Loading...

Loading...
کتب
۱۰۳ احادیث
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوحمزہ نے خبر دی، کہا میں نے اعمش سے سنا، کہا کہ میں نے ابووائل سے پوچھا تم صفین کی لڑائی میں شریک تھے؟ کہا کہ ہاں، پھر میں نے سہل بن حنیف کو کہتے سنا ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے ( جنگ صفین کے موقع پر ) کہا کہ لوگوں! اپنے دین کے مقابلہ میں اپنی رائے کو بےحقیقت سمجھو میں نے اپنے آپ کو ابوجندل رضی اللہ عنہ کے واقعہ کے دن ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) دیکھا کہ اگر میرے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہٹنے کی طاقت ہوتی تو میں اس دن آپ سے انحراف کرتا ( اور کفار قریش کے ساتھ ان شرائط کو قبول نہ کرتا ) اور ہم نے جب کسی مہم پر اپنی تلواریں کاندھوں پر رکھیں ( لڑائی شروع کی ) تو ان تلواروں کی بدولت ہم کو ایک آسانی مل گئی جسے ہم پہچانتے تھے مگر اس مہم میں ( یعنی جنگ صفین میں مشکل میں گرفتار ہیں دونوں طرف والے اپنے اپنے دلائل پیش کرتے ہیں ) ابواعمش نے کہا کہ ابووائل نے بتایا کہ میں صفین میں موجود تھا اور صفین کی لڑائی بھی کیا بری لڑائی تھی جس میں مسلمان آپس میں کٹ مرے۔
حدثنا عبدان، اخبرنا ابو حمزة، سمعت الاعمش، قال سالت ابا وايل هل شهدت صفين قال نعم. فسمعت سهل بن حنيف، يقول ح وحدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، عن الاعمش، عن ابي وايل، قال قال سهل بن حنيف يا ايها الناس اتهموا رايكم على دينكم، لقد رايتني يوم ابي جندل ولو استطيع ان ارد امر رسول الله صلى الله عليه وسلم لرددته، وما وضعنا سيوفنا على عواتقنا الى امر يفظعنا الا اسهلن بنا الى امر نعرفه غير هذا الامر. قال وقال ابو وايل شهدت صفين وبيست صفون
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا میں نے محمد بن المنکدر سے سنا، بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں بیمار پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ عیادت کے لیے تشریف لائے۔ یہ دونوں بزرگ پیدل چل کر آئے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو مجھ پر بے ہوشی طاری تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا، اس سے مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور بعض اوقات سفیان نے یہ الفاظ بیان کئے کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنے مال کے بارے میں کس طرح فیصلہ کروں، میں اپنے مال کا کیا کروں؟ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال سمعت ابن المنكدر، يقول سمعت جابر بن عبد الله، يقول مرضت فجاءني رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني وابو بكر وهما ماشيان، فاتاني وقد اغمي على فتوضا رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم صب وضوءه على فافقت فقلت يا رسول الله وربما قال سفيان فقلت اى رسول الله كيف اقضي في مالي كيف اصنع في مالي قال فما اجابني بشىء حتى نزلت اية الميراث
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن الاصبہانی نے، ان سے ابوصالح ذکوان نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: یا رسول اللہ! آپ کی تمام احادیث مرد لے گئے، ہمارے لیے بھی آپ کوئی دن اپنی طرف سے مخصوص کر دیں جس میں ہم آپ کے پاس آئیں اور آپ ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہو جاؤ۔ چنانچہ عورتیں جمع ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جو عورت بھی اپنی زندگی میں اپنے تین بچے آگے بھیج دے گی۔ ( یعنی ان کی وفات ہو جائے گی ) تو وہ اس کے لیے دوزخ سے رکاوٹ بن جائیں گے۔ اس پر ان میں سے ایک خاتون نے کہا: یا رسول اللہ! دو؟ انہوں نے اس کلمہ کو دو مرتب دہرایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں دو، دو، دو بھی یہی درجہ رکھتے ہیں۔“
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن عبد الرحمن بن الاصبهاني، عن ابي صالح، ذكوان عن ابي سعيد، جاءت امراة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ذهب الرجال بحديثك، فاجعل لنا من نفسك، يوما ناتيك فيه تعلمنا مما علمك الله. فقال " اجتمعن في يوم كذا وكذا في مكان كذا وكذا ". فاجتمعن فاتاهن رسول الله صلى الله عليه وسلم فعلمهن مما علمه الله ثم قال " ما منكن امراة تقدم بين يديها من ولدها ثلاثة، الا كان لها حجابا من النار ". فقالت امراة منهن يا رسول الله اثنين قال فاعادتها مرتين ثم قال " واثنين واثنين واثنين
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے، ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا ( اس میں علمی و دینی غلبہ بھی داخل ہے ) یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ غالب ہی رہیں گے۔“
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسماعيل، عن قيس، عن المغيرة بن شعبة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يزال طايفة من امتي ظاهرين حتى ياتيهم امر الله وهم ظاهرون
