Loading...

Loading...
کتب
۱۵ احادیث
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوشہاب عبداللہ بن نافع نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے، ان سے مجاہد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے، ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریب ہو جا، میں قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے سر کے کپڑے تکلیف دے رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزے صدقہ یا قربانی کا فدیہ دیدے۔ اور مجھے ابن عون نے خبر دی، ان سے ایوب نے بیان کیا کہ روزے تین دن کے ہوں گے اور قربانی ایک بکری کی اور ( کھانے کے لیے ) چھ مسکین ہوں گے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابو شهاب، عن ابن عون، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، قال اتيته يعني النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ادن ". فدنوت فقال " ايوذيك هوامك ". قلت نعم. قال " فدية من صيام او صدقة او نسك ". واخبرني ابن عون عن ايوب قال صيام ثلاثة ايام، والنسك شاة، والمساكين ستة
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ان کی زبان سے سنا وہ حمید بن عبدالرحمٰن سے بیان کرتے تھے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا دو مہینے متواتر روزے رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ وہ صاحب بیٹھ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں ( «عرق» ایک بڑا پیمانہ ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے جا اور اسے پورا صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا، کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر ( صدقہ کر دوں ) ؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے اور آپ کے سامنے کے دانت مبارک دکھائی دینے لگے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بچوں ہی کو کھلا دینا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن الزهري، قال سمعته من، فيه عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال هلكت. قال " ما شانك ". قال وقعت على امراتي في رمضان. قال " تستطيع تعتق رقبة ". قال لا. قال " فهل تستطيع ان تصوم شهرين متتابعين ". قال لا. قال " فهل تستطيع ان تطعم ستين مسكينا ". قال لا. قال " اجلس ". فجلس فاتي النبي صلى الله عليه وسلم بعرق فيه تمر والعرق المكتل الضخم قال " خذ هذا، فتصدق به ". قال اعلى افقر منا، فضحك النبي صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه قال " اطعمه عيالك
ہم سے محمد بن محبوب بصریٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر بن راشد نے، ان سے زہری نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی، میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کوئی غلام ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ دریافت فرمایا متواتر دو مہینے روزے رکھ سکتے ہو، انہوں نے کہا کہ نہیں۔ دریافت فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک انصاری صحابی «عرق» لے کر حاضر ہوئے، «عرق» ایک پیمانہ ہے، اس میں کھجوریں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے جا اور صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سے زیادہ ضرورت مند پر صدقہ کروں؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ ان دونوں میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا اور اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دے۔
حدثنا محمد بن محبوب، حدثنا عبد الواحد، حدثنا معمر، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال هلكت. فقال " وما ذاك ". قال وقعت باهلي في رمضان. قال " تجد رقبة ". قال لا. قال " هل تستطيع ان تصوم شهرين متتابعين ". قال لا. قال " فتستطيع ان تطعم ستين مسكينا ". قال لا. قال فجاء رجل من الانصار بعرق والعرق المكتل فيه تمر فقال " اذهب بهذا، فتصدق به ". قال على احوج منا يا رسول الله والذي بعثك بالحق ما بين لابتيها اهل بيت احوج منا. ثم قال " اذهب، فاطعمه اهلك
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے آزاد کر سکو؟ انہوں نے کہا نہیں۔ دریافت فرمایا، کیا متواتر دو مہینے تم روزے رکھ سکتے ہو؟ کہا کہ نہیں، دریافت فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ عرض کیا کہ اس کے لیے بھی میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جا اور صدقہ کر۔ انہوں نے پوچھا کہ اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ ان دونوں میدان کے درمیان ہم سے زیادہ محتاج کوئی نہیں ہے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اسے لے جا اور اپنے گھر والوں کو کھلا دے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن حميد، عن ابي هريرة، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال هلكت. قال " وما شانك ". قال وقعت على امراتي في رمضان. قال " هل تجد ما تعتق رقبة ". قال لا. قال " فهل تستطيع ان تصوم شهرين متتابعين ". قال لا. قال " فهل تستطيع ان تطعم ستين مسكينا ". قال لا اجد. فاتي النبي صلى الله عليه وسلم بعرق فيه تمر فقال " خذ هذا فتصدق به ". فقال اعلى افقر منا ما بين لابتيها افقر منا. ثم قال " خذه فاطعمه اهلك
