Loading...

Loading...
کتب
۱۸۸ احادیث
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نحوی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو غیرت اس وقت آتی ہے جب بندہ مومن وہ کام کرے جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔
وعن يحيى، ان ابا سلمة، حدثه ان ابا هريرة حدثه انه، سمع النبي صلى الله عليه وسلم. حدثنا ابو نعيم، حدثنا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ان الله يغار وغيرة الله ان ياتي المومن ما حرم الله
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس ایک اونٹ اور ان کے گھوڑے کے سوا روئے زمین پر کوئی مال، کوئی غلام، کوئی چیز نہیں تھی۔ میں ہی ان کا گھوڑا چراتی، پانی پلاتی، ان کا ڈول سیتی اور آٹا گوندھتی۔ میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی۔ انصار کی کچھ لڑکیاں میری روٹی پکا جاتی تھیں۔ یہ بڑی سچی اور باوفا عورتیں تھیں۔ زبیر رضی اللہ عنہ کی وہ زمین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دی تھی، اس سے میں اپنے سر پر کھجور کی گٹھلیاں گھر لایا کرتی تھی۔ یہ زمین میرے گھر سے دو میل دور تھی۔ ایک روز میں آ رہی تھی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں کہ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبیلہ انصار کے کئی آدمی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا پھر ( اپنے اونٹ کو بٹھانے کے لیے ) کہا اخ اخ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے سوار کر لیں لیکن مجھے مردوں کے ساتھ چلنے میں شرم آئی اور زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت کا بھی خیال آیا۔ زبیر رضی اللہ عنہ بڑے ہی باغیرت تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سمجھ گئے کہ میں شرم محسوس کر رہی ہوں۔ اس لیے آپ آگے بڑھ گئے۔ پھر میں زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان سے واقعہ کا ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہو گئی تھی۔ میرے سر پر گٹھلیاں تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے چند صحابہ بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اونٹ مجھے بٹھانے کے لیے بٹھایا لیکن مجھے اس سے شرم آئی اور تمہاری غیرت کا بھی خیال آیا۔ اس پر زبیر نے کہا کہ اللہ کی قسم! مجھ کو تو اس سے بڑا رنج ہوا کہ تو گٹھلیاں لانے کے لیے نکلے اگر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو جاتی تو اتنی غیرت کی بات نہ تھی ( کیونکہ اسماء رضی اللہ عنہا آپ کی سالی اور بھاوج دونوں ہوتی تھیں ) اس کے بعد میرے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک غلام میرے پاس بھیج دیا وہ گھوڑے کا سب کام کرنے لگا اور میں بےفکر ہو گئی گویا والد ماجد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( غلام بھیج کر ) مجھ کو آزاد کر دیا۔
حدثنا محمود، حدثنا ابو اسامة، حدثنا هشام، قال اخبرني ابي، عن اسماء بنت ابي بكر رضى الله عنهما قالت تزوجني الزبير، وما له في الارض من مال، ولا مملوك، ولا شىء غير ناضح، وغير فرسه، فكنت اعلف فرسه، واستقي الماء، واخرز غربه واعجن، ولم اكن احسن اخبز، وكان يخبز جارات لي من الانصار وكن نسوة صدق، وكنت انقل النوى من ارض الزبير التي اقطعه رسول الله صلى الله عليه وسلم على راسي، وهى مني على ثلثى فرسخ، فجيت يوما والنوى على راسي فلقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه نفر من الانصار فدعاني ثم قال " اخ اخ ". ليحملني خلفه، فاستحييت ان اسير مع الرجال، وذكرت الزبير وغيرته، وكان اغير الناس، فعرف رسول الله صلى الله عليه وسلم اني قد استحييت فمضى، فجيت الزبير فقلت لقيني رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلى راسي النوى، ومعه نفر من اصحابه، فاناخ لاركب، فاستحييت منه وعرفت غيرتك. فقال والله لحملك النوى كان اشد على من ركوبك معه. قالت حتى ارسل الى ابو بكر بعد ذلك بخادم يكفيني سياسة الفرس، فكانما اعتقني
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے، ان سے حمید نے، ان سے انس نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے یہاں تشریف رکھتے تھے۔ اس وقت ایک زوجہ ( زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک پیالے میں کچھ کھانے کی چیز بھیجی جن کے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے خادم کے ہاتھ پر ( غصہ میں ) مارا جس کی وجہ سے کٹورہ گر کر ٹوٹ گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کٹورا لے کر ٹکڑے جمع کئے اور جو کھانا اس برتن میں تھا اسے بھی جمع کرنے لگے اور ( خادم سے ) فرمایا کہ تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے۔ اس کے بعد خادم کو روکے رکھا۔ آخر جن کے گھر میں وہ کٹورہ ٹوٹا تھا ان کی طرف سے نیا کٹورہ منگایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نیا کٹورہ ان زوجہ مطہرہ کو واپس کیا جن کا کٹورہ توڑ دیا گیا تھا اور ٹوٹا ہوا کٹورہ ان کے یہاں رکھ لیا جن کے گھر میں وہ ٹوٹا تھا۔