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے انہیں حمید نے خبر دی، کہا کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے اور اس امت کا معاملہ ہمیشہ درست رہے گا، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ ) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچے۔
حدثنا اسماعيل، حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، اخبرني حميد، قال سمعت معاوية بن ابي سفيان، يخطب قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين، وانما انا قاسم ويعطي الله، ولن يزال امر هذه الامة مستقيما حتى تقوم الساعة، او حتى ياتي امر الله
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم» کہ ”کہو کہ وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیجے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں تیرے با عظمت و بزرگ منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ «أو من تحت أرجلكم» ”یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے“ ( عذاب بھیجے ) تو اس پر پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں تیرے مبارک منہ کی پناہ مانگتا ہوں، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی «أو يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم بأس بعض» کہ ”یا تمہیں فرقوں میں تقسیم کر دے اور تم میں سے بعض کو بعض کا خوف چکھائے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں آسان و سہل ہیں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال عمرو سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما يقول لما نزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم {قل هو القادر على ان يبعث عليكم عذابا من فوقكم} قال " اعوذ بوجهك ". {او من تحت ارجلكم} قال " اعوذ بوجهك ". فلما نزلت {او يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم باس بعض} قال " هاتان اهون او ايسر
ہم سے اصبغ بن الفرج نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میری بیوی کے یہاں لڑکا پیدا ہوا ہے جس کو میں اپنا نہیں سمجھتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہیں۔ دریافت کیا کہ ان کے رنگ کیسے ہیں؟ کہا کہ سرخ ہیں۔ پوچھا کہ ان میں کوئی خاکی بھی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ان میں خاکی بھی ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ پھر کس طرح تم سمجھتے ہو کہ اس رنگ کا پیدا ہوا؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ممکن ہے اس بچے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بچے کے انکار کرنے کی اجازت نہیں دی۔
حدثنا اصبغ بن الفرج، حدثني ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان اعرابيا، اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ان امراتي ولدت غلاما اسود، واني انكرته. فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل لك من ابل ". قال نعم. قال " فما الوانها ". قال حمر. قال " هل فيها من اورق ". قال ان فيها لورقا. قال " فانى ترى ذلك جاءها ". قال يا رسول الله عرق نزعها. قال " ولعل هذا عرق نزعه ". ولم يرخص له في الانتفاء منه
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی اور وہ ( ادائیگی سے پہلے ہی ) وفات پا گئیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان کی طرف سے حج کر لو۔ تمہارا کیا خیال ہے، اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو تم اسے پورا کرتیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس قرض کو بھی پورا کر جو اللہ تعالیٰ کا ہے کیونکہ اس قرض کا پورا کرنا زیادہ ضروری ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان امراة، جاءت الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ان امي نذرت ان تحج فماتت قبل ان تحج افاحج عنها قال " نعم حجي عنها، ارايت لو كان على امك دين اكنت قاضيته ". قالت نعم. فقال " فاقضوا الذي له، فان الله احق بالوفاء
ہم سے شہاب بن عباد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن حمید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رشک دو ہی آدمیوں پر ہو سکتا ہے، ایک وہ جیسے اللہ نے مال دیا اور اسے ( مال کو ) راہ حق میں لٹانے کی پوری طرح توفیق ملی ہوتی ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی ہے اور اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔“
حدثنا شهاب بن عباد، حدثنا ابراهيم بن حميد، عن اسماعيل، عن قيس، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا حسد الا في اثنتين رجل اتاه الله مالا فسلط على هلكته في الحق، واخر اتاه الله حكمة فهو يقضي بها ويعلمها
حدثنا محمد، اخبرنا ابو معاوية، حدثنا هشام، عن ابيه، عن المغيرة بن شعبة، قال سال عمر بن الخطاب عن املاص المراة هي التي يضرب بطنها فتلقي جنينا فقال ايكم سمع من النبي صلى الله عليه وسلم فيه شييا فقلت انا. فقال ما هو قلت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " فيه غرة عبد او امة ". فقال لا تبرح حتى تجييني بالمخرج فيما قلت.فخرجت فوجدت محمد بن مسلمة فجيت به، فشهد معي انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " فيه غرة عبد او امة ". تابعه ابن ابي الزناد عن ابيه عن عروة عن المغيرة
