Loading...

Loading...
کتب
۱۷۲ احادیث
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ کہا ہم سے عبدالعزیز نے ابوحازم کے واسطہ سے، انہوں نے سہل رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے پاس ایک آدمی بھیجا کہ وہ اپنے بڑھئی غلام سے کہے کہ میرے لیے ( منبر ) لکڑیوں کے تختوں سے بنا دے جن پر میں بیٹھا کروں۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا عبد العزيز، عن ابي حازم، عن سهل، قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم الى امراة ان مري غلامك النجار يعمل لي اعوادا اجلس عليهن
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے اپنے والد کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہ ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کے لیے کوئی ایسی چیز نہ بنا دوں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا کریں۔ میرا ایک بڑھئی غلام بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے تو منبر بنوا دے۔
حدثنا خلاد، قال حدثنا عبد الواحد بن ايمن، عن ابيه، عن جابر، ان امراة، قالت يا رسول الله، الا اجعل لك شييا تقعد عليه، فان لي غلاما نجارا قال " ان شيت ". فعملت المنبر
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے بکیر بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عاصم بن عمرو بن قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ بن اسود خولانی سے سنا، انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا کہ مسجد نبوی کی تعمیر کے متعلق لوگوں کی باتوں کو سن کر آپ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے بہت زیادہ باتیں کی ہیں۔ حالانکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جس نے مسجد بنائی بکیر ( راوی ) نے کہا میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، تو اللہ تعالیٰ ایسا ہی ایک مکان جنت میں اس کے لیے بنائے گا۔
حدثنا يحيى بن سليمان، حدثني ابن وهب، اخبرني عمرو، ان بكيرا، حدثه ان عاصم بن عمر بن قتادة حدثه انه، سمع عبيد الله الخولاني، انه سمع عثمان بن عفان، يقول عند قول الناس فيه حين بنى مسجد الرسول صلى الله عليه وسلم انكم اكثرتم، واني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من بنى مسجدا قال بكير حسبت انه قال يبتغي به وجه الله، بنى الله له مثله في الجنة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے کہا کہ میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا کیا تم نے جابر بن عبداللہ سے یہ حدیث سنی ہے کہ ایک شخص مسجد نبوی میں آیا اور وہ تیر لیے ہوئے تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ ان کی نوکیں تھامے رکھو۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا سفيان، قال قلت لعمرو اسمعت جابر بن عبد الله يقول مر رجل في المسجد ومعه سهام، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " امسك بنصالها
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے کہ کہا ہم سے ابوبردہ بن عبداللہ نے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری صحابی) سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص ہماری مساجد یا ہمارے بازاروں میں تیر لیے ہوئے چلے تو ان کے پھل تھامے رہے، ایسا نہ ہو کہ اپنے ہاتھوں سے کسی مسلمان کو زخمی کر دے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا عبد الواحد، قال حدثنا ابو بردة بن عبد الله، قال سمعت ابا بردة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من مر في شىء من مساجدنا او اسواقنا بنبل، فلياخذ على نصالها، لا يعقر بكفه مسلما
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے زہری کے واسطے سے کہا کہ مجھے ابوسلمہ (اسماعیل یا عبداللہ) ابن عبدالرحمٰن بن عوف نے، انہوں نے حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس بات پر گواہ بنا رہے تھے کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ اے حسان! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ( مشرکوں کو اشعار میں ) جواب دو اور اے اللہ! حسان کی روح القدس کے ذریعہ مدد کر۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہاں ( میں گواہ ہوں۔ بیشک میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے ) ۔
حدثنا ابو اليمان الحكم بن نافع، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف، انه سمع حسان بن ثابت الانصاري، يستشهد ابا هريرة انشدك الله هل سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " يا حسان، اجب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، اللهم ايده بروح القدس ". قال ابو هريرة نعم
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة، قالت لقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما على باب حجرتي، والحبشة يلعبون في المسجد ورسول الله صلى الله عليه وسلم يسترني بردايه، انظر الى لعبهم. زاد ابراهيم بن المنذر حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، قالت رايت النبي صلى الله عليه وسلم والحبشة يلعبون بحرابهم
