى كان شطر الليل يبلغه، فجاء فصلى لنا، ثم خطبنا فقال " الا ان الناس قد صلوا ثم رقدوا، وانكم لم تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة ". قال الحسن وان القوم لا يزالون بخير ما انتظروا الخير. قال قرة هو من حديث انس عن النبي صلى الله عليه وسلم