حدثنا محمد، اخبرنا ابو معاوية، حدثنا هشام، عن ابيه، عن المغيرة بن شعبة، قال سال عمر بن الخطاب عن املاص المراة هي التي يضرب بطنها فتلقي جنينا فقال ايكم سمع من النبي صلى الله عليه وسلم فيه شييا فقلت انا. فقال ما هو قلت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " فيه غرة عبد او امة ". فقال لا تبرح حتى تجييني بالمخرج فيما قلت.فخرجت فوجدت محمد بن مسلمة فجيت به، فشهد معي انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " فيه غرة عبد او امة ". تابعه ابن ابي الزناد عن ابيه عن عروة عن المغيرة
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت اس طرح پچھلی امتوں کے مطابق نہیں ہو جائے گی جیسے بالشت بالشت کے اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے۔“ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! اگلی امتوں سے کون مراد ہیں، پارسی اور نصرانی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر اور کون۔“
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابن ابي ذيب، عن المقبري، عن ابي هريرة، رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى تاخذ امتي باخذ القرون قبلها، شبرا بشبر وذراعا بذراع ". فقيل يا رسول الله كفارس والروم. فقال " ومن الناس الا اوليك
ہم سے محمد بن عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے یمن کے ابوعمر صنعانی بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں اتباع کرو گے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے۔“ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہود و نصاریٰ مراد ہیں؟ فرمایا پھر اور کون۔
حدثنا محمد بن عبد العزيز، حدثنا ابو عمر الصنعاني من اليمن عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لتتبعن سنن من كان قبلكم شبرا شبرا وذراعا بذراع، حتى لو دخلوا جحر ضب تبعتموهم ". قلنا يا رسول الله اليهود والنصارى قال " فمن
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا ہم سے اعمش نے، ان سے عبداللہ بن مروہ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص بھی ظلم کے ساتھ قتل کیا جائے گا اس کے ( گناہ کا ) ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے ( قابیل ) پر بھی پڑے گا۔“ بعض اوقات سفیان نے اس طرح بیان کیا کہ ”اس کے خون کا“ کیونکہ اسی نے سب سے پہلے ناحق خون کی بری رسم قائم کی۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ليس من نفس تقتل ظلما الا كان على ابن ادم الاول كفل منها وربما قال سفيان من دمها لانه اول من سن القتل اولا
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے کہ ایک گنوار ( قیس بن ابی حازم یا قیس بن حازم یا اور کوئی ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی، پھر مدینہ میں اس کو تپ آنے لگی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ کہنے لگا: یا رسول اللہ! میری بیعت توڑ دیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا۔ وہ پھر آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میری بیعت فسخ کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انکار کیا۔ اس کے بعد وہ مدینہ سے نکل کر اپنے جنگل کو چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ لوہار کی بھٹی کی طرح ہے جو اپنی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور کھرے پاکیزہ مال کو رکھ لیتی ہے۔
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله السلمي، ان اعرابيا، بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم على الاسلام، فاصاب الاعرابي وعك بالمدينة، فجاء الاعرابي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اقلني بيعتي. فابى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم جاءه فقال اقلني بيعتي. فابى ثم جاءه فقال اقلني بيعتي. فابى فخرج الاعرابي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما المدينة كالكير، تنفي خبثها، وينصع طيبها
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر بن راشد نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ( قرآن مجید ) پڑھایا کرتا تھا۔ جب وہ آخری حج آیا جو عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا تو عبدالرحمٰن نے منیٰ میں مجھ سے کہا کاش تم امیرالمؤمنین کو آج دیکھتے جب ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ فلاں شخص کہتا ہے کہ اگر امیرالمؤمنین کا انتقال ہو جائے تو ہم فلاں سے بیعت کر لیں گے۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آج سہ پہر کو کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ سناؤں گا اور ان کو ڈراؤں کا جو ( عام مسلمانوں کے حق کو ) غصب کرنا چاہتے ہیں اور خود اپنی رائے سے امیر منتخب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ ایسا نہ کریں کیونکہ موسم حج میں ہر طرح کے ناواقف اور معمولی لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کثرت سے آپ کی مجلس میں جمع ہو جائیں گے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ آپ کی بات کا صحیح مطلب نہ سمجھ کر کچھ اور معنیٰ نہ کر لیں اور اسے منہ در منہ اڑاتے پھریں۔ اس لیے ابھی توقف کیجئے۔ جب آپ مدینے پہنچیں جو دار الہجرت اور دار السنہ ہے تو وہاں آپ کے مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ، مہاجرین و انصار خالص ایسے ہی لوگ ملیں گے وہ آپ کی بات کو یاد رکھیں گے اور اس کا مطلب بھی ٹھیک بیان کریں گے۔ اس پر امیرالمؤمنین نے کہا کہ واللہ! میں مدینہ پہنچ کر جو پہلا خطبہ دوں گا اس میں اس کا بیان کروں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ہم مدینے آئے تو عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن دوپہر ڈھلے برآمد ہوئے اور خطبہ سنایا۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا رسول بنا کر بھیجا اور آپ پر قرآن اتارا، اس قرآن میں رجم کی آیت بھی تھی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد الواحد، حدثنا معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، قال حدثني ابن عباس رضى الله عنهما قال كنت اقري عبد الرحمن بن عوف، فلما كان اخر حجة حجها عمر فقال عبد الرحمن بمنى، لو شهدت امير المومنين اتاه رجل قال ان فلانا يقول لو مات امير المومنين لبايعنا فلانا. فقال عمر لاقومن العشية فاحذر هولاء الرهط الذين يريدون ان يغصبوهم. قلت لا تفعل فان الموسم يجمع رعاع الناس يغلبون على مجلسك، فاخاف ان لا ينزلوها على وجهها فيطير بها كل مطير، فامهل حتى تقدم المدينة دار الهجرة ودار السنة، فتخلص باصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من المهاجرين والانصار فيحفظوا مقالتك، وينزلوها على وجهها. فقال والله لاقومن به في اول مقام اقومه بالمدينة. قال ابن عباس فقدمنا المدينة فقال ان الله بعث محمدا صلى الله عليه وسلم بالحق وانزل عليه الكتاب، فكان فيما انزل اية الرجم
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ان کے جسم پر کتان کے دو کپڑے گیرو میں رنگے ہوئے تھے۔ انہوں نے ان ہی کپڑوں میں ناک صاف کی اور کہا واہ واہ دیکھو ابوہریرہ کتان کے کپڑوں میں ناک صاف کرتا ہے، اب ایسا مالدار ہو گیا حالانکہ میں نے اپنے آپ کو ایک زمانہ میں ایسا پایا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے درمیان بیہوش ہو کر گڑ پڑتا تھا اور گزرنے والا میری گردن پر یہ سمجھ کر پاؤں رکھتا تھا کہ میں پاگل ہو گیا ہوں، حالانکہ مجھے جنون نہیں ہوتا تھا، بلکہ صرف بھوک کی وجہ سے میری یہ حالت ہو جاتی تھی۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن ايوب، عن محمد، قال كنا عند ابي هريرة وعليه ثوبان ممشقان من كتان فتمخط فقال بخ بخ ابو هريرة يتمخط في الكتان، لقد رايتني واني لاخر فيما بين منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم الى حجرة عايشة مغشيا على، فيجيء الجايي فيضع رجله على عنقي، ويرى اني مجنون، وما بي من جنون، ما بي الا الجوع
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا، کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں گئے ہیں؟ کہا کہ ہاں میں اس وقت کم سن تھا۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھ کو اتنا نزدیک کا رشتہ نہ ہوتا اور کم سن نہ ہوتا تو آپ کے ساتھ کبھی نہیں رہ سکتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے مکان کے پاس ہے اور وہاں آپ نے نماز عید پڑھائی پھر خطبہ دیا۔ انہوں نے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا، پھر آپ نے صدقہ دینے کا حکم دیا تو عورتیں اپنے کانوں اور گردنوں کی طرف ہاتھ بڑھانے لگیں زیوروں کا صدقہ دینے کے لیے، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا، وہ آئے اور صدقہ میں ملی ہوئی چیزوں کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گئے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن عبد الرحمن بن عابس، قال سيل ابن عباس اشهدت العيد مع النبي صلى الله عليه وسلم قال نعم ولولا منزلتي منه ما شهدته من الصغر، فاتى العلم الذي عند دار كثير بن الصلت فصلى ثم خطب، ولم يذكر اذانا ولا اقامة، ثم امر بالصدقة فجعل النساء يشرن الى اذانهن وحلوقهن، فامر بلالا فاتاهن، ثم رجع الى النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قباء میں تشریف لاتے تھے، کبھی پیدل اور کبھی سواری پر۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ياتي قباء ماشيا وراكبا
حدثنا عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت لعبد الله بن الزبير ادفني مع صواحبي ولا تدفني مع النبي صلى الله عليه وسلم في البيت، فاني اكره ان ازكى. وعن هشام، عن ابيه، ان عمر، ارسل الى عايشة ايذني لي ان ادفن مع صاحبى فقالت اي والله. قال وكان الرجل اذا ارسل اليها من الصحابة قالت لا والله لا اوثرهم باحد ابدا