Loading...

Loading...
کتب
۱۰۵ احادیث
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں کے بارے میں جنہوں نے جھگڑا کیا تھا یہاں تک کہ ان میں سے ایک عورت ( ام عطیف بنت مروح ) نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا ( جس کا نام ملیکہ بنت عویمر تھا ) وہ پتھر عورت کے پیٹ میں جا کر لگا۔ یہ عورت حاملہ تھی اس لیے اس کے پیٹ کا بچہ ( پتھر کی چوٹ سے ) مر گیا۔ یہ معاملہ دونوں فریق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ نے فیصلہ کیا کہ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت ایک غلام یا باندی آزاد کرنا ہے جس عورت پر تاوان واجب ہوا تھا اس کے ولی ( حمل بن مالک بن نابغہ ) نے کہا یا رسول اللہ! میں ایسی چیز کی دیت کیسے دے دوں جس نے نہ کھایا نہ پیا نہ بولا اور نہ ولادت کے وقت اس کی آواز ہی سنائی دی؟ ایسی صورت میں تو کچھ بھی دیت نہیں ہو سکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ یہ شخص تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔
حدثنا سعيد بن عفير، حدثنا الليث، قال حدثنا عبد الرحمن بن خالد، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في امراتين من هذيل اقتتلتا، فرمت احداهما الاخرى بحجر، فاصاب بطنها وهى حامل، فقتلت ولدها الذي في بطنها فاختصموا الى النبي صلى الله عليه وسلم فقضى ان دية ما في بطنها غرة عبد او امة، فقال ولي المراة التي غرمت كيف اغرم يا رسول الله من لا شرب، ولا اكل، ولا نطق، ولا استهل، فمثل ذلك يطل فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انما هذا من اخوان الكهان
حدثنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان امراتين، رمت احداهما الاخرى بحجر فطرحت جنينها، فقضى فيه النبي صلى الله عليه وسلم بغرة عبد او وليدة. وعن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في الجنين يقتل في بطن امه بغرة عبد او وليدة. فقال الذي قضي عليه كيف اغرم من لا اكل، ولا شرب، ولا نطق، ولا استهل، ومثل ذلك بطل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما هذا من اخوان الكهان
حدثنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان امراتين، رمت احداهما الاخرى بحجر فطرحت جنينها، فقضى فيه النبي صلى الله عليه وسلم بغرة عبد او وليدة. وعن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في الجنين يقتل في بطن امه بغرة عبد او وليدة. فقال الذي قضي عليه كيف اغرم من لا اكل، ولا شرب، ولا نطق، ولا استهل، ومثل ذلك بطل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما هذا من اخوان الكهان
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زنا کی اجرت اور کاہن کی کہانت کی وجہ سے ملنے والے ہدیہ سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا ابن عيينة، عن الزهري، عن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث، عن ابي مسعود، قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن ثمن الكلب، ومهر البغي، وحلوان الكاهن
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں یحییٰ بن عروہ بن زبیر نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! بعض اوقات وہ ہمیں ایسی چیزیں بھی بتاتے ہیں جو صحیح ہو جاتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کلمہ حق ہوتا ہے۔ اسے کاہن کسی جننی سے سن لیتا ہے وہ جننی اپنے دوست کاہن کے کان میں ڈال جاتا ہے اور پھر یہ کاہن اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر بیان کرتے ہیں۔ علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ عبدالرزاق اس کلمہ «تلك الكلمة من الحق» کو مرسلاً روایت کرتے تھے پھر انہوں نے کہا مجھ کو یہ خبر پہنچی کہ عبدالرزاق اس کے بعد اس کو مسنداً عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا هشام بن يوسف، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن يحيى بن عروة بن الزبير، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت سال رسول الله صلى الله عليه وسلم ناس عن الكهان. فقال " ليس بشىء ". فقالوا يا رسول الله انهم يحدثونا احيانا بشىء فيكون حقا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تلك الكلمة من الحق، يخطفها من الجني، فيقرها في اذن وليه، فيخلطون معها ماية كذبة ". قال علي قال عبد الرزاق مرسل، الكلمة من الحق. ثم بلغني انه اسنده بعده
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ اشعری نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بنی زریق کے ایک شخص یہودی لبید بن اعصم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کے متعلق خیال کرتے کہ آپ نے وہ کام کر لیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا۔ ایک دن یا ( راوی نے بیان کیا کہ ) ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف رکھتے تھے اور مسلسل دعا کر رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ! تمہیں معلوم ہے اللہ سے جو بات میں پوچھ رہا تھا، اس نے اس کا جواب مجھے دے دیا۔ میرے پاس دو ( فرشتے جبرائیل و میکائیل علیہما السلام ) آئے۔ ایک میرے سر کی طرف کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی طرف۔ ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے پوچھا ان صاحب کی بیماری کیا ہے؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو ہوا ہے۔ اس نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے۔ پوچھا کس چیز میں؟ جواب دیا کہ کنگھے اور سر کے بال میں جو نر کھجور کے خوشے میں رکھے ہوئے ہیں۔ سوال کیا اور یہ جادو ہے کہاں؟ جواب دیا کہ زروان کے کنویں میں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر اپنے چند صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے اور جب واپس آئے تو فرمایا عائشہ! اس کا پانی ایسا ( سرخ ) تھا جیسے مہندی کا نچوڑ ہوتا ہے اور اس کے کھجور کے درختوں کے سر ( اوپر کا حصہ ) شیطان کے سروں کی طرح تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے اس جادو کو باہر کیوں نہیں کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے عافیت دے دی اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اب میں خواہ مخواہ لوگوں میں اس برائی کو پھیلاؤں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جادو کا سامان کنگھی بال خرما کا غلاف ہوتے ہیں اسی میں دفن کرا دیا۔ عیسیٰ بن یونس کے ساتھ اس حدیث کو ابواسامہ اور ابوضمرہ ( انس بن عیاض ) اور ابن ابی الزناد تینوں نے ہشام سے یوں روایت کیا اور لیث بن مسور اور سفیان بن عیینہ نے ہشام سے یوں روایت کیا ہے «في مشط ومشاقة.، المشاطة» اسے کہتے ہیں جو بال کنگھی کرنے میں نکلیں سر یا داڑھی کے اور «مشاقة.» روئی کے تار یعنی سوت کے تار کو کہتے ہیں۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا عيسى بن يونس، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت سحر رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل من بني زريق يقال له لبيد بن الاعصم، حتى كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخيل اليه انه يفعل الشىء وما فعله، حتى اذا كان ذات يوم او ذات ليلة وهو عندي لكنه دعا ودعا ثم قال " يا عايشة، اشعرت ان الله افتاني فيما استفتيته فيه، اتاني رجلان فقعد احدهما عند راسي، والاخر عند رجلى، فقال احدهما لصاحبه ما وجع الرجل فقال مطبوب. قال من طبه قال لبيد بن الاعصم. قال في اى شىء قال في مشط ومشاطة، وجف طلع نخلة ذكر. قال واين هو قال في بير ذروان ". فاتاها رسول الله صلى الله عليه وسلم في ناس من اصحابه فجاء فقال " يا عايشة كان ماءها نقاعة الحناء، او كان رءوس نخلها رءوس الشياطين ". قلت يا رسول الله افلا استخرجه قال " قد عافاني الله، فكرهت ان اثور على الناس فيه شرا ". فامر بها فدفنت. تابعه ابو اسامة وابو ضمرة وابن ابي الزناد عن هشام. وقال الليث وابن عيينة عن هشام في مشط ومشاقة. يقال المشاطة ما يخرج من الشعر اذا مشط، والمشاقة من مشاقة الكتان
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے، ان سے ابوالغیث نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تباہ کر دینے والی چیز اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس سے بچو اور جادو کرنے کرانے سے بھی بچو۔“
حدثني عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني سليمان، عن ثور بن زيد، عن ابي الغيث، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اجتنبوا الموبقات الشرك بالله، والسحر
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سفیان بن عیینہ سے سنا، کہا کہ سب سے پہلے یہ حدیث ہم سے ابن جریج نے بیان کی، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھ سے یہ حدیث آل عروہ نے عروہ سے بیان کی، اس لیے میں نے ( عروہ کے بیٹے ) ہشام سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ہم سے اپنے والد ( عروہ ) سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا تھا اور اس کا آپ پر یہ اثر ہوا تھا آپ کو خیال ہوتا کہ آپ نے ازواج مطہرات میں سے کسی کے ساتھ ہمبستری کی ہے حالانکہ آپ نے کی نہیں ہوتی۔ سفیان ثوری نے بیان کیا کہ جادو کی یہ سب سے سخت قسم ہے جب اس کا یہ اثر ہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ سے جو بات میں نے پوچھی تھی اس کا جواب اس نے کب کا دے دیا ہے۔ میرے پاس دو فرشتے آئے ایک میرے سر کے پاس کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس۔ جو فرشتہ میرے سر کی طرف کھڑا تھا اس نے دوسرے سے کہا ان صاحب کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان پر جادو کر دیا گیا ہے۔ پوچھا کہ کس نے ان پر جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے یہ یہودیوں کے حلیف بنی زریق کا ایک شخص تھا اور منافق تھا۔ سوال کیا کہ کس چیز میں ان پر جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ کنگھے اور بال میں۔ پوچھا جادو ہے کہاں؟ جواب دیا کہ نر کھجور کے خوشے میں جو زروان کے کنویں کے اندر رکھے ہوئے پتھر کے نیچے دفن ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر تشریف لے گئے اور جادو اندر سے نکالا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی وہ کنواں ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا اس کا پانی مہندی کے عرق جیسا رنگین تھا اور اس کے کھجور کے درختوں کے سر شیطانوں کے سروں جیسے تھے۔ بیان کیا کہ پھر وہ جادو کنویں میں سے نکالا گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے کہا آپ نے اس جادو کا توڑ کیوں نہیں کرایا۔ فرمایا: ہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی اب میں لوگوں میں ایک شور ہونا پسند نہیں کرتا۔
حدثني عبد الله بن محمد، قال سمعت ابن عيينة، يقول اول من حدثنا به ابن جريج، يقول حدثني ال، عروة عن عروة، فسالت هشاما عنه فحدثنا عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم سحر حتى كان يرى انه ياتي النساء ولا ياتيهن. قال سفيان وهذا اشد ما يكون من السحر اذا كان كذا. فقال " يا عايشة اعلمت ان الله قد افتاني فيما استفتيته فيه، اتاني رجلان فقعد احدهما عند راسي، والاخر عند رجلى، فقال الذي عند راسي للاخر ما بال الرجل قال مطبوب. قال ومن طبه قال لبيد بن اعصم، رجل من بني زريق حليف ليهود، كان منافقا. قال وفيم قال في مشط ومشاقة. قال واين قال في جف طلعة ذكر، تحت رعوفة، في بير ذروان ". قالت فاتى النبي صلى الله عليه وسلم البير حتى استخرجه فقال " هذه البير التي اريتها، وكان ماءها نقاعة الحناء، وكان نخلها رءوس الشياطين ". قال فاستخرج، قالت فقلت افلا اى تنشرت. فقال " اما والله فقد شفاني، واكره ان اثير على احد من الناس شرا
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا تھا اور اس کا اثر یہ تھا کہ آپ کو خیال ہوتا کہ آپ کوئی چیز کر چکے ہیں حالانکہ وہ چیز نہ کی ہوتی ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف رکھتے تھے اور مسلسل دعائیں کر رہے تھے، پھر فرمایا: عائشہ! تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ سے جو بات میں نے پوچھی تھی اس کا جواب اس نے مجھے دے دیا ہے۔ میں نے عرض کی وہ کیا بات ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس دو فرشتے ( جبرائیل و میکائیل علیہما السلام ) آئے اور ایک میرے سر کے پاس کھڑا ہو گیا اور دوسرا پاؤں کی طرف پھر ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا ان صاحب کی تکلیف کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے۔ پوچھا کس نے ان پر جادو کیا ہے؟ فرمایا بنی زریق کے لبید بن اعصم یہودی نے، پوچھا کس چیز میں؟ جواب دیا کہ کنگھے اور بال میں جو نر کھجور کے خوشے میں رکھا ہوا ہے۔ پوچھا اور وہ جادو رکھا کہاں ہے؟ جواب دیا کہ ذروان کے کنویں میں۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ اس کنویں پر تشریف لے گئے اور اسے دیکھا وہاں کھجور کے درخت بھی تھے پھر آپ واپس عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے اور فرمایا صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم! اس کا پانی مہندی کے عرق جیسا ( سرخ ) ہے اور اس کے کھجور کے درخت شیاطین کے سروں جیسے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کنگھی بال وغیرہ غلاف سے نکلوائے یا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، سن لو اللہ نے تو مجھ کو شفاء دے دی، تندرست کر دیا اب میں ڈرا کہیں لوگوں میں ایک شور نہ پھیلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سامان کے گاڑ دینے کا حکم دیا وہ گاڑ دیا گیا۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت سحر النبي صلى الله عليه وسلم حتى انه ليخيل اليه انه يفعل الشىء وما فعله، حتى اذا كان ذات يوم وهو عندي دعا الله ودعاه، ثم قال " اشعرت يا عايشة ان الله قد افتاني فيما استفتيته فيه ". قلت وما ذاك يا رسول الله قال " جاءني رجلان، فجلس احدهما عند راسي والاخر عند رجلى، ثم قال احدهما لصاحبه ما وجع الرجل قال مطبوب. قال ومن طبه قال لبيد بن الاعصم، اليهودي من بني زريق. قال فيما ذا قال في مشط ومشاطة، وجف طلعة ذكر. قال فاين هو قال في بير ذي اروان ". قال فذهب النبي صلى الله عليه وسلم في اناس من اصحابه الى البير، فنظر اليها وعليها نخل، ثم رجع الى عايشة فقال " والله لكان ماءها نقاعة الحناء، ولكان نخلها رءوس الشياطين ". قلت يا رسول الله افاخرجته قال " لا، اما انا فقد عافاني الله وشفاني، وخشيت ان اثور على الناس منه شرا ". وامر بها فدفنت
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں زید بن اسلم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ دو آدمی پورب کی طرف ( ملک عراق ) سے ( سنہ 9 ھ میں ) مدینہ آئے اور لوگوں کو خطاب کیا لوگ ان کی تقریر سے بہت متاثر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض تقریریں بھی جادو بھری ہوتی ہیں یا یہ فرمایا کہ بعض تقریر جادو ہوتی ہیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن زيد بن اسلم، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما انه قدم رجلان من المشرق، فخطبا، فعجب الناس لبيانهما، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من البيان لسحرا او ان بعض البيان لسحر
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ فزاری نے بیان کیا، کہا ہم کو ہاشم بن ہاشم بن عقبہ نے خبر دی، کہا ہم کو عامر بن سعد نے خبر دی اور ان سے ان کے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص روزانہ چند عجوہ کھجوریں کھا لیا کرے اسے اس دن رات تک زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ علی بن عبداللہ مدینی کے سوا دوسرے راوی نے بیان کیا کہ سات کھجوریں کھا لیا کرے۔
حدثنا علي، حدثنا مروان، اخبرنا هاشم، اخبرنا عامر بن سعد، عن ابيه رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من اصطبح كل يوم تمرات عجوة، لم يضره سم ولا سحر ذلك اليوم الى الليل ". وقال غيره " سبع تمرات
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابواسامہ حماد بن اسامہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم نے بیان کیا کہ میں نے عامر بن سعد سے سنا، انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لیں اس دن اسے نہ زہر نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ جادو۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا ابو اسامة، حدثنا هاشم بن هاشم، قال سمعت عامر بن سعد، سمعت سعدا رضى الله عنه يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من تصبح سبع تمرات عجوة، لم يضره ذلك اليوم سم ولا سحر
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگ جانا، صفر کی نحوست اور الو کی نحوست کوئی چیز نہیں۔ ایک دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ! پھر اس اونٹ کے متعلق کیا کہا جائے گا جو ریگستان میں ہرن کی طرح صاف چمکدار ہوتا ہے لیکن خارش والا اونٹ اسے مل جاتا ہے اور اسے بھی خارش لگا دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا هشام بن يوسف، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا عدوى، ولا صفر، ولا هامة ". فقال اعرابي يا رسول الله فما بال الابل تكون في الرمل كانها الظباء، فيخالطها البعير الاجرب فيجربها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فمن اعدى الاول
اور ابوسلمہ سے روایت ہے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے بیمار اونٹوں کو کسی کے صحت مند اونٹوں میں نہ لے جائے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پہلی حدیث کا انکار کیا۔ ہم نے ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ) عرض کیا کہ آپ ہی نے ہم سے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ چھوت یہ نہیں ہوتا پھر وہ ( غصہ میں ) حبشی زبان بولنے لگے۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ اس حدیث کے سوا میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اور کوئی حدیث بھولتے نہیں دیکھا۔
وعن ابي سلمة، سمع ابا هريرة، بعد يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يوردن ممرض على مصح ". وانكر ابو هريرة حديث الاول قلنا الم تحدث انه لا عدوى فرطن بالحبشية. قال ابو سلمة فما رايته نسي حديثا غيره
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ اور حمزہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگ جانے کی کوئی حقیقت نہیں ہے، بدشگونی کی کوئی اصل نہیں۔ ( اگر ممکن ہوتی تو ) نحوست تین چیزوں میں ہوتی، گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني سالم بن عبد الله، وحمزة، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا عدوى، ولا طيرة، انما الشوم في ثلاث في الفرس، والمراة، والدار
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا عدوى ". قال ابو سلمة بن عبد الرحمن سمعت ابا هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا توردوا الممرض على المصح ". وعن الزهري، قال اخبرني سنان بن ابي سنان الدولي، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا عدوى ". فقام اعرابي فقال ارايت الابل تكون في الرمال امثال الظباء فياتيه البعير الاجرب فتجرب. قال النبي صلى الله عليه وسلم " فمن اعدى الاول
