Loading...

Loading...
کتب
۷۰ احادیث
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا وہ چند جوانوں یا ( یہ کہا کہ ) چند آدمیوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی باندھ رکھی تھی اور اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے تھے جب انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو وہاں سے بھاگ گئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا یہ کون کر رہا تھا؟ ایسا کرنے والوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔ اس کی متابعت سلیمان نے شعبہ سے کی ہے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، قال كنت عند ابن عمر فمروا بفتية او بنفر نصبوا دجاجة يرمونها، فلما راوا ابن عمر تفرقوا عنها، وقال ابن عمر من فعل هذا ان النبي صلى الله عليه وسلم لعن من فعل هذا. تابعه سليمان عن شعبة، حدثنا المنهال، عن سعيد، عن ابن عمر، لعن النبي صلى الله عليه وسلم من مثل بالحيوان. وقال عدي عن سعيد عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عدی بن ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رہزنی کرنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، قال اخبرني عدي بن ثابت، قال سمعت عبد الله بن يزيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نهى عن النهبة والمثلة
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے زہدم جرمی نے، ان سے ابوموسیٰ یعنی الاشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کھاتے دیکھا ہے۔
حدثنا يحيى، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن زهدم الجرمي، عن ابي موسى يعني الاشعري رضى الله عنه قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم ياكل دجاجا
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب بن ابی تمیمہ نے بیان کیا، ان سے قاسم نے، ان سے زہدم جرمی نے بیان کیا کہ ہم سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ہم میں اور اس قبیلہ جرم میں بھائی چارہ تھا پھر کھانا لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت بھی تھا، حاضرین میں ایک شخص سرخ رنگ کا بیٹھا ہوا تھا لیکن وہ کھانے میں شریک نہیں ہوا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ تم بھی شریک ہو جاؤ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا تھا اسی وقت سے مجھے اس سے گھن آنے لگی ہے اور میں نے قسم کھا لی ہے کہ اب اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ شریک ہو جاؤ میں تمہیں خبر دیتا ہوں یا انہوں نے کہا کہ میں تم سے بیان کرتا ہوں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کو ساتھ لے کر حاضر ہوا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا تو آپ خفا تھے آپ صدقہ کے اونٹ تقسیم فرما رہے تھے۔ اسی وقت ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لیے اونٹ کا سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا لی کہ آپ ہمیں سواری کے لیے اونٹ نہیں دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس تمہارے لیے سواری کا کوئی جانور نہیں ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اشعری کہاں ہیں، اشعری کہاں ہیں؟ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ سفید کوہان والے اونٹ دے دیئے۔ تھوڑی دیر تک تو ہم خاموش رہے لیکن پھر میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہیں اور اگر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم کے بارے میں غافل رکھا تو ہم کبھی فلاح نہیں پا سکیں گے۔ چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں واپس آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم نے آپ سے سواری کے اونٹ ایک مرتبہ مانگے تھے تو آپ نے ہمیں سواری کے لیے کوئی جانور نہ دینے کی قسم کھا لی تھی ہمارے خیال میں آپ اپنی قسم بھول گئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ ہی کی وہ ذات ہے جس نے تمہیں سواری کے لیے جانور عطا فرمایا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں کوئی قسم کھا لوں اور پھر بعد میں مجھ پر واضح ہو جائے کہ اس کے سوا دوسری چیز اس سے بہتر ہے اور پھر وہی میں نہ کروں جو بہتر ہے، میں قسم توڑ دوں گا اور وہی کروں گا جو بہتر ہو گا اور قسم توڑنے کا کفارہ ادا کر دوں گا۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ايوب بن ابي تميمة، عن القاسم، عن زهدم، قال كنا عند ابي موسى الاشعري، وكان بيننا وبين هذا الحى من جرم اخاء، فاتي بطعام فيه لحم دجاج، وفي القوم رجل جالس احمر فلم يدن من طعامه قال ادن فقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ياكل منه. قال اني رايته اكل شييا فقذرته، فحلفت ان لا اكله. فقال ادن اخبرك او احدثك اني اتيت النبي صلى الله عليه وسلم في نفر من الاشعريين، فوافقته وهو غضبان، وهو يقسم نعما من نعم الصدقة فاستحملناه فحلف ان لا يحملنا، قال " ما عندي ما احملكم عليه ". ثم اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بنهب من ابل فقال " اين الاشعريون اين الاشعريون ". قال فاعطانا خمس ذود غر الذرى، فلبثنا غير بعيد، فقلت لاصحابي نسي رسول الله صلى الله عليه وسلم يمينه، فوالله لين تغفلنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يمينه لا نفلح ابدا. فرجعنا الى النبي صلى الله عليه وسلم فقلنا يا رسول الله انا استحملناك، فحلفت ان لا تحملنا فظننا انك نسيت يمينك. فقال " ان الله هو حملكم، اني والله ان شاء الله لا احلف على يمين فارى غيرها خيرا منها الا اتيت الذي هو خير، وتحللتها
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے فاطمہ نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک گھوڑا ذبح کیا اور اسے کھایا۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا هشام، عن فاطمة، عن اسماء، قالت نحرنا فرسا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فاكلناه
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے محمد بن علی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جنگ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت فرما دی تھی اور گھوڑے کا گوشت کھانے کی رخصت دی تھی۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، عن محمد بن علي، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهم قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم يوم خيبر عن لحوم الحمر، ورخص في لحوم الخيل
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ نے، انہیں سالم اور نافع نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کر دی تھی۔
حدثنا صدقة، اخبرنا عبدة، عن عبيد الله، عن سالم، ونافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن لحوم الحمر الاهلية يوم خيبر
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، کہا مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی۔ اس روایت کی متابعت ابن مبارک نے کی تھی، ان سے نافع نے اور ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے سالم نے اسی طرح سے بیان کیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، حدثني نافع، عن عبد الله، قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن لحوم الحمر الاهلية. تابعه ابن المبارك عن عبيد الله عن نافع. وقال ابو اسامة عن عبيد الله عن سالم
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں محمد بن علی کے بیٹے عبداللہ اور حسن نے اور انہیں ان کے والد نے کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کے کھانے سے منع فرما دیا تھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عبد الله، والحسن، ابنى محمد بن علي عن ابيهما، عن علي رضى الله عنهم قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المتعة عام خيبر ولحوم حمر الانسية
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے محمد بن علی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا اور گھوڑوں کے لیے رخصت فرما دی تھی۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن عمرو، عن محمد بن علي، عن جابر بن عبد الله، قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم يوم خيبر عن لحوم الحمر، ورخص في لحوم الخيل
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، قال حدثني عدي، عن البراء، وابن ابي اوفى، رضى الله عنهم قالا نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن لحوم الحمر
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، قال حدثني عدي، عن البراء، وابن ابي اوفى، رضى الله عنهم قالا نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن لحوم الحمر
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں ابوادریس نے خبر دی اور ان سے ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھے کا گوشت کھانا حرام قرار دیا تھا۔ اس روایت کی متابعت زبیدی اور عقیل نے ابن شہاب سے کی ہے۔ مالک، معمر، ماجشون، یونس اور ابن اسحاق نے زہری سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر پھاڑ کر کھانے والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا اسحاق، اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، ان ابا ادريس، اخبره ان ابا ثعلبة قال حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم لحوم الحمر الاهلية. تابعه الزبيدي وعقيل عن ابن شهاب. وقال مالك ومعمر والماجشون ويونس وابن اسحاق عن الزهري نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن كل ذي ناب من السباع
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں محمد نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب آئے اور عرض کیا کہ میں نے گدھے کا گوشت کھا لیا ہے پھر دوسرے صاحب آئے اور کہا کہ میں نے گدھے کا گوشت کھا لیا ہے پھر تیسرے صاحب آئے اور کہا کہ گدھے ختم ہو گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کے ذریعہ لوگوں میں اعلان کرایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں کیونکہ وہ ناپاک ہیں چنانچہ اسی وقت ہانڈیاں الٹ دی گئیں حالانکہ وہ ( گدھے کے ) گوشت سے جوش مار رہی تھیں۔
حدثنا محمد بن سلام، اخبرنا عبد الوهاب الثقفي، عن ايوب، عن محمد، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءه جاء فقال اكلت الحمر، ثم جاءه جاء فقال اكلت الحمر. ثم جاءه جاء فقال افنيت الحمر. فامر مناديا فنادى في الناس ان الله ورسوله ينهيانكم عن لحوم الحمر الاهلية، فانها رجس. فاكفيت القدور وانها لتفور باللحم
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نے ہمیں بصرہ میں یہی بتایا تھا لیکن علم کے سمندر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے انکار کیا اور ( استدلال میں ) اس آیت کی تلاوت کی «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما» ۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال عمرو قلت لجابر بن زيد يزعمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن حمر الاهلية فقال قد كان يقول ذاك الحكم بن عمرو الغفاري عندنا بالبصرة، ولكن ابى ذاك البحر ابن عباس وقرا {قل لا اجد فيما اوحي الى محرما}
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوادریس خولانی نے اور وہ ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر پھاڑ کھانے والے درندوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا۔ اس روایت کی متابعت یونس، معمر، ابن عیینہ اور ماجشون نے زہری کی سند سے کی ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن ابي ادريس الخولاني، عن ابي ثعلبة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن اكل كل ذي ناب من السباع. تابعه يونس ومعمر وابن عيينة والماجشون عن الزهري
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مری ہوئی بکری کے قریب سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مری ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح، قال حدثني ابن شهاب، ان عبيد الله بن عبد الله، اخبره ان عبد الله بن عباس رضى الله عنهما اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بشاة ميتة فقال " هلا استمتعتم باهابها ". قالوا انها ميتة. قال " انما حرم اكلها
ہم سے خطاب بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن حمیر نے بیان کیا، ان سے ثابت بن عجلان نے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرے ہوئے بکرے کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ اس کے مالکوں کو کیا ہو گیا ہے اگر وہ اس کے چمڑے کو کام میں لاتے ( تو بہتر ہوتا ) ۔
حدثنا خطاب بن عثمان، حدثنا محمد بن حمير، عن ثابت بن عجلان، قال سمعت سعيد بن جبير، قال سمعت ابن عباس رضى الله عنهما يقول مر النبي صلى الله عليه وسلم بعنز ميتة فقال " ما على اهلها لو انتفعوا باهابها
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو زخمی بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہو گیا ہو اسے قیامت کے دن اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے زخم سے جو خون جاری ہو گا اس کا رنگ تو خون ہی جیسا ہو گا مگر اس میں مشک جیسی خوشبو ہو گی۔
حدثنا مسدد، عن عبد الواحد، حدثنا عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مكلوم يكلم في الله الا جاء يوم القيامة وكلمه يدمى، اللون لون دم والريح ريح مسك
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے بردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیک اور برے دوست کی مثال مشک ساتھ رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے ( جس کے پاس مشک ہے اور تم اس کی محبت میں ہو ) وہ اس میں سے یا تمہیں کچھ تحفہ کے طور پر دے گا یا تم اس سے خرید سکو گے یا ( کم از کم ) تم اس کی عمدہ خوشبو سے تو محظوظ ہو ہی سکو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے ( بھٹی کی آگ سے ) جلا دے گا یا تمہیں اس کے پاس سے ایک ناگوار بدبودار دھواں پہنچے گا۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مثل الجليس الصالح والسوء كحامل المسك ونافخ الكير، فحامل المسك اما ان يحذيك، واما ان تبتاع منه، واما ان تجد منه ريحا طيبة، ونافخ الكير اما ان يحرق ثيابك، واما ان تجد ريحا خبيثة