Loading...

Loading...
کتب
۱۸۲ احادیث
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوالغیث نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن لوگ پسینے میں شرابور ہو جائیں گے اور حالت یہ ہو جائے گی کہ تم میں سے ہر کسی کا پسینہ زمین پر ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا اور منہ تک پہنچ کر کانوں کو چھونے لگے گا۔“
حدثني عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني سليمان، عن ثور بن زيد، عن ابي الغيث، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يعرق الناس يوم القيامة حتى يذهب عرقهم في الارض سبعين ذراعا، ويلجمهم حتى يبلغ اذانهم
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے شقیق نے بیان کیا، کہا میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے پہلے جس چیز کا فیصلہ لوگوں کے درمیان ہو گا وہ ناحق خون کے بدلہ کا ہو گا۔“
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثني شقيق، سمعت عبد الله رضى الله عنه قال النبي صلى الله عليه وسلم " اول ما يقضى بين الناس بالدماء
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہئے کہ اس سے ( اس دنیا میں ) معاف کرا لے۔ اس لیے کہ آخرت میں روپے پیسے نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے ( معاف کرا لے ) کہ اس کے بھائی کے لیے اس کی نیکیوں میں سے حق دلایا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو اس ( مظلوم ) بھائی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔“
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من كانت عنده مظلمة لاخيه فليتحلله منها، فانه ليس ثم دينار ولا درهم من قبل ان يوخذ لاخيه من حسناته، فان لم يكن له حسنات اخذ من سييات اخيه، فطرحت عليه
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا اس آیت کے بارے میں «ونزعنا ما في صدورهم من غل» کہا کہ ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے ابوالمتوکل ناجی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومنین جہنم سے چھٹکارا پا جائیں گے لیکن دوزخ و جنت کے درمیان ایک پل پر انہیں روک لیا جائے گا اور پھر ایک کے دوسرے پر ان مظالم کا بدلہ لیا جائے گا جو دنیا میں ان کے درمیان آپس میں ہوئے تھے اور جب کانٹ چھانٹ کر لی جائے گی اور صفائی ہو جائے گی تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت ملے گی۔ پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! جنتیوں میں سے ہر کوئی جنت میں اپنے گھر کو دنیا کے اپنے گھر کے مقابلہ میں زیادہ بہتر طریقے پر پہچان لے گا۔“
حدثني الصلت بن محمد، حدثنا يزيد بن زريع، {ونزعنا ما في صدورهم من غل} قال حدثنا سعيد عن قتادة عن ابي المتوكل الناجي ان ابا سعيد الخدري رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يخلص المومنون من النار، فيحبسون على قنطرة بين الجنة والنار، فيقص لبعضهم من بعض، مظالم كانت بينهم في الدنيا، حتى اذا هذبوا ونقوا اذن لهم في دخول الجنة، فوالذي نفس محمد بيده لاحدهم اهدى بمنزله في الجنة منه بمنزله كان في الدنيا
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے عثمان بن اسود نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کے حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو ضرور عذاب ہو گا۔“ وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں ہے «فسوف يحاسب حسابا يسيرا» ”پھر عنقریب ان سے ہلکا حساب لیا جائے گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد صرف پیشی ہے۔
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن عثمان بن الاسود، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من نوقش الحساب عذب ". قالت قلت اليس يقول الله تعالى {فسوف يحاسب حسابا يسيرا}. قال " ذلك العرض ". حدثني عمرو بن علي، حدثنا يحيى، عن عثمان بن الاسود، سمعت ابن ابي مليكة، قال سمعت عايشة رضى الله عنها قالت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم مثله. وتابعه ابن جريج ومحمد بن سليم وايوب وصالح بن رستم عن ابن ابي مليكة عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن ابوصغیرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص سے بھی قیامت کے دن حساب لیا گیا پس وہ ہلاک ہوا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے خود نہیں فرمایا ہے «فأما من أوتي كتابه بيمينه * فسوف يحاسب حسابا يسيرا» کہ ”پس جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو عنقریب اس سے ایک آسان حساب لیا جائے گا۔“ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو صرف پیشی ہو گی۔ ( اللہ رب العزت کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ) قیامت کے دن جس کے بھی حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو عذاب یقینی ہو گا۔
حدثني اسحاق بن منصور، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا حاتم بن ابي صغيرة، حدثنا عبد الله بن ابي مليكة، حدثني القاسم بن محمد، حدثتني عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليس احد يحاسب يوم القيامة الا هلك ". فقلت يا رسول الله اليس قد قال الله تعالى {فاما من اوتي كتابه بيمينه * فسوف يحاسب حسابا يسيرا} فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما ذلك العرض، وليس احد يناقش الحساب يوم القيامة الا عذب
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن معمر نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ قیامت کے دن کافر کو لایا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر زمین بھر کر تمہارے پاس سونا ہو تو کیا سب کو ( اپنی نجات کے لیے ) فدیہ میں دے دو گے؟ وہ کہے گا کہ ہاں، تو اس وقت اس سے کہا جائے گا کہ تم سے اس سے بہت آسان چیز کا ( دنیا میں ) مطالبہ کیا گیا تھا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم وحدثني محمد بن معمر، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا سعيد، عن قتادة، حدثنا انس بن مالك رضى الله عنه ان نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يقول " يجاء بالكافر يوم القيامة فيقال له ارايت لو كان لك ملء الارض ذهبا اكنت تفتدي به فيقول نعم. فيقال له قد كنت سيلت ما هو ايسر من ذلك
مجھ سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خیثمہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں ہر ہر فرد سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس طرح کلام کرے گا کہ اللہ کے اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا۔ پھر وہ دیکھے گا تو اس کے آگے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی۔ پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا اور اس کے سامنے آگ ہو گی۔ پس تم میں سے جو شخص بھی چاہے کہ وہ آگ سے بچے تو وہ اللہ کی راہ میں خیر خیرات کرتا رہے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہی ممکن ہو۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي قال، حدثني الاعمش، قال حدثني خيثمة، عن عدي بن حاتم، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ما منكم من احد الا وسيكلمه الله يوم القيامة، ليس بين الله وبينه ترجمان، ثم ينظر فلا يرى شييا قدامه، ثم ينظر بين يديه فتستقبله النار، فمن استطاع منكم ان يتقي النار ولو بشق تمرة
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے بچو، پھر آپ نے چہرہ پھیر لیا، پھر فرمایا کہ جہنم سے بچو اور پھر اس کے بعد چہرہ مبارک پھیر لیا، پھر فرمایا جہنم سے بچو۔ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ ہم نے اس سے یہ خیال کیا کہ آپ جہنم دیکھ رہے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جہنم سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ ہو سکے اور جسے یہ بھی نہ ملے تو اسے ( لوگوں میں ) کسی اچھی بات کہنے کے ذریعہ سے ہی ( جہنم سے ) بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
قال الاعمش حدثني عمرو، عن خيثمة، عن عدي بن حاتم، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اتقوا النار ". ثم اعرض واشاح، ثم قال " اتقوا النار ". ثم اعرض واشاح ثلاثا، حتى ظننا انه ينظر اليها، ثم قال " اتقوا النار ولو بشق تمرة، فمن لم يجد فبكلمة طيبة
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے، کہا ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا (دوسری سند) اور مجھ سے اسید بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا کہ میں سعید بن جبیر کی خدمت میں موجود تھا اس وقت انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں کسی نبی کے ساتھ پوری امت گزری، کسی نبی کے ساتھ چند آدمی گزرے، کسی نبی کے ساتھ دس آدمی گزرے، کسی نبی کے ساتھ پانچ آدمی گزرے اور کوئی نبی تنہا گزرا۔ پھر میں نے دیکھا تو انسانوں کی ایک بہت بڑی جماعت دور سے نظر آئی۔ میں نے جبرائیل سے پوچھا کیا یہ میری امت ہے؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ افق کی طرف دیکھو۔ میں نے دیکھا تو ایک بہت زبردست جماعت دکھائی دی۔ فرمایا کہ یہ ہے آپ کی امت اور یہ جو آگے آگے ستر ہزار کی تعداد ہے ان لوگوں سے حساب نہ لیا جائے گا اور نہ ان پر عذاب ہو گا۔ میں نے پوچھا: ایسا کیوں ہو گا؟ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ داغ نہیں لگواتے تھے۔ دم جھاڑ نہیں کرواتے تھے، شگون نہیں لیتے تھے، اپنے رب پر بھروسہ کرتے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ اٹھ کر بڑھے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان لوگوں میں کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! انہیں بھی ان میں سے کر دے۔ اس کے بعد ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ میرے لیے بھی دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ اس میں تم سے آگے بڑھ گئے۔
