Loading...

Loading...
کتب
۸۷ احادیث
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جہنم برابر یہی کہتی رہے گی کہ کیا کچھ اور ہے کیا کچھ اور ہے؟ آخر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی بس بس میں بھر گئی، تیری عزت کی قسم! اور اس کا بعض حصہ بعض کو کھانے لگے گا۔“ اس روایت کو شعبہ نے قتادہ سے نقل کیا۔
حدثنا ادم، حدثنا شيبان، حدثنا قتادة، عن انس بن مالك، قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تزال جهنم تقول هل من مزيد حتى يضع رب العزة فيها قدمه فتقول قط قط وعزتك. ويزوى بعضها الى بعض ". رواه شعبة عن قتادة
ہم سے اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بات کے متعلق سنا کہ جب تہمت لگانے والے نے ان پر تہمت لگائی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ اور ہر شخص نے مجھ سے پوری بات کا کوئی ایک حصہ ہی بیان کا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن ابی کے بارے میں مدد چاہی۔ پھر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! ( «لعمر الله» ) ہم ضرور اسے قتل کر دیں گے ( مفصل حدیث پیچھے گزر چکی ہے ) ۔
حدثنا الاويسي، حدثنا ابراهيم، عن صالح، عن ابن شهاب، ح وحدثنا حجاج، حدثنا عبد الله بن عمر النميري، حدثنا يونس، قال سمعت الزهري، قال سمعت عروة بن الزبير، وسعيد بن المسيب، وعلقمة بن وقاص، وعبيد الله بن عبد الله، عن حديث، عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم حين قال لها اهل الافك ما قالوا، فبراها الله، وكل حدثني طايفة من الحديث فقام النبي صلى الله عليه وسلم فاستعذر من عبد الله بن ابى، فقام اسيد بن حضير فقال لسعد بن عبادة لعمر الله لنقتلنه
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ آیت «لا يؤاخذكم الله باللغو» ”اللہ تعالیٰ تم سے لغو قسموں کے بارے میں پکڑ نہیں کرے گا۔“ راوی نے بیان کیا کہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ آیت «لا، والله بلى والله.» ( بے ساختہ جو قسمیں عادت بنا لی جاتی ہیں ) کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن هشام، قال اخبرني ابي، عن عايشة رضى الله عنها {لا يواخذكم الله باللغو} قال قالت انزلت في قوله لا، والله بلى والله
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر بن کدام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زرارہ بن اوفی نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان غلطیوں کو معاف کیا ہے جن کا صرف دل میں وسوسہ گزرے یا دل میں اس کے کرنے کی خواہش پیدا ہو، مگر اس کے مطابق عمل نہ ہو اور نہ بات کی ہو۔
حدثنا خلاد بن يحيى، حدثنا مسعر، حدثنا قتادة، حدثنا زرارة بن اوفى، عن ابي هريرة، يرفعه قال " ان الله تجاوز لامتي عما وسوست او حدثت به انفسها، ما لم تعمل به او تكلم
ہم سے عثمان بن الہیثم نے بیان کیا یا ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی نے عثمان بن الہیثم سے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے کہا کہ میں نے ابن شہاب سے سنا، کہا کہ مجھ سے عیسیٰ بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمرو بن العاص نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حجۃ الوداع میں ) قربانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان کو فلاں فلاں ارکان سے پہلے خیال کرتا تھا ( اس غلطی سے ان کو آگے پیچھے ادا کیا ) اس کے بعد دوسرے صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان حج کے متعلق یونہی خیال کرتا تھا ان کا اشارہ ( حلق، رمی اور نحر ) کی طرف تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یونہی کر لو ( تقدیم و تاخیر کرنے میں ) آج ان میں سے کسی کام میں کوئی حرج نہیں ہے۔ چنانچہ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس مسئلہ میں بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ کر لو کوئی حرج نہیں۔
حدثنا عثمان بن الهيثم، او محمد عنه عن ابن جريج، قال سمعت ابن شهاب، يقول حدثني عيسى بن طلحة، ان عبد الله بن عمرو بن العاص، حدثه ان النبي صلى الله عليه وسلم بينما هو يخطب يوم النحر اذ قام اليه رجل فقال كنت احسب يا رسول الله كذا وكذا قبل كذا وكذا. ثم قام اخر فقال يا رسول الله كنت احسب كذا وكذا لهولاء الثلاث. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " افعل ولا حرج " لهن كلهن يوميذ، فما سيل يوميذ عن شىء الا قال " افعل ولا حرج
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف زیارت کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ تیسرے نے کہا کہ میں نے رمی کرنے سے پہلے ہی ذبح کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابو بكر، عن عبد العزيز بن رفيع، عن عطاء، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم زرت قبل ان ارمي. قال " لا حرج ". قال اخر حلقت قبل ان اذبح. قال " لا حرج ". قال اخر ذبحت قبل ان ارمي. قال " لا حرج
