Loading...

Loading...
کتب
۱۰۸ احادیث
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمرو نے، کہا کہ ہم سے عمر بن ابی زائد نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ جس نے یہ کلمہ دس مرتبہ پڑھ لیا وہ ایسا ہو گا جیسے اس نے ایک عربی غلام آزاد کیا۔ اسی سند سے عمر بن ابی زائدہ نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن ابی السفر نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے ربیع بن خثیم نے یہی مضمون تو میں نے ربیع بن خثیم سے پوچھا کہ تم نے کس سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ عمرو بن میمون اودی سے۔ پھر میں عمرو بن میمون کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابن ابی لیلیٰ سے۔ ( پھر میں ) ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا اور پوچھا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے، وہ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے اور ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ان کے والد یوسف بن اسحاق نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن میمون اودی نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے داؤد بن ابی ہند نے،، ان سے عامر شعبی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے ابوایوب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے ربیع نے موقوفاً ان کا قول نقل کیا۔ اور آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا، کہا میں نے ہلال بن یساف سے سنا، ان سے ربیع بن خثیم اور عمرو بن میمون دونوں نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے۔ اور اعمش اور حصین دونوں نے ہلال سے بیان کیا، ان سے ربیع بن خثیم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے، یہی حدیث روایت کی۔ اور ابو محمد حضرمی نے ابوایوب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً اسی حدیث کو روایت کیا۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا عبد الملك بن عمرو، حدثنا عمر بن ابي زايدة، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، قال من قال عشرا كان كمن اعتق رقبة من ولد اسماعيل. قال عمر بن ابي زايدة وحدثنا عبد الله بن ابي السفر عن الشعبي عن ربيع بن خثيم مثله. فقلت للربيع ممن سمعته فقال من عمرو بن ميمون. فاتيت عمرو بن ميمون فقلت ممن سمعته فقال من ابن ابي ليلى. فاتيت ابن ابي ليلى فقلت ممن سمعته فقال من ابي ايوب الانصاري يحدثه عن النبي صلى الله عليه وسلم وقال ابراهيم بن يوسف عن ابيه عن ابي اسحاق حدثني عمرو بن ميمون عن عبد الرحمن بن ابي ليلى عن ابي ايوب قوله عن النبي صلى الله عليه وسلم. وقال موسى حدثنا وهيب، عن داود، عن عامر، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن ابي ايوب، عن النبي صلى الله عليه وسلم. وقال اسماعيل عن الشعبي عن الربيع قوله. وقال ادم حدثنا شعبة حدثنا عبد الملك بن ميسرة سمعت هلال بن يساف عن الربيع بن خثيم وعمرو بن ميمون عن ابن مسعود قوله. وقال الاعمش وحصين عن هلال عن الربيع عن عبد الله قوله. ورواه ابو محمد الحضرمي عن ابي ايوب عن النبي صلى الله عليه وسلم كان كمن اعتق رقبة من ولد اسماعيل قال ابو عبد الله والصحيح قول عبد الملك بن عمرو
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے «سبحان الله وبحمده.» دن میں سو مرتبہ کہا، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال سبحان الله وبحمده. في يوم ماية مرة حطت خطاياه، وان كانت مثل زبد البحر
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو کلمے جو زبان پر ہلکے ہیں ترازو میں بہت بھاری اور رحمان کو عزیز ہیں «سبحان الله العظيم، سبحان الله وبحمده» ۔“
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا ابن فضيل، عن عمارة، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كلمتان خفيفتان على اللسان، ثقيلتان في الميزان، حبيبتان الى الرحمن، سبحان الله العظيم، سبحان الله وبحمده
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کی مثال جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا زندہ اور مردہ جیسی ہے۔“
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " مثل الذي يذكر ربه والذي لا يذكر مثل الحى والميت
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے رہتے ہیں اور اللہ کی یاد کرنے والوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔ پھر جہاں وہ کچھ ایسے لوگوں کو پا لیتے ہیں کہ جو اللہ کا ذکر کرتے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں کہ آؤ ہمارا مطلب حاصل ہو گیا۔ پھر وہ پہلے آسمان تک اپنے پروں سے ان پر امنڈتے رہتے ہیں۔ پھر ختم پر اپنے رب کی طرف چلے جاتے ہیں۔ پھر ان کا رب ان سے پوچھتا ہے…. حالانکہ وہ اپنے بندوں کے متعلق خوب جانتا ہے…. کہ میرے بندے کیا کہتے تھے؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ وہ تیری تسبیح پڑھتے تھے، تیری کبریائی بیان کرتے تھے، تیری حمد کرتے تھے اور تیری بڑائی کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ کہا کہ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پھر ان کا اس وقت کیا حال ہوتا جب وہ مجھے دیکھے ہوئے ہوتے؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر وہ تیرا دیدار کر لیتے تو تیری عبادت اور بھی بہت زیادہ کرتے، تیری بڑائی سب سے زیادہ بیان کرتے، تیری تسبیح سب سے زیادہ کرتے۔ پھر اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے، پھر وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ جنت مانگتے ہیں۔ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ اے رب! انہوں نے تیری جنت نہیں دیکھی۔ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے ان کا اس وقت کیا عالم ہوتا اگر انہوں نے جنت کو دیکھا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے جنت کو دیکھا ہوتا تو وہ اس سے اور بھی زیادہ خواہشمند ہوتے، سب سے بڑھ کر اس کے طلب گار ہوتے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں، دوزخ سے۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے جہنم دیکھا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ، انہوں نے جہنم کو دیکھا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پھر اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو ان کا کیا حال ہوتا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو اس سے بچنے میں وہ سب سے آگے ہوتے اور سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی مغفرت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر ان میں سے ایک فرشتے نے کہا کہ ان میں فلاں بھی تھا جو ان ذاکرین میں سے نہیں تھا، بلکہ وہ کسی ضرورت سے آ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ یہ ( ذاکرین ) وہ لوگ ہیں جن کی مجلس میں بیٹھنے والا بھی نامراد نہیں رہتا۔ اس حدیث کو شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کیا لیکن اس کو مرفوع نہیں کیا۔ اور سہیل نے بھی اس کو اپنے والدین ابوصالح سے روایت کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو سلیمان بن طرخان تیمی نے خبر دی، انہیں ابوعثمان نہدی نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھاٹی یا درے پر چڑھنے لگے۔ بیان کیا کہ جب ایک اور صحابی بھی اس پر چڑھ گئے تو انہوں نے بلند آواز سے «لا إله إلا الله والله أكبر.» کہا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے۔ پھر فرمایا، ابوموسیٰ یا تو یوں ( فرمایا ) اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے۔ میں نے عرض کیا، ضرور ارشاد فرمائیں، فرمایا کہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ۔
حدثنا محمد بن مقاتل ابو الحسن، اخبرنا عبد الله، اخبرنا سليمان التيمي، عن ابي عثمان، عن ابي موسى الاشعري، قال اخذ النبي صلى الله عليه وسلم في عقبة او قال في ثنية، قال فلما علا عليها رجل نادى فرفع صوته لا اله الا الله والله اكبر. قال ورسول الله صلى الله عليه وسلم على بغلته قال " فانكم لا تدعون اصم ولا غايبا ". ثم قال " يا ابا موسى او يا عبد الله الا ادلك على كلمة من كنز الجنة ". قلت بلى. قال " لا حول ولا قوة الا بالله
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ حدیث ابوالزناد سے یاد کی، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایتاً بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، ایک کم سو، جو شخص بھی انہیں یاد کر لے گا جنت میں جائے گا۔ اللہ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال حفظناه من ابي الزناد عن الاعرج، عن ابي هريرة، رواية قال " لله تسعة وتسعون اسما، ماية الا واحدا، لا يحفظها احد الا دخل الجنة، وهو وتر يحب الوتر
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے شقیق نے بیان کیا، کہا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتظار کر رہے تھے کہ یزید بن معاویہ آئے۔ ہم نے کہا، تشریف رکھئے لیکن انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، میں اندر جاؤں گا اور تمہارے ساتھ ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کو باہر لاؤں گا۔ اگر وہ نہ آئے تو میں ہی تنہا آ جاؤں گا اور تمہارے ساتھ بیٹھوں گا۔ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور وہ یزید بن معاویہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے پھر ہمارے سامنے کھڑے ہوئے کہنے لگے میں جان گیا تھا کہ تم یہاں موجود ہو۔ پس میں جو نکلا تو اس وجہ سے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ مقررہ دنوں میں ہم کو وعظ فرمایا کرتے تھے، ( فاصلہ دے کر ) آپ کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ کہیں ہم اکتا نہ جائیں۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال حدثني شقيق، قال كنا ننتظر عبد الله اذ جاء يزيد بن معاوية فقلنا الا تجلس قال لا ولكن ادخل فاخرج اليكم صاحبكم، والا جيت انا. فجلست فخرج عبد الله وهو اخذ بيده فقام علينا فقال اما اني اخبر بمكانكم، ولكنه يمنعني من الخروج اليكم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتخولنا بالموعظة في الايام، كراهية السامة علينا
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لله ملايكة يطوفون في الطرق، يلتمسون اهل الذكر، فاذا وجدوا قوما يذكرون الله تنادوا هلموا الى حاجتكم. قال فيحفونهم باجنحتهم الى السماء الدنيا. قال فيسالهم ربهم وهو اعلم منهم ما يقول عبادي قالوا يقولون يسبحونك، ويكبرونك، ويحمدونك ويمجدونك. قال فيقول هل راوني قال فيقولون لا والله ما راوك. قال فيقول وكيف لو راوني قال يقولون لو راوك كانوا اشد لك عبادة، واشد لك تمجيدا، واكثر لك تسبيحا. قال يقول فما يسالوني قال يسالونك الجنة. قال يقول وهل راوها قال يقولون لا والله يا رب ما راوها. قال يقول فكيف لو انهم راوها قال يقولون لو انهم راوها كانوا اشد عليها حرصا، واشد لها طلبا، واعظم فيها رغبة. قال فمم يتعوذون قال يقولون من النار. قال يقول وهل راوها قال يقولون لا والله ما راوها. قال يقول فكيف لو راوها قال يقولون لو راوها كانوا اشد منها فرارا، واشد لها مخافة. قال فيقول فاشهدكم اني قد غفرت لهم. قال يقول ملك من الملايكة فيهم فلان ليس منهم انما جاء لحاجة. قال هم الجلساء لا يشقى بهم جليسهم ". رواه شعبة عن الاعمش ولم يرفعه. ورواه سهيل عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم