Loading...

Loading...
کتب
۸۱ احادیث
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے، فرمایا کہ ہم نماز مغرب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت پڑھتے تھے جب سورج پردے میں چھپ جاتا۔
حدثنا المكي بن ابراهيم، قال حدثنا يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة، قال كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم المغرب اذا توارت بالحجاب
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا میں نے جابر بن زید سے سنا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بیان کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات رکعات ( مغرب اور عشاء کی ) ایک ساتھ آٹھ رکعات ( ظہر اور عصر کی نمازیں ) ایک ساتھ پڑھیں۔
حدثنا ادم، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا عمرو بن دينار، قال سمعت جابر بن زيد، عن ابن عباس، قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم سبعا جميعا وثمانيا جميعا
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، جو عبداللہ بن عمرو ہیں، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے حسین بن ذکوان سے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے، کہا مجھ سے عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایسا نہ ہو کہ ”مغرب“ کی نماز کے نام کے لیے اعراب ( یعنی دیہاتی لوگوں ) کا محاورہ تمہاری زبانوں پر چڑھ جائے۔ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے کہا یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدوی مغرب کو عشاء کہتے تھے۔
حدثنا ابو معمر هو عبد الله بن عمرو قال حدثنا عبد الوارث، عن الحسين، قال حدثنا عبد الله بن بريدة، قال حدثني عبد الله المزني، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تغلبنكم الاعراب على اسم صلاتكم المغرب ". قال الاعراب وتقول هي العشاء
ہم سے عبدان عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں یونس بن یزید نے خبر دی زہری سے کہ سالم نے یہ کہا کہ مجھے (میرے باپ) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی۔ یہی جسے لوگ «عتمه» کہتے ہیں۔ پھر ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اس رات کو یاد رکھنا۔ آج جو لوگ زندہ ہیں ایک سو سال کے گزرنے تک روئے زمین پر ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
حدثنا عبدان، قال اخبرنا عبد الله، قال اخبرنا يونس، عن الزهري، قال سالم اخبرني عبد الله، قال صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة صلاة العشاء وهى التي يدعو الناس العتمة ثم انصرف فاقبل علينا فقال " ارايتم ليلتكم هذه فان راس ماية سنة منها لا يبقى ممن هو على ظهر الارض احد
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ حجاج نے سعد بن ابراہیم سے بیان کیا، وہ محمد بن عمرو سے جو حسن بن علی بن ابی طالب کے بیٹے ہیں، فرمایا کہ ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ آپ نماز ظہر دوپہر میں پڑھتے تھے۔ اور جب نماز عصر پڑھتے تو سورج صاف روشن ہوتا۔ مغرب کی نماز واجب ہوتے ہی ادا فرماتے، اور ”عشاء“ میں اگر لوگ جلدی جمع ہو جاتے تو جلدی پڑھ لیتے اور اگر آنے والوں کی تعداد کم ہوتی تو دیر کرتے۔ اور صبح کی نماز منہ اندھیرے میں پڑھا کرتے تھے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، قال حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن محمد بن عمرو هو ابن الحسن بن علي قال سالنا جابر بن عبد الله عن صلاة النبي، صلى الله عليه وسلم فقال كان يصلي الظهر بالهاجرة، والعصر والشمس حية، والمغرب اذا وجبت، والعشاء اذا كثر الناس عجل، واذا قلوا اخر، والصبح بغلس
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے عقیل کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز دیر سے پڑھی۔ یہ اسلام کے پھیلنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک باہر تشریف نہیں لائے جب تک عمر رضی اللہ عنہ نے یہ نہ فرمایا کہ عورتیں اور بچے سو گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارے علاوہ دنیا میں کوئی بھی انسان اس نماز کا انتظار نہیں کرتا۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، ان عايشة، اخبرته قالت، اعتم رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة بالعشاء، وذلك قبل ان يفشو الاسلام، فلم يخرج حتى قال عمر نام النساء والصبيان. فخرج فقال لاهل المسجد " ما ينتظرها احد من اهل الارض غيركم
