Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یعنی وہ ہلاک ہوا نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ جو کچھ اس نے کمایا وہ کام آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء کی طرف تشریف لے گئے اور پہاڑی پر چڑھ کر پکارا۔ یا صباحاہ! قریش اس آواز پر آپ کے پاس جمع ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں بتاؤں کہ دشمن تم پر صبح کے وقت یا شام کے وقت حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری تصدیق نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ضرور آپ کی تصدیق کریں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو میں تمہیں سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمہارے سامنے آ رہا ہے۔ ابولہب بولا تم تباہ ہو جاؤ۔ کیا تم نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «تبت يدا أبي لهب» آخر تک۔
حدثنا محمد بن سلام، اخبرنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج الى البطحاء فصعد الى الجبل فنادى " يا صباحاه ". فاجتمعت اليه قريش فقال " ارايتم ان حدثتكم ان العدو مصبحكم او ممسيكم، اكنتم تصدقوني ". قالوا نعم. قال " فاني نذير لكم بين يدى عذاب شديد ". فقال ابو لهب الهذا جمعتنا تبا لك. فانزل الله عز وجل {تبت يدا ابي لهب} الى اخرها
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابولہب نے کہا تھا کہ تو تباہ ہو۔ کیا تو نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا؟ اس پر یہ آیت «تبت يدا أبي لهب» نازل ہوئی۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثني عمرو بن مرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال ابو لهب تبا لك الهذا جمعتنا فنزلت {تبت يدا ابي لهب}
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے ابن آدم نے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے یہ بھی مناسب نہیں تھا۔ مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ ( ابن آدم ) کہتا ہے کہ میں اس کو دوبارہ نہیں پیدا کروں گا حالانکہ میرے لیے دوبارہ پیدا کرنا اس کے پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل نہیں۔ اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ نے اپنا بیٹا بنایا ہے حالانکہ میں ایک ہوں۔ بےنیاز ہوں نہ میرے لیے کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں اور نہ کوئی میرے برابر ہے۔
حدثنا ابو اليمان، حدثنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " قال الله كذبني ابن ادم ولم يكن له ذلك، وشتمني ولم يكن له ذلك، فاما تكذيبه اياى فقوله لن يعيدني كما بداني، وليس اول الخلق باهون على من اعادته، واما شتمه اياى فقوله اتخذ الله ولدا، وانا الاحد الصمد لم الد ولم اولد ولم يكن لي كفا احد
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ ) ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا۔ اس نے مجھے گالی دی حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تھا۔ مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ ( ابن آدم ) کہتا ہے کہ میں اسے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا جیسا کہ میں نے اسے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا۔ اس کا گالی دینا یہ ہے کہ کہتا ہے اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے حالانکہ میں بےپرواہ ہوں، میرے ہاں نہ کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد اور نہ کوئی میرے برابر کا ہے۔ «كفؤا» اور «كفيئا» اور «كفاء» ہم معنی ہیں۔
حدثنا اسحاق بن منصور، قال وحدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قال الله كذبني ابن ادم ولم يكن له ذلك، وشتمني ولم يكن له ذلك، اما تكذيبه اياى ان يقول اني لن اعيده كما بداته، واما شتمه اياى ان يقول اتخذ الله ولدا، وانا الصمد الذي لم الد ولم اولد ولم يكن لي كفوا احد ". {لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا احد} كفوا وكفييا وكفاء واحد
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عاصم اور عبدہ نے، ان سے زر بن حبیش نے بیان کیا کہ انہوں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے معوذتین کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ یہ مسئلہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ( جبرائیل علیہ السلام ) کی زبانی کہا گیا ہے کہ یوں کہئیے کہ «اعوذ برب الفلق» الخ میں نے اسی طرح کہا چنانچہ ہم بھی وہی کہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن عاصم، وعبدة، عن زر بن حبيش، قال سالت ابى بن كعب عن المعوذتين، فقال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال قيل لي فقلت فنحن نقول كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبدہ بن ابی لبابہ نے بیان کیا، ان سے زر بن حبیش نے (سفیان نے کہا) اور ہم سے عاصم نے بھی بیان کیا، ان سے زر نے بیان کیا کہ میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یا اباالمنذر! آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو یہ کہتے ہیں کہ سورۃ معوذتین قرآن میں داخل نہیں ہیں۔ ابی بن کعب نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کو پوچھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ( جبرائیل علیہ السلام کی زبانی ) مجھ سے یوں کہا گیا کہ ایسا کہئیے اور میں نے کہا، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم بھی وہی کہتے ہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا عبدة بن ابي لبابة، عن زر بن حبيش، وحدثنا عاصم، عن زر، قال سالت ابى بن كعب قلت يا ابا المنذر ان اخاك ابن مسعود يقول كذا وكذا. فقال ابى سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لي قيل لي. فقلت، قال فنحن نقول كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم