Loading...

Loading...
کتب
۸۷ احادیث
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کبھی اپنی قسم نہیں توڑتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے قسم کا کفارہ اتارا۔ اس وقت انہوں نے کہا کہ اب اگر میں کوئی قسم کھاؤں گا اور اس کے سوا کوئی چیز بھلائی کی ہو گی تو میں وہی کام کروں گا جس میں بھلائی ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔
حدثنا محمد بن مقاتل ابو الحسن، اخبرنا عبد الله، اخبرنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان ابا بكر رضى الله عنه لم يكن يحنث في يمين قط، حتى انزل الله كفارة اليمين وقال لا احلف على يمين فرايت غيرها خيرا منها، الا اتيت الذي هو خير، وكفرت عن يميني
ہم سے ابونعمان محمد بن فضل سدوسی نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، کہا ہم سے امام حسن بصری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! کبھی کسی حکومت کے عہدہ کی درخواست نہ کرنا کیونکہ اگر تمہیں یہ مانگنے کے بعد ملے گا تو اللہ پاک اپنی مدد تجھ سے اٹھا لے گا، تو جان، تیرا کام جانے اور اگر وہ عہدہ تمہیں بغیر مانگے مل گیا تو اس میں اللہ کی طرف سے تمہاری اعانت کی جائے گی اور جب تم کوئی قسم کھا لو اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بھلائی کا ہو۔
حدثنا ابو النعمان، محمد بن الفضل حدثنا جرير بن حازم، حدثنا الحسن، حدثنا عبد الرحمن بن سمرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " يا عبد الرحمن بن سمرة لا تسال الامارة، فانك ان اوتيتها عن مسالة وكلت اليها، وان اوتيتها من غير مسالة اعنت عليها، واذا حلفت على يمين فرايت غيرها خيرا منها، فكفر عن يمينك، وات الذي هو خير
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے غیلان بن جریر نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں اشعری قبیلہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سواری مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ، میں تمہارے لیے سواری کا کوئی انتظام نہیں کر سکتا اور نہ میرے پاس کوئی سواری کا جانور ہے۔ بیان کیا پھر جتنے دنوں اللہ نے چاہا ہم یونہی ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد تین اچھی قسم کی اونٹنیاں لائی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمیں سواری کے لیے عنایت فرمایا۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے کہا یا ہم میں سے بعض نے کہا، واللہ! ہمیں اس میں برکت نہیں حاصل ہو گی۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہمارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتے۔ اور اب آپ نے ہمیں سواری عنایت فرمائی ہے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا چاہئے اور آپ کو قسم یاد دلانی چاہئے۔ چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری سواری کا کوئی انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا ہے اور میں، واللہ! کوئی بھی قسم اگر کھا لوں گا اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ جس میں بھلائی ہو گی یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن غيلان بن جرير، عن ابي بردة، عن ابيه، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم في رهط من الاشعريين استحمله فقال " والله لا احملكم، وما عندي ما احملكم عليه ". قال ثم لبثنا ما شاء الله ان نلبث، ثم اتي بثلاث ذود غر الذرى فحملنا عليها فلما انطلقنا قلنا او قال بعضنا والله لا يبارك لنا، اتينا النبي صلى الله عليه وسلم نستحمله، فحلف ان لا يحملنا ثم حملنا، فارجعوا بنا الى النبي صلى الله عليه وسلم فنذكره، فاتيناه فقال " ما انا حملتكم، بل الله حملكم، واني والله ان شاء الله لا احلف على يمين فارى غيرها خيرا منها، الا كفرت عن يميني، واتيت الذي هو خير ". او " اتيت الذي هو خير وكفرت عن يميني
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، ان سے ہمام بن منبہ نے بیان کیا کہ یہ وہ حدیث ہے جو ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ہم آخری امت ہیں اور قیامت کے دن جنت میں سب سے پہلے داخل ہوں گے۔“
حدثني اسحاق بن ابراهيم، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، قال هذا ما حدثنا ابو هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " نحن الاخرون السابقون يوم القيامة
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ ( بسا اوقات ) اپنے گھر والوں کے معاملہ میں تمہارا اپنی قسموں پر اصرار کرتے رہنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی بات ہوتی ہے کہ ( قسم توڑ کر ) اس کا وہ کفارہ ادا کر دیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیا ہے۔
فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والله لان يلج احدكم بيمينه في اهله اثم له عند الله من ان يعطي كفارته التي افترض الله عليه
مجھ سے اسحاق یعنی ابن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ شخص جو اپنے گھر والوں کے معاملہ میں قسم پر اڑا رہتا ہے وہ اس سے بڑا گناہ کرتا ہے کہ اس قسم کا کفارہ ادا کر دے۔“
حدثني اسحاق يعني ابن ابراهيم، حدثنا يحيى بن صالح، حدثنا معاوية، عن يحيى، عن عكرمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من استلج في اهله بيمين فهو اعظم اثما، ليبر ". يعني الكفارة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا۔ بعض لوگوں نے ان کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اگر تم لوگ اس کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے والد زید کے امیر بنائے جانے پر بھی اعتراض کر چکے ہو اور اللہ کی قسم! «وايم الله» زید امیر بنائے جانے کے قابل تھے اور مجھے سب لوگوں سے زیادہ عزیز تھے اور یہ ( اسامہ ) ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، عن اسماعيل بن جعفر، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثا وامر عليهم اسامة بن زيد، فطعن بعض الناس في امرته فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ان كنتم تطعنون في امرته فقد كنتم تطعنون، في امرة ابيه من قبل، وايم الله ان كان لخليقا للامارة، وان كان لمن احب الناس الى، وان هذا لمن احب الناس الى بعده
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے اور ان سے سالم نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم بس اتنی تھی کہ نہیں! دلوں کے پھیرنے والے اللہ کی قسم۔
حدثنا محمد بن يوسف، عن سفيان، عن موسى بن عقبة، عن سالم، عن ابن عمر، قال كانت يمين النبي صلى الله عليه وسلم " لا ومقلب القلوب
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، ان سے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی قیصر نہیں پیدا ہو گا اور جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں پیدا ہو گا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔“
حدثنا موسى، حدثنا ابو عوانة، عن عبد الملك، عن جابر بن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا هلك قيصر فلا قيصر بعده، واذا هلك كسرى فلا كسرى بعده، والذي نفسي بيده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کسریٰ ( بادشاہ ایران ) ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں پیدا ہو گا اور جب قیصر ( بادشاہ روم ) ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں پیدا ہو گا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا هلك كسرى فلا كسرى بعده، واذا هلك قيصر فلا قيصر بعده، والذي نفس محمد بيده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے مت محمد! واللہ، اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو زیادہ روتے اور کم ہنستے۔“
حدثني محمد، اخبرنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " يا امة محمد والله لو تعلمون ما اعلم لبكيتم كثيرا، ولضحكتم قليلا
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے حیوہ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابوعقیل زہرہ بن معبد نے بیان کیا، انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں، سوا میری اپنی جان کے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ( ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا ) جب تک میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پھر واللہ! اب آپ مجھے میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، عمر! اب تیرا ایمان پورا ہوا۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال اخبرني حيوة، قال حدثني ابو عقيل، زهرة بن معبد انه سمع جده عبد الله بن هشام، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم وهو اخذ بيد عمر بن الخطاب فقال له عمر يا رسول الله لانت احب الى من كل شىء الا من نفسي. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا والذي نفسي بيده حتى اكون احب اليك من نفسك ". فقال له عمر فانه الان والله لانت احب الى من نفسي. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الان يا عمر
