Loading...

Loading...
کتب
۱۸۸ احادیث
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محارب بن دثار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص سے رات کے وقت اپنے گھر ( سفر سے اچانک ) آنے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے تھے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا محارب بن دثار، قال سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يكره ان ياتي الرجل اهله طروقا
ہم سے محمد بن مقاتل مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو عاصم بن سلیمان نے خبر دی، انہیں عامر شعبی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص زیادہ دنوں تک اپنے گھر سے دور ہو تو یکایک رات کو اپنے گھر میں نہ آ جائے۔
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا عاصم بن سليمان، عن الشعبي، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اطال احدكم الغيبة فلا يطرق اهله ليلا
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے ہشیم بن بشیر نے، ان سے سیار بن دروان نے، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد ( غزوہ تبوک ) میں تھا، جب ہم واپس ہو رہے تھے تو میں اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اتنے میں میرے پیچھے سے ایک سوار میرے قریب آئے۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جلدی کیوں کر رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میری شادی ابھی نئی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کنواری عورت سے تم نے شادی کی یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا، کنواری سے کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ جابر نے بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم نے چاہا کہ شہر میں داخل ہو جائیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ۔ رات ہو جائے پھر داخل ہونا تاکہ تمہاری بیویاں جو پراگندہ بال ہیں وہ کنگھی چوٹی کر لیں اور جن کے خاوند غائب تھے وہ موئے زیر ناف صاف کر لیں۔ ہشیم نے بیان کیا کہ مجھ سے ایک معتبر راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ «الكيس، الكيس» یعنی اے جابر! جب تو گھر پہنچے تو خوب خوب «كيس» کیجؤ ( امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ) «كيس» کا مطلب ہے کہ اولاد ہونے کی خواہش کیجؤ۔
حدثنا مسدد، عن هشيم، عن سيار، عن الشعبي، عن جابر، قال كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة، فلما قفلنا تعجلت على بعير قطوف فلحقني راكب من خلفي، فالتفت فاذا انا برسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما يعجلك ". قلت اني حديث عهد بعرس. قال " فبكرا تزوجت ام ثيبا ". قلت بل ثيبا. قال " فهلا جارية تلاعبها وتلاعبك ". قال فلما قدمنا ذهبنا لندخل فقال " امهلوا حتى تدخلوا ليلا اى عشاء لكى تمتشط الشعثة وتستحد المغيبة ". قال وحدثني الثقة انه قال في هذا الحديث " الكيس الكيس يا جابر ". يعني الولد
ہم سے محمد بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سیار نے، ان سے شعبی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( غزوہ تبوک سے واپسی کے وقت ) فرمایا، جب رات کے وقت تم مدینہ میں پہنچو تو اس وقت تک اپنے گھروں میں نہ جانا جب تک ان کی بیویاں جو مدینہ منورہ میں موجود نہیں تھے، اپنا موئے زیر ناف صاف نہ کر لیں اور جن کے بال پراگندہ ہوں وہ کنگھا نہ کر لیں۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ضروری ہے کہ جب تم گھر پہنچو تو خوب خوب «كيس» کیجؤ۔ شعبی کے ساتھ اس حدیث کو عبیداللہ نے بھی وہب بن کیسان سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، اس میں بھی «كيس» کا ذکر ہے۔
حدثنا محمد بن الوليد، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سيار، عن الشعبي، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا دخلت ليلا فلا تدخل على اهلك حتى تستحد المغيبة وتمتشط الشعثة ". قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فعليك بالكيس الكيس ". تابعه عبيد الله عن وهب عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم في الكيس
