Loading...

Loading...
کتب
۱۰۸ احادیث
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب ہم کسی بلند جگہ پر چڑھتے تو تکبیر کہتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگو! اپنے اوپر رحم کرو، تم کسی بہرے غائب رب کو نہیں پکارتے ہو تم تو اس ذات کو پکارتے ہو جو بہت زیادہ سننے والا، بہت زیادہ دیکھنے والا ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں اس وقت زیر لب کہہ رہا تھا «لا حول ولا قوة إلا بالله» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عبداللہ بن قیس کہو «لا حول ولا قوة إلا بالله» کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے“ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ”میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے۔“
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي عثمان، عن ابي موسى رضى الله عنه قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فكنا اذا علونا كبرنا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ايها الناس اربعوا على انفسكم، فانكم لا تدعون اصم ولا غايبا، ولكن تدعون سميعا بصيرا ". ثم اتى على وانا اقول في نفسي لا حول ولا قوة الا بالله. فقال " يا عبد الله بن قيس قل لا حول ولا قوة الا بالله فانها. كنز من كنوز الجنة ". او قال " الا ادلك على كلمة هي كنز من كنوز الجنة، لا حول ولا قوة الا بالله
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ یا حج یا عمرہ سے واپس ہوتے تو زمین سے ہر بلند چیز پر چڑھتے وقت تین تکبیریں کہا کرتے تھے۔ پھر دعا کرتے «لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير. آيبون تائبون عابدون، لربنا حامدون. صدق الله وعده. ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ لوٹتے ہیں ہم توبہ کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے اور حمد بیان کرتے ہوئے۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندہ کی مدد کی اور تنہا تمام لشکر کو شکست دی۔“
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا قفل من غزو او حج او عمرة يكبر على كل شرف من الارض ثلاث تكبيرات، ثم يقول " لا اله الا الله، وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شىء قدير، ايبون تايبون، عابدون لربنا، حامدون، صدق الله وعده، ونصر عبده، وهزم الاحزاب وحده
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی کا اثر دیکھا تو فرمایا یہ کیا ہے؟ کہا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے برابر سونے پر شادی کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے، ولیمہ کر، چاہے ایک بکری کا ہی ہو۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس رضى الله عنه قال راى النبي صلى الله عليه وسلم على عبد الرحمن بن عوف اثر صفرة فقال " مهيم ". او " مه ". قال تزوجت امراة على وزن نواة من ذهب. فقال " بارك الله لك اولم ولو بشاة
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ میرے والد شہید ہوئے تو انہوں نے سات یا نو لڑکیاں چھوڑی تھیں ( راوی کو تعداد میں شبہ تھا ) پھر میں نے ایک عورت سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ جابر کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے کہا بیاہی سے۔ فرمایا، کسی لڑکی ( کنواری ) سے کیوں نہ کی۔ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی۔ میں نے عرض کی، میرے والد ( عبداللہ ) شہید ہوئے اور سات یا نو لڑکیاں چھوڑی ہیں۔ اس لیے میں نے پسند نہیں کیا کہ میں ان کے پاس انہی جیسی لڑکی لاؤں۔ چنانچہ میں نے ایسی عورت سے شادی کی جو ان کی نگرانی کر سکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے۔ ابن عیینہ اور محمد بن مسلمہ نے عمرو سے روایت میں ”اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے“ کے الفاظ نہیں کہے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو، عن جابر رضى الله عنه قال هلك ابي وترك سبع او تسع بنات، فتزوجت امراة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " تزوجت يا جابر ". قلت نعم. قال " بكرا ام ثيبا ". قلت ثيبا. قال " هلا جارية تلاعبها وتلاعبك، او تضاحكها وتضاحكك ". قلت هلك ابي فترك سبع او تسع بنات، فكرهت ان اجييهن بمثلهن، فتزوجت امراة تقوم عليهن. قال " فبارك الله عليك ". لم يقل ابن عيينة ومحمد بن مسلم عن عمرو " بارك الله عليك
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سالم نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھے «باسم الله، اللهم جنبنا الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھ اور جو کچھ تو ہمیں عطا فرمائے اسے بھی شیطان سے دور رکھ۔“ تو اگر اس صحبت سے کوئی اولاد مقدر میں ہو گی تو شیطان اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن سالم، عن كريب، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لو ان احدهم اذا اراد ان ياتي اهله قال باسم الله، اللهم جنبنا الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا، فانه ان يقدر بينهما ولد في ذلك، لم يضره شيطان ابدا
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر یہ دعا ہوا کرتی تھی «اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة، وفي الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار .» ”اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی ( «حسنة» ) عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں دوزخ سے بچا۔“
