Loading...

Loading...
کتب
۱۰۳ احادیث
حدثنا عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت لعبد الله بن الزبير ادفني مع صواحبي ولا تدفني مع النبي صلى الله عليه وسلم في البيت، فاني اكره ان ازكى. وعن هشام، عن ابيه، ان عمر، ارسل الى عايشة ايذني لي ان ادفن مع صاحبى فقالت اي والله. قال وكان الرجل اذا ارسل اليها من الصحابة قالت لا والله لا اوثرهم باحد ابدا
ہم سے ایوب بن سلمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن اویس نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھ کر ان گاؤں میں جاتے جو مدینہ کی بلندی پر واقع ہیں وہاں پہنچ جاتے اور سورج بلند رہتا۔ عوالی مدینہ کا بھی یہی حکم ہے اور لیث نے بھی اس حدیث کو یونس سے روایت کیا، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ یہ گاؤں مدینہ سے تین چار میل پر واقع ہیں۔
حدثنا ايوب بن سليمان، حدثنا ابو بكر بن ابي اويس، عن سليمان بن بلال، عن صالح بن كيسان، قال ابن شهاب اخبرني انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي العصر فياتي العوالي والشمس مرتفعة. وزاد الليث عن يونس، وبعد العوالي اربعة اميال او ثلاثة
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قاسم بن مالک نے بیان کیا، ان سے جعید نے، انہوں نے سائب بن یزید سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صاع تمہارے وقت کی مد سے ایک مد اور ایک تہائی مد کا ہوتا تھا، پھر صاع کی مقدار بڑھ گئی یعنی عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں وہ چار مد کا ہو گیا۔
حدثنا عمرو بن زرارة، حدثنا القاسم بن مالك، عن الجعيد، سمعت السايب بن يزيد، يقول كان الصاع على عهد النبي صلى الله عليه وسلم مدا وثلثا بمدكم اليوم، وقد زيد فيه. سمع القاسم بن مالك الجعيد
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! ان مدینہ والوں کے پیمانہ میں انہیں برکت دے اور ان کے صاع اور مد میں انہیں برکت دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اہل مدینہ ( کے صاع و مد ) سے تھی ( مدنی صاع اور مد کو بھی تاریخی عظمت حاصل ہے ) ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اللهم بارك لهم في مكيالهم، وبارك لهم في صاعهم ومدهم " يعني اهل المدينة
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہودی ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے جنہوں نے زنا کیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے رجم کا حکم دیا اور انہیں مسجد کی ایک جگہ کے قریب رجم کیا گیا جہاں جنازے رکھے جاتے ہیں۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا ابو ضمرة، حدثنا موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، ان اليهود، جاءوا الى النبي صلى الله عليه وسلم برجل وامراة زنيا، فامر بهما فرجما قريبا من حيث توضع الجنايز عند المسجد
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے مطلب کے مولیٰ عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ احد پہاڑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( راستے میں ) دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا تھا اور میں تیرے حکم سے اس کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیانی علاقہ کو حرمت والا قرار دیتا ہوں۔ اس روایت کی متابعت سہل رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احد کے متعلق کی ہے۔
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن عمرو، مولى المطلب عن انس بن مالك رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طلع له احد فقال " هذا جبل يحبنا ونحبه، اللهم ان ابراهيم حرم مكة، واني احرم ما بين لابتيها ". تابعه سهل عن النبي صلى الله عليه وسلم في احد
ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے کہ مسجد نبوی کی قبلہ کی طرف دیوار اور منبر کے درمیان بکریوں کے گزرنے جتنا فاصلہ تھا۔
حدثنا ابن ابي مريم، حدثنا ابو غسان، حدثني ابو حازم، عن سهل، انه كان بين جدار المسجد مما يلي القبلة وبين المنبر ممر الشاة
ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مالک نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حفص بن عاصم نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے حجرہ اور میرے منبر کے درمیان کی زمین جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا یہ منبر میرے حوض پر ہو گا۔“
