Loading...

Loading...
کتب
۸۷ احادیث
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے حمید نے، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ اس سے بےپروا ہے کہ یہ شخص اپنی جان کو عذاب میں ڈالے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چل رہا تھا اور فزاری نے بیان کیا، ان سے حمید نے، ان سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن حميد، عن ثابت، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله لغني عن تعذيب هذا نفسه ". وراه يمشي بين ابنيه. وقال الفزاري عن حميد حدثني ثابت عن انس
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے سلیمان احول نے، ان سے طاؤس نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کعبہ کا طواف لگام یا اس کے سوا کسی اور چیز کے ذریعہ کر رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کاٹ دیا۔
حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن سليمان الاحول، عن طاوس، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى رجلا يطوف بالكعبة بزمام او غيره، فقطعه
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے سلیمان احول نے خبر دی، انہیں طاؤس نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو کعبہ کا ایک شخص اس طرح طواف کر رہا تھا کہ دوسرا شخص اس کی ناک میں رسی باندھ کر اس کے آگے سے اس کی رہنمائی کر رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رسی اپنے ہاتھ سے کاٹ دی، پھر حکم دیا کہ ہاتھ سے اس کی رہنمائی کرے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني سليمان الاحول، ان طاوسا، اخبره عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم مر وهو يطوف بالكعبة بانسان يقود انسانا بخزامة في انفه، فقطعها النبي صلى الله عليه وسلم بيده، ثم امره ان يقوده بيده
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے، کہا ہم سے ایوب نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کو کھڑے دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ ابواسرائیل نامی ہیں۔ انہوں نے نذر مانی ہے کہ کھڑے ہی رہیں گے، بیٹھیں گے نہیں، نہ کسی چیز کے سایہ میں بیٹھیں گے اور نہ کسی سے بات کریں گے اور روزہ رکھیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے کہو کہ بات کریں، سایہ کے نیچے بیٹھیں اٹھیں اور اپنا روزہ پورا کر لیں۔ عبدالوہاب نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال بينا النبي صلى الله عليه وسلم يخطب اذا هو برجل قايم فسال عنه فقالوا ابو اسراييل نذر ان يقوم ولا يقعد ولا يستظل ولا يتكلم ويصوم. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " مره فليتكلم وليستظل وليقعد وليتم صومه ". قال عبد الوهاب حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن ابوبکر مقدمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حکیم بن ابی حرہ اسلمی نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ان سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے نذر مانی ہو کہ کچھ مخصوص دنوں میں روزے رکھے گا۔ پھر اتفاق سے انہیں دنوں میں بقر عید یا عید کے دن پڑ گئے ہوں؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقر عید اور عید کے دن روزے نہیں رکھتے تھے اور نہ ان دنوں میں روزے کو جائز سمجھتے تھے۔
حدثنا محمد بن ابي بكر المقدمي، حدثنا فضيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عقبة، حدثنا حكيم بن ابي حرة الاسلمي، انه سمع عبد الله بن عمر رضى الله عنهما سيل عن رجل، نذر ان لا، ياتي عليه يوم الا صام، فوافق يوم اضحى او فطر. فقال لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة، لم يكن يصوم يوم الاضحى والفطر، ولا يرى صيامهما
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ذریع نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے زیادہ بن جبیر نے بیان کیا کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے نذر مانی ہے کہ ہر منگل یا بدھ کے دن روزہ رکھوں گا۔ اتفاق سے اسی دن کی بقر عید پڑ گئی ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور ہمیں بقر عید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس شخص نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا تو آپ نے پھر اس سے صرف اتنی ہی بات کہی اس پر کوئی زیادتی نہیں کی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا يزيد بن زريع، عن يونس، عن زياد بن جبير، قال كنت مع ابن عمر فساله رجل فقال نذرت ان اصوم كل يوم ثلاثاء او اربعاء ما عشت، فوافقت هذا اليوم يوم النحر. فقال امر الله بوفاء النذر، ونهينا ان نصوم يوم النحر. فاعاد عليه فقال مثله، لا يزيد عليه
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید دیلی نے بیان کیا، ان سے ابن مطیع کے غلام ابوالغیث نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی لڑائی کے لیے نکلے۔ اس لڑائی میں ہمیں سونا، چاندی غنیمت میں نہیں ملا تھا بلکہ دوسرے اموال، کپڑے اور سامان ملا تھا۔ پھر بنی خبیب کے ایک شخص رفاعہ بن زید نامی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک غلام ہدیہ میں دیا غلام کا نام مدعم تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وادی قریٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور جب آپ وادی القریٰ میں پہنچ گئے تو مدعم کو جب کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوہ درست کر رہا تھا۔ ایک انجان تیر آ کر لگا اور اس کی موت ہو گئی۔ لوگوں نے کہا کہ جنت اسے مبارک ہو، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ کمبل جو اس نے تقسیم سے پہلے خیبر کے مال غنیمت میں سے چرا لیا تھا، وہ اس پر آگ کا انگارہ بن کر بھڑ رہا ہے۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص چپل کا تسمہ یا دو تسمے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آگ کا تسمہ ہے یا دو تسمے آگ کے ہیں۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ثور بن زيد الديلي، عن ابي الغيث، مولى ابن مطيع عن ابي هريرة، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر فلم نغنم ذهبا ولا فضة الا الاموال والثياب والمتاع، فاهدى رجل من بني الضبيب يقال له رفاعة بن زيد لرسول الله صلى الله عليه وسلم غلاما يقال له مدعم، فوجه رسول الله صلى الله عليه وسلم الى وادي القرى حتى اذا كان بوادي القرى بينما مدعم يحط رحلا لرسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سهم عاير فقتله، فقال الناس هنييا له الجنة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلا والذي نفسي بيده ان الشملة التي اخذها يوم خيبر من المغانم، لم تصبها المقاسم، لتشتعل عليه نارا ". فلما سمع ذلك الناس جاء رجل بشراك او شراكين الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " شراك من نار او شراكان من نار