Loading...

Loading...
کتب
۱۸۸ احادیث
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا ہم کو حمید بن ابی حمید طویل نے خبر دی، انہوں نے انس بن مالک سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ تین حضرات ( علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں ( رات میں ) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، اخبرنا محمد بن جعفر، اخبرنا حميد بن ابي حميد الطويل، انه سمع انس بن مالك رضى الله عنه يقول جاء ثلاثة رهط الى بيوت ازواج النبي صلى الله عليه وسلم يسالون عن عبادة النبي صلى الله عليه وسلم فلما اخبروا كانهم تقالوها فقالوا واين نحن من النبي صلى الله عليه وسلم قد غفر له ما تقدم من ذنبه وما تاخر. قال احدهم اما انا فاني اصلي الليل ابدا. وقال اخر انا اصوم الدهر ولا افطر. وقال اخر انا اعتزل النساء فلا اتزوج ابدا. فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " انتم الذين قلتم كذا وكذا اما والله اني لاخشاكم لله واتقاكم له، لكني اصوم وافطر، واصلي وارقد واتزوج النساء، فمن رغب عن سنتي فليس مني
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے حسان بن ابراہیم سے سنا، انہوں نے یونس بن یزید ایلی سے، ان سے زہری نے، کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع فإن خفتم أن لا تعدلوا فواحدة أو ما ملكت أيمانكم ذلك أدنى أن لا تعولوا» کے متعلق پوچھا ”اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں سے انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو۔ دو دو سے، خواہ تین تین سے، خواہ چار چار سے، لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر ایک ہی پر بس کرو یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو، اس صورت میں قوی امید ہے کہ تم ظلم و زیادتی نہ کر سکو گے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھانجے! آیت میں ایسی یتیم مالدار لڑکی کا ذکر ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو۔ وہ لڑکی کے مال اور اس کے حسن کی وجہ سے اس کی طرف مائل ہو اور اس سے معمولی مہر پر شادی کرنا چاہتا ہو تو ایسے شخص کو اس آیت میں ایسی لڑکی سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ہاں اگر اس کے ساتھ انصاف کر سکتا ہو اور پورا مہر ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اجازت ہے، ورنہ ایسے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ اپنی پرورش میں یتیم لڑکیوں کے سوا اور دوسری لڑکیوں سے شادی کر لیں۔
حدثنا علي، سمع حسان بن ابراهيم، عن يونس بن يزيد، عن الزهري، قال اخبرني عروة، انه سال عايشة عن قوله تعالى {وان خفتم ان لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع فان خفتم ان لا تعدلوا فواحدة او ما ملكت ايمانكم ذلك ادنى ان لا تعولوا}. قالت يا ابن اختي، اليتيمة تكون في حجر وليها، فيرغب في مالها وجمالها، يريد ان يتزوجها بادنى من سنة صداقها، فنهوا ان ينكحوهن الا ان يقسطوا لهن فيكملوا الصداق، وامروا بنكاح من سواهن من النساء
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے علقمہ بن قیس نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ان سے عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں ملاقات کی اور کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! مجھے آپ سے ایک کام ہے پھر وہ دونوں تنہائی میں چلے گئے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ منظور کریں گے کہ ہم آپ کا نکاح کسی کنواری لڑکی سے کر دیں جو آپ کو گزرے ہوئے ایام یاد دلا دے۔ چونکہ عبداللہ رضی اللہ عنہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے اس لیے انہوں نے مجھے اشارہ کیا اور کہا: علقمہ! میں جب ان کی خدمت میں پہنچا تو وہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ کا یہ مشورہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا اے نوجوانو! تم میں جو بھی شادی کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ خواہش نفسانی کو توڑ دے گا۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال حدثني ابراهيم، عن علقمة، قال كنت مع عبد الله فلقيه عثمان بمنى فقال يا ابا عبد الرحمن ان لي اليك حاجة. فخليا فقال عثمان هل لك يا ابا عبد الرحمن في ان نزوجك بكرا، تذكرك ما كنت تعهد، فلما راى عبد الله ان ليس له حاجة الى هذا اشار الى فقال يا علقمة، فانتهيت اليه وهو يقول اما لين قلت ذلك لقد قال لنا النبي صلى الله عليه وسلم " يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم فانه له وجاء
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمارہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ میں علقمہ اور اسود ( رحمہم اللہ ) کے ساتھ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ہم سے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نوجوان تھے اور ہمیں کوئی چیز میسر نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ نوجوانوں کی جماعت! تم میں جسے بھی نکاح کرنے کے لیے مالی طاقت ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی بوجہ غربت طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دے گا۔
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال حدثني عمارة، عن عبد الرحمن بن يزيد، قال دخلت مع علقمة والاسود على عبد الله فقال عبد الله كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم شبابا لا نجد شييا فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا معشر الشباب من استطاع الباءة فليتزوج، فانه اغض للبصر، واحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم، فانه له وجاء
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطا بن ابی رباح نے خبر دی کہا کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازہ میں شریک تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو زور زور سے حرکت نہ دینا بلکہ آہستہ آہستہ نرمی کے ساتھ جنازہ کو لے کر چلنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی وفات کے وقت آپ کے نکاح میں نو بیویاں تھیں آٹھ کے لیے تو آپ نے باری مقرر کر رکھی تھی لیکن ایک کی باری نہیں تھی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام بن يوسف، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني عطاء، قال حضرنا مع ابن عباس جنازة ميمونة بسرف، فقال ابن عباس هذه زوجة النبي صلى الله عليه وسلم فاذا رفعتم نعشها فلا تزعزعوها ولا تزلزلوها وارفقوا، فانه كان عند النبي صلى الله عليه وسلم تسع، كان يقسم لثمان ولا يقسم لواحدة
ہم سے مسدد نے بیان کیا۔ کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ایک ہی رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو بیویاں تھیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے خلیفہ ابن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی حدیث بیان کی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يطوف على نسايه في ليلة واحدة، وله تسع نسوة. وقال لي خليفة حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، ان انسا، حدثهم عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے علی بن حکم انصاری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے رقبہ نے، ان سے طلحہ الیامی نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا کہ تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شادی کر لو کیونکہ اس امت کے بہترین شخص جو تھے ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کی بہت سی بیویاں تھیں۔ بعضوں نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ اس امت میں اچھے وہی لوگ ہیں جن کی بہت عورتیں ہوں۔
حدثنا علي بن الحكم الانصاري، حدثنا ابو عوانة، عن رقبة، عن طلحة اليامي، عن سعيد بن جبير، قال قال لي ابن عباس هل تزوجت قلت لا. قال فتزوج فان خير هذه الامة اكثرها نساء
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے محمد بن ابراہیم بن حارث نے، ان سے علقمہ بن وقاص نے اور ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملتا ہے جس کی وہ نیت کرے۔ اس لیے جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہو، اسے اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل ہو گی لیکن جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کی نیت سے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے ارادہ سے ہو، اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن ابراهيم بن الحارث، عن علقمة بن وقاص، عن عمر بن الخطاب رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " العمل بالنية، وانما لامري ما نوى، فمن كانت هجرته الى الله ورسوله فهجرته الى الله ورسوله صلى الله عليه وسلم ومن كانت هجرته الى دنيا يصيبها او امراة ينكحها، فهجرته الى ما هاجر اليه
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے قیس نے بیان کیا اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ بیویاں نہیں تھیں۔ اس لیے ہم نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم اپنے آپ کو خصی کیوں نہ کر لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، حدثنا اسماعيل، قال حدثني قيس، عن ابن مسعود رضى الله عنه قال كنا نغزو مع النبي صلى الله عليه وسلم وليس لنا نساء فقلنا يا رسول الله الا نستخصي فنهانا عن ذلك
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے حمید طویل نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ( ہجرت کر کے مدینہ ) آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا۔ سعد انصاری رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دو بیویاں تھیں۔ انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ ان کے اہل ( بیوی ) اور مال میں سے آدھے لیں۔ اس پر عبدالرحمٰن نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اہل اور آپ کے مال میں برکت دے، مجھے تو بازار کا راستہ بتا دو۔ چنانچہ آپ بازار آئے اور یہاں آپ نے کچھ پنیر اور کچھ گھی کی تجارت کی اور نفع کمایا۔ چند دنوں کے بعد ان پر زعفران کی زردی لگی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عبدالرحمٰن یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ انہیں مہر میں کیا دیا عرض کیا کہ ایک گٹھلی برابر سونا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔
حدثنا محمد بن كثير، عن سفيان، عن حميد الطويل، قال سمعت انس بن مالك، قال قدم عبد الرحمن بن عوف فاخى النبي صلى الله عليه وسلم بينه وبين سعد بن الربيع الانصاري وعند الانصاري امراتان، فعرض عليه ان يناصفه اهله وماله فقال بارك الله لك في اهلك ومالك دلوني على السوق، فاتى السوق فربح شييا من اقط وشييا من سمن فراه النبي صلى الله عليه وسلم بعد ايام وعليه وضر من صفرة فقال " مهيم يا عبد الرحمن ". فقال تزوجت انصارية. قال " فما سقت ". قال وزن نواة من ذهب. قال " اولم ولو بشاة
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «تبتل» یعنی عورتوں سے الگ رہنے کی زندگی سے منع فرمایا تھا۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دے دیتے تو ہم تو خصی ہی ہو جاتے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابراهيم بن سعد، اخبرنا ابن شهاب، سمع سعيد بن المسيب، يقول سمعت سعد بن ابي وقاص، يقول رد رسول الله صلى الله عليه وسلم على عثمان بن مظعون التبتل، ولو اذن له لاختصينا
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی اور انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو عورت سے الگ رہنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم بھی اپنے آپ کو خصی بنا لیتے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سعيد بن المسيب، انه سمع سعد بن ابي وقاص، يقول لقد رد ذلك يعني النبي صلى الله عليه وسلم على عثمان، ولو اجاز له التبتل لاختصينا
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے، ان سے اسمٰعیل بن ابی خالد بجلی نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کو جایا کرتے تھے اور ہمارے پاس روپیہ نہ تھا ( کہ ہم شادی کر لیتے ) اس لیے ہم نے عرض کیا ہم اپنے کو خصی کیوں نہ کرا لیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا۔ پھر ہمیں اس کی اجازت دے دی کہ ہم کسی عورت سے ایک کپڑے پر ( ایک مدت تک کے لیے ) نکاح کر لیں۔ آپ نے ہمیں قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ کر سنائی «يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين» کہ ”ایمان لانے والو! وہ پاکیزہ چیزیں مت حرام کرو جو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے حلال کی ہیں اور حد سے آگے نہ بڑھو، بیشک اللہ حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن اسماعيل، عن قيس، قال قال عبد الله كنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس لنا شىء فقلنا الا نستخصي فنهانا عن ذلك ثم رخص لنا ان ننكح المراة بالثوب، ثم قرا علينا {يا ايها الذين امنوا لا تحرموا طيبات ما احل الله لكم ولا تعتدوا ان الله لا يحب المعتدين}
اور اصبغ نے کہا کہ مجھے ابن وہب نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نوجوان ہوں اور مجھے اپنے پر زنا کا خوف رہتا ہے۔ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں کسی عورت سے شادی کر لوں۔ آپ میری یہ بات سن کر خاموش رہے۔ دوبارہ میں نے اپنی یہی بات دہرائی لیکن آپ اس مرتبہ بھی خاموش رہے۔ سہ بارہ میں نے عرض کیا آپ پھر بھی خاموش رہے۔ میں نے چوتھی مرتبہ عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ! جو کچھ تم کرو گے اسے ( لوح محفوظ میں ) لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے۔ خواہ اب تم خصی ہو جاؤ یا باز رہو۔ یعنی خصی ہونا بیکار محض ہے۔
وقال اصبغ اخبرني ابن وهب، عن يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قلت يا رسول الله اني رجل شاب وانا اخاف على نفسي العنت ولا اجد ما اتزوج به النساء، فسكت عني، ثم قلت مثل ذلك، فسكت عني ثم قلت مثل ذلك، فسكت عني ثم قلت مثل ذلك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا ابا هريرة جف القلم بما انت لاق، فاختص على ذلك او ذر
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمائیے اگر آپ کسی وادی میں اتریں اور اس میں ایک درخت ایسا ہو جس میں اونٹ چر گئے ہوں اور ایک درخت ایسا ہو جس میں سے کچھ بھی نہ کھایا گیا ہو تو آپ اپنا اونٹ ان درختوں میں سے کس درخت میں چرائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس درخت میں جس میں سے ابھی چرایا نہیں گیا ہو۔ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوا کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني اخي، عن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت قلت يا رسول الله ارايت لو نزلت واديا وفيه شجرة قد اكل منها، ووجدت شجرا لم يوكل منها، في ايها كنت ترتع بعيرك قال " في الذي لم يرتع منها ". تعني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يتزوج بكرا غيرها
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! مجھے خواب میں دو مرتبہ تم دکھائی گئیں۔ ایک شخص ( جبرائیل ) تمہاری صورت حریر کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے ہے اور کہتا ہے کہ یہ آپ کی بیوی ہے میں نے جو اس کپڑے کو کھولا تو اس میں تم تھیں۔ میں نے خیال کیا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ضرور پورا کر کے رہے گا۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اريتك في المنام مرتين، اذا رجل يحملك في سرقة حرير فيقول هذه امراتك، فاكشفها فاذا هي انت، فاقول ان يكن هذا من عند الله يمضه
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سیار بن ابی سیار نے بیان کیا، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد سے واپس ہو رہے تھے۔ میں اپنے اونٹ کو، جو سست تھا تیز چلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اتنے میں میرے پیچھے سے ایک سوار مجھ سے آ کر ملا اور اپنا نیزہ میرے اونٹ کو چبھو دیا۔ اس کی وجہ سے میرا اونٹ تیز چل پڑا جیسا کہ کسی عمدہ قسم کے اونٹ کی چال تم نے دیکھی ہو گی۔ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا جلدی کیوں کر رہے ہو؟ میں نے عرض کیا ابھی میری شادی نئی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کسی کنواری سے کیوں نہ کی تم اس کے ساتھ کھیل کود کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کرتی۔ بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ میں داخل ہونے والے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ اور رات ہو جائے تب داخل ہو تاکہ پریشان بالوں والی کنگھا کر لیوے اور جن کے شوہر موجود نہیں تھے وہ اپنے بال صاف کر لیں۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا هشيم، حدثنا سيار، عن الشعبي، عن جابر بن عبد الله، قال قفلنا مع النبي صلى الله عليه وسلم من غزوة فتعجلت على بعير لي قطوف، فلحقني راكب من خلفي، فنخس بعيري بعنزة كانت معه، فانطلق بعيري كاجود ما انت راء من الابل، فاذا النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ما يعجلك ". قلت كنت حديث عهد بعرس. قال " بكرا ام ثيبا ". قلت ثيب. قال " فهلا جارية تلاعبها وتلاعبك ". قال فلما ذهبنا لندخل قال " امهلوا حتى تدخلوا ليلا اى عشاء لكى تمتشط الشعثة وتستحد المغيبة
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محارب بن دثار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے عرض کیا کہ میں نے شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کس سے شادی کی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک عورت سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے کیوں نہ کی کہ اس کے ساتھ تم کھیل کود کرتے۔ محارب نے کہا کہ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد عمرو بن دینار سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ہے۔ مجھ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس طرح بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم نے کسی کنواری عورت سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیل کود کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا محارب، قال سمعت جابر بن عبد الله، رضى الله عنهما يقول تزوجت فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما تزوجت ". فقلت تزوجت ثيبا. فقال " ما لك وللعذارى ولعابها ". فذكرت ذلك لعمرو بن دينار فقال عمرو سمعت جابر بن عبد الله يقول قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " هلا جارية تلاعبها وتلاعبك
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے یزید بن حبیب نے، ان سے عراک بن مالک نے اور ان سے عروہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے لیے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میں آپ کا بھائی ہوں۔ ( تو عائشہ سے کیسے نکاح کریں گے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے دین اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کے رشتہ سے تم میرے بھائی ہو اور عائشہ میرے لیے حلال ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، عن يزيد، عن عراك، عن عروة، ان النبي صلى الله عليه وسلم خطب عايشة الى ابي بكر فقال له ابو بكر انما انا اخوك، فقال " انت اخي في دين الله وكتابه وهى لي حلال
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ پر سوار ہونے والی ( عرب ) عورتوں میں بہترین عورت قریش کی صالح عورت ہوتی ہے جو اپنے بچے سے بہت زیادہ محبت کرنے والی اور اپنے شوہر کے مال اسباب میں اس کی بہت عمدہ نگہبان و نگراں ثابت ہوتی ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خير نساء ركبن الابل صالحو نساء قريش، احناه على ولد في صغره وارعاه على زوج في ذات يده