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة، قالت لقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما على باب حجرتي، والحبشة يلعبون في المسجد ورسول الله صلى الله عليه وسلم يسترني بردايه، انظر الى لعبهم. زاد ابراهيم بن المنذر حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، قالت رايت النبي صلى الله عليه وسلم والحبشة يلعبون بحرابهم
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے یحییٰ بن سعید انصاری کے واسطہ سے، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ آپ نے فرمایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہ ( لونڈی ) ان سے اپنی کتابت کے بارے میں مدد لینے آئیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تم چاہو تو میں تمہارے مالکوں کو یہ رقم دے دوں ( اور تمہیں آزاد کرا دوں ) اور تمہارا ولاء کا تعلق مجھ سے قائم ہو۔ اور بریرہ کے آقاؤں نے کہا ( عائشہ رضی اللہ عنہا سے ) کہ اگر آپ چاہیں تو جو قیمت باقی رہ گئی ہے وہ دے دیں اور ولاء کا تعلق ہم سے قائم رہے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بریرہ کو خرید کر آزاد کرو اور ولاء کا تعلق تو اسی کو حاصل ہو سکتا ہے جو آزاد کرائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے۔ سفیان نے ( اس حدیث کو بیان کرتے ہوئے ) ایک مرتبہ یوں کہا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور فرمایا۔ ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو ایسی شرائط کرتے ہیں جن کا تعلق کتاب اللہ سے نہیں ہے۔ جو شخص بھی کوئی ایسی شرط کرے جو کتاب اللہ میں نہ ہو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی، اگرچہ وہ سو مرتبہ کر لے۔ اس حدیث کی روایت مالک نے یحییٰ کے واسطہ سے کی، وہ عمرہ سے کہ بریرہ اور انہوں نے منبر پر چڑھنے کا ذکر نہیں کیا الخ۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، عن يحيى، عن عمرة، عن عايشة، قالت اتتها بريرة تسالها في كتابتها فقالت ان شيت اعطيت اهلك ويكون الولاء لي. وقال اهلها ان شيت اعطيتها ما بقي وقال سفيان مرة ان شيت اعتقتها ويكون الولاء لنا فلما جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكرته ذلك فقال " ابتاعيها فاعتقيها، فان الولاء لمن اعتق ". ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر وقال سفيان مرة فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر فقال " ما بال اقوام يشترطون شروطا ليست في كتاب الله، من اشترط شرطا ليس في كتاب الله فليس له، وان اشترط ماية مرة ". قال علي قال يحيى وعبد الوهاب عن يحيى عن عمرة. وقال جعفر بن عون عن يحيى قال سمعت عمرة قالت سمعت عايشة. رواه مالك عن يحيى عن عمرة ان بريرة. ولم يذكر صعد المنبر
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر عبدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے یونس بن یزید نے زہری کے واسطہ سے، انہوں نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے، انہوں نے اپنے باپ کعب بن مالک سے کہ انھوں نے مسجد نبوی میں عبداللہ ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا اور دونوں کی گفتگو بلند آوازوں سے ہونے لگی۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے حجرے سے سن لیا۔ آپ پردہ ہٹا کر باہر تشریف لائے اور پکارا۔ کعب، کعب ( رضی اللہ عنہ ) بولے، جی یا رسول اللہ! ( حکم ) فرمائیے کیا ارشاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے قرض میں سے اتنا کم کر دو۔ آپ کا اشارہ تھا کہ آدھا کم کر دیں۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میں نے ( بخوشی ) ایسا کر دیا۔ پھر آپ نے ابن ابی حدرد سے فرمایا، اچھا اب اٹھو اور اس کا قرض ادا کرو۔ ( جو آدھا معاف کر دیا گیا ہے ) ۔
حدثنا عبد الله بن محمد، قال حدثنا عثمان بن عمر، قال اخبرنا يونس، عن الزهري، عن عبد الله بن كعب بن مالك، عن كعب، انه تقاضى ابن ابي حدرد دينا كان له عليه في المسجد، فارتفعت اصواتهما حتى سمعها رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في بيته، فخرج اليهما حتى كشف سجف حجرته فنادى " يا كعب ". قال لبيك يا رسول الله. قال " ضع من دينك هذا ". واوما اليه اى الشطر قال لقد فعلت يا رسول الله. قال " قم فاقضه
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ثابت سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک حبشی مرد یا حبشی عورت مسجد نبوی میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔ ایک دن اس کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ تو انتقال کر گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم نے مجھے کیوں نہ بتایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز پڑھی۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، ان رجلا، اسود او امراة سوداء كان يقم المسجد، فمات، فسال النبي صلى الله عليه وسلم عنه فقالوا مات. قال " افلا كنتم اذنتموني به دلوني على قبره ". او قال قبرها فاتى قبره فصلى عليه
