Loading...

Loading...
کتب
۸ احادیث
مجھ سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور کو اپنے دندان مبارک سے نرم کر کے اسے چٹایا اور اس کے لیے برکت کی دعا کی پھر مجھے دے دیا۔ یہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے سب سے بڑے لڑکے تھے۔
حدثني اسحاق بن نصر، حدثنا ابو اسامة، قال حدثني بريد، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه قال ولد لي غلام، فاتيت به النبي صلى الله عليه وسلم فسماه ابراهيم، فحنكه بتمرة، ودعا له بالبركة ودفعه الى، وكان اكبر ولد ابي موسى
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نو مولود بچہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی تحنیک کر دیں اس بچہ نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، آپ نے اس پر پانی بہا دیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت اتي النبي صلى الله عليه وسلم بصبي يحنكه، فبال عليه، فاتبعه الماء
ہم سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما مکہ میں ان کے پیٹ میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں ( جب ہجرت کے لیے ) نکلی تو وقت ولادت قریب تھا۔ مدینہ منورہ پہنچ کر میں نے پہلی منزل قباء میں کی اور یہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پیدا ہو گئے، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بچہ کو لے کر حاضر ہوئی اور اسے آپ کی گود میں رکھ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور طلب فرمائی اور اسے چبایا اور بچہ کے منہ میں اپنا تھوک ڈال دیا۔ چنانچہ پہلی چیز جو اس بچہ کے پیٹ میں گئی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک مبارک تھا پھر آپ نے کھجور سے تحنیک کی اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ یہ سب سے پہلا بچہ اسلام میں ( ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ) پیدا ہوا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس سے بہت خوش ہوئے کیونکہ یہ افواہ پھیلائی جا رہی تھی کہ یہودیوں نے تم ( مسلمانوں ) پر جادو کر دیا ہے۔ اس لیے تمہارے یہاں اب کوئی بچہ پیدا نہیں ہو گا۔
حدثنا اسحاق بن نصر، حدثنا ابو اسامة، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن اسماء بنت ابي بكر رضى الله عنهما انها حملت بعبد الله بن الزبير بمكة قالت فخرجت وانا متم، فاتيت المدينة فنزلت قباء فولدت بقباء، ثم اتيت به رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضعته في حجره، ثم دعا بتمرة فمضغها، ثم تفل في فيه فكان اول شىء دخل جوفه ريق رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم حنكه بالتمرة، ثم دعا له فبرك عليه، وكان اول مولود ولد في الاسلام، ففرحوا به فرحا شديدا، لانهم قيل لهم ان اليهود قد سحرتكم فلا يولد لكم
ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے، انہیں عبداللہ بن عون نے خبر دی، انہیں انس بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا بیمار تھا۔ ابوطلحہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے کہ بچہ کا انتقال ہو گیا۔ جب وہ ( تھکے ماندے ) واپس آئے تو پوچھا کہ بچہ کیسا ہے؟ ان کی بیوی ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وہ پہلے سے زیادہ سکون کے ساتھ ہے پھر بیوی نے ان کے سامنے کھانا رکھا اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کھانا کھایا۔ اس کے بعد انہوں نے ان کے ساتھ ہمبستری کی پھر جب فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا کہ بچہ کو دفن کر دو۔ صبح ہوئی تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ کی اطلاع دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم نے رات ہمبستری بھی کی تھی؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ”اے اللہ! ان دونوں کو برکت عطا فرما۔“ پھر ان کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو مجھ سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسے حفاظت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ۔ چنانچہ بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچہ کے ساتھ کچھ کھجوریں بھیجیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ کو لیا اور دریافت فرمایا کہ اس کے ساتھ کوئی چیز بھی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں کھجوریں ہیں۔ آپ نے اسے لے کر چبایا اور پھر اسے اپنے منہ میں نکال کر بچہ کے منہ میں رکھ دیا اور اس سے بچہ کی تحنیک کی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔