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو سیار نے خبر دی، انہیں شعبی نے، انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ ( غزوہ تبوک ) میں تھے۔ واپس ہوتے ہوئے جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے لگا۔ ایک صاحب نے پیچھے سے میرے قریب پہنچ کر میرے اونٹ کو ایک چھڑی سے جو ان کے پاس تھی، مارا۔ اس سے اونٹ بڑی اچھی چال چلنے لگا، جیسا کہ تم نے اچھے اونٹوں کو چلتے ہوئے دیکھا ہو گا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری نئی شادی ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پوچھا، کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ دریافت فرمایا، کنواری سے کی ہے یا بیوہ سے؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ پہنچے تو شہر میں داخل ہونے لگے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ رات ہو جائے پھر داخل ہونا تاکہ پراگندہ بال عورت چوٹی کنگھا کر لے اور جس کا شوہر موجود نہ رہا ہو وہ موئے زیر ناف صاف کر لے۔
حدثني يعقوب بن ابراهيم، حدثنا هشيم، اخبرنا سيار، عن الشعبي، عن جابر بن عبد الله، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة، فلما قفلنا كنا قريبا من المدينة تعجلت على بعير لي قطوف، فلحقني راكب من خلفي فنخس بعيري بعنزة كانت معه، فسار بعيري كاحسن ما انت راء من الابل، فالتفت فاذا انا برسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اني حديث عهد بعرس. قال " اتزوجت ". قلت نعم. قال " ابكرا ام ثيبا ". قال قلت بل ثيبا. قال " فهلا بكرا تلاعبها وتلاعبك ". قال فلما قدمنا ذهبنا لندخل، فقال " امهلوا حتى تدخلوا ليلا اى عشاء لكى تمتشط الشعثة، وتستحد المغيبة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا کہ اس واقعہ میں لوگوں میں اختلاف تھا کہ احد کی جنگ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کون سی دوا استعمال کی گئی تھی۔ پھر لوگوں نے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، وہ اس وقت آخری صحابی تھے جو مدینہ منورہ میں موجود تھے۔ انہوں نے بتلایا کہ اب کوئی شخص ایسا زندہ نہیں جو اس واقعہ کو مجھ سے زیادہ جانتا ہو۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے خون دھو رہی تھیں اور علی رضی اللہ عنہ اپنے ڈھال میں پانی بھر کر لا رہے تھے۔ ( جب بند نہ ہوا تو ) ایک بوریا جلا کر آپ کے زخم میں بھر دیا گیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن ابي حازم، قال اختلف الناس باى شىء دووي جرح رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم احد، فسالوا سهل بن سعد الساعدي، وكان من اخر من بقي من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة، فقال وما بقي من الناس احد اعلم به مني، كانت فاطمة عليها السلام تغسل الدم عن وجهه، وعلي ياتي بالماء على ترسه، فاخذ حصير، فحرق فحشي به جرحه
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے، کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے ایک شخص نے یہ سوال کیا تھا کہ تم بقر عید یا عید کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ دار نہ ہوتا تو میں اپنی کم سنی کی وجہ سے ایسے موقع پر حاضر نہیں ہو سکتا تھا۔ ان کا اشارہ ( اس زمانے میں ) اپنے بچپن کی طرف تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور ( لوگوں کے ساتھ عید کی ) نماز پڑھی اور اس کے بعد خطبہ دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں خیرات دینے کا حکم دیا۔ میں نے انہیں دیکھا کہ پھر وہ اپنے کانوں اور گلے کی طرف ہاتھ بڑھا بڑھا کر ( اپنے زیورات ) بلال رضی اللہ عنہ کو دینے لگیں۔ اس کے بعد بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا سفيان، عن عبد الرحمن بن عابس، سمعت ابن عباس رضى الله عنهما ساله رجل شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العيد اضحى او فطرا قال نعم لولا مكاني منه ما شهدته يعني من صغره قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى ثم خطب، ولم يذكر اذانا ولا اقامة، ثم اتى النساء فوعظهن وذكرهن وامرهن بالصدقة، فرايتهن يهوين الى اذانهن وحلوقهن يدفعن الى بلال، ثم ارتفع هو وبلال الى بيته
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے، انہیں ان کے والد قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( ان کے والد ) ابوبکر رضی اللہ عنہ ان پر غصہ ہوئے اور میری کوکھ میں ہاتھ سے کچوکے لگانے لگے لیکن میں حرکت اس وجہ سے نہ کر سکی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر رکھا ہوا تھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت عاتبني ابو بكر وجعل يطعنني بيده في خاصرتي فلا يمنعني من التحرك الا مكان رسول الله صلى الله عليه وسلم وراسه على فخذي