حدثنا عمران بن ميسرة، حدثنا ابن فضيل، حدثنا حصين،. وحدثني اسيد بن زيد، حدثنا هشيم، عن حصين، قال كنت عند سعيد بن جبير فقال حدثني ابن عباس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " عرضت على الامم، فاخذ النبي يمر معه الامة، والنبي يمر معه النفر، والنبي يمر معه العشرة، والنبي يمر معه الخمسة، والنبي يمر وحده، فنظرت فاذا سواد كثير قلت يا جبريل هولاء امتي قال لا ولكن انظر الى الافق. فنظرت فاذا سواد كثير. قال هولاء امتك، وهولاء سبعون الفا قدامهم، لا حساب عليهم ولا عذاب. قلت ولم قال كانوا لا يكتوون، ولا يسترقون، ولا يتطيرون، وعلى ربهم يتوكلون ". فقام اليه عكاشة بن محصن فقال ادع الله ان يجعلني منهم. قال " اللهم اجعله منهم ". ثم قام اليه رجل اخر قال ادع الله ان يجعلني منهم. قال " سبقك بها عكاشة
ہم سے معاذ بن اسد مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس بن یزید نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی ایک جماعت جنت میں داخل ہو گی جس کی تعداد ستر ہزار ہو گی۔ ان کے چہرے اس طرح روشن ہوں گے جیسے چودہویں رات کا چاند روشن ہوتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اپنی دھاری دار کملی جو ان کے جسم پر تھی، اٹھاتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! انہیں بھی ان میں سے کر دے۔ اس کے بعد ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔
حدثنا معاذ بن اسد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، قال حدثني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، حدثه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يدخل من امتي زمرة هم سبعون الفا، تضيء وجوههم اضاءة القمر ليلة البدر ". وقال ابو هريرة فقام عكاشة بن محصن الاسدي يرفع نمرة عليه فقال يا رسول الله ادع الله ان يجعلني منهم. قال " اللهم اجعله منهم ". ثم قام رجل من الانصار فقال يا رسول الله ادع الله ان يجعلني منهم. فقال " سبقك عكاشة
ہم سے سعید بن ابومریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں میری امت کے ستر ہزار یا سات لاکھ ( راوی کو ان میں سے کسی ایک تعداد میں شک تھا ) آدمی اس طرح داخل ہوں گے کہ بعض بعض کو پکڑے ہوئے ہوں گے اور اس طرح ان میں کے اگلے پچھلے سب جنت میں داخل ہو جائیں گے اور ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔“
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا ابو غسان، قال حدثني ابو حازم، عن سهل بن سعد، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ليدخلن الجنة من امتي سبعون الفا او سبعماية الف شك في احدهما متماسكين، اخذ بعضهم ببعض، حتى يدخل اولهم واخرهم الجنة، ووجوههم على ضوء القمر ليلة البدر
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، کہا ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اہل جنت جنت میں اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو ایک آواز دینے والا ان کے درمیان کھڑا ہو کر پکارے گا کہ اے جہنم والو! اب تمہیں موت نہیں آئے گی اور اے جنت والو! تمہیں بھی موت نہیں آئے گی بلکہ ہمیشہ یہیں رہنا ہو گا۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح، حدثنا نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا دخل اهل الجنة الجنة، واهل النار النار، ثم يقوم موذن بينهم يا اهل النار لا موت، ويا اهل الجنة لا موت، خلود
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اہل جنت سے کہا جائے گا کہ اے اہل جنت! ہمیشہ ( تمہیں یہیں ) رہنا ہے، تمہیں موت نہیں آئے گی اور اہل دوزخ سے کہا جائے گا کہ اے دوزخ والو! ہمیشہ ( تم کو یہیں ) رہنا ہے، تم کو موت نہیں آئے گی۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " يقال لاهل الجنة خلود لا موت. ولاهل النار يا اهل النار خلود لا موت
ہم سے عثمان بن ہثیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف بن ابی جمیلہ نے بیان کیا، ان سے ابورجاء عمران عطاردی نے، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو وہاں رہنے والے اکثر غریب لوگ تھے اور میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا ( شب معراج میں ) تو وہاں عورتیں تھیں۔
حدثنا عثمان بن الهيثم، حدثنا عوف، عن ابي رجاء، عن عمران، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اطلعت في الجنة فرايت اكثر اهلها الفقراء واطلعت في النار فرايت اكثر اهلها النساء