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا مالك، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة، ومنبري على حوضي
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کی دوڑ کرائی اور وہ گھوڑے چھوڑے گئے جو گھوڑ دوڑ کیلئے تیار کئے گئے تھے تو ان کے دوڑنے کا میدان مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک تھا اور جو تیار نہیں کئے گئے تھے ان کے دوڑنے کا میدان ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک تھا اور عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی ان لوگوں میں تھے جنہوں نے مقابلے میں حصہ لیا تھا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جويرية، عن نافع، عن عبد الله، قال سابق النبي صلى الله عليه وسلم بين الخيل، فارسلت التي ضمرت منها وامدها الى الحفياء الى ثنية الوداع، والتي لم تضمر امدها ثنية الوداع الى مسجد بني زريق، وان عبد الله كان فيمن سابق. حدثنا قتيبة عن ليث عن نافع عن ابن عمر
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے لیث نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے (دوسری سند) اور مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عیسیٰ اور ابن ادریس نے خبر دی اور ابن ابی غنیہ نے خبر دی، انہیں ابوحیان نے، انہیں شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر ( خطبہ دیتے ) سنا۔
حدثنا قتيبة عن ليث عن نافع عن ابن عمر ح. وحدثني اسحاق، اخبرنا عيسى، وابن، ادريس وابن ابي غنية عن ابي حيان، عن الشعبي، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال سمعت عمر، على منبر النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سائب بن یزید نے خبر دی، انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر سے ہمیں خطاب کر رہے تھے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني السايب بن يزيد، سمع عثمان بن عفان، خطبنا على منبر النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ لگن رکھی جاتی تھی اور ہم دونوں اس سے ایک ساتھ نہاتے تھے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا هشام بن حسان، ان هشام بن عروة، حدثه عن ابيه، ان عايشة، قالت كان يوضع لي ولرسول الله صلى الله عليه وسلم هذا المركن فنشرع فيه جميعا
حدثنا مسدد، حدثنا عباد بن عباد، حدثنا عاصم الاحول، عن انس، قال حالف النبي صلى الله عليه وسلم بين الانصار وقريش في داري التي بالمدينة. وقنت شهرا يدعو على احياء من بني سليم
حدثنا مسدد، حدثنا عباد بن عباد، حدثنا عاصم الاحول، عن انس، قال حالف النبي صلى الله عليه وسلم بين الانصار وقريش في داري التي بالمدينة. وقنت شهرا يدعو على احياء من بني سليم
ہم سے ابوکریب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے برید نے بیان کیا، کہا کہ میں مدینہ منورہ آیا اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ گھر چلو تو میں تمہیں اس پیالہ میں پلاؤں گا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا تھا اور پھر ہم اس نماز پڑھنے کی جگہ نماز پڑھیں گے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ گیا اور انہوں نے مجھے ستو پلایا اور کھجور کھلائی اور میں نے ان کے نماز پڑھنے کی جگہ نماز پڑھی۔
حدثني ابو كريب، حدثنا ابو اسامة، حدثنا بريد، عن ابي بردة، قال قدمت المدينة فلقيني عبد الله بن سلام فقال لي انطلق الى المنزل فاسقيك في قدح شرب فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم، وتصلي في مسجد صلى فيه النبي صلى الله عليه وسلم. فانطلقت معه، فسقاني سويقا، واطعمني تمرا، وصليت في مسجده
ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مبارک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن کثیر نے، ان سے عکرمہ نے بیان کیا، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس رات ایک میرے رب کی طرف سے آنے والا آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وادی عقیق میں تھے اور کہا کہ اس مبارک وادی میں نماز پڑھئیے اور کہئیے کہ عمرہ اور حج ( کی نیت کرتا ہوں ) اور ہارون بن اسماعیل نے بیان کیا کہ ہم سے علی نے بیان کیا ( ان الفاظ کے ساتھ ) «عمرة في حجة.» ۔
