Loading...

Loading...
کتب
۱۸۸ احادیث
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوحد بن زیاد نے، کہا ہم سے صالح بن صالح ہمدانی نے، کہا ہم سے عامر شعبی نے، کہا کہ مجھ سے ابوبردہ نے بیان کیا اپنے والد سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس لونڈی ہو وہ اسے تعلیم دے اور خوب اچھی طرح دے، اسے ادب سکھائے اور پوری کوشش اور محنت کے ساتھ سکھائے اور اس کے بعد اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور اہل کتاب میں سے جو شخص بھی اپنے نبی پر ایمان رکھتا ہو اور مجھ پر ایمان لائے تو اسے دوہرا ثواب ملتا ہے اور جو غلام اپنے آقا کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے رب کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اسے دہرا ثواب ملتا ہے۔ عامر شعبی نے ( اپنے شاگرد سے اس حدیث کو سنانے کے بعد کہا کہ بغیر کسی مشقت اور محنت کے اسے سیکھ لو۔ اس سے پہلے طالب علموں کو اس حدیث سے کم کے لیے بھی مدینہ تک کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ اور ابوبکر نے بیان کیا ابوحصین سے، اس نے ابوبردہ سے، اس نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اس شخص نے باندی کو ( نکاح کرنے کے لیے ) آزاد کر دیا اور یہی آزادی اس کا مہر مقرر کی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد الواحد، حدثنا صالح بن صالح الهمداني، حدثنا الشعبي، قال حدثني ابو بردة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما رجل كانت عنده وليدة فعلمها فاحسن تعليمها، وادبها فاحسن تاديبها، ثم اعتقها وتزوجها فله اجران، وايما رجل من اهل الكتاب امن بنبيه وامن بي فله اجران، وايما مملوك ادى حق مواليه وحق ربه فله اجران ". قال الشعبي خذها بغير شىء قد كان الرجل يرحل فيما دونه الى المدينة. وقال ابو بكر عن ابي حصين عن ابي بردة عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم " اعتقها ثم اصدقها
ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھے جریر بن حازم نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ( دوسری سند ) ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے تین مرتبہ کے سوا کبھی دین میں جھوٹ بات نہیں نکلی۔ ایک مرتبہ آپ ایک ظالم بادشاہ کی حکومت سے گزرے آپ کے ساتھ آپ کی بیوی سارہ علیہ السلام تھیں۔ پھر پورا واقعہ بیان کیا ( کہ بادشاہ کے سامنے ) آپ نے سارہ علیہ السلام کو اپنی بہن ( یعنی دینی بہن ) کہا۔ پھر اس بادشاہ نے سارہ علیہا السلام کو آجر ( ہاجرہ ) کو دے دیا۔ ( بی بی سارہ علیہا السلام نے ابراہیم علیہ السلام سے ) کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کے ہاتھ کو روک دیا اور آجر ( ہاجرہ ) کو میری خدمت کے لیے دلوا دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اے آسمان کے پانی کے بیٹو! یعنی اے عرب والو! یہی ہاجرہ علیہا السلام تمہاری ماں ہیں۔
حدثنا سعيد بن تليد، قال اخبرني ابن وهب، قال اخبرني جرير بن حازم، عن ايوب، عن محمد، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم. حدثنا سليمان عن حماد بن زيد عن ايوب عن محمد عن ابي هريرة {قال قال النبي صلى الله عليه وسلم} " لم يكذب ابراهيم الا ثلاث كذبات بينما ابراهيم مر بجبار ومعه سارة فذكر الحديث فاعطاها هاجر قالت كف الله يد الكافر واخدمني اجر ". قال ابو هريرة فتلك امكم يا بني ماء السماء
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسمٰعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمیدی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین دن تک قیام کیا اور یہیں ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ کی مسلمانوں کو دعوت دی۔ اس دعوت ولیمہ میں نہ تو روٹی تھی اور نہ گوشت تھا۔ دستر خوان بچھانے کا حکم ہوا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ بعض مسلمانوں نے پوچھا کہ صفیہ امہات المؤمنین میں سے ہیں ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا ہے ) یا لونڈی کی حیثیت سے آپ نے ان کے ساتھ خلوت کی ہے؟ اس پر کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے پردہ کا انتظام فرمائیں تو اس سے ثابت ہو گا کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر ان کے لیے پردہ کا اہتمام نہ کریں تو اس سے ثابت ہو گا کہ وہ لونڈی کی حیثیت سے آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر جب کوچ کرنے کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر بیٹھنے کے لیے جگہ بنائی اور ان کے لیے پردہ ڈالا تاکہ لوگوں کو وہ نظر نہ آئیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس رضى الله عنه قال اقام النبي صلى الله عليه وسلم بين خيبر والمدينة ثلاثا يبنى عليه بصفية بنت حيى فدعوت المسلمين الى وليمته فما كان فيها من خبز ولا لحم، امر بالانطاع فالقى فيها من التمر والاقط والسمن فكانت وليمته، فقال المسلمون احدى امهات المومنين او مما ملكت يمينه، فقالوا ان حجبها فهى من امهات المومنين، وان لم يحجبها فهى مما ملكت يمينه، فلما ارتحل وطى لها خلفه ومد الحجاب بينها وبين الناس
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی اور شعیب بن حبحاب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حماد، عن ثابت، وشعيب بن الحبحاب، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتق صفية، وجعل عتقها صداقها
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو آپ کے لیے وقف کرنے حاضر ہوئی ہوں۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ پھر آپ نے نظر کو نیچی کر لیا اور پھر اپنا سر جھکا لیا۔ جب اس عورت نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو ان سے نکاح کی ضرورت نہیں ہے تو ان سے میرا نکاح کر دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس ( مہر کے لیے ) کوئی چیز ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے گھر جاؤ اور دیکھو ممکن ہے تمہیں کوئی چیز مل جائے۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا: اللہ کی قسم! میں نے کچھ نہیں پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مل جائے تو لے آؤ۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا: اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! میرے پاس لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں البتہ میرے پاس ایک تہمد ہے۔ انہیں ( خاتون کو ) اس میں سے آدھا دے دیجئیے۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس تہمد کا کیا کرے گی۔ اگر تم اسے پہنو گے تو ان کے لیے اس میں سے کچھ نہیں بچے گا اور اگر وہ پہن لے تو تمہارے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ اس کے بعد وہ صحابی بیٹھ گئے۔ کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ وہ واپس جا رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہیں قرآن مجید کتنا یاد ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ انہوں نے گن کر بتائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم انہیں بغیر دیکھے پڑھ سکتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ۔ میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا۔ ان سورتوں کے بدلے جو تمہیں یاد ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن ابيه، عن سهل بن سعد الساعدي، قال جاءت امراة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله جيت اهب لك نفسي قال فنظر اليها رسول الله صلى الله عليه وسلم فصعد النظر فيها وصوبه ثم طاطا رسول الله صلى الله عليه وسلم راسه فلما رات المراة انه لم يقض فيها شييا جلست فقام رجل من اصحابه فقال يا رسول الله ان لم يكن لك بها حاجة فزوجنيها. فقال " وهل عندك من شىء ". قال لا والله يا رسول الله. فقال " اذهب الى اهلك فانظر هل تجد شييا ". فذهب ثم رجع فقال لا والله ما وجدت شييا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انظر ولو خاتما من حديد ". فذهب ثم رجع فقال لا والله يا رسول الله ولا خاتما من حديد ولكن هذا ازاري قال سهل ما له رداء فلها نصفه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما تصنع بازارك ان لبسته لم يكن عليها منه شىء وان لبسته لم يكن عليك شىء ". فجلس الرجل حتى اذا طال مجلسه قام فراه رسول الله صلى الله عليه وسلم موليا فامر به فدعي فلما جاء قال " ماذا معك من القران ". قال معي سورة كذا وسورة كذا عددها. فقال " تقروهن عن ظهر قلبك ". قال نعم. قال " اذهب فقد ملكتكها بما معك من القران
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس ( مہشم ) نے جو ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی تھی۔ سالم بن معقل رضی اللہ عنہ کو لے پالک بیٹا بنایا، اور پھر ان کا نکاح اپنے بھائی کی لڑکی ہندہ بنت الولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کر دیا۔ پہلے سالم رضی اللہ عنہ ایک انصاری خاتون ( شبیعہ بنت یعار ) کے آزاد کردہ غلام تھے لیکن حذیفہ نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو ( جو آپ ہی کے آزاد کردہ غلام تھے ) اپنا لے پالک بیٹا بنایا تھا جاہلیت کے زمانے میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو لے پالک بیٹا بنا لیتا تو لوگ اسے اسی کی طرف نسبت کر کے پکارا کرتے تھے اور لے پالک بیٹا اس کی میراث میں سے بھی حصہ پاتا آخر جب سورۃ الحجرات میں یہ آیت اتری «ادعوهم لآبائهم» کہ ”انہیں ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو“ اللہ تعالیٰ کے فرمان «ومواليكم» تک تو لوگ انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارنے لگے جس کے باپ کا علم نہ ہوتا تو اسے «مولى» اور دینی بھائی کہا جاتا۔ پھر سہلہ بنت سہیل بن عمرو القرشی ثم العامدی رضی اللہ عنہا جو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم تو سالم کو اپنا حقیقی جیسا بیٹا سمجھتے تھے اب اللہ نے جو حکم اتارا وہ آپ کو معلوم ہے پھر آخر تک حدیث بیان کی۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها ان ابا حذيفة بن عتبة بن ربيعة بن عبد شمس،، وكان، ممن شهد بدرا مع النبي صلى الله عليه وسلم تبنى سالما، وانكحه بنت اخيه هند بنت الوليد بن عتبة بن ربيعة وهو مولى لامراة من الانصار، كما تبنى النبي صلى الله عليه وسلم زيدا، وكان من تبنى رجلا في الجاهلية دعاه الناس اليه وورث من ميراثه حتى انزل الله {ادعوهم لابايهم} الى قوله {ومواليكم} فردوا الى ابايهم، فمن لم يعلم له اب كان مولى واخا في الدين، فجاءت سهلة بنت سهيل بن عمرو القرشي ثم العامري وهى امراة ابي حذيفة النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله انا كنا نرى سالما ولدا وقد انزل الله فيه ما قد علمت فذكر الحديث
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے ( یہ زبیر عبدالمطلب کے بیٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے ) اور ان سے فرمایا شاید تمہارا ارادہ حج کا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر بھی حج کا احرام باندھ لے۔ البتہ شرط لگا لینا اور یہ کہہ لینا کہ اے اللہ! میں اس وقت حلال ہو جاؤں گی جب تو مجھے ( مرض کی وجہ سے ) روک لے گا۔ اور ( ضباعہ بنت زبیر قریشی رضی اللہ عنہا ) مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على ضباعة بنت الزبير فقال لها " لعلك اردت الحج ". قالت والله لا اجدني الا وجعة. فقال لها " حجي واشترطي، قولي اللهم محلي حيث حبستني ". وكانت تحت المقداد بن الاسود
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، ان سے عبیداللہ عموی نے، کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اس کے مال کی وجہ سے اور اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے اور تو دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی ( یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہو گی ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تنكح المراة لاربع لمالها ولحسبها وجمالها ولدينها، فاظفر بذات الدين تربت يداك
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے، ان سے ان کے والد سلمہ بن دینار نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی نے بیان کیا کہ ایک صاحب ( جو مالدار تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود صحابہ سے پوچھا کہ یہ کیسا شخص ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ اس لائق ہے کہ اگر یہ نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح کیا جائے، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے، اگر کوئی بات کہے تو غور سے سنی جائے۔ سہل نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چپ ہو رہے۔ پھر ایک دوسرے صاحب گزرے، جو مسلمانوں کے غریب اور محتاج لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ اس قابل ہے کہ اگر کسی کے یہاں نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح نہ کیا جائے اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے، اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ یہ شخص اکیلا پہلے شخص کی طرح دنیا بھر سے بہتر ہے۔
