Loading...

Loading...
کتب
۲۲ احادیث
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم سب جوان اور ہم عمر تھے، ہم آپ کی خدمت میں بیس دن تک ٹھہرے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت شفیق تھے۔ جب آپ نے معلوم کیا کہ اب ہمارا دل اپنے گھر والوں کی طرف مشتاق ہے تو آپ نے ہم سے پوچھا کہ اپنے پیچھے ہم کن لوگوں کو چھوڑ کر آئے ہیں۔ ہم نے آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر چلے جاؤ اور ان کے ساتھ رہو اور انہیں اسلام سکھاؤ اور دین بتاؤ اور بہت سی باتیں آپ نے کہیں جن میں بعض مجھے یاد نہیں ہیں اور بعض یاد ہیں اور ( فرمایا کہ ) جس طرح مجھے تم نے نماز پڑھتے دیکھا اسی طرح نماز پڑھو۔ پس جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک تمہارے لیے اذان کہے اور جو عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرائے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، حدثنا مالك، قال اتينا النبي صلى الله عليه وسلم ونحن شببة متقاربون، فاقمنا عنده عشرين ليلة، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم رفيقا، فلما ظن انا قد اشتهينا اهلنا او قد اشتقنا سالنا عمن تركنا بعدنا فاخبرناه قال " ارجعوا الى اهليكم، فاقيموا فيهم، وعلموهم، ومروهم وذكر اشياء احفظها او لا احفظها وصلوا كما رايتموني اصلي، فاذا حضرت الصلاة فليوذن لكم احدكم، وليومكم اكبركم
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے، ان سے سلیمان تیمی نے، ان سے ابوعثمان نہدی نے، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی شخص کو بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ وہ صرف اس لیے اذان دیتے ہیں یا نداء کرتے ہیں تاکہ جو نماز کے لیے بیدار ہیں وہ واپس آ جائیں اور جو سوئے ہوئے ہیں وہ بیدار ہو جائیں اور فجر وہ نہیں ہے جو اس طرح لمبی دھار ہوتی ہے۔ یحییٰ نے اس کے اظہار کے لیے اپنے دونوں ہاتھ ملائے اور کہا یہاں تک کہ وہ اس طرح ظاہر ہو جائے اور اس کے اظہار کے لیے انہوں نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں کو پھیلا کر بتلایا۔“
حدثنا مسدد، عن يحيى، عن التيمي، عن ابي عثمان، عن ابن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يمنعن احدكم اذان بلال من سحوره، فانه يوذن او قال ينادي ليرجع قايمكم، وينبه نايمكم، وليس الفجر ان يقول هكذا وجمع يحيى كفيه حتى يقول هكذا ". ومد يحيى اصبعيه السبابتين
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلال ( رمضان میں ) رات ہی میں اذان دیتے ہیں ( وہ نماز فجر کی اذان نہیں ہوتی ) پس تم کھاؤ پیو، یہاں تک کہ عبداللہ ابن ام مکتوم اذان دیں ( تو کھانا پینا بند کر دو ) ۔“
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، حدثنا عبد الله بن دينار، سمعت عبد الله بن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان بلالا ينادي بليل، فكلوا واشربوا حتى ينادي ابن ام مكتوم
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ بن قیس نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی پانچ رکعت نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا نماز ( کی رکعتوں ) میں کچھ بڑھ گیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ صحابہ نے کہا کہ آپ نے پانچ رکعت نماز پڑھائی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے بعد دو سجدے ( سہو کے ) کئے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم الظهر خمسا فقيل ازيد في الصلاة قال " وما ذاك ". قالوا صليت خمسا. فسجد سجدتين بعد ما سلم
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے مالک نے بیان کیا ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی رکعت پر ( مغرب یا عشاء کی نماز میں ) نماز ختم کر دی تو ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ذوالیدین صحیح کہتے ہیں؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آخری رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا، تکبیر کی اور سجدہ کیا ( نماز کے عام ) سجدے جیسا یا اس سے طویل، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا، پھر تکبیر کہی اور نماز کے سجدے جیسا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا۔
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن ايوب، عن محمد، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف من اثنتين فقال له ذو اليدين اقصرت الصلاة يا رسول الله، ام نسيت فقال " اصدق ذو اليدين ". فقال الناس نعم. فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى ركعتين اخريين، ثم سلم، ثم كبر، ثم سجد مثل سجوده او اطول، ثم رفع، ثم كبر، فسجد مثل سجوده، ثم رفع