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن عبد العزيز، عن انس، قال كان اكثر دعاء النبي صلى الله عليه وسلم " اللهم ربنا اتنا في الدنيا حسنة، وفي الاخرة حسنة، وقنا عذاب النار
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیدہ بن حمید نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، ان سے مصعب بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ کلمات اس طرح سکھاتے تھے جیسے لکھنا سکھاتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من البخل، وأعوذ بك من الجبن، وأعوذ بك أن نرد إلى أرذل العمر، وأعوذ بك من فتنة الدنيا، وعذاب القبر .» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے۔
حدثنا فروة بن ابي المغراء، حدثنا عبيدة بن حميد، عن عبد الملك بن عمير، عن مصعب بن سعد بن ابي وقاص، عن ابيه رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يعلمنا هولاء الكلمات كما تعلم الكتابة " اللهم اني اعوذ بك من البخل، واعوذ بك من الجبن، واعوذ بك من ان نرد الى ارذل العمر، واعوذ بك من فتنة الدنيا، وعذاب القبر
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا اور کیفیت یہ ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھنے لگے کہ فلاں کام آپ نے کر لیا ہے حالانکہ وہ کام آپ نے نہیں کیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے دعا کی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے، اللہ نے مجھے وہ وہ بات بتا دی ہے جو میں نے اس سے پوچھی تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ خواب کیا ہے؟ فرمایا میرے پاس دو مرد آئے اور ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا پاؤں کے پاس۔ پھر ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا، ان صاحب کی بیماری کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا، ان پر جادو ہوا ہے۔ پہلے نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے۔ پوچھا وہ جادو کس چیز میں ہے؟ جواب دیا کہ کنگھی پر کھجور کے خوشہ میں۔ پوچھا وہ ہے کہاں؟ کہا کہ ذروان میں اور ذروان بنی زریق کا ایک کنواں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر تشریف لے گئے اور جب عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس دوبارہ واپس آئے تو فرمایا واللہ! اس کا پانی مہدی سے نچوڑے ہوئے پانی کی طرح تھا اور وہاں کے کھجور کے درخت شیطان کے سر کی طرح تھے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور انہیں کنویں کے متعلق بتایا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! پھر آپ نے اسے نکالا کیوں نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے شفاء دے دی اور میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ لوگوں میں ایک بری چیز پھیلاؤں۔ عیسیٰ بن یونس اور لیث نے ہشام سے اضافہ کیا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تو آپ برابر دعا کرتے رہے اور پھر پوری حدیث کو بیان کیا۔
حدثنا ابراهيم بن منذر، حدثنا انس بن عياض، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طب حتى انه ليخيل اليه قد صنع الشىء وما صنعه، وانه دعا ربه ثم قال " اشعرت ان الله قد افتاني فيما استفتيته فيه ". فقالت عايشة فما ذاك يا رسول الله قال " جاءني رجلان فجلس احدهما عند راسي، والاخر عند رجلى فقال احدهما لصاحبه ما وجع الرجل قال مطبوب. قال من طبه قال لبيد بن الاعصم. قال فيما ذا قال في مشط ومشاطة وجف طلعة. قال فاين هو قال في ذروان، وذروان بير في بني زريق ". قالت فاتاها رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم رجع الى عايشة فقال " والله لكان ماءها نقاعة الحناء، ولكان نخلها رءوس الشياطين ". قالت فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرها عن البير، فقلت يا رسول الله فهلا اخرجته قال " اما انا فقد شفاني الله، وكرهت ان اثير على الناس شرا ". زاد عيسى بن يونس والليث عن هشام عن ابيه عن عايشة قالت سحر النبي صلى الله عليه وسلم فدعا ودعا وساق الحديث
ہم سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں ابن ابی خالد نے، کہا میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے لیے بددعا کی «اللهم منزل الكتاب، سريع الحساب، اهزم الأحزاب، اهزمهم وزلزلهم» ”اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے! حساب جلدی لینے والے! احزاب کو ( مشرکین کی جماعتوں کو، غزوہ احزاب میں ) شکست دے، انہیں شکست دیدے اور انہیں جھنجوڑ دے۔“
حدثنا ابن سلام، اخبرنا وكيع، عن ابن ابي خالد، قال سمعت ابن ابي اوفى رضى الله عنهما قال دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم على الاحزاب فقال " اللهم منزل الكتاب، سريع الحساب، اهزم الاحزاب، اهزمهم وزلزلهم
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عشاء کی آخر رکعت میں ( رکوع سے اٹھتے ہوئے ) «سمع الله لمن حمده» کہتے تھے تو دعائے قنوت پڑھتے تھے «اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج الوليد بن الوليد، اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف» ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! کمزور ناتواں مومنوں کو نجات دے، اے اللہ! اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ کو سخت کر دے، اے اللہ! وہاں ایسا قحط پیدا کر دے جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا تھا۔“