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد، انهما اخبراه ان رجلين اختصما الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال احدهما اقض بيننا بكتاب الله. وقال الاخر وهو افقههما اجل يا رسول الله فاقض بيننا بكتاب الله، وايذن لي ان اتكلم. قال " تكلم ". قال ان ابني كان عسيفا على هذا قال مالك والعسيف الاجير زنى بامراته، فاخبروني ان على ابني الرجم، فافتديت منه بماية شاة وجارية لي، ثم اني سالت اهل العلم فاخبروني ان ما على ابني جلد ماية وتغريب عام، وانما الرجم على امراته. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله، اما غنمك وجاريتك فرد عليك ". وجلد ابنه ماية وغربه عاما، وامر انيس الاسلمي ان ياتي امراة الاخر، فان اعترفت رجمها، فاعترفت فرجمها
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد، انهما اخبراه ان رجلين اختصما الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال احدهما اقض بيننا بكتاب الله. وقال الاخر وهو افقههما اجل يا رسول الله فاقض بيننا بكتاب الله، وايذن لي ان اتكلم. قال " تكلم ". قال ان ابني كان عسيفا على هذا قال مالك والعسيف الاجير زنى بامراته، فاخبروني ان على ابني الرجم، فافتديت منه بماية شاة وجارية لي، ثم اني سالت اهل العلم فاخبروني ان ما على ابني جلد ماية وتغريب عام، وانما الرجم على امراته. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله، اما غنمك وجاريتك فرد عليك ". وجلد ابنه ماية وغربه عاما، وامر انيس الاسلمي ان ياتي امراة الاخر، فان اعترفت رجمها، فاعترفت فرجمها
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی یعقوب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بھلا بتلاؤ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے قبائل اگر تمیم، عامر بن صعصعہ، غطفان اور اسد والوں سے بہتر ہوں تو یہ تمیم اور عامر اور غطفان اور اسد والے گھاٹے میں پڑے اور نقصان میں رہے یا نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں بیشک۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پھر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ( وہ پہلے جن قبائل کا ذکر ہوا ) ان ( تمیم وغیرہ ) سے بہتر ہیں۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا وهب، حدثنا شعبة، عن محمد بن ابي يعقوب، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ارايتم ان كان اسلم وغفار ومزينة وجهينة خيرا من تميم وعامر بن صعصعة وغطفان واسد، خابوا وخسروا ". قالوا نعم. فقال " والذي نفسي بيده انهم خير منهم
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عروہ ثقفی نے خبر دی، نہیں ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عامل مقرر کیا۔ عامل اپنے کام پورے کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مال آپ کا ہے اور یہ مال مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اپنے ماں باپ کے گھر ہی میں کیوں نہیں بیٹھے رہے اور پھر دیکھتے کہ تمہیں کوئی تحفہ دیتا ہے یا نہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، رات کی نماز کے بعد اور کلمہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا کے بعد فرمایا امابعد! ایسے عامل کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم اسے عامل بناتے ہیں۔ ( جزیہ اور دوسرے ٹیکس وصول کرنے کے لیے ) اور وہ پھر ہمارے پاس آ کر کہتا ہے کہ یہ تو آپ کا ٹیکس ہے اور مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ پھر وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہیں بیٹھا اور دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی بھی اس مال میں سے کچھ بھی خیانت کرے گا تو قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے گا۔ اگر اونٹ کی اس نے خیانت کی ہو گی تو اس حال میں لے کر آئے گا کہ آواز نکل رہی ہو گی۔ اگر گائے کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں اسے لے کر آئے گا کہ گائے کی آواز آ رہی ہو گی۔ اگر بکری کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں آئے گا کہ بکری کی آواز آ رہی ہو گی۔ بس میں نے تم تک پہنچا دیا۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اتنی اوپر اٹھایا کہ ہم آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھنے لگے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھ یہ حدیث زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، تم لوگ ان سے بھی پوچھ لو۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة، عن ابي حميد الساعدي، انه اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم استعمل عاملا فجاءه العامل حين فرغ من عمله فقال يا رسول الله هذا لكم، وهذا اهدي لي. فقال له " افلا قعدت في بيت ابيك وامك فنظرت ايهدى لك ام لا ". ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم عشية بعد الصلاة فتشهد واثنى على الله بما هو اهله ثم قال " اما بعد، فما بال العامل نستعمله، فياتينا فيقول هذا من عملكم، وهذا اهدي لي. افلا قعد في بيت ابيه وامه فنظر هل يهدى له ام لا، فوالذي نفس محمد بيده لا يغل احدكم منها شييا، الا جاء به يوم القيامة يحمله على عنقه، ان كان بعيرا جاء به له رغاء، وان كانت بقرة جاء بها لها خوار، وان كانت شاة جاء بها تيعر، فقد بلغت ". فقال ابو حميد ثم رفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده حتى انا لننظر الى عفرة ابطيه. قال ابو حميد وقد سمع ذلك معي زيد بن ثابت من النبي صلى الله عليه وسلم فسلوه