حدثنا مطر بن الفضل، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا عبد الله بن عون، عن انس بن سيرين، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال كان ابن لابي طلحة يشتكي، فخرج ابو طلحة، فقبض الصبي فلما رجع ابو طلحة قال ما فعل ابني قالت ام سليم هو اسكن ما كان. فقربت اليه العشاء فتعشى، ثم اصاب منها، فلما فرغ قالت وار الصبي. فلما اصبح ابو طلحة اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره فقال " اعرستم الليلة ". قال نعم. قال " اللهم بارك لهما ". فولدت غلاما قال لي ابو طلحة احفظه حتى تاتي به النبي صلى الله عليه وسلم فاتى به النبي صلى الله عليه وسلم وارسلت معه بتمرات، فاخذه النبي صلى الله عليه وسلم فقال " امعه شىء ". قالوا نعم تمرات. فاخذها النبي صلى الله عليه وسلم فمضغها، ثم اخذ من فيه فجعلها في في الصبي، وحنكه به، وسماه عبد الله
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن ابن عون، عن محمد، عن انس، وساق الحديث،
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ (صحابی) نے بیان کیا کہ بچہ کا عقیقہ کرنا چاہیئے۔ اور حجاج بن منہال نے کہا۔ ان سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ایوب سختیانی، قتادہ، ہشام بن حسان اور حبیب بن شہید ان چاروں نے خبر دی، انہیں محمد بن سیرین نے اور انہیں سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور کئی لوگوں نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان اور ہشام بن حسان نے، ان سے حفصہ بنت سیرین نے، ان سے رباب بنت صلیع نے، ان سے سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے مرفوعاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس کی روایت یزید بن ابراہیم تستری نے کی، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ نے اپنا قول موقوفاً ( غیر مرفوع ) ذکر کیا۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن محمد، عن سلمان بن عامر، قال مع الغلام عقيقة. وقال حجاج حدثنا حماد اخبرنا ايوب وقتادة وهشام وحبيب عن ابن سيرين عن سلمان عن النبي صلى الله عليه وسلم
اور اصبغ بن فرج نے بیان کیا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں جریر بن حازم نے، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں محمد بن سیرین نے کہ ہم سے سلمان بن عامر الضبی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکے کے ساتھ اس کا عقیقہ لگا ہوا ہے اس لیے اس کی طرف سے جانور ذبح کرو اور اس سے بال دور کرو ( سر منڈا دو یا ختنہ کرو ) ۔
وقال غير واحد عن عاصم، وهشام، عن حفصة بنت سيرين، عن الرباب، عن سلمان، عن النبي صلى الله عليه وسلم. ورواه يزيد بن ابراهيم عن ابن سيرين عن سلمان قوله. وقال اصبغ اخبرني ابن وهب عن جرير بن حازم عن ايوب السختياني عن محمد بن سيرين حدثنا سلمان بن عامر الضبي قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " مع الغلام عقيقة، فاهريقوا عنه دما واميطوا عنه الاذى ". حدثني عبد الله بن ابي الاسود، حدثنا قريش بن انس، عن حبيب بن الشهيد، قال امرني ابن سيرين ان اسال الحسن، ممن سمع حديث العقيقة، فسالته فقال من سمرة بن جندب
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، انہیں ابن مسیب نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اسلام میں ) «فرع» اور «عتيرة» نہیں ہیں۔ «فرع» ( اونٹنی کے ) سب سے پہلے بچہ کو کہتے تھے جسے ( جاہلیت میں ) لوگ اپنے بتوں کے لیے ذبح کرتے تھے اور «عتيرة» کو رجب میں ذبح کیا جاتا تھا۔
حدثنا عبدان، حدثنا عبد الله، اخبرنا معمر، اخبرنا الزهري، عن ابن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا فرع ولا عتيرة ". والفرع اول النتاج، كانوا يذبحونه لطواغيتهم، والعتيرة في رجب
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «فرع» اور «عتيرة» ( اسلام میں ) نہیں ہیں۔ بیان کیا کہ «فرع» سب سے پہلے بچہ کو کہتے تھے جو ان کے یہاں ( اونٹنی سے ) پیدا ہوتا تھا، اسے وہ اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اور «عتيرة» وہ قربانی جسے وہ رجب میں کرتے تھے ( اور اس کی کھال درخت پر ڈال دیتے ) ۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال الزهري حدثنا عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا فرع ولا عتيرة ". قال والفرع اول نتاج كان ينتج لهم، كانوا يذبحونه لطواغيتهم، والعتيرة في رجب