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مسجد قباء میں لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والے نے ان کے پاس پہنچ کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رات قرآن کی آیت نازل ہوئی ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ نماز میں کعبہ کی طرف منہ کر لیں پس تم بھی اسی طرف رخ کر لو۔ ان لوگوں کے چہرے شام ( یعنی بیت المقدس ) کی طرف تھے، پھر وہ لوگ کعبہ کی طرف مڑ گئے۔
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر، قال بينا الناس بقباء في صلاة الصبح اذ جاءهم ات فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد انزل عليه الليلة قران، وقد امر ان يستقبل الكعبة فاستقبلوها. وكانت وجوههم الى الشام فاستداروا الى الكعبة
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع بن جراح نے بیان کیا، ان سے اسرائیل بن یونس نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے لیکن آپ کی آرزو تھی کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ البقرہ میں ) یہ آیت نازل کی «قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها» ”ہم آپ کے منہ کے باربار آسمان کی طرف اٹھنے کو دیکھتے ہیں، عنقریب ہم آپ کو منہ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس سے آپ خوش ہوں گے۔“ چنانچہ رخ کعبہ کی طرف کر دیا گیا۔ ایک صاحب نے عصر کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر وہ مدینہ سے نکل کر انصار کی ایک جماعت تک پہنچے اور کہا کہ وہ گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہو گیا ہے چنانچہ سب لوگ کعبہ رخ ہو گئے حالانکہ وہ عصر کی نماز کے رکوع میں تھے۔
حدثنا يحيى، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة صلى نحو بيت المقدس ستة عشر، او سبعة عشر شهرا، وكان يحب ان يوجه الى الكعبة فانزل الله تعالى {قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها} فوجه نحو الكعبة، وصلى معه رجل العصر، ثم خرج فمر على قوم من الانصار فقال هو يشهد انه صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم وانه قد وجه الى الكعبة. فانحرفوا وهم ركوع في صلاة العصر
مجھ سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ابوطلحہ انصاری، ابوعبیدہ بن الجراح اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا۔ اتنے میں ایک آنے والے شخص نے آ کر خبر دی کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کی خبر سنتے ہی کہا: انس! ان مٹکوں کو بڑھ کر سب کو توڑ دے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ایک ہاون دستہ کی طرف بڑھا جو ہمارے پاس تھا اور میں نے اس کے نچلے حصہ سے ان مٹکوں پر مارا جس سے وہ سب ٹوٹ گئے۔
حدثني يحيى بن قزعة، حدثني مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال كنت اسقي ابا طلحة الانصاري وابا عبيدة بن الجراح وابى بن كعب شرابا من فضيخ وهو تمر فجاءهم ات فقال ان الخمر قد حرمت. فقال ابو طلحة يا انس قم الى هذه الجرار فاكسرها، قال انس فقمت الى مهراس لنا فضربتها باسفله حتى انكسرت
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے، ان سے صلہ بن زفر نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا ”میں تمہارے پاس ایک امانت دار آدمی جو حقیقی امانت دار ہو گا بھیجوں گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ منتظر رہے ( کہ کون اس صفت سے موصوف ہے ) تو آپ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن صلة، عن حذيفة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لاهل نجران " لابعثن اليكم رجلا امينا حق امين ". فاستشرف لها اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فبعث ابا عبيدة
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خالد بن مہران نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر امت میں ایک امانت دار ہوتا ہے اور اس امت کے امانت دار ابوعبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں۔“
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن خالد، عن ابي قلابة، عن انس رضى الله عنه قال النبي صلى الله عليه وسلم " لكل امة امين، وامين هذه الامة ابو عبيدة