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کے لیے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کنارے تشریف رکھتے تھے۔ پھر وہ صحابی آئے اور سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا پھر نماز پڑھ، اس لیے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گئے اور پھر نماز پڑھ کر آئے اور سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی ان سے یہی فرمایا کہ واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ آخر تیسری مرتبہ میں وہ صحابی بولے کہ پھر مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوا کرو تو پہلے پوری طرح وضو کر لیا کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر کہو اور جو کچھ قرآن مجید میں تمہیں یاد ہے اور تم آسانی کے ساتھ پڑھ سکتے ہو اسے پڑھا کرو، پھر رکوع کرو اور سکون کے ساتھ رکوع کر چکو تو اپنا سر اٹھاؤ اور جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو سجدہ کرو، جب سجدے کی حالت میں اچھی طرح ہو جاؤ تو سجدہ سے سر اٹھاؤ، یہاں تک کہ سیدھے ہو جاؤ اور اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو اور جب اطمینان سے سجدہ کر لو تو سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، یہ عمل تم اپنی پوری نماز میں کرو۔
حدثني اسحاق بن منصور، حدثنا ابو اسامة، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة، ان رجلا، دخل المسجد يصلي ورسول الله صلى الله عليه وسلم في ناحية المسجد، فجاء فسلم عليه فقال له " ارجع فصل، فانك لم تصل ". فرجع فصلى، ثم سلم فقال " وعليك، ارجع فصل، فانك لم تصل ". قال في الثالثة فاعلمني. قال " اذا قمت الى الصلاة فاسبغ الوضوء، ثم استقبل القبلة فكبر، واقرا بما تيسر معك من القران، ثم اركع حتى تطمين راكعا، ثم ارفع راسك حتى تعتدل قايما، ثم اسجد حتى تطمين، ساجدا ثم ارفع حتى تستوي وتطمين جالسا، ثم اسجد حتى تطمين ساجدا، ثم ارفع حتى تستوي قايما، ثم افعل ذلك في صلاتك كلها
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب احد کی لڑائی میں مشرک شکست کھا گئے اور اپنی شکست ان میں مشہور ہو گئی تو ابلیس نے چیخ کر کہا ( مسلمانوں سے ) کہ اے للہ کے بندو! پیچھے دشمن ہے چنانچہ آگے کے لوگ پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والے ( مسلمانوں ہی سے ) لڑ پڑے۔ اس حالت میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ ان کے مسلمان والد کو بےخبری میں مار رہے ہیں تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ یہ تو میرے والد ہیں جو مسلمان ہیں، میرے والد! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم لوگ پھر بھی باز نہیں آئے اور آخر انہیں قتل کر ہی ڈالا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ نے بیان کیا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی اس طرح شہادت کا آخر وقت تک رنج اور افسوس ہی رہا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔
حدثنا فروة بن ابي المغراء، حدثنا علي بن مسهر، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت هزم المشركون يوم احد هزيمة تعرف فيهم، فصرخ ابليس اى عباد الله اخراكم، فرجعت اولاهم فاجتلدت هي واخراهم، فنظر حذيفة بن اليمان فاذا هو بابيه فقال ابي ابي. قالت فوالله ما انحجزوا حتى قتلوه، فقال حذيفة غفر الله لكم. قال عروة فوالله ما زالت في حذيفة منها بقية حتى لقي الله
مجھ سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عوف اعرابی نے بیان کیا، ان سے خلاص بن عمرو اور محمد بن سیرین نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے روزہ رکھا ہو اور بھول کر کھا لیا ہو تو اسے اپنا روزہ پورا کر لینا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔“
حدثني يوسف بن موسى، حدثنا ابو اسامة، قال حدثني عوف، عن خلاس، ومحمد، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من اكل ناسيا وهو صايم فليتم صومه، فانما اطعمه الله وسقاه
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے عبداللہ بن بجینہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعات کے بعد بیٹھنے سے پہلے ہی اٹھ گئے اور نماز پوری کر لی۔ جب نماز پڑھ چکے تو لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کا انتظار کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ کیا، پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور دوبارہ تکبیر کہہ کر سجدہ کیا۔ پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور سلام پھیرا۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن الاعرج، عن عبد الله ابن بحينة، قال صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم فقام في الركعتين الاوليين قبل ان يجلس، فمضى في صلاته، فلما قضى صلاته انتظر الناس تسليمه، وسجد قبل ان يسلم، ثم رفع راسه، ثم كبر وسجد، ثم رفع راسه وسلم
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے عبدالعزیز بن عبدالصمد سے سنا، کہا ہم سے منصور بن معتمر نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی اور نماز میں کوئی چیز زیادہ یا کم کر دی۔ منصور نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں ابراہیم کو شبہ ہوا تھا یا علقمہ کو۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ! نماز میں کچھ کمی کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس اس طرح نماز پڑھائی ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو سجدے ( سہو کے ) کئے اور فرمایا یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں جسے یقین نہ ہو کہ اس نے اپنی نماز میں کمی یا زیادہ کر دی ہے اسے چاہئے کہ صحیح بات تک پہنچنے کے لیے ذہن پر زور ڈالے اور جو باقی رہ گیا ہو اسے پورا کرے پھر دو سجدے ( سہو کے ) کر لے۔
