Loading...

Loading...
کتب
۷۰ احادیث
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے ابویعفور نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات یا چھ غزووں میں شریک ہوئے، ہم آپ کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔ سفیان، ابوعوانہ اور اسرائیل نے ابویعفور سے بیان کیا اور ان سے ابن ابی اوفی نے، سات غزوہ کے لفظ روایت کئے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن ابي يعفور، قال سمعت ابن ابي اوفى رضى الله عنهما قال غزونا مع النبي صلى الله عليه وسلم سبع غزوات او ستا، كنا ناكل معه الجراد. قال سفيان وابو عوانة واسراييل عن ابي يعفور عن ابن ابي اوفى سبع غزوات
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، ان سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ربیعہ بن یزید دمشقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوادریس خولانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: یا رسول اللہ! ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں اور ہم شکار کی زمین میں رہتے ہیں اور میں اپنے تیر کمان سے بھی شکار کرتا ہوں اور سدھائے ہوئے کتے سے اور بےسدھائے کتے سے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جو یہ کہا ہے کہ تم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہو تو ان کے برتنوں میں نہ کھایا کرو۔ البتہ اگر ضرورت ہو اور کھانا ہی پڑ جائے تو انہیں خوب دھو لیا کرو اور جو تم نے یہ کہا ہے کہ تم شکار کی زمین میں رہتے ہو تو جو شکار تم اپنے تیر کمان سے کرو اور اس پر اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا ہو وہ بھی کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے بلا سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اسے خود ذبح کیا ہو اسے کھاؤ۔
حدثنا ابو عاصم، عن حيوة بن شريح، قال حدثني ربيعة بن يزيد الدمشقي، قال حدثني ابو ادريس الخولاني، قال حدثني ابو ثعلبة الخشني، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله انا بارض اهل الكتاب، فناكل في انيتهم، وبارض صيد، اصيد بقوسي، واصيد بكلبي المعلم، وبكلبي الذي ليس بمعلم. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اما ما ذكرت انك بارض اهل كتاب فلا تاكلوا في انيتهم، الا ان لا تجدوا بدا، فان لم تجدوا بدا فاغسلوها وكلوا، واما ما ذكرت انكم بارض صيد، فما صدت بقوسك، فاذكر اسم الله وكل، وما صدت بكلبك المعلم، فاذكر اسم الله وكل، وما صدت بكلبك الذي ليس بمعلم، فادركت ذكاته، فكله
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی عبیدہ نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح خیبر کی شام کو لوگوں نے آگ روشن کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ آگ تم لوگوں نے کس لیے روشن کی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ گدھے کا گوشت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہانڈیوں میں کچھ ( گدھے کا گوشت ) ہے اسے پھینک دو اور ہانڈیوں کو توڑ ڈالو۔ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا ہانڈی میں جو کچھ ( گوشت وغیرہ ) ہے اسے ہم پھینک دیں اور برتن دھو لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی کر سکتے ہو۔
حدثنا المكي بن ابراهيم، قال حدثني يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة بن الاكوع، قال لما امسوا يوم فتحوا خيبر اوقدوا النيران، قال النبي صلى الله عليه وسلم " على ما اوقدتم هذه النيران ". قالوا لحوم الحمر الانسية. قال " اهريقوا ما فيها، واكسروا قدورها ". فقام رجل من القوم فقال نهريق ما فيها ونغسلها. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " او ذاك
مجھ سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسروق نے، ان سے عبایہ بن رفاعہ بن رافع نے اپنے دادا رافع بن خدیج سے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام ذی الحلیفہ میں تھے کہ ( ہم ) لوگ بھوک اور فاقہ میں مبتلا ہو گئے پھر ہمیں ( غنیمت میں ) اونٹ اور بکریاں ملیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پیچھے تھے۔ لوگوں نے جلدی کی بھوک کی شدت کی وجہ سے ( اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے پہلے ہی غنیمت کے جانوروں کو ذبح کر لیا ) اور ہانڈیاں پکنے کے لیے چڑھا دیں پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ہانڈیاں الٹ دی گئیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت کی تقسیم کی اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیا۔ ان میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا۔ قوم کے پاس گھوڑوں کی کمی تھی لوگ اس اونٹ کے پیچھے دوڑے لیکن اس نے سب کو تھکا دیا۔ آخر ایک شخص نے اس پر تیر کا نشانہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان جانوروں میں جنگلیوں کی طرح وحشت ہوتی ہے۔ اس لیے جب کوئی جانور بھڑک کر بھاگ جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو۔ عبایہ نے بیان کیا کہ میرے دادا ( رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ کل ہمارا دشمن سے مقابلہ ہو گا اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں کیا ہم ( دھاردار ) لکڑی سے ذبح کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چیز بھی خون بہا دے اور ( ذبح کرتے وقت ) جانور پر اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ البتہ ( ذبح کرنے والا آلہ ) دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیئے۔ دانت اس لیے نہیں کہ یہ ہڈی ہے ( اور ہڈی سے ذبح کرنا جائز نہیں ہے ) اور ناخن کا اس لیے نہیں کہ حبشی لوگ ان کو چھری کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔
حدثني موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، عن سعيد بن مسروق، عن عباية بن رفاعة بن رافع، عن جده، رافع بن خديج قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم بذي الحليفة، فاصاب الناس جوع، فاصبنا ابلا وغنما، وكان النبي صلى الله عليه وسلم في اخريات الناس، فعجلوا فنصبوا القدور، فدفع اليهم النبي صلى الله عليه وسلم فامر بالقدور فاكفيت، ثم قسم فعدل عشرة من الغنم ببعير، فند منها بعير، وكان في القوم خيل يسيرة فطلبوه فاعياهم، فاهوى اليه رجل بسهم فحبسه الله فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان لهذه البهايم اوابد كاوابد الوحش، فما ند عليكم فاصنعوا به هكذا ". قال وقال جدي انا لنرجو او نخاف ان نلقى العدو غدا، وليس معنا مدى، افنذبح بالقصب فقال " ما انهر الدم وذكر اسم الله عليه فكل، ليس السن والظفر، وساخبركم عنه، اما السن عظم واما الظفر فمدى الحبشة
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز یعنی ابن المختار نے بیان کیا، انہیں موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زید بن عمرو بن نوفل سے مقام بلد کے نشیبی حصہ میں ملاقات ہوئی۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے سے پہلے کا زمانہ ہے۔ آپ نے وہ دستر خوان جس میں گوشت تھا جسے ان لوگوں نے آپ کی ضیافت کے لیے پیش کیا تھا مگر ان پر ذبح کے وقت بتوں کا نام لیا گیا تھا، آپ نے اسے زید بن عمرو کے سامنے واپس فرما دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جو جانور اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہو میں انہیں نہیں کھاتا، میں صرف اسی جانور کا گوشت کھاتا ہوں جس پر ( ذبح کرتے وقت ) اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا عبد العزيز يعني ابن المختار اخبرنا موسى بن عقبة، قال اخبرني سالم، انه سمع عبد الله، يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه لقي زيد بن عمرو بن نفيل باسفل بلدح، وذاك قبل ان ينزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم الوحى، فقدم اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم سفرة فيها لحم، فابى ان ياكل منها، ثم قال اني لا اكل مما تذبحون على انصابكم، ولا اكل الا مما ذكر اسم الله عليه
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے اسود بن قیس نے، ان سے جندب بن سفیان بجلی نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ قربانی کی۔ کچھ لوگوں نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز پڑھ کر ) واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ لوگوں نے اپنی قربانیاں نماز سے پہلے ہی ذبح کر لی ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہو، اسے چاہیئے کہ اس کی جگہ دوسری ذبح کرے اور جس نے نماز پڑھنے سے پہلے نہ ذبح کی ہو اسے چاہیئے کہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن الاسود بن قيس، عن جندب بن سفيان البجلي، قال ضحينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اضحية ذات يوم فاذا اناس قد ذبحوا ضحاياهم قبل الصلاة فلما انصرف راهم النبي صلى الله عليه وسلم انهم قد ذبحوا قبل الصلاة فقال " من ذبح قبل الصلاة فليذبح مكانها اخرى، ومن كان لم يذبح حتى صلينا فليذبح على اسم الله
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے، انہوں نے ابن کعب بن مالک سے سنا، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ ان کے گھر ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی ( چراتے وقت ایک مرتبہ ) اس نے دیکھا کہ ایک بکری مرنے والی ہے۔ چنانچہ اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری ذبح کر دی تو کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ اسے اس وقت تک نہ کھانا جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم نہ پوچھ آؤں یا ( انہوں نے یہ کہا کہ ) میں کسی کو بھیجوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ آئے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے یا کسی کو بھیجا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کی اجازت بخشی۔
حدثنا محمد بن ابي بكر، حدثنا معتمر، عن عبيد الله، عن نافع، سمع ابن كعب بن مالك، يخبر ابن عمر ان اباه، اخبره ان جارية لهم كانت ترعى غنما بسلع، فابصرت بشاة من غنمها موتا، فكسرت حجرا فذبحتها، فقال لاهله لا تاكلوا حتى اتي النبي صلى الله عليه وسلم فاساله، او حتى ارسل اليه من يساله. فاتى النبي صلى الله عليه وسلم او بعث اليه فامر النبي صلى الله عليه وسلم باكلها
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے بنی سلمہ کے ایک صاحب (ابن کعب بن مالک) نے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ خبر دی کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی اس پہاڑی پر جو ”سوق مدنی“ میں ہے اور جس کا نام سلع ہے، بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک بکری مرنے کے قریب ہو گئی تو اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری کو ذبح کر لیا، پھر لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت عطا فرمائی۔
حدثنا موسى، حدثنا جويرية، عن نافع، عن رجل، من بني سلمة اخبر عبد الله، ان جارية، لكعب بن مالك ترعى غنما له بالجبيل الذي بالسوق وهو بسلع، فاصيبت شاة، فكسرت حجرا فذبحتها، فذكروا للنبي صلى الله عليه وسلم فامرهم باكلها
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سعید بن مسروق نے، انہیں عبایہ بن رافع نے اور انہیں ان کے دادا (رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ) نے کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس چھری نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو ( دھار دار ) چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لے لیا گیا ہو تو ( اس سے ذبح کیا ہوا جانور ) کھا سکتے ہو لیکن ناخن اور دانت سے ذبح نہ کیا گیا ہو کیونکہ ناخن حبشیوں کی چھری ہے اور دانت ہڈی ہے. اور ایک اونٹ بھاگ گیا تو ( تیر مار کر ) اسے روک لیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا یہ اونٹ بھی جنگلی جانوروں کی طرح بھڑک اٹھتے ہیں اس لیے جو تمہارے قابو سے باہر ہو جائے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو۔
حدثنا عبدان، قال اخبرني ابي، عن شعبة، عن سعيد بن مسروق، عن عباية بن رافع، عن جده، انه قال يا رسول الله ليس لنا مدى. فقال " ما انهر الدم وذكر اسم الله فكل، ليس الظفر والسن، اما الظفر فمدى الحبشة، واما السن فعظم ". وند بعير فحبسه فقال " ان لهذه الابل اوابد كاوابد الوحش فما غلبكم منها فاصنعوا هكذا
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ نے، انہیں نافع نے، انہیں کعب بن مالک کے ایک بیٹے نے اور انہیں ان کے باپ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک عورت نے بکری پتھر سے ذبح کر لی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کا حکم فرمایا۔ اور لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، انہوں نے قبیلہ انصار کے ایک شخص کو سنا کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خبر دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ کعب رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی تھی پھر اسی حدیث کی طرح بیان کیا۔
حدثنا صدقة، اخبرنا عبدة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن لكعب بن مالك، عن ابيه، ان امراة، ذبحت شاة بحجر، فسيل النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك، فامر باكلها. وقال الليث حدثنا نافع انه سمع رجلا من الانصار يخبر عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم ان جارية لكعب بهذا
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے قبیلہ انصار کے ایک آدمی نے کہ معاذ بن سعد یا سعد بن معاذ نے انہیں خبر دی کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ریوڑ میں سے ایک بکری مرنے لگی تو اس نے اسے مرنے سے پہلے پتھر سے ذبح کر دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کھاؤ۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن نافع، عن رجل، من الانصار عن معاذ بن سعد او سعد بن معاذ اخبره ان جارية لكعب بن مالك كانت ترعى غنما بسلع، فاصيبت شاة منها، فادركتها فذبحتها بحجر، فسيل النبي صلى الله عليه وسلم فقال " كلوها
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے عبایہ بن رفاعہ نے اور ان سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھاؤ یعنی ( ایسے جانور کو جسے ایسی دھاردار چیز سے ذبح کیا گیا ہو ) جو خون بہا دے۔ سوا دانت اور ناخن کے ( یعنی ان سے ذبح کرنا درست نہیں ہے ) ۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن ابيه، عن عباية بن رفاعة، عن رافع بن خديج، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " كل يعني ما انهر الدم الا السن والظفر
ہم سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ بن حفص مدنی نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ( گاؤں کے ) کچھ لوگ ہمارے یہاں گوشت ( بیچنے ) لاتے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے اس پر اللہ کا نام بھی ( ذبح کرتے وقت ) لیا تھا یا نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ تم ان پر کھاتے وقت اللہ کا نام لیا کرو اور کھا لیا کرو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ لوگ ابھی اسلام میں نئے نئے داخل ہوئے تھے۔ اس کی متابعت علی نے دراوردی سے کی اور اس کی متابعت ابوخالد اور طفاوی نے کی۔
حدثنا محمد بن عبيد الله، حدثنا اسامة بن حفص المدني، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها ان قوما، قالوا للنبي صلى الله عليه وسلم ان قوما ياتونا باللحم لا ندري اذكر اسم الله عليه ام لا فقال " سموا عليه انتم وكلوه ". قالت وكانوا حديثي عهد بالكفر. تابعه علي عن الدراوردي. وتابعه ابو خالد والطفاوي
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر کے قلعے کا محاصرہ کئے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ایک تھیلا پھینکا جس میں ( یہودیوں کے ذبیحہ کی ) چربی تھی۔ میں اس پر جھپٹا کہ اٹھا لوں لیکن مڑ کے جو دیکھا تو پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر شرما گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ( آیت میں ) «طَعامهم» سے مراد اہل کتاب کا ذبح کردہ جانور ہے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن مغفل رضى الله عنه قال كنا محاصرين قصر خيبر، فرمى انسان بجراب فيه شحم، فنزوت لاخذه، فالتفت فاذا النبي صلى الله عليه وسلم فاستحييت منه
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج نے اور ان سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کل ہمارا مقابلہ دشمن سے ہو گا اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جلدی کر لو یا ( اس کے بجائے ) «أرن» کہا یعنی جلدی کر لو جو آلہ خون بہا دے اور ذبیحہ پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ۔ البتہ دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیئے اور اس کی وجہ بھی بتا دوں۔ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ اور ہمیں غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملیں ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ پڑا تو ایک صاحب نے تیر سے مار کر گرا لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اونٹ بھی بعض اوقات جنگلی جانوروں کی طرح بدکتے ہیں، اس لیے اگر ان میں سے بھی کوئی تمہارے قابو سے باہر ہو جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا يحيى، حدثنا سفيان، حدثنا ابي، عن عباية بن رفاعة بن رافع بن خديج، عن رافع بن خديج، قال قلت يا رسول الله انا لاقو العدو غدا، وليست معنا مدى فقال " اعجل او ارن ما انهر الدم وذكر اسم الله فكل، ليس السن والظفر، وساحدثك، اما السن فعظم، واما الظفر فمدى الحبشة ". واصبنا نهب ابل وغنم فند منها بعير، فرماه رجل بسهم فحبسه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لهذه الابل اوابد كاوابد الوحش، فاذا غلبكم منها شىء، فافعلوا به هكذا
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے میری بیوی فاطمہ بنت منذر نے خبر دی ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا نحر کیا اور اسے کھایا۔
حدثنا خلاد بن يحيى، حدثنا سفيان، عن هشام بن عروة، قال اخبرتني فاطمة بنت المنذر، امراتي عن اسماء بنت ابي بكر رضى الله عنهما قالت نحرنا على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فرسا فاكلناه
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے عبدہ سے سنا، انہوں نے ہشام سے، انہوں نے فاطمہ سے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے ایک گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھایا اس وقت ہم مدینہ میں تھے۔
حدثنا اسحاق، سمع عبدة، عن هشام، عن فاطمة، عن اسماء، قالت ذبحنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فرسا ونحن بالمدينة فاكلناه
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے ایک گھوڑے کو نحر کیا ( اس کے سینے کے اوپر کے حصہ میں چھری مار کر ) پھر اسے کھایا۔ اس کی متابعت وکیع اور ابن عیینہ نے ہشام سے «نحر.» کے ذکر کے ساتھ کی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن هشام، عن فاطمة بنت المنذر، ان اسماء بنت ابي بكر، قالت نحرنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فرسا فاكلناه. تابعه وكيع وابن عيينة عن هشام في النحر
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے ہشام بن زید نے، کہا کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے یہاں گیا، انہوں نے وہاں چند لڑکوں کو یا نوجوانوں کو دیکھا کہ ایک مرغی کو باندھ کر اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن هشام بن زيد، قال دخلت مع انس على الحكم بن ايوب، فراى غلمانا او فتيانا نصبوا دجاجة يرمونها. فقال انس نهى النبي صلى الله عليه وسلم ان تصبر البهايم
ہم سے احمد بن یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسحاق بن سعید بن عمرو نے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ وہ یحییٰ بن سعید کے یہاں تشریف لے گئے۔ یحییٰ کی اولاد میں ایک بچہ ایک مرغی باندھ کر اس پر تیر کا نشانہ لگا رہا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مرغی کے پاس گئے اور اسے کھول لیا پھر مرغی کو اور بچے کو اپنے ساتھ لائے اور یحییٰ سے کہا کہ اپنے بچہ کو منع کر دو کہ اس جانور کو باندھ کر نہ مارے کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے کسی جنگلی جانور یا کسی بھی جانور کو باندھ کر جان سے مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا احمد بن يعقوب، اخبرنا اسحاق بن سعيد بن عمرو، عن ابيه، انه سمعه يحدث، عن ابن عمر رضى الله عنهما انه دخل على يحيى بن سعيد وغلام من بني يحيى رابط دجاجة يرميها، فمشى اليها ابن عمر حتى حلها، ثم اقبل بها وبالغلام معه فقال ازجروا غلامكم عن ان يصبر هذا الطير للقتل، فاني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان تصبر بهيمة او غيرها للقتل