حدثنا ابراهيم بن حمزة، حدثنا ابن ابي حازم، عن ابيه، عن سهل، قال مر رجل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما تقولون في هذا ". قالوا حري ان خطب ان ينكح، وان شفع ان يشفع، وان قال ان يستمع. قال ثم سكت فمر رجل من فقراء المسلمين فقال " ما تقولون في هذا ". قالوا حري ان خطب ان لا ينكح وان شفع ان لا يشفع، وان قال ان لا يستمع. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا خير من ملء الارض مثل هذا
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى» ”اور اگر تمہیں خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں تم انصاف نہیں کر سکو گے۔“ کے متعلق سوال کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا میرے بھانجے! اس آیت میں اس یتیم لڑکی کا حکم بیان ہوا ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور اس کا ولی اس کی خوبصورتی اور مالداری پر ریجھ کر یہ چاہے کہ اس سے نکاح کرے لیکن اس کے مہر میں کمی کرنے کا بھی ارادہ ہو۔ ایسے ولی کو اپنی زیر پرورش یتیم لڑکی سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے جب وہ ان کا مہر انصاف سے پورا ادا کریں گے اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر آیت میں ایسے ولیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی زیر پرورش یتیم لڑکی کے سوا کسی اور سے نکاح کر لیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بعد سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں آیت «ويستفتونك في النساء» سے «وترغبون أن تنكحوهن» تک نازل کی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ یتیم لڑکیاں اگر خوبصورت اور صاحب مال ہوں تو ان کے ولی بھی ان کے ساتھ نکاح کر لینا چاہتے ہیں، اس کا خاندان پسند کرتے ہیں اور مہر پورا ادا کر کے ان سے نکاح کر لیتے ہیں۔ لیکن ان میں حسن کی کمی ہو اور مال بھی نہ ہو تو پھر ان کی طرف رغبت نہیں ہو گی اور وہ انہیں چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کر لیتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے اس وقت یتیم لڑکی کو چھوڑ دیتے ہیں جب وہ نادار ہو اور خوبصورت نہ ہو ایسے ہی اس وقت بھی چھوڑ دینا چاہئے جب وہ مالدار اور خوبصورت ہو البتہ اگر اس کے حق میں انصاف کریں اور اس کا مہر پورا ادا کریں تب اس سے نکاح کر سکتے ہیں۔
حدثني يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة، انه سال عايشة رضى الله عنها {وان خفتم ان لا تقسطوا في اليتامى} قالت يا ابن اختي هذه اليتيمة تكون في حجر وليها فيرغب في جمالها ومالها، ويريد ان ينتقص صداقها، فنهوا عن نكاحهن الا ان يقسطوا في اكمال الصداق، وامروا بنكاح من سواهن، قالت واستفتى الناس رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ذلك، فانزل الله {ويستفتونك في النساء} الى {وترغبون ان تنكحوهن} فانزل الله لهم ان اليتيمة اذا كانت ذات جمال ومال رغبوا في نكاحها ونسبها في اكمال الصداق، واذا كانت مرغوبة عنها في قلة المال والجمال تركوها واخذوا غيرها من النساء، قالت فكما يتركونها حين يرغبون عنها فليس لهم ان ينكحوها اذا رغبوا فيها الا ان يقسطوا لها ويعطوها حقها الاوفى في الصداق
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے حمزہ اور سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نحوست عورت میں، گھر میں اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے ( نحوست بےبرکتی اگر ہو تو ان میں ہو سکتی ہے ) ۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن حمزة، وسالم، ابنى عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الشوم في المراة والدار والفرس
ہم سے محمد بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے عمر بن محمد عسقلانی نے بیان کیا، ان سے ان کے والد اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نحوست کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہو تو گھر، عورت اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے۔
حدثنا محمد بن منهال، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا عمر بن محمد العسقلاني، عن ابيه، عن ابن عمر، قال ذكروا الشوم عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان كان الشوم في شىء ففي الدار والمراة والفرس