حدثنا معاذ بن فضالة، حدثنا هشام، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا قال " سمع الله لمن حمده ". في الركعة الاخرة من صلاة العشاء قنت " اللهم انج عياش بن ابي ربيعة، اللهم انج الوليد بن الوليد، اللهم انج سلمة بن هشام، اللهم انج المستضعفين من المومنين، اللهم اشدد وطاتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے عاصم نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم بھیجی، جس میں شریک لوگوں کو قراء ( یعنی قرآن مجید کے قاری ) کہا جاتا تھا۔ ان سب کو شہید کر دیا گیا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی چیز کا اتنا غم ہوا ہو جتنا آپ کو ان کی شہادت کا غم ہوا تھا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں ان کے لیے بددعا کی، آپ کہتے کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
حدثنا الحسن بن الربيع، حدثنا ابو الاحوص، عن عاصم، عن انس رضى الله عنه قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية يقال لهم القراء فاصيبوا، فما رايت النبي صلى الله عليه وسلم وجد على شىء ما وجد عليهم، فقنت شهرا في صلاة الفجر ويقول " ان عصية عصوا الله ورسوله
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تو کہتے «السام عليك.» آپ کو موت آئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کا مقصد سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ «عليكم السام واللعنة.» تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہرو عائشہ! اللہ تمام امور میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے نہیں سنا یہ لوگ کیا کہتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے نہیں سنا کہ میں انہیں کس طرح جواب دیتا ہوں۔ میں کہتا ہوں «وعليكم» ۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا هشام، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان اليهود يسلمون على النبي صلى الله عليه وسلم يقولون السام عليك. ففطنت عايشة الى قولهم فقالت عليكم السام واللعنة. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " مهلا يا عايشة، ان الله يحب الرفق في الامر كله ". فقالت يا نبي الله اولم تسمع ما يقولون قال " اولم تسمعي اني ارد ذلك عليهم فاقول وعليكم
ہم سے محمد بن مثنی ٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے انصاری نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے عبیدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خندق کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ ان کی قبروں اور ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے۔ انہوں نے ہمیں «صلاة الوسطى» ( عصر کی نماز ) نہیں پڑھنے دی جب تک کہ سورج غروب ہو گیا اور یہ عصر کی نماز تھی۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا الانصاري، حدثنا هشام بن حسان، حدثنا محمد بن سيرين، حدثنا عبيدة، حدثنا علي بن ابي طالب رضى الله عنه قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم الخندق، فقال " ملا الله قبورهم وبيوتهم نارا، كما شغلونا عن صلاة الوسطى حتى غابت الشمس ". وهى صلاة العصر
ہم سے علی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے کہا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! قبیلہ دوس نے نافرمانی اور سرکشی کی ہے، آپ ان کے لیے بددعا کیجئے۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے بددعا ہی کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ ”اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور انہیں ( میرے پاس ) بھیج دے۔“
حدثنا علي، حدثنا سفيان، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قدم الطفيل بن عمرو على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان دوسا قد عصت وابت، فادع الله عليها. فظن الناس انه يدعو عليهم، فقال " اللهم اهد دوسا وات بهم
کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے ابن ابی موسیٰ نے، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے «رب اغفر لي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري كله، وما أنت أعلم به مني، اللهم اغفر لي خطاياى وعمدي وجهلي وهزلي، وكل ذلك عندي، اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت، أنت المقدم، وأنت المؤخر، وأنت على كل شىء قدير» ”میرے رب! میری خطا، میری نادانی اور تمام معاملات میں میرے حد سے تجاوز کرنے میں میری مغفرت فرما اور وہ گناہ بھی جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ اے اللہ! میری مغفرت کر، میری خطاؤں میں، میرے بالا ارادہ اور بلا ارادہ کاموں میں اور میرے ہنسی مزاح کے کاموں میں اور یہ سب میری ہی طرف سے ہیں۔ اے اللہ! میری مغفرت کر ان کاموں میں جو میں کر چکا ہوں اور انہیں جو کروں گا اور جنہیں میں نے چھپایا اور جنہیں میں نے ظاہر کیا ہے، تو سب سے پہلے ہے اور تو ہی سب سے بعد میں ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“ اور عبیداللہ بن معاذ ( جو امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ہیں ) نے بیان کیا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الملك بن صباح، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن ابن ابي موسى، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يدعو بهذا الدعاء " رب اغفر لي خطييتي وجهلي واسرافي في امري كله، وما انت اعلم به مني، اللهم اغفر لي خطاياى وعمدي وجهلي وهزلي، وكل ذلك عندي، اللهم اغفر لي ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت، انت المقدم، وانت الموخر، وانت على كل شىء قدير ". وقال عبيد الله بن معاذ وحدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن ابي بردة بن ابي موسى، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عبدالمجید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن ابی موسیٰ اور ابوبردہ نے میرا خیال ہے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے «اللهم اغفرلي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري، وما أنت أعلم به مني، اللهم اغفر لي هزلي وجدي وخطاى وعمدي، وكل ذلك عندي .» ”اے اللہ! میری مغفرت فرما میری خطاؤں میں، میری نادانی میں اور میری کسی معاملہ میں زیادتی میں، ان باتوں میں جن کا تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ اے اللہ! میری مغفرت کر میرے ہنسی مزاح اور سنجیدگی میں اور میرے ارادہ میں اور یہ سب کچھ میری ہی طرف سے ہیں۔“
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبيد الله بن عبد المجيد، حدثنا اسراييل، حدثنا ابو اسحاق، عن ابي بكر بن ابي موسى، وابي، بردة احسبه عن ابي موسى الاشعري، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يدعو " اللهم اغفر لي خطييتي وجهلي واسرافي في امري، وما انت اعلم به مني، اللهم اغفر لي هزلي وجدي وخطاى وعمدي، وكل ذلك عندي
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، انہیں ایوب نے خبر دی، انہیں محمد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں اگر کوئی مسلمان اس حال میں پا لے کہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو تو جو بھلائی بھی وہ مانگے گا اللہ عنایت فرمائے گا اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا اور ہم نے اس سے یہ سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس گھڑی کے مختصر ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، اخبرنا ايوب، عن محمد، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال ابو القاسم صلى الله عليه وسلم " في الجمعة ساعة لا يوافقها مسلم وهو قايم يصلي يسال خيرا الا اعطاه ". وقال بيده قلنا يقللها يزهدها
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا «السام عليك.» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا «وعليكم .» لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا «السام عليكم، ولعنكم الله وغضب عليكم.» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر، عائشہ! نرم خوئی اختیار کر اور سختی اور بدکلامی سے ہمیشہ پرہیز کر۔ انہوں نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ یہودی کیا کہہ رہے تھے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے نہیں سنا کہ میں نے انہیں کیا جواب دیا، میں نے ان کی بات انہیں پر لوٹا دی اور میری ان کے بدلے میں دعا قبول کی گئی اور ان کی میرے بارے میں قبول نہیں کی گئی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة رضى الله عنها ان اليهود، اتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا السام عليك. قال " وعليكم ". فقالت عايشة السام عليكم، ولعنكم الله وغضب عليكم. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مهلا يا عايشة، عليك بالرفق، واياك والعنف او الفحش ". قالت اولم تسمع ما قالوا قال " اولم تسمعي ما قلت رددت عليهم، فيستجاب لي فيهم، ولا يستجاب لهم في
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ زہری نے بیان کیا کہ ہم سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب پڑھنے والا آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ اس وقت ملائکہ بھی آمین کہتے ہیں اور جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے ساتھ ہوتی ہے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال الزهري حدثناه عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا امن القاري فامنوا، فان الملايكة تومن، فمن وافق تامينه تامين الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سمی نے، ان سے ابوصالح نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے یہ کلمہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“ دن میں سو دفعہ پڑھا اسے دس غلاموں کو آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی اور اس دن وہ شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا شام تک کے لیے اور کوئی شخص اس دن اس سے بہتر کام کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا، سوا اس کے جو اس سے زیادہ کرے۔“
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال لا اله الا الله، وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شىء قدير. في يوم ماية مرة، كانت له عدل عشر رقاب، وكتب له ماية حسنة، ومحيت عنه ماية سيية، وكانت له حرزا من الشيطان يومه ذلك، حتى يمسي، ولم يات احد بافضل مما جاء به الا رجل عمل اكثر منه