Loading...

Loading...
کتب
۲۲ احادیث
ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو نضر بن شمیل نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما مجھے خاص اپنے تخت پر بٹھا لیتے تھے۔ انہوں نے ایک بار بیان کیا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد آیا جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کس قوم کا وفد ہے؟ انہوں نے کہا کہ ربیعہ قبیلہ کا ( عبدالقیس اسی قبیلے کا ایک شاخ ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مبارک ہو اس وفد کو یا یوں فرمایا کہ مبارک ہو بلا رسوائی اور شرمندگی اٹھائے آئے ہو۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپ کے بیچ میں مضر کافروں کا ملک پڑتا ہے۔ آپ ہمیں ایسی بات کا حکم دیجئیے جس سے ہم جنت میں داخل ہوں اور پیچھے رہ جانے والوں کو بھی بتائیں۔ پھر انہوں نے شراب کے برتنوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار چیزوں سے روکا اور چار چیزوں کا حکم دیا۔ آپ نے ایمان بااللہ کا حکم دیا۔ دریافت فرمایا جانتے ہو ایمان باللہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا کہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنے کا ( حکم دیا ) اور زکوٰۃ دینے کا۔ میرا خیال ہے کہ حدیث میں رمضان کے روزوں کا بھی ذکر ہے اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ ( بیت المال ) میں دینا اور آپ نے انہیں دباء، حنتم، مزفت اور نقیر کے برتن ( جن میں عرب لوگ شراب رکھتے اور بناتے تھے ) کے استعمال سے منع کیا اور بعض اوقات مقیر کہا۔ فرمایا کہ انہیں یاد رکھو اور انہیں پہنچا دو جو نہیں آ سکے ہیں۔
حدثنا علي بن الجعد، اخبرنا شعبة،. وحدثني اسحاق، اخبرنا النضر، اخبرنا شعبة، عن ابي جمرة، قال كان ابن عباس يقعدني على سريره فقال ان وفد عبد القيس لما اتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من الوفد ". قالوا ربيعة. قال " مرحبا بالوفد والقوم، غير خزايا ولا ندامى ". قالوا يا رسول الله ان بيننا وبينك كفار مضر، فمرنا بامر ندخل به الجنة، ونخبر به من وراءنا فسالوا عن الاشربة، فنهاهم عن اربع وامرهم باربع امرهم بالايمان بالله قال " هل تدرون ما الايمان بالله ". قالوا الله ورسوله اعلم. قال " شهادة ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمدا رسول الله، واقام الصلاة، وايتاء الزكاة واظن فيه صيام رمضان، وتوتوا من المغانم الخمس ". ونهاهم عن الدباء، والحنتم، والمزفت، والنقير، وربما قال المقير. قال " احفظوهن، وابلغوهن من وراءكم
ہم سے محمد بن الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے توبہ بن کیسان العنبری نے بیان کیا کہ مجھ سے شعبی نے کہا کہ تم نے دیکھا امام حسن بصری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی حدیث ( مرسلاً ) روایت کرتے ہیں۔ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں تقریباً اڑھائی سال رہا لیکن میں نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے سوا اور کوئی حدیث بیان کرتے نہیں سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی اصحاب جن میں سعد رضی اللہ عنہ بھی تھے ( دستر خوان پر بیٹھے ہوئے تھے ) لوگوں نے گوشت کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ازواج مطہرات میں سے ایک زوجہ مطہرہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے آگاہ کیا کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے۔ سب لوگ کھانے سے رک گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھاؤ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «كلوا» فرمایا یا «اطعموا» ) اس لیے کہ حلال ہے یا فرمایا کہ اس کھانے میں کوئی حرج نہیں البتہ یہ جانور میری خوراک نہیں ہے، مجھ کو اس کے کھانے سے ایک قسم کی نفرت آتی ہے۔
حدثنا محمد بن الوليد، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن توبة العنبري، قال قال لي الشعبي ارايت حديث الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم وقاعدت ابن عمر قريبا من سنتين او سنة ونصف فلم اسمعه يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم غير هذا قال كان ناس من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فيهم سعد فذهبوا ياكلون من لحم، فنادتهم امراة من بعض ازواج النبي صلى الله عليه وسلم انه لحم ضب فامسكوا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلوا او اطعموا فانه حلال او قال لا باس به. شك فيه ولكنه ليس من طعامي