Loading...

Loading...
کتب
۱۳ احادیث
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے خالف بن یزید نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی ہلال بن اسامہ نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دعا کرتے تھے کہ اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ، سلمہ بن ہشام اور ولید بن الولید ( رضی اللہ عنہم ) کو نجات دے۔ اے اللہ بےبس مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ قبیلہ مضر کے لوگوں کو سختی کے ساتھ پیس ڈال اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں آئی تھی۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن ابي هلال، عن هلال بن اسامة، ان ابا سلمة بن عبد الرحمن، اخبره عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يدعو في الصلاة " اللهم انج عياش بن ابي ربيعة، وسلمة بن هشام، والوليد بن الوليد، اللهم انج المستضعفين من المومنين، اللهم اشدد وطاتك على مضر، وابعث عليهم سنين كسني يوسف
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب الطائفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین خصوصیتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں گی وہ ایمان کی شیرینی پا لے گا اول یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اسے سب سے زیادہ عزیز ہوں۔ دوسرے یہ کہ وہ کسی شخص سے محبت صرف اللہ ہی کے لیے کرے تیسرے یہ کہ اسے کفر کی طرف لوٹ کر جانا اتنا ناگوار ہو جیسے آگ میں پھینک دیا جانا۔“
حدثنا محمد بن عبد الله بن حوشب الطايفي، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، عن انس رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاث من كن فيه وجد حلاوة الايمان ان يكون الله ورسوله احب اليه مما سواهما، وان يحب المرء لا يحبه الا لله، وان يكره ان يعود في الكفر، كما يكره ان يقذف في النار
ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد نے، ان سے اسماعیل نے، انہوں نے قیس سے سنا، انہوں نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے آپ کو اس حال میں پایا کہ اسلام لانے کی وجہ سے ( مکہ معظمہ میں ) عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے باندھ دیا تھا اور اب جو کچھ تم نے عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہے اس پر اگر احد پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے تو اسے ایسا ہی ہونا چاہئے۔
حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عباد، عن اسماعيل، سمعت قيسا، سمعت سعيد بن زيد، يقول لقد رايتني وان عمر موثقي على الاسلام، ولو انقض احد مما فعلتم بعثمان كان محقوقا ان ينقض
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا، ان سے خباب بن الارت رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا حال زار بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے بہت سے نبیوں اور ان پر ایمان لانے والوں کا حال یہ ہوا کہ ان میں سے کسی ایک کو پکڑ لیا جاتا اور گڑھا کھود کر اس میں انہیں ڈال دیا جاتا پھر آرا لایا جاتا اور ان کے سر پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دئیے جاتے اور لوہے کے کنگھے ان کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دئیے جاتے لیکن یہ آزمائشیں بھی انہیں اپنے دین سے نہیں روک سکتی تھیں۔ اللہ کی قسم! اس اسلام کا کام مکمل ہو گا اور ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف نہیں ہو گا اور بکریوں پر سوا بھیڑئیے کے خوف کے ( اور کسی لوٹ وغیرہ کا کوئی ڈر نہ ہو گا ) لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن اسماعيل، حدثنا قيس، عن خباب بن الارت، قال شكونا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو متوسد بردة له في ظل الكعبة فقلنا الا تستنصر لنا الا تدعو لنا. فقال " قد كان من قبلكم يوخذ الرجل فيحفر له في الارض فيجعل فيها، فيجاء بالمنشار فيوضع على راسه فيجعل نصفين، ويمشط بامشاط الحديد ما دون لحمه وعظمه، فما يصده ذلك عن دينه، والله ليتمن هذا الامر، حتى يسير الراكب من صنعاء الى حضرموت لا يخاف الا الله والذيب على غنمه، ولكنكم تستعجلون