حدثني اسحاق بن ابراهيم، سمع عبد العزيز بن عبد الصمد، حدثنا منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن ابن مسعود رضى الله عنه ان نبي الله صلى الله عليه وسلم صلى بهم صلاة الظهر، فزاد او نقص منها قال منصور لا ادري ابراهيم وهم ام علقمة قال قيل يا رسول الله اقصرت الصلاة ام نسيت قال " وما ذاك ". قالوا صليت كذا وكذا. قال فسجد بهم سجدتين ثم قال " هاتان السجدتان لمن لا يدري، زاد في صلاته ام نقص، فيتحرى الصواب، فيتم ما بقي، ثم يسجد سجدتين
ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا مجھ کو سعید بن جبیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آیت «لا تؤاخذني بما نسيت ولا ترهقني من أمري عسرا» کے متعلق کہ پہلی مرتبہ اعتراض موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر ہوا تھا۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو بن دينار، اخبرني سعيد بن جبير، قال قلت لابن عباس فقال حدثنا ابى بن كعب، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم {لا تواخذني بما نسيت ولا ترهقني من امري عسرا} قال " كانت الاولى من موسى نسيانا
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ محمد بن بشار نے مجھے لکھا کہ ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے شعبی نے بیان کیا، کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان کے یہاں کچھ ان کے مہمان ٹھہرے ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ان کے واپس آنے سے پہلے جانور ذبح کر لیں تاکہ ان کے مہمان کھائیں، چنانچہ انہوں نے نماز عید الاضحی سے پہلے جانور ذبح کر لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نماز کے بعد دوبارہ ذبح کریں۔ براء رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے پاس ایک سال سے زیادہ دودھ والی بکری ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بڑھ کر ہے۔ ابن عوف شعبی کی حدیث کے اس مقام پر ٹھہر جاتے تھے اور محمد بن سیرین سے اسی حدیث کی طرح حدیث بیان کرتے تھے اور اس مقام پر رک کر کہتے تھے کہ مجھے معلوم نہیں، یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے یا صرف براء رضی اللہ عنہ کے لیے ہی تھی۔ اس کی روایت ایوب نے ابن سیرین سے کی ہے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
قال ابو عبد الله كتب الى محمد بن بشار حدثنا معاذ بن معاذ، حدثنا ابن عون، عن الشعبي، قال قال البراء بن عازب وكان عندهم ضيف لهم فامر اهله ان يذبحوا قبل ان يرجع، لياكل ضيفهم، فذبحوا قبل الصلاة، فذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فامره ان يعيد الذبح. فقال يا رسول الله عندي عناق جذع، عناق لبن هي خير من شاتى لحم. فكان ابن عون يقف في هذا المكان عن حديث الشعبي، ويحدث عن محمد بن سيرين بمثل هذا الحديث، ويقف في هذا المكان ويقول لا ادري ابلغت الرخصة غيره ام لا. رواه ايوب عن ابن سيرين عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے اسود بن قیس نے کہا کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اس وقت تک موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو اسے چاہئے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ابھی ذبح نہ کیا ہو اسے چاہئے کہ اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کرے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن الاسود بن قيس، قال سمعت جندبا، قال شهدت النبي صلى الله عليه وسلم صلى يوم عيد ثم خطب ثم قال " من ذبح فليبدل مكانها، ومن لم يكن ذبح فليذبح باسم الله
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو نضر نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، کہا ہم سے فراس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کی ناحق جان لینا اور «يمين الغموس .» قصداً جھوٹی قسم کھانے کو کہتے ہیں۔
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا النضر، اخبرنا شعبة، حدثنا فراس، قال سمعت الشعبي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الكباير الاشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، واليمين الغموس
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين صبر، يقتطع بها مال امري مسلم، لقي الله وهو عليه غضبان ". فانزل الله تصديق ذلك {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا} الى اخر الاية. فدخل الاشعث بن قيس فقال ما حدثكم ابو عبد الرحمن، فقالوا كذا وكذا. قال في انزلت، كانت لي بير في ارض ابن عم لي فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " بينتك او يمينه ". قلت اذا يحلف عليها يا رسول الله. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين صبر، وهو فيها فاجر، يقتطع بها مال امري مسلم، لقي الله يوم القيامة، وهو عليه غضبان
