Loading...

Loading...
کتب
۱۷۲ احادیث
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا منصور بن معتمر سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے اسود بن یزید سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ نے فرمایا تم لوگوں نے ہم عورتوں کو کتوں اور گدھوں کے برابر بنا دیا۔ حالانکہ میں چارپائی پر لیٹی رہتی تھی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور چارپائی کے بیچ میں آ جاتے ( یا چارپائی کو اپنے اور قبلے کے بیچ میں کر لیتے ) پھر نماز پڑھتے۔ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑا رہنا برا معلوم ہوتا، اس لیے میں پائینتی کی طرف سے کھسک کے لحاف سے باہر نکل جاتی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت اعدلتمونا بالكلب والحمار لقد رايتني مضطجعة على السرير، فيجيء النبي صلى الله عليه وسلم فيتوسط السرير فيصلي، فاكره ان اسنحه فانسل من قبل رجلى السرير حتى انسل من لحافي
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یونس بن عبید نے حمید بن ہلال کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابوصالح ذکوان سمان سے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( دوسری سند ) اور ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن مغیرہ نے، کہا ہم سے حمید بن ہلال عدوی نے، کہا ہم سے ابوصالح سمان نے، کہا میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ آپ کسی چیز کی طرف منہ کئے ہوئے لوگوں کے لیے اسے آڑ بنائے ہوئے تھے۔ ابومعیط کے بیٹوں میں سے ایک جوان نے چاہا کہ آپ کے سامنے سے ہو کر گزر جائے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس کے سینہ پر دھکا دے کر باز رکھنا چاہا۔ جوان نے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن کوئی راستہ سوائے سامنے سے گزرنے کے نہ ملا۔ اس لیے وہ پھر اسی طرف سے نکلنے کے لیے لوٹا۔ اب ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پہلے سے بھی زیادہ زور سے دھکا دیا۔ اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے شکایت ہوئی اور وہ اپنی یہ شکایت مروان کے پاس لے گیا۔ اس کے بعد ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے گئے۔ مروان نے کہا اے ابوسعید رضی اللہ عنہ آپ میں اور آپ کے بھتیجے میں کیا معاملہ پیش آیا۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب کوئی شخص نماز کسی چیز کی طرف منہ کر کے پڑھے اور اس چیز کو آڑ بنا رہا ہو پھر بھی اگر کوئی سامنے سے گزرے تو اسے روک دینا چاہیے۔ اگر اب بھی اسے اصرار ہو تو اسے لڑنا چاہیے۔ کیونکہ وہ شیطان ہے۔
حدثنا ابو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا يونس، عن حميد بن هلال، عن ابي صالح، ان ابا سعيد، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم وحدثنا ادم بن ابي اياس قال حدثنا سليمان بن المغيرة قال حدثنا حميد بن هلال العدوي قال حدثنا ابو صالح السمان قال رايت ابا سعيد الخدري في يوم جمعة يصلي الى شىء يستره من الناس، فاراد شاب من بني ابي معيط ان يجتاز بين يديه فدفع ابو سعيد في صدره، فنظر الشاب فلم يجد مساغا الا بين يديه، فعاد ليجتاز فدفعه ابو سعيد اشد من الاولى، فنال من ابي سعيد، ثم دخل على مروان فشكا اليه ما لقي من ابي سعيد، ودخل ابو سعيد خلفه على مروان فقال ما لك ولابن اخيك يا ابا سعيد قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اذا صلى احدكم الى شىء يستره من الناس، فاراد احد ان يجتاز بين يديه فليدفعه، فان ابى فليقاتله، فانما هو شيطان
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابونضر سالم بن ابی امیہ سے خبر دی۔ انہوں نے بسر بن سعید سے کہ زید بن خالد نے انہیں ابوجہیم عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان سے یہ بات پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرنے والے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے۔ ابوجہیم نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے سامنے سے گزرنے پر چالیس تک وہیں کھڑے رہنے کو ترجیح دیتا۔ ابوالنضر نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ بسر بن سعید نے چالیس دن کہا یا مہینہ یا سال۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله عن بسر بن سعيد، ان زيد بن خالد، ارسله الى ابي جهيم يساله ماذا سمع من، رسول الله صلى الله عليه وسلم في المار بين يدى المصلي فقال ابو جهيم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو يعلم المار بين يدى المصلي ماذا عليه لكان ان يقف اربعين خيرا له من ان يمر بين يديه ". قال ابو النضر لا ادري اقال اربعين يوما او شهرا او سنة
ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا سلیمان اعمش کے واسطہ سے، انہوں نے مسلم بن صبیح سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ ان کے سامنے ذکر ہوا کہ نماز کو کیا چیزیں توڑ دیتی ہیں، لوگوں نے کہا کہ کتا، گدھا اور عورت ( بھی ) نماز کو توڑ دیتی ہے۔ ( جب سامنے آ جائے ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم نے ہمیں کتوں کے برابر بنا دیا۔ حالانکہ میں جانتی ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کے درمیان ( سامنے ) چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی۔ مجھے ضرورت پیش آتی تھی اور یہ بھی اچھا نہیں معلوم ہوتا تھا کہ خود کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دوں۔ اس لیے میں آہستہ سے نکل آتی تھی۔ اعمش نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عائشہ سے اسی طرح یہ حدیث بیان کی۔
حدثنا اسماعيل بن خليل، حدثنا علي بن مسهر، عن الاعمش، عن مسلم يعني ابن صبيح عن مسروق، عن عايشة، انه ذكر عندها ما يقطع الصلاة فقالوا يقطعها الكلب والحمار والمراة. قالت قد جعلتمونا كلابا، لقد رايت النبي عليه السلام يصلي، واني لبينه وبين القبلة، وانا مضطجعة على السرير، فتكون لي الحاجة، فاكره ان استقبله فانسل انسلالا. وعن الاعمش عن ابراهيم عن الاسود عن عايشة نحوه
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے بیان کیا، وہ فرماتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے اور میں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ) بچھونے پڑ آڑی سوتی ہوئی پڑی ہوتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا هشام، قال حدثني ابي، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي وانا راقدة معترضة على فراشه، فاذا اراد ان يوتر ايقظني فاوترت
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی عمر بن عبیداللہ کے غلام ابوالنضر سے، انہوں نے ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو جایا کرتی تھی۔ میرے پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( پھیلے ہوئے ) ہوتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو پاؤں کو ہلکے سے دبا دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی پھر جب قیام فرماتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اس زمانہ میں گھروں کے اندر چراغ نہیں ہوتے تھے۔ ( معلوم ہوا کہ ایسا کرنا بھی جائز ہے ) ۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت كنت انام بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجلاى في قبلته، فاذا سجد غمزني فقبضت رجلى، فاذا قام بسطتهما. قالت والبيوت يوميذ ليس فيها مصابيح
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا، کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم نے اسود کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے (دوسری سند) اور اعمش نے کہا کہ مجھ سے مسلم بن صبیح نے مسروق کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ ان کے سامنے ان چیزوں کا ذکر ہوا۔ جو نماز کو توڑ دیتی ہیں یعنی کتا، گدھا اور عورت۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم لوگوں نے ہمیں گدھوں اور کتوں کے برابر کر دیا۔ حالانکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نماز پڑھتے تھے کہ میں چارپائی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے بیچ میں لیٹی رہتی تھی۔ مجھے کوئی ضرورت پیش آئی اور چونکہ یہ بات پسند نہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوں ) بیٹھوں اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہو۔ اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی طرف سے خاموشی کے ساتھ نکل جاتی تھی۔
حدثنا عمر بن حفص، قال حدثنا ابي قال، حدثنا الاعمش، قال حدثنا ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة،. قال الاعمش وحدثني مسلم، عن مسروق، عن عايشة، ذكر عندها ما يقطع الصلاة الكلب والحمار والمراة فقالت شبهتمونا بالحمر والكلاب، والله لقد رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي، واني على السرير بينه وبين القبلة مضطجعة فتبدو لي الحاجة، فاكره ان اجلس فاوذي النبي صلى الله عليه وسلم فانسل من عند رجليه
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے میرے بھتیجے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے اپنے چچا سے پوچھا کہ کیا نماز کو کوئی چیز توڑ دیتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں، اسے کوئی چیز نہیں توڑتی۔ کیونکہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر رات کو نماز پڑھتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان عرض میں بستر پر لیٹی رہتی تھی۔
حدثنا اسحاق، قال اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثني ابن اخي ابن شهاب، انه سال عمه عن الصلاة، يقطعها شىء فقال لا يقطعها شىء، اخبرني عروة بن الزبير ان عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت لقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوم فيصلي من الليل، واني لمعترضة بينه وبين القبلة على فراش اهله
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے عامر بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے خبر دی، انہوں نے عمرو بن سلیم زرقی سے، انہوں نے ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امامہ بنت زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( بعض اوقات ) نماز پڑھتے وقت اٹھائے ہوتے تھے۔ ابوالعاص بن ربیعہ بن عبدشمس کی حدیث میں ہے کہ سجدہ میں جاتے تو اتار دیتے اور جب قیام فرماتے تو اٹھا لیتے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن عمرو بن سليم الزرقي، عن ابي قتادة الانصاري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي وهو حامل امامة بنت زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ولابي العاص بن ربيعة بن عبد شمس، فاذا سجد وضعها، واذا قام حملها