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوحازم نے اور انہیں سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ( نحوست ) کسی چیز میں ہو تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہو سکتی ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان كان في شىء ففي الفرس والمراة والمسكن
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے سنا اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں کے فتنہ سے بڑھ کر نقصان دینے والا اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن سليمان التيمي، قال سمعت ابا عثمان النهدي، عن اسامة بن زيد رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما تركت بعدي فتنة اضر على الرجال من النساء
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہیں ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن نے انہیں قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ کے ساتھ تین سنت قائم ہوتی ہیں، انہیں آزاد کیا اور پھر اختیار دیا گیا ( کہ اگر چاہیں تو اپنے شوہر سابقہ سے اپنا نکاح فسخ کر سکتی ہیں ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بریرہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ) فرمایا کہ ولاء آزاد کرانے والے کے ساتھ قائم ہوئی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو ایک ہانڈی ( گوشت کی ) چولہے پر تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روٹی اور گھر کا سالن لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( چولہے پر ) ہانڈی ( گوشت کی ) بھی تو میں نے دیکھی تھی۔ عرض کیا گیا کہ وہ ہانڈی اس گوشت کی تھی جو بریرہ کو صدقہ میں ملا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور اب ہمارے لیے ان کی طرف سے تحفہ ہے۔ ہم اسے کھا سکتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن القاسم بن محمد، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان في بريرة ثلاث سنن عتقت فخيرت، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الولاء لمن اعتق ". ودخل رسول الله صلى الله عليه وسلم وبرمة على النار، فقرب اليه خبز وادم من ادم البيت فقال " لم ار البرمة ". فقيل لحم تصدق على بريرة، وانت لا تاكل الصدقة قال " هو عليها صدقة، ولنا هدية
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وإن خفتم أن لا، تقسطوا في اليتامى» ”اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے۔“ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد یتیم لڑکی ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو۔ ولی اس سے اس کے مال کی وجہ سے شادی کرتے اور اچھی طرح اس سے سلوک نہ کرتے اور نہ اس کے مال کے بارے میں انصاف کرتے ایسے شخصوں کو یہ حکم ہوا کہ اس یتیم لڑکی سے نکاح نہ کریں بلکہ اس کے سوا جو عورتیں بھلی لگیں ان سے نکاح کر لیں۔ دو دو، تین تین یا چار چار تک کی اجازت ہے۔
حدثنا محمد، اخبرنا عبدة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، {وان خفتم ان لا، تقسطوا في اليتامى}. قالت اليتيمة تكون عند الرجل وهو وليها، فيتزوجها على مالها، ويسيء صحبتها، ولا يعدل في مالها، فليتزوج ما طاب له من النساء سواها مثنى وثلاث ورباع
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے عبداللہ بن ابوبکر نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف رکھتے تھے اور آپ نے سنا کہ کوئی صاحب ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ شخص آپ کے گھر میں آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ یہ فلاں شخص ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ رضی اللہ عنہا کے ایک دودھ کے چچا کا نام لیا۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا فلاں، جو ان کے دودھ کے چچا تھے، اگر زندہ ہوتے تو میرے یہاں آ جا سکتے تھے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جیسے خون ملنے سے حرمت ہوتی ہے، ویسے ہی دودھ پینے سے بھی حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عمرة بنت عبد الرحمن، ان عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرتها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عندها، وانها سمعت صوت رجل يستاذن في بيت حفصة، قالت فقلت يا رسول الله هذا رجل يستاذن في بيتك. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اراه فلانا ". لعم حفصة من الرضاعة. قالت عايشة لو كان فلان حيا، لعمها من الرضاعة دخل على فقال " نعم الرضاعة تحرم ما تحرم الولادة
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے، ان سے جابر بن زید نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ میرے دودھ کے بھائی کی بیٹی ہے۔ اور بشر بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے اسی طرح جابر بن زید سے سنا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، عن قتادة، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، قال قيل للنبي صلى الله عليه وسلم الا تزوج ابنة حمزة قال " انها ابنة اخي من الرضاعة ". وقال بشر بن عمر حدثنا شعبة سمعت قتادة سمعت جابر بن زيد مثله
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے خبر دی اور انہیں ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے خبر دی کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری بہن ( ابوسفیان کی لڑکی ) سے نکاح کر لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اسے پسند کرو گی ( کہ تمہاری سوکن بہن بنے ) ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، میں تو پسند کرتی ہوں اگر میں اکیلی آپ کی بیوی ہوتی تو پسند نہ کرتی۔ پھر میری بہن اگر میرے ساتھ بھلائی میں شریک ہو تو میں کیونکر نہ چاہوں گی ( غیروں سے تو بہن ہی اچھی ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! لوگ کہتے ہیں آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے جو ام سلمہ کے پیٹ سے ہے، نکاح کرنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ میری ربیبہ اور میری پرورش میں نہ ہوتی ( یعنی میری بیوی کی بیٹی نہ ہوتی ) جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ وہ دوسرے رشتے سے میری دودھ بھتیجی ہے، مجھ کو اور ابوسلمہ کے باپ کو دونوں کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے۔ دیکھو، ایسا مت کرو اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ سے نکاح کرنے کے لیے نہ کہو۔ عروہ راوی نے کہا ثوبیہ ابولہب کی لونڈی تھی۔ ابولہب نے اس کو آزاد کر دیا تھا۔ ( جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے کی خبر ابولہب کو دی تھی ) پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا جب ابولہب مر گیا تو اس کے کسی عزیز نے مرنے کے بعد اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کیا حال ہے کیا گزری؟ وہ کہنے لگا جب سے میں تم سے جدا ہوا ہوں کبھی آرام نہیں ملا مگر ایک ذرا سا پانی ( پیر کے دن مل جاتا ہے ) ابولہب نے اس گڑھے کی طرف اشارہ کیا جو انگوٹھے اور کلمہ کے انگلی کے بیچ میں ہوتا ہے یہ بھی اس وجہ سے کہ میں نے ثوبیہ کو آزاد کر دیا تھا۔
حدثنا الحكم بن نافع، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان زينب ابنة ابي سلمة، اخبرته ان ام حبيبة بنت ابي سفيان اخبرتها انها، قالت يا رسول الله انكح اختي بنت ابي سفيان فقال " اوتحبين ذلك ". فقلت نعم، لست لك بمخلية، واحب من شاركني في خير اختي. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان ذلك لا يحل لي ". قلت فانا نحدث انك تريد ان تنكح بنت ابي سلمة. قال " بنت ام سلمة ". قلت نعم. فقال " لو انها لم تكن ربيبتي في حجري ما حلت لي انها لابنة اخي من الرضاعة، ارضعتني وابا سلمة ثويبة فلا تعرضن على بناتكن ولا اخواتكن ". قال عروة وثويبة مولاة لابي لهب كان ابو لهب اعتقها فارضعت النبي صلى الله عليه وسلم فلما مات ابو لهب اريه بعض اهله بشر حيبة قال له ماذا لقيت قال ابو لهب لم الق بعدكم غير اني سقيت في هذه بعتاقتي ثويبة
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اشعث نے، ان سے ان کے دادا نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ ان کے یہاں ایک مرد بیٹھا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا گویا کہ آپ نے اس کو پسند نہیں فرمایا عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ میرے دودھ والے بھائی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو، سوچ سمجھ کر کہو کون تمہارا بھائی ہے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن الاشعث، عن ابيه، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها وعندها رجل، فكانه تغير وجهه، كانه كره ذلك فقالت انه اخي. فقال " انظرن ما اخوانكن، فانما الرضاعة من المجاعة