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا کہا ہم سے ابواسامہ نے برید کے واسطہ سے، انہوں نے ابی بردہ سے انہوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ جو کشتی میں میرے ساتھ ( حبشہ سے ) آئے تھے ”بقیع بطحان“ میں قیام کیا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف رکھتے تھے۔ ہم میں سے کوئی نہ کوئی عشاء کی نماز میں روزانہ باری مقرر کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ اتفاق سے میں اور میرے ایک ساتھی ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام میں مشغول تھے۔ ( کسی ملی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گفتگو فرما رہے تھے ) جس کی وجہ سے نماز میں دیر ہو گئی اور تقریباً آدھی رات گزر گئی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور نماز پڑھائی۔ نماز پوری کر چکے تو حاضرین سے فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر وقار کے ساتھ بیٹھے رہو اور ایک خوشخبری سنو۔ تمہارے سوا دنیا میں کوئی بھی ایسا آدمی نہیں جو اس وقت نماز پڑھتا ہو، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ تمہارے سوا اس وقت کسی ( امت ) نے بھی نماز نہیں پڑھی تھی۔ یہ یقین نہیں کہ آپ نے ان دو جملوں میں سے کون سا جملہ کہا تھا۔ پھر راوی نے کہا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ پس ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر بہت ہی خوش ہو کر لوٹے۔
حدثنا محمد بن العلاء، قال اخبرنا ابو اسامة، عن بريد، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال كنت انا واصحابي الذين، قدموا معي في السفينة نزولا في بقيع بطحان، والنبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة، فكان يتناوب النبي صلى الله عليه وسلم عند صلاة العشاء كل ليلة نفر منهم، فوافقنا النبي عليه السلام انا واصحابي وله بعض الشغل في بعض امره فاعتم بالصلاة حتى ابهار الليل، ثم خرج النبي صلى الله عليه وسلم فصلى بهم، فلما قضى صلاته قال لمن حضره " على رسلكم، ابشروا ان من نعمة الله عليكم انه ليس احد من الناس يصلي هذه الساعة غيركم ". او قال " ما صلى هذه الساعة احد غيركم ". لا يدري اى الكلمتين قال. قال ابو موسى فرجعنا ففرحنا بما سمعنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ابوالمنہال سے، انہوں نے ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدثنا محمد بن سلام، قال اخبرنا عبد الوهاب الثقفي، قال حدثنا خالد الحذاء، عن ابي المنهال، عن ابي برزة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يكره النوم قبل العشاء والحديث بعدها
ہم سے ایوب بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر نے سلیمان سے، ان سے صالح بن کیسان نے بیان کیا کہ مجھے ابن شہاب نے عروہ سے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ عشاء کی نماز میں دیر فرمائی۔ یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پکارا، نماز! عورتیں اور بچے سب سو گئے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روئے زمین پر تمہارے علاوہ اور کوئی اس نماز کا انتظار نہیں کرتا۔ راوی نے کہا، اس وقت یہ نماز ( باجماعت ) مدینہ کے سوا اور کہیں نہیں پڑھی جاتی تھی۔ صحابہ اس نماز کو شام کی سرخی کے غائب ہونے کے بعد رات کے پہلے تہائی حصہ تک ( کسی وقت بھی ) پڑھتے تھے۔
حدثنا ايوب بن سليمان، قال حدثني ابو بكر، عن سليمان، قال صالح بن كيسان اخبرني ابن شهاب، عن عروة، ان عايشة، قالت اعتم رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعشاء حتى ناداه عمر الصلاة، نام النساء والصبيان. فخرج فقال " ما ينتظرها احد من اهل الارض غيركم ". قال ولا يصلى يوميذ الا بالمدينة، وكانوا يصلون فيما بين ان يغيب الشفق الى ثلث الليل الاول
حدثنا محمود، قال اخبرنا عبد الرزاق، قال اخبرني ابن جريج، قال اخبرني نافع، قال حدثنا عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم شغل عنها ليلة، فاخرها حتى رقدنا في المسجد، ثم استيقظنا ثم رقدنا ثم استيقظنا، ثم خرج علينا النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال " ليس احد من اهل الارض ينتظر الصلاة غيركم ". وكان ابن عمر لا يبالي اقدمها ام اخرها اذا كان لا يخشى ان يغلبه النوم عن وقتها، وكان يرقد قبلها. قال ابن جريج قلت لعطاء وقال سمعت ابن عباس، يقول اعتم رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة بالعشاء حتى رقد الناس واستيقظوا، ورقدوا واستيقظوا، فقام عمر بن الخطاب فقال الصلاة. قال عطاء قال ابن عباس فخرج نبي الله صلى الله عليه وسلم كاني انظر اليه الان، يقطر راسه ماء، واضعا يده على راسه فقال " لولا ان اشق على امتي لامرتهم ان يصلوها هكذا ". فاستثبت عطاء كيف وضع النبي صلى الله عليه وسلم على راسه يده كما انباه ابن عباس، فبدد لي عطاء بين اصابعه شييا من تبديد، ثم وضع اطراف اصابعه على قرن الراس ثم ضمها، يمرها كذلك على الراس حتى مست ابهامه طرف الاذن مما يلي الوجه على الصدغ، وناحية اللحية، لا يقصر ولا يبطش الا كذلك وقال " لولا ان اشق على امتي لامرتهم ان يصلوا هكذا