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشیم نے شیبانی کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن شداد بن ہاد سے، کہا مجھے میری خالہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ میرا بستر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلے کے برابر میں ہوتا تھا۔ اور بعض دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا ( نماز پڑھتے میں ) میرے اوپر آ جاتا اور میں اپنے بستر پر ہی ہوتی تھی۔
حدثنا عمرو بن زرارة، قال اخبرنا هشيم، عن الشيباني، عن عبد الله بن شداد بن الهاد، قال اخبرتني خالتي، ميمونة بنت الحارث قالت كان فراشي حيال مصلى النبي صلى الله عليه وسلم فربما وقع ثوبه على وانا على فراشي
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبانی سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن شداد بن ہاد نے بیان کیا، کہا ہم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرماتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر میں سوتی رہتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا مجھے چھو جاتا حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔
حدثنا ابو النعمان، قال حدثنا عبد الواحد بن زياد، قال حدثنا الشيباني، سليمان حدثنا عبد الله بن شداد، قال سمعت ميمونة، تقول كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي وانا الى جنبه نايمة، فاذا سجد اصابني ثوبه، وانا حايض. وزاد مسدد عن خالد قال حدثنا سليمان الشيباني، وانا حايض
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قاسم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ تم نے برا کیا کہ ہم کو کتوں اور گدھوں کے حکم میں کر دیا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوئی تھی۔ جب سجدہ کرنا چاہتے تو میرے پاؤں کو چھو دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی تھی۔
حدثنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا عبيد الله، قال حدثنا القاسم، عن عايشة رضى الله عنها قالت بيسما عدلتمونا بالكلب والحمار، لقد رايتني ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي، وانا مضطجعة بينه وبين القبلة، فاذا اراد ان يسجد غمز رجلى فقبضتهما
ہم سے احمد بن اسحاق سرماری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسرائیل نے ابواسحاق کے واسطہ سے بیان کیا۔ انہوں نے عمرو بن میمون سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پاس کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ قریش اپنی مجلس میں ( قریب ہی ) بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ان میں سے ایک قریشی بولا اس ریاکار کو نہیں دیکھتے؟ کیا کوئی ہے جو فلاں قبیلہ کے ذبح کئے ہوئے اونٹ کا گوبر، خون اور اوجھڑی اٹھا لائے۔ پھر یہاں انتظار کرے۔ جب یہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) سجدہ میں جائے تو گردن پر رکھ دے ( چنانچہ اس کام کو انجام دینے کے لیے ) ان میں سے سب سے زیادہ بدبخت شخص اٹھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک پر یہ غلاظتیں ڈال دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ہی کی حالت میں سر رکھے رہے۔ مشرکین ( یہ دیکھ کر ) ہنسے اور مارے ہنسی کے ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ ایک شخص ( غالباً ابن مسعود رضی اللہ عنہ ) فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ وہ ابھی بچہ تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا دوڑتی ہوئی آئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی سجدہ ہی میں تھے۔ پھر ( فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ) ان غلاظتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر سے ہٹایا اور مشرکین کو برا بھلا کہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر کے فرمایا ”یا اللہ قریش پر عذاب نازل کر۔ یا اللہ قریش پر عذاب نازل کر۔ یا اللہ قریش پر عذاب نازل کر۔“ پھر نام لے کر کہا یا اللہ! عمرو بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ ابن ولید کو ہلاک کر۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ کی قسم! میں نے ان سب کو بدر کی لڑائی میں مقتول پایا۔ پھر انہیں گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنویں والے اللہ کی رحمت سے دور کر دئیے گئے۔
حدثنا احمد بن اسحاق السرماري، قال حدثنا عبيد الله بن موسى، قال حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله، قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم قايم يصلي عند الكعبة، وجمع قريش في مجالسهم اذ قال قايل منهم الا تنظرون الى هذا المرايي ايكم يقوم الى جزور ال فلان، فيعمد الى فرثها ودمها وسلاها فيجيء به، ثم يمهله حتى اذا سجد وضعه بين كتفيه فانبعث اشقاهم، فلما سجد رسول الله صلى الله عليه وسلم وضعه بين كتفيه، وثبت النبي صلى الله عليه وسلم ساجدا، فضحكوا حتى مال بعضهم الى بعض من الضحك، فانطلق منطلق الى فاطمة عليها السلام وهى جويرية، فاقبلت تسعى وثبت النبي صلى الله عليه وسلم ساجدا حتى القته عنه، واقبلت عليهم تسبهم، فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة قال " اللهم عليك بقريش، اللهم عليك بقريش، اللهم عليك بقريش ثم سمى اللهم عليك بعمرو بن هشام، وعتبة بن ربيعة، وشيبة بن ربيعة، والوليد بن عتبة، وامية بن خلف، وعقبة بن ابي معيط، وعمارة بن الوليد ". قال عبد الله فوالله لقد رايتهم صرعى يوم بدر، ثم سحبوا الى القليب قليب بدر، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " واتبع اصحاب القليب لعنة