Loading...

Loading...
کتب
۱۸۲ احادیث
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو حلحلہ نے، ان سے سعد بن کعب بن مالک نے، ان سے ابوقتادہ بن ربعی انصاری رضی اللہ عنہ نے، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «مستريح» یا «مستراح» ہے یعنی اسے آرام مل گیا، یا اس سے آرام مل گیا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ”المستریح او المستراح منہ“ کا کیا مطلب ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن بندہ دنیا کی مشقتوں اور تکلیفوں سے اللہ کی رحمت میں نجات پا جاتا ہے وہ «مستريح» ہے اور «مستراح» منہ وہ ہے کہ فاجر بندہ سے اللہ کے بندے، شہر، درخت اور چوپائے سب آرام پا جاتے ہیں۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن معبد بن كعب بن مالك، عن ابي قتادة بن ربعي الانصاري، انه كان يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر عليه بجنازة فقال " مستريح، ومستراح منه ". قالوا يا رسول الله ما المستريح والمستراح منه قال " العبد المومن يستريح من نصب الدنيا واذاها الى رحمة الله، والعبد الفاجر يستريح منه العباد والبلاد والشجر والدواب
مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبدربہ بن سعید نے، ان سے محمد بن عمر نے بیان کیا، ان سے طلحہ بن کعب نے بیان کیا، ان سے ابوقتادہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مرنے والا یا تو آرام پانے والا ہے یا دوسرے بندوں کو آرام دینے والا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبد ربه بن سعيد، عن محمد بن عمرو بن حلحلة، حدثني ابن كعب، عن ابي قتادة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مستريح، ومستراح منه، المومن يستريح
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میت کے ساتھ تین چیزیں چلتی ہیں دو تو واپس آ جاتی ہیں صرف ایک کام اس کے ساتھ رہ جاتا ہے، اس کے ساتھ اس کے گھر والے اس کا مال اور اس کا عمل چلتا ہے اس کے گھر والے اور مال تو واپس آ جاتا ہے اور اس کا عمل اس کے ساتھ باقی رہ جاتا ہے۔“
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عبد الله بن ابي بكر بن عمرو بن حزم، سمع انس بن مالك، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يتبع الميت ثلاثة، فيرجع اثنان ويبقى معه واحد، يتبعه اهله وماله وعمله، فيرجع اهله وماله، ويبقى عمله
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو صبح و شام ( جب تک وہ برزخ میں ہے ) اس کے رہنے کی جگہ اسے ہر روز دکھائی جاتی ہے یا دوزخ ہو یا جنت اور کہا جاتا ہے کہ یہ تیرے رہنے کی جگہ ہے یہاں تک کہ تو اٹھایا جائے ( یعنی قیامت کے دن تک ) ۔“
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا مات احدكم عرض عليه مقعده غدوة وعشيا، اما النار واما الجنة، فيقال هذا مقعدك حتى تبعث اليه
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ بن حجاج نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں مجاہد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ مر گئے ان کو برا نہ کہو کیونکہ جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا تھا اس کے پاس وہ خود پہنچ چکے ہیں، انہوں نے برے بھلے جو بھی عمل کئے تھے ویسا بدلہ پا لیا۔“
حدثنا علي بن الجعد، اخبرنا شعبة، عن الاعمش، عن مجاهد، عن عايشة، قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تسبوا الاموات، فانهم قد افضوا الى ما قدموا
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور عبدالرحمٰن الاعرج نے بیان کیا، ان دونوں نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی۔ جن میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی تھا۔ مسلمان نے کہا کہ اس پروردگار کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان پر برگزیدہ کیا۔ یہودی نے کہا کہ اس پروردگار کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہان پر برگزیدہ کیا۔ راوی نے بیان کیا کہ مسلمان یہودی کی بات سن کر خفا ہو گیا اور اس کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا۔ وہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا اور مسلمان کا سارا واقعہ بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو موسیٰ علیہ السلام پر مجھ کو فضیلت مت دو کیونکہ قیامت کے دن ایسا ہو گا کہ صور پھونکتے ہی تمام لوگ بیہوش ہو جائیں گے اور میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جسے ہوش آئے گا۔ میں کیا دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا کونہ تھامے ہوئے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کی موسیٰ علیہ السلام بھی ان لوگوں میں ہوں گے جو بیہوش ہوئے تھے اور پھر مجھ سے پہلے ہی ہوش میں آ گئے تھے یا ان میں سے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس سے مستثنیٰ کر دیا۔“