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبید بن حنین نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب تھے ( اوس بن خولیٰ نام ) جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شرکت نہ کر سکتے اور میں شریک ہوتا تو انہیں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کی خبریں بتاتا اور جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک نہ ہو پاتا اور وہ شریک ہوتے تو وہ آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کی خبر مجھے بتاتے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن يحيى بن سعيد، عن عبيد بن حنين، عن ابن عباس، عن عمر رضى الله عنهم قال وكان رجل من الانصار اذا غاب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وشهدته اتيته بما يكون من رسول الله صلى الله عليه وسلم واذا غبت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وشهد اتاني بما يكون من رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر ایک صاحب عبداللہ بن حذافہ سہمی کو بنایا، پھر ( اس نے کیا کیا کہ ) آگ جلوائی اور ( لشکریوں سے ) کہا کہ اس میں داخل ہو جاؤ۔ جس پر بعض لوگوں نے داخل ہونا چاہا لیکن کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم آگ ہی سے بھاگ کر آئے ہیں۔ پھر اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جنہوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا کہ اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو اس میں قیامت تک رہتے۔ اور دوسرے لوگوں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت حلال نہیں ہے اطاعت صرف نیک کاموں میں ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن زبيد، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن، عن علي رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث جيشا وامر عليهم رجلا، فاوقد نارا وقال ادخلوها. فارادوا ان يدخلوها، وقال اخرون انما فررنا منها، فذكروا للنبي صلى الله عليه وسلم فقال للذين ارادوا ان يدخلوها " لو دخلوها لم يزالوا فيها الى يوم القيامة ". وقال للاخرين " لا طاعة في معصية، انما الطاعة في المعروف
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، ان عبيد الله بن عبد الله، اخبره ان ابا هريرة وزيد بن خالد اخبراه ان رجلين اختصما الى النبي صلى الله عليه وسلم
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، ان عبيد الله بن عبد الله، اخبره ان ابا هريرة وزيد بن خالد اخبراه ان رجلين اختصما الى النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ دیہاتیوں میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! کتاب اللہ کے مطابق میرا فیصلہ فرما دیجئیے۔ اس کے بعد ان کا مقابل فریق کھڑا ہوا اور کہا انہوں نے صحیح کہا یا رسول اللہ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور مجھے کہنے کی اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو۔ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا ان کے یہاں مزدوری کیا کرتا تھا، «عسيف» بمعنی «الأجير» مزدور ہے، پھر اس نے ان کی عورت سے زنا کر لیا تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم کی سزا ہو گی لیکن میں نے اس کی طرف سے سو بکریوں اور ایک باندی کا فدیہ دیا ( اور لڑکے کو چھڑا لیا ) پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس کی بیوی پر رجم کی سزا لاگو ہو گی اور میرے لڑکے کو سو کوڑے اور ایک سال کے لیے جلا وطنی کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، باندی اور بکریاں تو اسے واپس کر دو اور تمہارے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا ہے اور اے انیس! ( قبیلہ اسلم کے ایک صحابی ) اس کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے رجم کر دو۔ چنانچہ انیس رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور اس نے اقرار کر لیا پھر انیس رضی اللہ عنہ نے اس کو سنگسار کر ڈالا۔
وحدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، ان ابا هريرة، قال بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ قام رجل من الاعراب فقال يا رسول الله اقض لي بكتاب الله. فقام خصمه فقال صدق يا رسول الله، اقض له بكتاب الله، واذن لي. فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " قل ". فقال ان ابني كان عسيفا على هذا والعسيف الاجير فزنى بامراته فاخبروني ان على ابني الرجم، فافتديت منه بماية من الغنم ووليدة، ثم سالت اهل العلم فاخبروني ان على امراته الرجم، وانما على ابني جلد ماية وتغريب عام. فقال " والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله، اما الوليدة والغنم فردوها، واما ابنك فعليه جلد ماية وتغريب عام، واما انت يا انيس لرجل من اسلم فاغد على امراة هذا، فان اعترفت فارجمها ". فغدا عليها انيس فاعترفت فرجمها