ہم سے عبدان بن عبداللہ بن عثمان نے ابوحمزہ محمد بن میمون کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے مسلم سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ آپ فرماتی ہیں کہ جب سورۃ البقرہ کی سود سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے اور ان آیات کی لوگوں کے سامنے تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا کہ شراب کی تجارت حرام ہے۔
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن عايشة، قالت لما انزل الايات من سورة البقرة في الربا، خرج النبي صلى الله عليه وسلم الى المسجد، فقراهن على الناس، ثم حرم تجارة الخمر
ہم سے احمد بن واقد نے بیان کیا کہ، کہا ہم سے حماد بن زید نے ثابت بنانی کے واسطہ سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک عورت یا مرد مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا۔ ابورافع نے کہا، میرا خیال ہے کہ وہ عورت ہی تھی۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نقل کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر نماز پڑھی۔
حدثنا احمد بن واقد، قال حدثنا حماد، عن ثابت، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، ان امراة او رجلا كانت تقم المسجد ولا اراه الا امراة فذكر حديث النبي صلى الله عليه وسلم انه صلى على قبره
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ اور محمد بن جعفر نے شعبہ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گذشتہ رات ایک سرکش جن اچانک میرے پاس آیا۔ یا اسی طرح کی کوئی بات آپ نے فرمائی، وہ میری نماز میں خلل ڈالنا چاہتا تھا۔ لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے سوچا کہ مسجد کے کسی ستون کے ساتھ اسے باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب بھی اسے دیکھو۔ پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی یہ دعا یاد آ گئی ( جو سورۃ ص میں ہے ) ”اے میرے رب! مجھے ایسا ملک عطا کرنا جو میرے بعد کسی کو حاصل نہ ہو“۔ راوی حدیث روح نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شیطان کو ذلیل کر کے دھتکار دیا۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، قال اخبرنا روح، ومحمد بن جعفر، عن شعبة، عن محمد بن زياد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان عفريتا من الجن تفلت على البارحة او كلمة نحوها ليقطع على الصلاة، فامكنني الله منه، فاردت ان اربطه الى سارية من سواري المسجد، حتى تصبحوا وتنظروا اليه كلكم، فذكرت قول اخي سليمان رب هب لي ملكا لا ينبغي لاحد من بعدي ". قال روح فرده خاسيا
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سعید بن ابی سعید مقبری نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سوار نجد کی طرف بھیجے ( جو تعداد میں تیس تھے ) یہ لوگ بنو حنیفہ کے ایک شخص کو جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا پکڑ کر لائے۔ انہوں نے اسے مسجد کے ایک ستون میں باندھ دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ اور ( تیسرے روز ثمامہ کی نیک طبیعت دیکھ کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ثمامہ کو چھوڑ دو۔ ( رہائی کے بعد ) وہ مسجد نبوی سے قریب ایک کھجور کے باغ تک گئے۔ اور وہاں غسل کیا۔ پھر مسجد میں داخل ہوئے اور کہا «أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے سچے رسول ہیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثنا الليث، قال حدثنا سعيد بن ابي سعيد، سمع ابا هريرة، قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم خيلا قبل نجد، فجاءت برجل من بني حنيفة يقال له ثمامة بن اثال، فربطوه بسارية من سواري المسجد، فخرج اليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اطلقوا ثمامة ". فانطلق الى نخل قريب من المسجد، فاغتسل ثم دخل المسجد فقال اشهد ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا کہ کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے کہ کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے باپ عروہ بن زبیر کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ نے فرمایا کہ غزوہ خندق میں سعد ( رضی اللہ عنہ ) کے بازو کی ایک رگ ( اکحل ) میں زخم آیا تھا۔ ان کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ایک خیمہ نصب کرا دیا تاکہ آپ قریب رہ کر ان کی دیکھ بھال کیا کریں۔ مسجد ہی میں بنی غفار کے لوگوں کا بھی ایک خیمہ تھا۔ سعد رضی اللہ عنہ کے زخم کا خون ( جو رگ سے بکثرت نکل رہا تھا ) بہہ کر جب ان کے خیمہ تک پہنچا تو وہ ڈر گئے۔ انہوں نے کہا کہ اے خیمہ والو! تمہاری طرف سے یہ کیسا خون ہمارے خیمہ تک آ رہا ہے۔ پھر انہیں معلوم ہوا کہ یہ خون سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے بہہ رہا ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ کا اسی زخم کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔
حدثنا زكرياء بن يحيى، قال حدثنا عبد الله بن نمير، قال حدثنا هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت اصيب سعد يوم الخندق في الاكحل، فضرب النبي صلى الله عليه وسلم خيمة في المسجد ليعوده من قريب، فلم يرعهم وفي المسجد خيمة من بني غفار الا الدم يسيل اليهم فقالوا يا اهل الخيمة، ما هذا الذي ياتينا من قبلكم فاذا سعد يغذو جرحه دما، فمات فيها