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم مسجد میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ یہودیوں کے پاس چلو۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے اور جب ہم بیت المدراس کے پاس پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اے قوم یہود! اسلام لاؤ تم محفوظ ہو جاؤ گے۔ یہودیوں نے کہا: ابوالقاسم! آپ نے پہنچا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا بھی یہی مقصد ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا اور یہودیوں نے کہا کہ ابوالقاسم آپ نے پہنچا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی فرمایا۔ اور پھر فرمایا تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں تمہیں جلا وطن کرتا ہوں۔ پس تم میں سے جس کے پاس مال ہو اسے چاہئے کہ جلا وطن ہونے سے پہلے اسے بیچ دے ورنہ جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا الليث، عن سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال بينما نحن في المسجد اذ خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " انطلقوا الى يهود ". فخرجنا معه حتى جينا بيت المدراس فقام النبي صلى الله عليه وسلم فناداهم " يا معشر يهود اسلموا تسلموا ". فقالوا قد بلغت يا ابا القاسم. فقال " ذلك اريد "، ثم قالها الثانية. فقالوا قد بلغت يا ابا القاسم. ثم قال الثالثة فقال " اعلموا ان الارض لله ورسوله، واني اريد ان اجليكم، فمن وجد منكم بماله شييا فليبعه، والا فاعلموا انما الارض لله ورسوله
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے یزید بن حارثہ انصاری کے دو صاحبزادوں عبدالرحمٰن اور مجمع نے اور ان سے خنساء بنت خذام انصاریہ نے کہ ان کے والد نے ان کی شادی کر دی ان کی ایک شادی اس سے پہلے ہو چکی تھی ( اور اب بیوہ تھیں ) اس نکاح کو انہوں نے ناپسند کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ( اپنی ناپسندیدگی ظاہر کر دی ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو فسخ کر دیا۔
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عبد الرحمن، ومجمع، ابنى يزيد بن جارية الانصاري عن خنساء بنت خذام الانصارية، ان اباها، زوجها وهى ثيب، فكرهت ذلك، فاتت النبي صلى الله عليه وسلم فرد نكاحها
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے ابوعمرو نے جن کا نام ذکوان ہے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا عورتوں سے ان کے نکاح کے سلسلہ میں اجازت لی جائے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں۔ میں نے عرض کیا لیکن کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے گی تو وہ شرم کی وجہ سے چپ سادھ لے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، عن ابي عمرو هو ذكوان عن عايشة رضى الله عنها قالت قلت يا رسول الله يستامر النساء في ابضاعهن قال " نعم ". قلت فان البكر تستامر فتستحي فتسكت. قال " سكاتها اذنها
ہم سے ابونعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ ایک انصاری صحابی نے کسی غلام کو مدبر بنایا اور ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع ملی تو دریافت فرمایا۔ اسے مجھ سے کون خریدے گا چنانچہ نعیم بن النحام رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا۔ بیان کیا کہ پھر میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ وہ ایک قبطی غلام تھا اور پہلے ہی سال مر گیا۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، عن جابر رضى الله عنه ان رجلا، من الانصار دبر مملوكا، ولم يكن له مال غيره، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " من يشتريه مني ". فاشتراه نعيم بن النحام بثمانماية درهم. قال فسمعت جابرا يقول عبدا قبطيا مات عام اول
ہم سے حسین بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے اسباط بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبانی سلیمان بن فیروز نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، شیبانی نے کہا کہ مجھ سے عطاء ابوالحسن السوائی نے بیان کیا اور میرا یہی خیال ہے کہ انہوں نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کی۔ سورۃ المائدہ کی آیت «يا أيها الذين آمنوا لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها» بیان کیا کہ جب کوئی شخص ( زمانہ جاہلیت میں ) مر جاتا تو اس کے وارث اس کی عورت کے حقدار بنتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اس سے شادی کر لیتا اور چاہتا تو شادی نہ کرتا اس طرح مرنے والے کے وارث اس عورت پر عورت کے وارثوں سے زیادہ حق رکھتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( بیوہ عورت عدت گزارنے کے بعد مختار ہے وہ جس سے چاہے شادی کرے اس پر زبردستی کرنا ہرگز جائز نہیں ہے ) ۔