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن المنکدر نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، بیان کیا کہ غزوہ خندق کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دشمن سے خبر لانے کے لیے ) صحابہ سے کہا تو زبیر رضی اللہ عنہ تیار ہو گئے پھر ان سے کہا تو زبیر رضی اللہ عنہ ہی تیار ہوئے۔ پھر کہا، پھر بھی انہوں نے ہی آمادگی دکھلائی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ( مددگار ) ہوتے ہیں اور میری حواری زبیر ہیں۔ اور سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ میں نے یہ روایت ابن المنکدر سے یاد کی اور ایوب نے ابن المنکدر سے کہا، اے ابوبکر! ( یہ محمد بن منکدر کی کنیت ہے ) ان سے جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کیجئے کیونکہ لوگ پسند کرتے ہیں کہ آپ جابر رضی اللہ عنہ کی احادیث بیان کریں تو انہوں نے اسی مجلس میں کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا اور چار احادیث میں پے در پے یہ کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ میں نے سفیان بن عیینہ سے کہا کہ سفیان ثوری تو غزوہ قریظہ کہتے ہیں ( بجائے غزوہ خندق کے ) انہوں نے کہا کہ میں نے اتنے ہی یقین کے ساتھ یاد کیا ہے جیسا کہ تم اس وقت بیٹھے ہو کہ انہوں نے غزوہ خندق کہا، سفیان نے کہا کہ یہ دونوں ایک ہی غزوہ ہیں ( کیونکہ ) غزوہ خندق کے فوراً بعد اسی دن غزوہ قریظہ پیش آیا اور وہ مسکرائے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا ابن المنكدر، قال سمعت جابر بن عبد الله، قال ندب النبي صلى الله عليه وسلم يوم الخندق فانتدب الزبير، ثم ندبهم فانتدب الزبير، ثم ندبهم فانتدب الزبير فقال " لكل نبي حواري وحواري الزبير ". قال سفيان حفظته من ابن المنكدر. وقال له ايوب يا ابا بكر حدثهم عن جابر، فان القوم يعجبهم ان تحدثهم عن جابر. فقال في ذلك المجلس سمعت جابرا فتابع بين احاديث سمعت جابرا، قلت لسفيان فان الثوري يقول يوم قريظة فقال كذا حفظته كما انك جالس يوم الخندق. قال سفيان هو يوم واحد. وتبسم سفيان
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے دروازہ کی نگرانی کا حکم دیا، پھر ایک صحابی آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو۔ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو، پھر عثمان رضی اللہ عنہ آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور جنت کی بشارت دے دو۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن ايوب، عن ابي عثمان، عن ابي موسى، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل حايطا وامرني بحفظ الباب فجاء رجل يستاذن فقال " ايذن له، وبشره بالجنة ". فاذا ابو بكر، ثم جاء عمر فقال " ايذن له، وبشره بالجنة ". ثم جاء عثمان فقال " ايذن له، وبشره بالجنة
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبید بن حنین نے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں تشریف رکھتے تھے اور آپ کا ایک کالا غلام سیڑھی کے اوپر ( نگرانی کر رہا ) تھا میں نے اس سے کہا کہ کہو کہ عمر بن خطاب کھڑا ہے اور اجازت چاہتا ہے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا سليمان بن بلال، عن يحيى، عن عبيد بن حنين، سمع ابن عباس، عن عمر رضى الله عنهم قال جيت فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم في مشربة له، وغلام لرسول الله صلى الله عليه وسلم اسود على راس الدرجة فقلت قل هذا عمر بن الخطاب فاذن لي
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ پرویز شاہ ایران کو خط بھیجا اور قاصد عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ خط بحرین کے گورنر منذر بن ساوی کے حوالہ کریں وہ اسے کسریٰ تک پہنچائے گا۔ جب کسریٰ نے وہ خط پڑھا تو اسے پھاڑ دیا۔ مجھے یاد ہے کہ سعید بن المسیب نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بددعا دی کہ اللہ انہیں بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثني الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، انه قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عبد الله بن عباس، اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث بكتابه الى كسرى، فامره ان يدفعه الى عظيم البحرين، يدفعه عظيم البحرين الى كسرى، فلما قراه كسرى مزقه، فحسبت ان ابن المسيب قال فدعا عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يمزقوا كل ممزق
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے، ان سے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ہند بن اسماء سے فرمایا کہ اپنی قوم میں یا لوگوں میں اعلان کر دو عاشورہ کے دن کہ جس نے کھا لیا ہو وہ اپنا بقیہ دن ( بے کھائے ) پورا کرے اور اس نے نہ کھایا ہو وہ روزہ رکھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن يزيد بن ابي عبيد، حدثنا سلمة بن الاكوع، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لرجل من اسلم " اذن في قومك او في الناس يوم عاشوراء ان من اكل فليتم بقية يومه، ومن لم يكن اكل فليصم