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا عدوى ". قال ابو سلمة بن عبد الرحمن سمعت ابا هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا توردوا الممرض على المصح ". وعن الزهري، قال اخبرني سنان بن ابي سنان الدولي، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا عدوى ". فقام اعرابي فقال ارايت الابل تكون في الرمال امثال الظباء فياتيه البعير الاجرب فتجرب. قال النبي صلى الله عليه وسلم " فمن اعدى الاول
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا عدوى ". قال ابو سلمة بن عبد الرحمن سمعت ابا هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا توردوا الممرض على المصح ". وعن الزهري، قال اخبرني سنان بن ابي سنان الدولي، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا عدوى ". فقام اعرابي فقال ارايت الابل تكون في الرمال امثال الظباء فياتيه البعير الاجرب فتجرب. قال النبي صلى الله عليه وسلم " فمن اعدى الاول
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگنا کوئی چیز نہیں ہے اور بدشگونی نہیں ہے البتہ نیک فال مجھے پسند ہے۔ صحابی نے عرض کیا نیک فال کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھی بات منہ سے نکالنا یا کسی سے سن لینا۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا ابن جعفر، حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا عدوى، ولا طيرة، ويعجبني الفال ". قالوا وما الفال قال " كلمة طيبة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری ہدیہ میں پیش کی گئی ( ایک یہودی عورت زینب بنت حرث نے پیش کی تھی ) جس میں زہر بھرا ہوا تھا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں پر جتنے یہودی ہیں انہیں میرے پاس جمع کرو۔ چنانچہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع کئے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے ایک بات پوچھوں گا کیا تم مجھے صحیح صحیح بات بتا دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اے ابوالقاسم! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا پردادا کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ فلاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جھوٹ کہتے ہو تمہارا پردادا تو فلاں ہے۔ اس پر وہ بولے کہ آپ نے سچ فرمایا، درست فرمایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں گا تو تم مجھے سچ سچ بتا دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اے ابوالقاسم! اور اگر ہم جھوٹ بولیں بھی تو آپ ہمارا جھوٹ پکڑ لیں گے جیسا کہ ابھی ہمارے پردادا کے متعلق آپ نے ہمارا جھوٹ پکڑ لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ والے کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کچھ دن کے لیے تو ہم اس میں رہیں گے پھر آپ لوگ ہماری جگہ لے لیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو گے، واللہ! ہم اس میں تمہاری جگہ کبھی نہیں لیں گے۔ آپ نے پھر ان سے دریافت فرمایا کیا اگر میں تم سے ایک بات پوچھوں تو تم مجھے اس کے متعلق صحیح صحیح بتا دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہیں اس کام پر کس جذبہ نے آمادہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ جھوٹے ہوں گے تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی اور اگر سچے ہوں گے تو آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة، انه قال لما فتحت خيبر اهديت لرسول الله صلى الله عليه وسلم شاة فيها سم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اجمعوا لي من كان ها هنا من اليهود ". فجمعوا له فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني سايلكم عن شىء فهل انتم صادقي عنه ". فقالوا نعم يا ابا القاسم. فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ابوكم ". قالوا ابونا فلان. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كذبتم بل ابوكم فلان ". فقالوا صدقت وبررت. فقال " هل انتم صادقي عن شىء ان سالتكم عنه ". فقالوا نعم يا ابا القاسم، وان كذبناك عرفت كذبنا كما عرفته في ابينا. قال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اهل النار ". فقالوا نكون فيها يسيرا، ثم تخلفوننا فيها. فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " اخسيوا فيها، والله لا نخلفكم فيها ابدا ". ثم قال لهم " فهل انتم صادقي عن شىء ان سالتكم عنه ". قالوا نعم. فقال " هل جعلتم في هذه الشاة سما ". فقالوا نعم. فقال " ما حملكم على ذلك ". فقالوا اردنا ان كنت كذابا نستريح منك، وان كنت نبيا لم يضرك