حدثني عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، والاعرج، انهما حدثاه ان ابا هريرة قال استب رجلان، رجل من المسلمين ورجل من اليهود فقال المسلم والذي اصطفى محمدا على العالمين. فقال اليهودي والذي اصطفى موسى على العالمين، قال فغضب المسلم عند ذلك، فلطم وجه اليهودي، فذهب اليهودي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره بما كان من امره وامر المسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تخيروني على موسى، فان الناس يصعقون يوم القيامة، فاكون في اول من يفيق، فاذا موسى باطش بجانب العرش، فلا ادري اكان موسى فيمن صعق فافاق قبلي، او كان ممن استثنى الله
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے ہوشی کے وقت تمام لوگ بیہوش ہو جائیں گے اور سب سے پہلے اٹھنے والا میں ہوں گا۔ اس وقت موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا کونہ تھامے ہوں گے۔ اب میں نہیں جانتا کہ وہ بیہوش بھی ہوں گے یا نہیں۔ اس حدیث کو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال النبي صلى الله عليه وسلم " يصعق الناس حين يصعقون، فاكون اول من قام، فاذا موسى اخذ بالعرش، فما ادري اكان فيمن صعق ". رواه ابو سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے مقاتل مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس بن یزید ایلی نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا کہ اب میں ہوں بادشاہ، آج زمین کے بادشاہ کہاں گئے؟“
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، حدثني سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يقبض الله الارض، ويطوي السماء بيمينه، ثم يقول انا الملك اين ملوك الارض
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے خالد بن یزید نے، ان سے سعید بن ابی ہلال نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جسے اللہ تعالیٰ اہل جنت کی میزبانی کے لیے اپنے ہاتھ سے الٹے پلٹے گا جس طرح تم دستر خوان پر روٹی لہراتے پھراتے ہو۔ پھر ایک یہودی آیا اور بولا: ابوالقاسم! تم پر رحمن برکت نازل کرے کیا میں تمہیں قیامت کے دن اہل جنت کی سب سے پہلی ضیافت کے بارے میں خبر نہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیوں نہیں۔ تو اس نے ( بھی یہی ) کہا کہ ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا اور مسکرائے جس سے آپ کے آگے کے دانت دکھائی دینے لگے۔ پھر ( اس نے ) خود ہی پوچھا کیا میں تمہیں اس کے سالن کے متعلق خبر نہ دوں؟ ( پھر خود ہی ) بولا کہ ان کا سالن «بالام ونون.» ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ یہ کیا چیز ہے؟ اس نے کہا کہ بیل اور مچھلی جس کی کلیجی کے ساتھ زائد چربی کے حصے کو ستر ہزار آدمی کھائیں گے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن خالد، عن سعيد بن ابي هلال، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال النبي صلى الله عليه وسلم " تكون الارض يوم القيامة خبزة واحدة، يتكفوها الجبار بيده، كما يكفا احدكم خبزته في السفر، نزلا لاهل الجنة ". فاتى رجل من اليهود فقال بارك الرحمن عليك يا ابا القاسم، الا اخبرك بنزل اهل الجنة يوم القيامة قال " بلى ". قال تكون الارض خبزة واحدة كما قال النبي صلى الله عليه وسلم فنظر النبي صلى الله عليه وسلم الينا، ثم ضحك حتى بدت نواجذه ثم قال الا اخبرك بادامهم قال ادامهم بالام ونون. قالوا وما هذا قال ثور ونون ياكل من زايدة كبدهما سبعون الفا
ہم سے سعید بن ابومریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن لوگوں کا حشر سفید و سرخی آمیز زمین پر ہو گا جیسے میدہ کی روٹی صاف و سفید ہوتی ہے۔ اس زمین پر کسی ( چیز ) کا کوئی نشان نہ ہو گا۔“
حدثنا سعيد بن ابي مريم، اخبرنا محمد بن جعفر، قال حدثني ابو حازم، قال سمعت سهل بن سعد، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " يحشر الناس يوم القيامة على ارض بيضاء عفراء كقرصة نقي ". قال سهل او غيره ليس فيها معلم لاحد
ہم سے معلیٰ بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے، ان سے ان کے والد طاؤس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں کا حشر تین فرقوں میں ہو گا ( ایک فرقہ والے ) لوگ رغبت کرنے نیز ڈرنے والے ہوں گے۔ ( دوسرا فرقہ ایسے لوگوں کا ہو گا کہ ) ایک اونٹ پر دو آدمی سوار ہوں گے کسی اونٹ پر تین ہوں گے، کسی اونٹ پر چار ہوں گے اور کسی پر دس ہوں گے۔ اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی ( اہل شرک کا یہ تیسرا فرقہ ہو گا ) جب وہ قیلولہ کریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہری ہو گی جب وہ رات گزاریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ وہاں ٹھہری ہو گی جب وہ صبح کریں گے تو آگ بھی صبح کے وقت وہاں موجود ہو گی اور جب وہ شام کریں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ موجود ہو گی۔“
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا وهيب، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يحشر الناس على ثلاث طرايق، راغبين راهبين واثنان على بعير، وثلاثة على بعير، واربعة على ب��ير، وعشرة على بعير ويحشر بقيتهم النار، تقيل معهم حيث قالوا، وتبيت معهم حيث باتوا، وتصبح معهم حيث اصبحوا، وتمسي معهم حيث امسوا