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم بھی آخرت کی وہ مشکلات جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے۔“
حدثني ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام هو ابن يوسف عن معمر، عن همام، عن ابي هريرة، قال قال ابو القاسم صلى الله عليه وسلم " والذي نفس محمد بيده لو تعلمون ما اعلم لبكيتم كثيرا، ولضحكتم قليلا
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، ان سے معرور نے، ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تو آپ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے کعبہ کے رب کی قسم! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔ کعبہ کے رب کی قسم! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! میری حالت کیسی ہے، کیا مجھ میں ( بھی ) کوئی ایسی بات نظر آئی ہے؟ میری حالت کیسی ہے؟ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے، میں آپ کو خاموش نہیں کرا سکتا تھا اور اللہ کی مشیت کے مطابق مجھ پر عجیب بےقراری طاری ہو گئی۔ میں نے پھر عرض کی، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس مال زیادہ ہے۔ لیکن اس سے وہ مستثنیٰ ہیں۔ جنہوں نے اس میں سے اس اس طرح ( یعنی دائیں اور بائیں بےدریغ مستحقین پر ) اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہو گا۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، عن المعرور، عن ابي ذر، قال انتهيت اليه وهو يقول في ظل الكعبة " هم الاخسرون ورب الكعبة، هم الاخسرون ورب الكعبة " قلت ما شاني ايرى في شىء ما شاني فجلست اليه وهو يقول، فما استطعت ان اسكت، وتغشاني ما شاء الله، فقلت من هم بابي انت وامي يا رسول الله قال " الاكثرون اموالا، الا من قال هكذا وهكذا وهكذا
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سلیمان علیہ السلام نے ایک دن کہا کہ آج میں رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک کے یہاں ایک گھوڑ سوار بچہ پیدا ہو گا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ اس پر ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاءاللہ۔ لیکن سلیمان علیہ السلام نے ان شاءاللہ نہیں کہا۔ چنانچہ وہ اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک عورت کے سوا کسی کو حمل نہیں ہوا اور اس سے بھی ناقص بچہ پیدا ہوا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو ( تمام بیویوں کے یہاں بچے پیدا ہوتے ) اور سب گھوڑوں پر سوار ہو کر اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے ہوتے۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قال سليمان لاطوفن الليلة على تسعين امراة، كلهن تاتي بفارس يجاهد في سبيل الله. فقال له صاحبه ان شاء الله. فلم يقل ان شاء الله. فطاف عليهن جميعا، فلم تحمل منهن الا امراة واحدة، جاءت بشق رجل، وايم الذي نفس محمد بيده لو قال ان شاء الله. لجاهدوا في سبيل الله فرسانا اجمعون
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہدیہ کے طور پر آیا تو لوگ اسے دست بدست اپنے ہاتھوں میں لینے لگے اور اس کی خوبصورتی اور نرمی پر حیرت کرنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہیں اس پر حیرت ہے؟ صحابہ نے عرض کی جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، سعد رضی اللہ عنہ کے رومال جنت میں اس سے بھی اچھے ہیں۔ شعبہ اور اسرائیل نے ابواسحاق سے الفاظ ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے“ کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا محمد، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال اهدي الى النبي صلى الله عليه وسلم سرقة من حرير، فجعل الناس يتداولونها بينهم، ويعجبون من حسنها ولينها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتعجبون منها ". قالوا نعم يا رسول الله. قال " والذي نفسي بيده لمناديل سعد في الجنة خير منها ". لم يقل شعبة واسراييل عن ابي اسحاق " والذي نفسي بيده