حدثنا محمود، قال اخبرنا عبد الرزاق، قال اخبرني ابن جريج، قال اخبرني نافع، قال حدثنا عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم شغل عنها ليلة، فاخرها حتى رقدنا في المسجد، ثم استيقظنا ثم رقدنا ثم استيقظنا، ثم خرج علينا النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال " ليس احد من اهل الارض ينتظر الصلاة غيركم ". وكان ابن عمر لا يبالي اقدمها ام اخرها اذا كان لا يخشى ان يغلبه النوم عن وقتها، وكان يرقد قبلها. قال ابن جريج قلت لعطاء وقال سمعت ابن عباس، يقول اعتم رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة بالعشاء حتى رقد الناس واستيقظوا، ورقدوا واستيقظوا، فقام عمر بن الخطاب فقال الصلاة. قال عطاء قال ابن عباس فخرج نبي الله صلى الله عليه وسلم كاني انظر اليه الان، يقطر راسه ماء، واضعا يده على راسه فقال " لولا ان اشق على امتي لامرتهم ان يصلوها هكذا ". فاستثبت عطاء كيف وضع النبي صلى الله عليه وسلم على راسه يده كما انباه ابن عباس، فبدد لي عطاء بين اصابعه شييا من تبديد، ثم وضع اطراف اصابعه على قرن الراس ثم ضمها، يمرها كذلك على الراس حتى مست ابهامه طرف الاذن مما يلي الوجه على الصدغ، وناحية اللحية، لا يقصر ولا يبطش الا كذلك وقال " لولا ان اشق على امتي لامرتهم ان يصلوا هكذا
ہم سے عبدالرحیم محاربی نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے حمید طویل سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک دن ) عشاء کی نماز آدھی رات گئے پڑھی۔ اور فرمایا کہ دوسرے لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ہوں گے۔ ( یعنی دوسری مساجد میں پڑھنے والے مسلمان ) اور تم لوگ جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے ( گویا سارے وقت ) نماز ہی پڑھتے رہے۔ ابن مریم نے اس میں یہ زیادہ کیا کہ ہمیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی۔ کہا مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے یہ سنا، گویا اس رات آپ کی انگوٹھی کی چمک کا نقشہ اس وقت بھی میری نظروں کے سامنے چمک رہا ہے۔
حدثنا عبد الرحيم المحاربي، قال حدثنا زايدة، عن حميد الطويل، عن انس، قال اخر النبي صلى الله عليه وسلم صلاة العشاء الى نصف الليل، ثم صلى ثم قال " قد صلى الناس وناموا، اما انكم في صلاة ما انتظرتموها ". وزاد ابن ابي مريم اخبرنا يحيى بن ايوب حدثني حميد سمع انسا كاني انظر الى وبيص خاتمه ليلتيذ
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے اسماعیل سے، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا، کہا مجھ سے جریر بن عبداللہ نے بیان کیا، کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی طرف نظر اٹھائی جو چودھویں رات کا تھا۔ پھر فرمایا کہ تم لوگ بے ٹوک اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو ( اسے دیکھنے میں تم کو کسی قسم کی بھی مزاحمت نہ ہو گی ) یا یہ فرمایا کہ تمہیں اس کے دیدار میں مطلق شبہ نہ ہو گا اس لیے اگر تم سے سورج کے طلوع اور غروب سے پہلے ( فجر اور عصر ) کی نمازوں کے پڑھنے میں کوتاہی نہ ہو سکے تو ایسا ضرور کرو۔ ( کیونکہ ان ہی کے طفیل دیدار الٰہی نصیب ہو گا یا ان ہی وقتوں میں یہ رویت ملے گی ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «فسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها» ”پس اپنے رب کے حمد کی تسبیح پڑھ سورج کے نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے۔“ امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن شہاب نے اسماعیل کے واسطہ سے جو قیس سے بواسطہ جریر ( راوی ہیں ) یہ زیادتی نقل کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اپنے رب کو صاف دیکھو گے“۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن اسماعيل، حدثنا قيس، قال لي جرير بن عبد الله كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم اذ نظر الى القمر ليلة البدر فقال " اما انكم سترون ربكم كما ترون هذا، لا تضامون او لا تضاهون في رويته، فان استطعتم ان لا تغلبوا على صلاة قبل طلوع الشمس، وقبل غروبها فافعلوا ". ثم قال " فسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوجمرہ نے بیان کیا، ابوبکر بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ٹھنڈے وقت کی دو نمازیں ( وقت پر ) پڑھیں ( فجر اور عصر ) تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ابن رجاء نے کہا کہ ہم سے ہمام نے ابوجمرہ سے بیان کیا کہ ابوبکر بن عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ نے انہیں اس حدیث کی خبر دی۔ ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے حبان نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوجمرہ نے بیان کیا ابوبکر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، پہلی حدیث کی طرح۔