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد بغدادی نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نحوی نے بیان کیا، کہا ان سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے کہا، اے اللہ کے نبی! قیامت میں کافروں کو ان کے چہرے کے بل کس طرح حشر کیا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات جس نے انہیں دنیا میں دو پاؤں پر چلایا اسے اس پر قدرت نہیں ہے کہ قیامت کے دن انہیں چہرے کے بل چلا دے۔ قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ضرور ہے، ہمارے رب کی عزت کی قسم، بیشک وہ منہ کے بل چلا سکتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا يونس بن محمد البغدادي، حدثنا شيبان، عن قتادة، حدثنا انس بن مالك رضى الله عنه ان رجلا، قال يا نبي الله كيف يحشر الكافر على وجهه قال " اليس الذي امشاه على الرجلين في الدنيا قادرا على ان يمشيه على وجهه يوم القيامة ". قال قتادة بلى وعزة ربنا
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اللہ سے قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور پیدل چل کر بن ختنہ ملو گے۔“ سفیان نے کہا کہ یہ حدیث ان ( نو یا دس حدیثوں ) میں سے ہے جن کے متعلق ہم سمجھتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خود ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، قال عمرو سمعت سعيد بن جبير، سمعت ابن عباس، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " انكم ملاقو الله حفاة عراة مشاة غرلا ". قال سفيان هذا مما نعد ان ابن عباس سمعه من النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ منبر پر خطبہ میں فرما رہے تھے کہ تم اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بغیر ختنہ ہو گے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب على المنبر يقول " انكم ملاقو الله حفاة عراة غرلا
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن نعمان نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا ”تم لوگ قیامت کے دن اس حال میں جمع کئے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں اور ننگے جسم ہو گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «كما بدأنا أول خلق نعيده» کہ ”جس طرح ہم نے شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح لوٹا دیں گے۔“ اور تمام مخلوقات میں سب سے پہلے جسے کپڑا پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے اور میری امت کے بہت سے لوگ لائے جائیں گے جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ میں اس پر کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی نئی بدعات نکالی تھیں۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو نیک بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) نے کہا «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم» کہ ”یا اللہ! میں جب تک ان میں موجود رہا اس وقت تک میں ان پر گواہ تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ فرشتے ( مجھ سے ) کہیں گے کہ یہ لوگ ہمیشہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرتے ہی رہے ( مرتد ہوتے رہے ) ۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن المغيرة بن النعمان، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قام فينا النبي صلى الله عليه وسلم يخطب فقال " انكم محشورون حفاة عراة {كما بدانا اول خلق نعيده} الاية، وان اول الخلايق يكسى يوم القيامة ابراهيم، وانه سيجاء برجال من امتي، فيوخذ بهم ذات الشمال. فاقول يا رب اصيحابي. فيقول انك لا تدري ما احدثوا بعدك. فاقول كما قال العبد الصالح {وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم} الى قوله {الحكيم} قال فيقال انهم لم يزالوا مرتدين على اعقابهم
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن ابی صغیرہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی ملکیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے قاسم بن محمد بن ابی بکر نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم ننگے پاؤں، ننگے جسم، بلا ختنہ کے اٹھائے جاؤ گے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس پر میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! تو کیا مرد عورتیں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت معاملہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہو گا، اس کا خیال بھی کوئی نہیں کر سکے گا۔
حدثنا قيس بن حفص، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا حاتم بن ابي صغيرة، عن عبد الله بن ابي مليكة، قال حدثني القاسم بن محمد بن ابي بكر، ان عايشة رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تحشرون حفاة عراة غرلا " قالت عايشة فقلت يا رسول الله الرجال والنساء ينظر بعضهم الى بعض. فقال " الامر اشد من ان يهمهم ذاك