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قاسم بن مالک مزنی نے بیان کیا، کہا ہم سے جعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک صاع تمہارے زمانہ کے مد سے ایک مد اور تہائی کے برابر ہوتا تھا۔ بعد میں عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں اس میں زیادتی کی گئی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا القاسم بن مالك المزني، حدثنا الجعيد بن عبد الرحمن، عن السايب بن يزيد، قال كان الصاع على عهد النبي صلى الله عليه وسلم مدا وثلثا بمدكم اليوم فزيد فيه في زمن عمر بن عبد العزيز
ہم سے منذر بن الولید الجارودی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوقتیبہ، سلم شعیری نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما رمضان کا فطرانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پہلے مد کے وزن سے دیتے تھے اور قسم کا کفارہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے ہی دیتے تھے۔ ابوقتیبہ نے اسی سند سے بیان کیا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا کہ ہمارا مد تمہارے مد سے بڑا ہے اور ہمارے نزدیک ترجیح صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کو ہے۔ اور مجھ سے امام مالک نے بیان کیا کہ اگر ایسا کوئی حاکم آیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے چھوٹا مد مقرر کر دے تو تم کس حساب سے ( صدقہ فطر وغیرہ ) نکا لو گے؟ میں نے عرض کیا کہ ایسی صورت میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کے حساب سے فطرہ نکالا کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ معاملہ ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کی طرف لوٹتا ہے۔
حدثنا منذر بن الوليد الجارودي، حدثنا ابو قتيبة وهو سلم حدثنا مالك، عن نافع، قال كان ابن عمر يعطي زكاة رمضان بمد النبي صلى الله عليه وسلم المد الاول، وفي كفارة اليمين بمد النبي صلى الله عليه وسلم. قال ابو قتيبة قال لنا مالك مدنا اعظم من مدكم ولا نرى الفضل الا في مد النبي صلى الله عليه وسلم. وقال لي مالك لو جاءكم امير فضرب مدا اصغر من مد النبي صلى الله عليه وسلم باى شىء كنتم تعطون قلت كنا نعطي بمد النبي صلى الله عليه وسلم قال افلا ترى ان الامر انما يعود الى مد النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! ان کے «كيل» پیمانے میں ان کے صاع اور ان کے مد میں برکت عطا فرما۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اللهم بارك لهم في مكيالهم وصاعهم ومدهم
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے داؤد بن رشید نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ان سے ابوغسان محمد بن مطرف نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے زین العابدین علی بن حسین نے، ان سے سعید ابن مرجانہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک ٹکڑے کے بدلے آزاد کرنے والے کا ایک ایک ٹکڑا جہنم سے آزاد کرے گا۔ یہاں تک کہ غلام کی شرمگاہ کے بدلے آزاد کرنے والے کی شرمگاہ بھی دوزخ سے آزاد ہو جائے گی۔“
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، حدثنا داود بن رشيد، حدثنا الوليد بن مسلم، عن ابي غسان، محمد بن مطرف عن زيد بن اسلم، عن علي بن حسين، عن سعيد ابن مرجانة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اعتق رقبة مسلمة، اعتق الله بكل عضو منه عضوا من النار، حتى فرجه بفرجه
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم کو حماد بن زید نے خبر دی، انہیں عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب نے اپنے غلام کو مدبر بنا لیا اور ان کے پاس اس غلام کے سوا اور کوئی مال نہیں تھا۔ جب اس کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ مجھ سے اس غلام کو کون خریدتا ہے۔ نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے خرید لیا۔ میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ وہ ایک قبطی غلام تھا اور پہلے سال مر گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نیلام فرما کر اس رقم سے اسے مکمل آزاد کرا دیا۔
حدثنا ابو النعمان، اخبرنا حماد بن زيد، عن عمرو، عن جابر، ان رجلا، من الانصار دبر مملوكا له، ولم يكن له مال غيره فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فقال " من يشتريه مني ". فاشتراه نعيم بن النحام بثمانماية درهم، فسمعت جابر بن عبد الله يقول عبدا قبطيا مات عام اول
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کے، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو ( آزاد کرنے کے لیے ) خریدنا چاہا، تو ان کے پہلے مالکوں نے اپنے لیے ولاء کی شرط لگائی۔ میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خرید لو، ولاء تو اسی سے ہوتی ہے جو آزاد کرتا ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، انها ارادت ان تشتري، بريرة فاشترطوا عليها الولاء، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " اشتريها انما الولاء لمن اعتق