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل سے خبر دی، انہوں نے عروہ بن زبیر سے۔ انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے، انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ سے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( حجۃ الوداع میں ) اپنی بیماری کا شکوہ کیا ( میں نے کہا کہ میں پیدل طواف نہیں کر سکتی ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کے پیچھے رہ اور سوار ہو کر طواف کر۔ پس میں نے طواف کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیت اللہ کے قریب نماز میں آیت «والطور و کتاب مسطور» کی تلاوت کر رہے تھے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل، عن عروة، عن زينب بنت ابي سلمة، عن ام سلمة، قالت شكوت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم اني اشتكي. قال " طوفي من وراء الناس وانت راكبة ". فطفت ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الى جنب البيت، يقرا بالطور وكتاب مسطور
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے قتادہ کے واسطہ سے بیان کیا، کہا ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے، ایک عباد بن بشر اور دوسرے صاحب میرے خیال کے مطابق اسید بن حضیر تھے۔ رات تاریک تھی اور دونوں اصحاب کے پاس روشن چراغ کی طرح کوئی چیز تھی جس سے ان کے آگے آگے روشنی پھیل رہی تھی پس جب وہ دونوں اصحاب ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو ہر ایک کے ساتھ ایک ایک چراغ رہ گیا جو گھر تک ساتھ رہا۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، قال حدثنا انس، ان رجلين، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم خرجا من عند النبي صلى الله عليه وسلم في ليلة مظلمة، ومعهما مثل المصباحين يضيان بين ايديهما، فلما افترقا صار مع كل واحد منهما واحد حتى اتى اهله
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے، کہا ہم سے ابونضر سالم بن ابی امیہ نے عبید بن حنین کے واسطہ سے، انہوں نے بسر بن سعید سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا اور آخرت کے رہنے میں اختیار دیا ( کہ وہ جس کو چاہے اختیار کرے ) بندے نے وہ پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے یعنی آخرت۔ یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے، میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر اللہ نے اپنے کسی بندے کو دنیا اور آخرت میں سے کسی کو اختیار کرنے کو کہا اور اس بندے نے آخرت پسند کر لی تو اس میں ان بزرگ کے رونے کی کیا وجہ ہے۔ لیکن یہ بات تھی کہ بندے سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا۔ ابوبکر آپ روئیے مت۔ اپنی صحبت اور اپنی دولت کے ذریعہ تمام لوگوں سے زیادہ مجھ پر احسان کرنے والے آپ ہی ہیں اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔ لیکن ( جانی دوستی تو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ہو سکتی ) اس کے بدلہ میں اسلام کی برادری اور دوستی کافی ہے۔ مسجد میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف کے دروازے کے سوا تمام دروازے بند کر دئیے جائیں۔
حدثنا محمد بن سنان، قال حدثنا فليح، قال حدثنا ابو النضر، عن عبيد بن حنين، عن بسر بن سعيد، عن ابي سعيد الخدري، قال خطب النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ان الله خير عبدا بين الدنيا وبين ما عنده، فاختار ما عند الله ". فبكى ابو بكر رضى الله عنه فقلت في نفسي ما يبكي هذا الشيخ ان يكن الله خير عبدا بين الدنيا وبين ما عنده فاختار ما عند الله، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم هو العبد، وكان ابو بكر اعلمنا. قال " يا ابا بكر لا تبك، ان امن الناس على في صحبته وماله ابو بكر، ولو كنت متخذا خليلا من امتي لاتخذت ابا بكر، ولكن اخوة الاسلام ومودته، لا يبقين في المسجد باب الا سد الا باب ابي بكر
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے باپ جریر بن حازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے یعلیٰ بن حکیم سے سنا، وہ عکرمہ سے نقل کرتے تھے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں باہر تشریف لائے۔ سر پہ پٹی بندھی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا، کوئی شخص بھی ایسا نہیں جس نے ابوبکر بن ابوقحافہ سے زیادہ مجھ پر اپنی جان و مال کے ذریعہ احسان کیا ہو اور اگر میں کسی کو انسانوں میں سے جانی دوست بناتا تو ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) کو بناتا۔ لیکن اسلام کا تعلق افضل ہے۔ دیکھو ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) کی کھڑکی چھوڑ کر اس مسجد کی تمام کھڑکیاں بند کر دی جائیں۔
حدثنا عبد الله بن محمد الجعفي، قال حدثنا وهب بن جرير، قال حدثنا ابي قال، سمعت يعلى بن حكيم، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه عاصب راسه بخرقة، فقعد على المنبر، فحمد الله واثنى عليه ثم قال " انه ليس من الناس احد امن على في نفسه وماله من ابي بكر بن ابي قحافة، ولو كنت متخذا من الناس خليلا لاتخذت ابا بكر خليلا، ولكن خلة الاسلام افضل، سدوا عني كل خوخة في هذا المسجد غير خوخة ابي بكر