حدثنا حسين بن منصور، حدثنا اسباط بن محمد، حدثنا الشيباني، سليمان بن فيروز عن عكرمة، عن ابن عباس،. قال الشيباني وحدثني عطاء ابو الحسن السوايي،، ولا اظنه الا ذكره عن ابن عباس رضى الله عنهما {يا ايها الذين امنوا لا يحل لكم ان ترثوا النساء كرها} الاية قال كانوا اذا مات الرجل كان اولياوه احق بامراته، ان شاء بعضهم تزوجها، وان شاءوا زوجها، وان شاءوا لم يزوجها، فهم احق بها من اهلها، فنزلت هذه الاية في ذلك
اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا، انہیں صفیہ بنت ابی عبید نے خبر دی کہ حکومت کے غلاموں میں سے ایک نے حصہ خمس کی ایک باندی سے صحبت کر لی اور اس کے ساتھ زبردستی کر کے اس کی بکارت توڑ دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے غلام پر حد جاری کرائی اور اسے شہر بدر بھی کر دیا لیکن باندی پر حد نہیں جاری کی۔ کیونکہ غلام نے اس کے ساتھ زبردستی کی تھی۔ زہری نے ایسی کنواری باندی کے متعلق کہا جس کے ساتھ کسی آزاد نے ہمبستری کر لی ہو کہ حاکم کنواری باندی میں اس کی وجہ سے اس شخص سے اتنے دام بھر لے جتنے بکارت جاتے رہنے کی وجہ سے اس کے دام کم ہو گئے ہیں اور اس کو کوڑے بھی لگائے اگر آزاد مرد ثیبہ لونڈی سے زنا کرے تب خریدے۔ اماموں نے یہ حکم نہیں دیا ہے کہ اس کو کچھ مالی تاوان دینا پڑے گا بلکہ صرف حد لگائی جائے گی۔
وقال الليث حدثني نافع، ان صفية ابنة ابي عبيد، اخبرته ان عبدا من رقيق الامارة وقع على وليدة من الخمس، فاستكرهها حتى افتضها، فجلده عمر الحد ونفاه، ولم يجلد الوليدة من اجل انه استكرهها. قال الزهري في الامة البكر، يفترعها الحر، يقيم ذلك الحكم من الامة العذراء بقدر قيمتها، ويجلد، وليس في الامة الثيب في قضاء الايمة غرم، ولكن عليه الحد
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابراہیم علیہ السلام نے سارہ علیہا السلام کو ساتھ لے کر ہجرت کی تو ایک ایسی بستی میں پہنچے جس میں بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ یا ظالموں میں سے ایک ظالم رہتا تھا اس ظالم نے ابراہیم علیہ السلام کے پاس یہ حکم بھیجا کہ سارہ علیہا السلام کو اس کے پاس بھیجیں آپ نے سارہ کو بھیج دیا وہ ظالم ان کے پاس آیا تو وہ ( سارہ علیہا السلام ) وضو کر کے نماز پڑھ رہی تھیں انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں تو تو مجھ پر کافر کو نہ مسلط کر پھر ایسا ہوا کہ وہ کم بخت بادشاہ اچانک خراٹے لینے اور گر کر پاؤں ہلانے لگا۔
حدثنا ابو اليمان، حدثنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هاجر ابراهيم بسارة، دخل بها قرية فيها ملك من الملوك او جبار من الجبابرة، فارسل اليه ان ارسل الى بها. فارسل بها، فقام اليها فقامت توضا وتصلي فقالت اللهم ان كنت امنت بك وبرسولك فلا تسلط على الكافر، فغط حتى ركض برجله
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سالم نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ( کسی ظالم کے ) سپرد کرے اور جو شخص اپنے کسی بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا ہو گا اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت اور حاجت پوری کرے گا۔“
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، ان سالما، اخبره ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " المسلم اخو المسلم، لا يظلمه، ولا يسلمه، ومن كان في حاجة اخيه، كان الله في حاجته
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن سلیمان واسطی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن ابی بکر بن انس نے خبر دی اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔“ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب وہ مظلوم ہو تو میں اس کی مدد کروں گا لیکن آپ کا کیا خیال ہے جب وہ ظالم ہو گا پھر میں اس کی مدد کیسے کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت تم اسے ظلم سے روکنا کیونکہ یہی اس کی مدد ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا هشيم، اخبرنا عبيد الله بن ابي بكر بن انس، عن انس رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انصر اخاك ظالما او مظلوما ". فقال رجل يا رسول الله انصره اذا كان مظلوما، افرايت اذا كان ظالما كيف انصره قال " تحجزه او تمنعه من الظلم، فان ذلك نصره