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا ایک چوتھائی رہو؟ ہم نے کہا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم ایک تہائی رہو؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم نصف رہو؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ ( امت مسلمہ ) اہل جنت کا حصہ ہو گے اور ایسا اس لیے ہو گا کہ جنت میں فرمانبردار نفس کے علاوہ اور کوئی داخل نہ ہو گا اور تم لوگ شرک کرنے والوں کے درمیان ( تعداد میں ) اس طرح ہو گے جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں یا جیسے سرخ کے جسم پر ایک سیاہ بال ہو۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في قبة فقال " اترضون ان تكونوا ربع اهل الجنة ". قلنا نعم. قال " ترضون ان تكونوا ثلث اهل الجنة ". قلنا نعم. قال " اترضون ان تكونوا شطر اهل الجنة ". قلنا نعم. قال " والذي نفس محمد بيده اني لارجو ان تكونوا نصف اهل الجنة، وذلك ان الجنة لا يدخلها الا نفس مسلمة، وما انتم في اهل الشرك الا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الاسود او كالشعرة السوداء في جلد الثور الاحمر
ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ثور نے، ان سے ابوالغیث نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو پکارا جائے گا۔ پھر ان کی نسل ان کو دیکھے گی تو کہا جائے گا کہ یہ تمہارے بزرگ دادا آدم ہیں۔ ( پکارنے پر ) وہ کہیں گے کہ لبیک و سعدیک۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اپنی نسل میں سے دوزخ کا حصہ نکال لو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے اے پروردگار! کتنوں کو نکالوں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا فیصد ( ننانوے فیصد دوزخی ایک جنتی ) ۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب ہم میں سو میں ننانوے نکال دئیے جائیں تو پھر باقی کیا رہ جائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام امتوں میں میری امت اتنی ہی تعداد میں ہو گی جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں۔
حدثنا اسماعيل، حدثني اخي، عن سليمان، عن ثور، عن ابي الغيث، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اول من يدعى يوم القيامة ادم، فتراءى ذريته فيقال هذا ابوكم ادم. فيقول لبيك وسعديك. فيقول اخرج بعث جهنم من ذريتك. فيقول يا رب كم اخرج فيقول اخرج من كل ماية تسعة وتسعين ". فقالوا يا رسول الله اذا اخذ منا من كل ماية تسعة وتسعون، فماذا يبقى منا قال " ان امتي في الامم كالشعرة البيضاء في الثور الاسود
مجھ سے یوسف بن موسیٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے آدم! آدم علیہ السلام کہیں گے حاضر ہوں فرماں بردار ہوں اور ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے انہیں نکال لو۔ آدم علیہ السلام پوچھیں گے جہنم میں ڈالے جانے والے لوگ کتنے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہی وہ وقت ہو گا جب بچے غم سے بوڑھے ہو جائیں گے اور حاملہ عورتیں اپنا حمل گرا دیں گی اور تم لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھو گے، حالانکہ وہ واقعی نشہ کی حالت میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہو گا۔ صحابہ کو یہ بات بہت سخت معلوم ہوئی تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ہم میں سے وہ ( خوش نصیب ) شخص کون ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں خوشخبری ہو، ایک ہزار یاجوج ماجوج کی قوم سے ہوں گے۔ اور تم میں سے وہ ایک جنتی ہو گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو گے۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور اس کی تکبیر کہی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ آدھا حصہ اہل جنت کا تم لوگ ہو گے۔ تمہاری مثال دوسری امتوں کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے کسی سیاہ بیل کے جسم پر سفید بالوں کی ( معمولی تعداد ) ہوتی ہے یا وہ سفید داغ جو گدھے کے آگے کے پاؤں پر ہوتا ہے۔
حدثني يوسف بن موسى، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقول الله يا ادم. فيقول لبيك وسعديك والخير في يديك. قال يقول اخرج بعث النار. قال وما بعث النار قال من كل الف تسعماية وتسعة وتسعين. فذاك حين يشيب الصغير، وتضع كل ذات حمل حملها، وترى الناس سكرى وما هم بسكرى ولكن عذاب الله شديد ". فاشتد ذلك عليهم فقالوا يا رسول الله اينا الرجل قال " ابشروا، فان من ياجوج وماجوج الف ومنكم رجل ثم قال والذي نفسي في يده اني لاطمع ان تكونوا ثلث اهل الجنة ". قال فحمدنا الله وكبرنا، ثم قال " والذي نفسي في يده اني لاطمع ان تكونوا شطر اهل الجنة، ان مثلكم في الامم كمثل الشعرة البيضاء في جلد الثور الاسود او الرقمة في ذراع الحمار
ہم سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «يوم يقوم الناس لرب العالمين» کی تفسیر میں فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی سارے جہانوں کے پروردگار کے آگے کھڑا ہو گا اس حال میں کہ اس کا پسینہ کانوں کی لو تک پہنچا ہوا ہو گا۔
حدثنا اسماعيل بن ابان، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم. {يوم يقوم الناس لرب العالمين} قال " يقوم احدهم في رشحه الى انصاف اذنيه