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، انہیں ابوعثمان نہدی نے، انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو وہاں اکثر داخل ہونے والے محتاج لوگ تھے اور محنت مزدوری کرنے والے تھے اور مالدار لوگ ایک طرف روکے گئے ہیں، ان کا حساب لینے کے لیے باقی ہے اور جو لوگ دوزخی تھے وہ تو دوزخ کے لیے بھیج دئیے گئے اور میں نے جہنم کے دروازے پر کھڑے ہو کر دیکھا تو اس میں اکثر داخل ہونے والی عورتیں تھیں۔“
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، اخبرنا سليمان التيمي، عن ابي عثمان، عن اسامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " قمت على باب الجنة فكان عامة من دخلها المساكين، واصحاب الجد محبوسون، غير ان اصحاب النار قد امر بهم الى النار، وقمت على باب النار فاذا عامة من دخلها النساء
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو عمر بن محمد بن زید نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اہل جنت جنت میں چلے جائیں گے اور اہل دوزخ دوزخ میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا اور اسے جنت اور دوزخ کے درمیان رکھ کر ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ اے جنت والو! تمہیں اب موت نہیں آئے گی اور اے دوزخ والو! تمہیں بھی اب موت نہیں آئے گی۔ اس بات سے جنتی اور زیادہ خوش ہو جائیں گے اور جہنمی اور زیادہ غمگین ہو جائیں گے۔“
حدثنا معاذ بن اسد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا عمر بن محمد بن زيد، عن ابيه، انه حدثه عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا صار اهل الجنة الى الجنة، واهل النار الى النار، جيء بالموت حتى يجعل بين الجنة والنار، ثم يذبح، ثم ينادي مناد يا اهل الجنة لا موت، يا اهل النار لا موت، فيزداد اهل الجنة فرحا الى فرحهم. ويزداد اهل النار حزنا الى حزنهم
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی، انہیں زید بن اسلم نے، انہیں عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا کہ اے جنت والو! جنتی جواب دیں گے ہم حاضر ہیں اے ہمارے پروردگار! تیری سعادت حاصل کرنے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اب تم لوگ خوش ہوئے؟ وہ کہیں گے اب بھی بھلا ہم راضی نہ ہوں گے کیونکہ اب تو، تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا جو اپنی مخلوق کے کسی آدمی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز دوں گا۔ جنتی کہیں گے اے رب! اس سے بہتر اور کیا چیز ہو گی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب میں تمہارے لیے اپنی رضا مندی کو ہمیشہ کے لیے دائمی کر دوں گا یعنی اس کے بعد کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔
حدثنا معاذ بن اسد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا مالك بن انس، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله يقول لاهل الجنة يا اهل الجنة. يقولون لبيك ربنا وسعديك. فيقول هل رضيتم فيقولون وما لنا لا نرضى وقد اعطيتنا ما لم تعط احدا من خلقك. فيقول انا اعطيكم افضل من ذلك. قالوا يا رب واى شىء افضل من ذلك فيقول احل عليكم رضواني فلا اسخط عليكم بعده ابدا
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق ابراہیم بن محمد نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شہید ہو گئے۔ وہ اس وقت نوعمر تھے تو ان کی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے کہ حارثہ سے مجھے کتنی محبت تھی، ( آپ مجھے بتائیں ) اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کر لوں گی اور صبر پر ثواب کی امیدوار رہوں گی اور اگر کوئی اور بات ہے تو آپ دیکھیں گے کہ میں اس کے لیے کیا کرتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس کیا تم پاگل ہو گئی ہو؟ جنت ایک ہی نہیں ہے، بہت سی جنتیں ہیں اور وہ ( حارثہ ) جنت الفردوس میں ہے۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا ابو اسحاق، عن حميد، قال سمعت انسا، يقول اصيب حارثة يوم بدر وهو غلام، فجاءت امه الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله قد عرفت منزلة حارثة مني، فان يك في الجنة اصبر واحتسب، وان تكن الاخرى ترى ما اصنع. فقال " ويحك اوهبلت اوجنة واحدة هي جنان كثيرة، وانه لفي جنة الفردوس
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم کو فصل بن موسیٰ نے خبر دی، کہا ہم کو فصیل نے خبر دی، انہیں حازم نے، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کافر کے دونوں شانوں کے درمیان تیز چلنے والے کے لیے تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہو گا۔“
حدثنا معاذ بن اسد، اخبرنا الفضل بن موسى، اخبرنا الفضيل، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال "ما بين منكبى الكافر مسيرة ثلاثة ايام للراكب المسرع