حدثنا علي، حدثنا ابن علية، عن حميد، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم عند بعض نسايه فارسلت احدى امهات المومنين بصحفة فيها طعام، فضربت التي النبي صلى الله عليه وسلم في بيتها يد الخادم فسقطت الصحفة فانفلقت، فجمع النبي صلى الله عليه وسلم فلق الصحفة، ثم جعل يجمع فيها الطعام الذي كان في الصحفة ويقول " غارت امكم "، ثم حبس الخادم حتى اتي بصحفة من عند التي هو في بيتها، فدفع الصحفة الصحيحة الى التي كسرت صحفتها، وامسك المكسورة في بيت التي كسرت فيه
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن عمرعمری نے، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) میں جنت میں گیا، وہاں میں نے ایک محل دیکھا میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا میں نے چاہا کہ اس کے اندر جاؤں لیکن رک گیا کیونکہ تمہاری غیرت مجھے معلوم تھی۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اے اللہ کے نبی! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا۔
حدثنا محمد بن ابي بكر المقدمي، حدثنا معتمر، عن عبيد الله، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " دخلت الجنة او اتيت الجنة فابصرت قصرا فقلت لمن هذا قالوا لعمر بن الخطاب. فاردت ان ادخله فلم يمنعني الا علمي بغيرتك ". قال عمر بن الخطاب يا رسول الله بابي انت وامي يا نبي الله اوعليك اغار
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خواب میں میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک محل کے کنارے ایک عورت وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ فرشتے نے کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ میں ان کی غیرت کا خیال کر کے واپس چلا آیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے جو اس وقت مجلس میں موجود تھے اس پر رو دیئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، قال اخبرني ابن المسيب، عن ابي هريرة، قال بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم جلوس، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بينما انا نايم رايتني في الجنة، فاذا امراة تتوضا الى جانب قصر، فقلت لمن هذا قال هذا لعمر. فذكرت غيرته فوليت مدبرا ". فبكى عمر وهو في المجلس ثم قال اوعليك يا رسول الله اغار
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میں خوب پہچانتا ہوں کہ کب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کب تم مجھ پر ناراض ہو جاتی ہو۔ بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا آپ یہ بات کس طرح سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب کی قسم! اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم! بیان کیا کہ میں نے عرض کیا جی ہاں، اللہ کی قسم یا رسول اللہ! ( غصے میں ) صرف آپ کا نام زبان سے نہیں لیتی۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لاعلم اذا كنت عني راضية، واذا كنت على غضبى ". قالت فقلت من اين تعرف ذلك فقال " اما اذا كنت عني راضية فانك تقولين لا ورب محمد، واذا كنت غضبى قلت لا ورب ابراهيم ". قالت قلت اجل والله يا رسول الله، ما اهجر الا اسمك
مجھ سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے، آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کسی عورت پر مجھے اتنی غیرت نہیں آتی تھی جتنی ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتی تھی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذکر بکثرت کیا کرتے تھے اور ان کی تعریف کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی گئی تھی کہ آپ خدیجہ کو جنت میں ان کے موتی کے گھر کی بشارت دے دیں۔
حدثني احمد بن ابي رجاء، حدثنا النضر، عن هشام، قال اخبرني ابي، عن عايشة، انها قالت ما غرت على امراة لرسول الله صلى الله عليه وسلم كما غرت على خديجة، لكثرة ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم اياها وثنايه عليها، وقد اوحي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبشرها ببيت لها في الجنة من قصب
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر فرما رہے تھے کہ ہشام بن مغیرہ جو ابوجہل کا باپ تھا اس کی اولاد ( حارث بن ہشام اور سلم بن ہشام ) نے اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کرنے کی مجھ سے اجازت مانگی ہے لیکن میں انہیں ہرگز اجازت نہیں دوں گا یقیناً میں اس کی اجازت نہیں دوں گا ہرگز میں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ البتہ اگر علی بن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہیں ( تو میں اس میں رکاوٹ نہیں بنوں گا ) کیونکہ وہ ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) میرے جگر کا ایک ٹکڑا ہے جو اس کو برا لگے وہ مجھ کو بھی برا لگتا ہے اور جس چیز سے اسے تکلیف پہنچتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف پہنچتی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن ابي مليكة، عن المسور بن مخرمة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وهو على المنبر " ان بني هشام بن المغيرة استاذنوا في ان ينكحوا ابنتهم علي بن ابي طالب فلا اذن، ثم لا اذن، ثم لا اذن، الا ان يريد ابن ابي طالب ان يطلق ابنتي وينكح ابنتهم، فانما هي بضعة مني، يريبني ما ارابها ويوذيني ما اذاها ". هكذا قال