حدثنا سعيد بن الربيع، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، حدثني عكرمة، عن ابن عباس، ان عمر رضى الله عنه حدثه قال حدثني النبي صلى الله عليه وسلم قال " اتاني الليلة ات من ربي وهو بالعقيق ان صل في هذا الوادي المبارك وقل عمرة وحجة ". وقال هارون بن اسماعيل حدثنا علي عمرة في حجة
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجد کے لیے مقام قرن، حجفہ کو اہل شام کے لیے اور ذوالحلیفہ کو اہل مدینہ کے لیے میقات مقرر کیا۔ بیان کیا کہ میں نے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل یمن کے لیے یلملم ( میقات ) ہے اور عراق کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عراق نہیں تھا۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، وقت النبي صلى الله عليه وسلم قرنا لاهل نجد، والجحفة لاهل الشام، وذا الحليفة لاهل المدينة. قال سمعت هذا من النبي صلى الله عليه وسلم وبلغني ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ولاهل اليمن يلملم ". وذكر العراق فقال لم يكن عراق يوميذ
ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ نے، ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کہ آپ مقام ذوالحلیفہ میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے، خواب دکھایا گیا اور کہا گیا کہ آپ ایک مبارک وادی میں ہیں۔
حدثنا عبد الرحمن بن المبارك، حدثنا الفضيل، حدثنا موسى بن عقبة، حدثني سالم بن عبد الله، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه اري وهو في معرسه بذي الحليفة فقيل له انك ببطحاء مباركة
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں یہ دعا رکوع سے سر اٹھانے کے بعد پڑھتے تھے «اللهم ربنا ولك الحمد» ”اے اللہ! ہمارے رب تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! فلاں اور فلاں کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔“ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی کہ آپ کو اس معاملہ میں کوئی اختیار نہیں ہے اللہ! ان کی توبہ قبول کر لے یا انہیں عذاب دے کہ بلاشبہ وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول في صلاة الفجر رفع راسه من الركوع قال " اللهم ربنا ولك الحمد في الاخيرة ". ثم قال " اللهم العن فلانا وفلانا ". فانزل الله عز وجل {ليس لك من الامر شىء او يتوب عليهم او يعذبهم فانهم ظالمون}
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عتاب بن بشیر نے خبر دی، انہیں اسحاق ابن ابی راشد نے، انہیں زہری نے، انہیں زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے اور فاطمہ بنت رسول اللہ علیم السلام والصلٰوۃ کے گھر ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھتے۔ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں پس جب وہ ہمیں اٹھانا چاہے تو ہم کو اٹھا دے گا۔ جوں ہی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا تو آپ پیٹھ موڑ کر واپس جانے لگے اور کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے آپ اپنی ران پر ہاتھ مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا» ”اور انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے“ اگر کوئی تمہارے پاس رات میں آئے تو «طارق» کہلائے گا اور قرآن میں جو «والطارق» کا لفظ آیا ہے اس سے مراد ستارہ ہے اور «ثاقب» بمعنی چمکتا ہوا۔ عرب لوگ آگ جلانے والے سے کہتے ہیں «ثقب نارك» یعنی آگ روشن کر۔ اس سے لفظ «ثاقب» ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، ح حدثني محمد بن سلام، اخبرنا عتاب بن بشير، عن اسحاق، عن الزهري، اخبرني علي بن حسين، ان حسين بن علي رضى الله عنهما اخبره ان علي بن ابي طالب قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طرقه وفاطمة عليها السلام بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لهم " الا تصلون ". فقال علي فقلت يا رسول الله انما انفسنا بيد الله، فاذا شاء ان يبعثنا بعثنا، فانصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم حين قال له ذلك ولم يرجع اليه شييا، ثم سمعه وهو مدبر يضرب فخذه وهو يقول {وكان الانسان اكثر شىء جدلا}. قال ابو عبد الله يقال ما اتاك ليلا فهو طارق. ويقال الطارق النجم، والثاقب المضيء، يقال اثقب نارك للموقد