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين صبر، يقتطع بها مال امري مسلم، لقي الله وهو عليه غضبان ". فانزل الله تصديق ذلك {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا} الى اخر الاية. فدخل الاشعث بن قيس فقال ما حدثكم ابو عبد الرحمن، فقالوا كذا وكذا. قال في انزلت، كانت لي بير في ارض ابن عم لي فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " بينتك او يمينه ". قلت اذا يحلف عليها يا رسول الله. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين صبر، وهو فيها فاجر، يقتطع بها مال امري مسلم، لقي الله يوم القيامة، وهو عليه غضبان
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھیوں نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری کے جانور مانگنے کے لیے بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہارے لیے کوئی سواری کا جانور نہیں دے سکتا ( کیونکہ موجود نہیں ہیں ) جب میں آپ کے سامنے آیا تو آپ کچھ خفگی میں تھے۔ پھر جب دوبارہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ساتھیوں کے پاس جا اور کہہ کہ اللہ تعالیٰ نے یا ( یہ کہا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے سواری کا انتظام کر دیا۔
حدثني محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال ارسلني اصحابي الى النبي صلى الله عليه وسلم اساله الحملان فقال " والله لا احملكم على شىء ". ووافقته وهو غضبان فلما اتيته قال " انطلق الى اصحابك فقل ان الله او ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحملكم
ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن المسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہم سے سنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان کی بات کے متعلق، جب ان پر اتہام لگانے والوں نے اتہام لگایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس اتہام سے بری قرار دیا تھا، ان سب لوگوں نے مجھ سے اس قصہ کا کوئی ایک ٹکڑا بیان کیا ( اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إن الذين جاءوا بالإفك» کہ ”بلاشبہ جن لوگوں نے جھوٹی تہمت لگائی ہے“ دس آیتوں تک۔ جو سب کی سب میری پاکی بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی تھیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، مسطح رضی اللہ عنہ کے ساتھ قرابت کی وجہ سے ان کا خرچ اپنے ذمہ لیے ہوئے تھے، کہا کہ اللہ کی قسم اب کبھی مسطح پر کوئی چیز ایک پیسہ خرچ نہیں کروں گا۔ اس کے بعد کہ اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا پر اس طرح کی جھوٹی تہمت لگائی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ولا يأتل أولو الفضل منكم والسعة أن يؤتوا أولي القربى» الخ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا، کیوں نہیں، اللہ کی قسم میں تو یہی پسند کرتا ہوں کہ اللہ میری مغفرت کر دے۔ چنانچہ انہوں نے پھر مسطح کو وہ خرچ دینا شروع کر دیا جو اس سے پہلے انہیں دیا کرتے تھے اور کہا کہ اللہ کی قسم میں اب خرچ دینے کو کبھی نہیں روکوں گا۔
حدثنا عبد العزيز، حدثنا ابراهيم، عن صالح، عن ابن شهاب، ح وحدثنا الحجاج، حدثنا عبد الله بن عمر النميري، حدثنا يونس بن يزيد الايلي، قال سمعت الزهري، قال سمعت عروة بن الزبير، وسعيد بن المسيب، وعلقمة بن وقاص، وعبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن حديث، عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم حين قال لها اهل الافك ما قالوا، فبراها الله مما قالوا كل حدثني طايفة من الحديث فانزل الله {ان الذين جاءوا بالافك} العشر الايات كلها في براءتي. فقال ابو بكر الصديق وكان ينفق على مسطح لقرابته منه والله لا انفق على مسطح شييا ابدا، بعد الذي قال لعايشة. فانزل الله {ولا ياتل اولو الفضل منكم والسعة ان يوتوا اولي القربى} الاية. قال ابو بكر بلى والله اني لاحب ان يغفر الله لي. فرجع الى مسطح النفقة التي كان ينفق عليه وقال والله لا انزعها عنه ابدا
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے قاسم نے، ان سے زہدم نے بیان کیا کہ ہم ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے بیان کیا کہ میں قبیلہ اشعر کے چند ساتھیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ غصہ تھے پھر ہم نے آپ سے سواری کا جانور مانگا تو آپ نے قسم کھا لی کہ آپ ہمارے لیے اس کا انتظام نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد فرمایا: واللہ، اللہ نے چاہا تو میں کبھی بھی اگر کوئی قسم کھا لوں گا اور اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور قسم توڑ دوں گا۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ايوب، عن القاسم، عن زهدم، قال كنا عند ابي موسى الاشعري قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في نفر من الاشعريين، فوافقته وهو غضبان فاستحملناه، فحلف ان لا يحملنا ثم قال " والله ان شاء الله لا احلف على يمين فارى غيرها خيرا منها، الا اتيت الذي هو خير وتحللتها