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں تم سے وہ حدیث بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، میرے سوا یہ حدیث تم سے کوئی اور نہیں بیان کرنے والا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ قرآن و حدیث کا علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت بڑھ جائے گی۔ زنا کی کثرت ہو جائے گی اور شراب لوگ زیادہ پینے لگیں گے۔ مرد کم ہو جائیں گے اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔ حالت یہ ہو جائے گی کہ پچاس پچاس عورتوں کا سنبھالنے والا ( خبر گیر ) ایک مرد ہو گا۔
حدثنا حفص بن عمر الحوضي، حدثنا هشام، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه قال لاحدثنكم حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحدثكم به احد غيري، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان من اشراط الساعة ان يرفع العلم، ويكثر الجهل ويكثر الزنا، ويكثر شرب الخمر، ويقل الرجال، ويكثر النساء حتى يكون لخمسين امراة القيم الواحد
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں میں جانے سے بچتے رہو اس پر قبیلہ انصار کے ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دیور کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ ( وہ اپنی بھاوج کے ساتھ جا سکتا ہے یا نہیں؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیور یا ( جیٹھ ) کا جانا ہی تو ہلاکت ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اياكم والدخول على النساء ". فقال رجل من الانصار يا رسول الله افرايت الحمو. قال " الحمو الموت
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے ابو معبد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم کے سوا کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بیوی حج کرنے گئی ہے اور میرا نام فلاں غزوہ میں لکھا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو واپس جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، عن ابي معبد، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يخلون رجل بامراة الا مع ذي محرم ". فقام رجل فقال يا رسول الله امراتي خرجت حاجة واكتتبت في غزوة كذا وكذا. قال " ارجع فحج مع امراتك
ہم سے محمد بن بشار نے حدیث بیان کی، ان سے غندر نے حدیث بیان کی، ان سے شعبہ نے حدیث بیان کی، ان سے ہشام نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے لوگوں سے ایک طرف ہو کر تنہائی میں گفتگو کی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ ( یعنی انصار ) مجھے سب لوگوں سے زیادہ عزیز ہو۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن هشام، قال سمعت انس بن مالك رضى الله عنه قال جاءت امراة من الانصار الى النبي صلى الله عليه وسلم فخلا بها فقال " والله انكن لاحب الناس الى
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے ام المؤمنین ام سلمہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف رکھتے تھے، گھر میں ایک مغیث نامی مخنث بھی تھا۔ اس مخنث ( ہیجڑے ) نے ام سلمہ کے بھائی عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر کل اللہ نے تمہیں طائف پر فتح عنایت فرمائی تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی کو دکھلاؤں گا کیونکہ وہ سامنے آتی ہے تو ( مٹاپے کی وجہ سے ) اس کے چار شکنیں پڑ جاتی ہیں اور جب پیچھے پھرتی ہے تو آٹھ ہو جاتی ہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ام سلمہ سے ) فرمایا کہ یہ ( مخنث ) تمہارے پاس اب نہ آیا کرے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن زينب ابنة ام سلمة، عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان عندها وفي البيت مخنث، فقال المخنث لاخي ام سلمة عبد الله بن ابي امية ان فتح الله عليكم الطايف غدا ادلك على ابنة غيلان، فانها تقبل باربع وتدبر بثمان. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يدخلن هذا عليكن
ہم سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، ان سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے اپنی چادر سے پردہ کئے ہوئے ہیں۔ میں حبشہ کے ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں ( جنگی ) کھیل کا مظاہرہ کر رہے تھے، آخر میں ہی اکتا گئی۔ اب تم سمجھ لو ایک کم عمر لڑکی جس کو کھیل تماشہ دیکھنے کا بڑا شوق ہے کتنی دیر تک دیکھتی رہی ہو گی۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم الحنظلي، عن عيسى، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت رايت النبي صلى الله عليه وسلم يسترني بردايه، وانا انظر الى الحبشة يلعبون في المسجد، حتى اكون انا الذي اسام، فاقدروا قدر الجارية الحديثة السن الحريصة على اللهو
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت باہر نکلیں تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ لیا اور پہچان گئے۔ پھر کہا: اے سودہ، اللہ کی قسم! تم ہم سے چھپ نہیں سکتیں۔ جب سودہ رضی اللہ عنہا واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے حجرے میں شام کا کھانا کھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں گوشت کی ایک ہڈی تھی۔ اس وقت آپ پر وحی نازل ہونی شروع ہوئی اور جب نزول وحی کا سلسلہ ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اجازت دی گئی ہے کہ تم اپنی ضروریات کے لیے باہر نکل سکتی ہو۔
حدثنا فروة بن ابي المغراء، حدثنا علي بن مسهر، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت خرجت سودة بنت زمعة ليلا فراها عمر فعرفها فقال انك والله يا سودة ما تخفين علينا، فرجعت الى النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له، وهو في حجرتي يتعشى، وان في يده لعرقا، فانزل عليه فرفع عنه وهو يقول " قد اذن لكن ان تخرجن لحوايجكن
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد میں ( نماز پڑھنے کے لیے ) جانے کی اجازت مانگے تو اسے نہ روکو بلکہ اجازت دے دو۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم " اذا استاذنت امراة احدكم الى المسجد فلا يمنعها
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے دودھ چچا ( رضاعی چچا، افلح ) آئے اور میرے پاس اندر آنے کی اجازت چاہی لیکن میں نے کہا کہ جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، اجازت نہیں دے سکتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے رضاعی چچا ہیں، انہیں اندر بلا لو۔ میں نے اس پر کہا کہ یا رسول اللہ! عورت نے مجھے دودھ پلایا تھا کوئی مرد نے تھوڑا ہی پلایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہیں تو وہ تمہارے چچا ہی ( رضاعی ) اس لیے وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں، یہ واقعہ ہمارے لیے پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ خون سے جو چیزیں حرام ہوتی ہیں رضاعت سے بھی وہ حرام ہو جاتی ہیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها انها قالت جاء عمي من الرضاعة فاستاذن على فابيت ان اذن له حتى اسال رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالته عن ذلك فقال " انه عمك فاذني له " قالت فقلت يا رسول الله انما ارضعتني المراة ولم يرضعني الرجل. قالت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انه عمك فليلج عليك ". قالت عايشة وذلك بعد ان ضرب علينا الحجاب. قالت عايشة يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت کسی عورت سے ملنے کے بعد اپنے شوہر سے اس کا حلیہ نہ بیان کرے، گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابي وايل، عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تباشر المراة المراة فتنعتها لزوجها، كانه ينظر اليها
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے شقیق نے بیان کیا، کہا میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت کسی عورت سے مل کر اپنے شوہر سے اس کے حلیہ نہ بیان کرے گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال حدثني شقيق، قال سمعت عبد الله، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تباشر المراة المراة فتنعتها لزوجها كانه ينظر اليها
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن طاؤس نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سلیمان بن داؤد علیہاالسلام نے فرمایا کہ آج رات میں اپنی سو بیویوں کے پاس ہو آؤں گا ( اور اس قربت کے نتیجہ میں ) ہر عورت ایک لڑکا جنے گی تو سو لڑکے ایسے پیدا ہوں گے جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔ فرشتہ نے ان سے کہا کہ ان شاءاللہ کہہ لیجئے لیکن انہوں نے نہیں کہا اور بھول گئے۔ چنانچہ آپ تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک کے سوا کسی کے بھی بچہ پیدا نہ ہوا اور اس ایک کے یہاں بھی آدھا بچہ پیدا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ان شاءاللہ کہہ لیتے تو ان کی مراد بر آتی اور ان کی خواہش پوری ہونے کی امید زیادہ ہوتی۔
حدثني محمود، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال " قال سليمان بن داود عليهما السلام لاطوفن الليلة بماية امراة، تلد كل امراة غلاما، يقاتل في سبيل الله، فقال له الملك قل ان شاء الله. فلم يقل ونسي، فاطاف بهن، ولم تلد منهن الا امراة نصف انسان ". قال النبي صلى الله عليه وسلم " لو قال ان شاء الله لم يحنث، وكان ارجى لحاجته