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے غیلان بن جریر نے، ان سے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ساتھ حاضر ہوا اور آپ سے سواری کے لیے جانور مانگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں سواری کے جانور نہیں دے سکتا۔ پھر جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم ٹھہرے رہے اور جب کچھ اونٹ آئے تو تین اونٹ ہمیں دئیے جانے کا حکم فرمایا۔ جب ہم انہیں لے کر چلے تو ہم میں سے بعض نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں اللہ اس میں برکت نہیں دے گا۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے جانور مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ ہمیں سواری کے جانور نہیں دے سکتے اور آپ نے عنایت فرمائے ہیں۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے جانور کا انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو جب بھی میں کوئی قسم کھا لوں گا اور پھر اس کے سوا اور چیز میں اچھائی ہو گی تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا اور وہی کام کروں گا جس میں اچھائی ہو گی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حماد، عن غيلان بن جرير، عن ابي بردة بن ابي موسى، عن ابي موسى الاشعري، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في رهط من الاشعريين استحمله فقال " والله لا احملكم، ما عندي ما احملكم ". ثم لبثنا ما شاء الله، فاتي بابل فامر لنا بثلاثة ذود، فلما انطلقنا قال بعضنا لبعض لا يبارك الله لنا، اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم نستحمله فحلف ان لا يحملنا فحملنا. فقال ابو موسى فاتينا النبي صلى الله عليه وسلم فذكرنا ذلك له فقال " ما انا حملتكم بل الله حملكم، اني والله ان شاء الله لا احلف على يمين فارى غيرها خيرا منها، الا كفرت عن يميني، واتيت الذي هو خير وكفرت
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے (اس روایت میں یہ ترتیب اسی طرح) بیان کی کہ میں قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا اور وہ کام کروں گا جس میں اچھائی ہو گی یا ( اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) میں کام وہ کروں گا جس میں اچھائی ہو گی اور کفارہ ادا کر دوں گا۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد، وقال، " الا كفرت يميني، واتيت الذي هو خير ". او " اتيت الذي هو خير، وكفرت
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حجیر نے، ان سے طاؤس نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ سلیمان علیہ السلام نے کہا تھا کہ آج رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک بچہ جنے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔ ان کے ساتھی سفیان یعنی فرشتے نے ان سے کہا۔ اجی ان شاءاللہ تو کہو لیکن آپ بھول گئے اور پھر تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک بیوی کے سوا جس کے یہاں ناتمام بچہ ہوا تھا کسی بیوی کے یہاں بھی بچہ نہیں ہوا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو ان کی قسم بےکار نہ جاتی اور اپنی ضرورت کو پا لیتے اور ایک مرتبہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اگر انہوں نے استثناء کر دیا ہوتا۔ اور ہم سے ابوالزناد نے اعرج سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن هشام بن حجير، عن طاوس، سمع ابا هريرة، قال قال سليمان لاطوفن الليلة على تسعين امراة، كل تلد غلاما يقاتل في سبيل الله. فقال له صاحبه قال سفيان يعني الملك قل ان شاء الله. فنسي، فطاف بهن، فلم تات امراة منهن بولد، الا واحدة بشق غلام. فقال ابو هريرة يرويه قال " لو قال ان شاء الله، لم يحنث وكان دركا في حاجته ". وقال مرة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو استثنى ". وحدثنا ابو الزناد عن الاعرج مثل حديث ابي هريرة
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے قاسم تمیمی نے، ان سے زہدم جرمی نے بیان کیا کہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ہمارے قبیلہ اور اس قبیلہ جرم میں بھائی چارگی اور باہمی حسن معاملہ کی روش تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر کھانا لایا گیا اور کھانے میں مرغی کا گوشت بھی تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ حاضرین میں بنی تیم اللہ کا ایک شخص سرخ رنگ کا بھی تھا جیسے مولیٰ ہو۔ بیان کیا کہ وہ شخص کھانے پر نہیں آیا تو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ شریک ہو جاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے اسے گندگی کھاتے دیکھا تھا جب سے اس سے گھن آنے لگی اور اسی وقت میں نے قسم کھا لی کہ کبھی اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ نے کہا: قریب آؤ میں تمہیں اس کے متعلق بتاؤں گا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ آئے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صدقہ کے اونٹوں میں سے تقسیم کر رہے تھے۔ ایوب نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غصہ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری کے جانور نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو سواری کے لیے تمہیں دے سکوں۔ بیان کیا کہ پھر ہم واپس آ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ آئے، تو پوچھا گیا کہ اشعریوں کی جماعت کہاں ہے۔ ہم حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ عمدہ اونٹ دئیے جانے کا حکم دیا۔ بیان کیا کہ ہم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے لیے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ سواری کا انتظام نہیں کر سکتے۔ پھر ہمیں بلا بھیجا اور سواری کا جانور عنایت فرمائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہوں گے۔ واللہ! اگر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم کے بارے میں غفلت میں رکھا تو ہم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ چلو ہم سب آپ کے پاس واپس چلیں اور آپ کو آپ کی قسم یاد دلائیں۔ چنانچہ ہم واپس آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم پہلے آئے تھے اور آپ سے سواری کا جانور مانگا تھا تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ اس کا انتظام نہیں کر سکتے، ہم نے سمجھا کہ آپ اپنی قسم بھول گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ، تمہیں اللہ نے سواری دی ہے، واللہ اگر اللہ نے چاہا تو میں جب بھی کوئی قسم کھا لوں اور پھر دوسری چیز کو اس کے مقابل بہتر سمجھوں تو وہی کروں گا جو بہتر ہو گا اور اپنی قسم توڑ دوں گا۔ اس روایت کی متابعت حماد بن زید نے ایوب سے کی، ان سے ابوقلابہ اور قاسم بن عاصم کلیبی نے۔
مجھ سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر بن فارس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ ابن عون نے خبر دی، انہیں امام حسن بصری نے، ان سے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبھی تم حکومت کا عہدہ طلب نہ کرنا کیونکہ اگر بلا مانگے تمہیں یہ مل جائے گا تو اس میں تمہاری منجانب اللہ مدد کی جائے گی، لیکن اگر مانگنے پر ملا تو سارا بوجھ تمہیں پر ڈال دیا جائے گا اور اگر تم کوئی قسم کھا لو اور اس کے سوا کوئی اور بات بہتر نظر آئے تو وہی کرو جو بہتر ہو اور قسم کا کفارہ ادا کر دو۔ عثمان بن عمر کے ساتھ اس حدیث کو اشہل بن حاتم نے بھی عبداللہ بن عون سے روایت کیا، اس کو ابوعوانہ اور حاکم نے وصل کیا اور عبداللہ بن عون کے ساتھ اس حدیث کو یونس اور سماک بن عطیہ اور سماک بن حرب اور حمید اور قتادہ اور منصور اور ہشام اور ربیع نے بھی روایت کیا۔
حدثني محمد بن عبد الله، حدثنا عثمان بن عمر بن فارس، اخبرنا ابن عون، عن الحسن، عن عبد الرحمن بن سمرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تسال الامارة، فانك ان اعطيتها عن غير مسالة اعنت عليها، وان اعطيتها عن مسالة وكلت اليها، واذا حلفت على يمين فرايت غيرها خيرا منها، فات الذي هو خير، وكفر عن يمينك ". تابعه اشهل عن ابن عون. وتابعه يونس وسماك بن عطية وسماك بن حرب وحميد وقتادة ومنصور وهشام والربيع
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ايوب، عن القاسم التميمي، عن زهدم الجرمي، قال كنا عند ابي موسى وكان بيننا وبين هذا الحى من جرم اخاء ومعروف قال فقدم طعام قال وقدم في طعامه لحم دجاج قال وفي القوم رجل من بني تيم الله احمر كانه مولى قال فلم يدن فقال له ابو موسى ادن، فاني قد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ياكل منه. قال اني رايته ياكل شييا قذرته، فحلفت ان لا اطعمه ابدا. فقال ادن اخبرك عن ذلك، اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في رهط من الاشعريين استحمله، وهو يقسم نعما من نعم الصدقة قال ايوب احسبه قال وهو غضبان قال " والله لا احملكم، وما عندي ما احملكم ". قال فانطلقنا فاتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بنهب ابل، فقيل اين هولاء الاشعريون فاتينا فامر لنا بخمس ذود غر الذرى، قال فاندفعنا فقلت لاصحابي اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم نستحمله، فحلف ان لا يحملنا، ثم ارسل الينا فحملنا، نسي رسول الله صلى الله عليه وسلم يمينه، والله لين تغفلنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يمينه لا نفلح ابدا، ارجعوا بنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فلنذكره يمينه. فرجعنا فقلنا يا رسول الله اتيناك نستحملك، فحلفت ان لا تحملنا ثم حملتنا فظننا او فعرفنا انك نسيت يمينك. قال " انطلقوا، فانما حملكم الله، اني والله ان شاء الله لا احلف على يمين، فارى غيرها خيرا منها، الا اتيت الذي هو خير وتحللتها ". تابعه حماد بن زيد عن ايوب عن ابي قلابة والقاسم بن عاصم الكليبي. حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الوهاب، عن ايوب، عن ابي قلابة، والقاسم التميمي عن زهدم، بهذا. حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ايوب، عن القاسم، عن زهدم، بهذا