حدثنا هدبة بن خالد، قال حدثنا همام، حدثني ابو جمرة، عن ابي بكر بن ابي موسى، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من صلى البردين دخل الجنة ". وقال ابن رجاء حدثنا همام عن ابي جمرة ان ابا بكر بن عبد الله بن قيس اخبره بهذا. حدثنا اسحاق، عن حبان، حدثنا همام، حدثنا ابو جمرة، عن ابي بكر بن عبد الله، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
ہم سے عمرو بن عاصم نے یہ حدیث بیان کی، کہا ہم سے ہمام نے یہ حدیث بیان کی قتادہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ ان لوگوں نے ( ایک مرتبہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں نے دریافت کیا کہ ان دونوں کے درمیان کس قدر فاصلہ رہا ہو گا۔ فرمایا کہ جتنا پچاس یا ساٹھ آیت پڑھنے میں صرف ہوتا ہے اتنا فاصلہ تھا۔
حدثنا عمرو بن عاصم، قال حدثنا همام، عن قتادة، عن انس، ان زيد بن ثابت، حدثه انهم، تسحروا مع النبي صلى الله عليه وسلم ثم قاموا الى الصلاة. قلت كم بينهما قال قدر خمسين او ستين يعني اية ح
ہم سے حسن بن صباح نے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے روح بن عبادہ سے سنا، انہوں نے کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے روایت کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سحری کھائی، پھر جب وہ سحری کھا کر فارغ ہوئے تو نماز کے لیے اٹھے اور نماز پڑھی۔ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کی سحری سے فراغت اور نماز کی ابتداء میں کتنا فاصلہ تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ اتنا کہ ایک شخص پچاس آیتیں پڑھ سکے۔
حدثنا حسن بن صباح، سمع روحا، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم وزيد بن ثابت تسحرا، فلما فرغا من سحورهما قام نبي الله صلى الله عليه وسلم الى الصلاة فصلى. قلنا لانس كم كان بين فراغهما من سحورهما ودخولهما في الصلاة قال قدر ما يقرا الرجل خمسين اية
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا اپنے بھائی عبدالحمید بن ابی اویس سے، انہوں نے سلیمان بن بلال سے، انہوں نے ابی حازم سلمہ بن دینار سے کہ انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ صحابی سے سنا، آپ نے فرمایا کہ میں اپنے گھر سحری کھاتا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پانے کے لیے مجھے جلدی کرنی پڑتی تھی۔
حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، عن اخيه، عن سليمان، عن ابي حازم، انه سمع سهل بن سعد، يقول كنت اتسحر في اهلي ثم يكون سرعة بي ان ادرك صلاة الفجر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں لیث نے خبر دی، انہوں نے عقیل بن خالد سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ مسلمان عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھنے چادروں میں لپٹ کر آتی تھیں۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر جب اپنے گھروں کو واپس ہوتیں تو انہیں اندھیرے کی وجہ سے کوئی شخص پہچان نہیں سکتا تھا۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال اخبرنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة، اخبرته قالت، كن نساء المومنات يشهدن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الفجر متلفعات بمروطهن، ثم ينقلبن الى بيوتهن حين يقضين الصلاة، لا يعرفهن احد من الغلس
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک سے، انہوں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار اور بسر بن سعید اور عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج سے، ان تینوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے فجر کی ایک رکعت ( جماعت کے ساتھ ) سورج نکلنے سے پہلے پا لی اس نے فجر کی نماز ( باجماعت کا ثواب ) پا لیا۔ اور جس نے عصر کی ایک رکعت ( جماعت کے ساتھ ) سورج ڈوبنے سے پہلے پا لی، اس نے عصر کی نماز ( باجماعت کا ثواب ) پا لیا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، وعن بسر بن سعيد، وعن الاعرج، يحدثونه عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك من الصبح ركعة قبل ان تطلع الشمس فقد ادرك الصبح، ومن ادرك ركعة من العصر قبل ان تغرب الشمس فقد ادرك العصر
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ایک رکعت نماز ( باجماعت ) پا لی اس نے نماز ( باجماعت کا ثواب ) پا لیا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك ركعة من الصلاة فقد ادرك الصلاة