Loading...

Loading...
کتب
۱۷۳ احادیث
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم تیمی نے بیان کیا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ مجھے مشرکیں کے سب سے سخت ظلم کے متعلق بتاؤ جو مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور ظالم اپنا کپڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں پھنسا کر زور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھونٹنے لگا اتنے میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آ گئے اور انہوں نے اس بدبخت کا کندھا پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اسے ہٹا دیا اور کہا کہ تم لوگ ایک شخص کو صرف اس لیے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے الآیۃ۔ عیاش بن ولید کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابن اسحاق نے کی ( اور بیان کیا کہ ) مجھ سے یحییٰ بن عروہ نے بیان کیا اور ان سے عروہ نے کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور عبدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا گیا اور محمد بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے، اس میں یوں ہے کہ مجھ سے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔
حدثنا عياش بن الوليد، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني الاوزاعي، حدثني يحيى بن ابي كثير، عن محمد بن ابراهيم التيمي، قال حدثني عروة بن الزبير، قال سالت ابن عمرو بن العاص اخبرني باشد، شىء صنعه المشركون بالنبي صلى الله عليه وسلم قال بينا النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في حجر الكعبة اذ اقبل عقبة بن ابي معيط، فوضع ثوبه في عنقه فخنقه خنقا شديدا، فاقبل ابو بكر حتى اخذ بمنكبه ودفعه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال {اتقتلون رجلا ان يقول ربي الله} الاية. تابعه ابن اسحاق حدثني يحيى بن عروة عن عروة، قلت لعبد الله بن عمرو. وقال عبدة عن هشام عن ابيه قيل لعمرو بن العاص. وقال محمد بن عمرو عن ابي سلمة حدثني عمرو بن العاص
مجھ سے عبداللہ بن حماد آملی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن معین نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن مجالد نے بیان کیا، ان سے بیان نے، ان سے وبرہ نے ان سے ہمام بن حارث نے بیان کیا کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں بھی دیکھا ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پانچ غلام، دو عورتوں اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم کے سوا اور کوئی ( مسلمان ) نہیں تھا۔
حدثني عبد الله بن حماد الاملي، قال حدثني يحيى بن معين، حدثنا اسماعيل بن مجالد، عن بيان، عن وبرة، عن همام بن الحارث، قال قال عمار بن ياسر رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وما معه الا خمسة اعبد وامراتان، وابو بكر
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم مروزی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابواسامہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سعد بن مسیب سے سنا، کہا کہ میں نے ابواسحاق سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جس دن میں اسلام لایا ہوں دوسرے لوگ بھی اسی دن اسلام لائے اور اسلام میں داخل ہونے والے تیسرے آدمی کی حیثیت سے مجھ پر سات دن گزرے۔
حدثني اسحاق، اخبرنا ابو اسامة، حدثنا هاشم، قال سمعت سعيد بن المسيب، قال سمعت ابا اسحاق، سعد بن ابي وقاص يقول ما اسلم احد الا في اليوم الذي اسلمت فيه، ولقد مكثت سبعة ايام واني لثلث الاسلام
مجھ سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے معن بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے مسروق سے پوچھا کہ جس رات میں جنوں نے قرآن مجید سنا تھا اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کس نے دی تھی؟ مسروق نے کہا کہ مجھ سے تمہارے والد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنوں کی خبر ایک ببول کے درخت نے دی تھی۔
حدثني عبيد الله بن سعيد، حدثنا ابو اسامة، حدثنا مسعر، عن معن بن عبد الرحمن، قال سمعت ابي قال، سالت مسروقا من اذن النبي صلى الله عليه وسلم بالجن ليلة استمعوا القران. فقال حدثني ابوك يعني عبد الله انه اذنت بهم شجرة
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے دادا نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو اور قضائے حاجت کے لیے ( پانی کا ) ایک برتن لیے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون صاحب ہیں؟ بتایا کہ میں ابوہریرہ ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ استنجے کے لیے چند پتھر تلاش کر لاؤ اور ہاں ہڈی اور لید نہ لانا۔ تو میں پتھر لے کر حاضر ہوا۔ میں انہیں اپنے کپڑے میں رکھے ہوئے تھا اور لا کر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اسے رکھ دیا اور وہاں سے واپس چلا آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت سے فارغ ہو گئے تو میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ ہڈی اور گوبر میں کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس لیے کہ وہ جنوں کی خوراک ہیں۔ میرے پاس نصیبین کے جنوں کا ایک وفد آیا تھا اور کیا ہی اچھے وہ جن تھے۔ تو انہوں نے مجھ سے توشہ مانگا میں نے ان کے لیے اللہ سے یہ دعا کی کہ جب بھی ہڈی یا گوبر پر ان کی نظر پڑے تو ان کے لیے اس چیز سے کھانا ملے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عمرو بن يحيى بن سعيد، قال اخبرني جدي، عن ابي هريرة، رضى الله عنه انه كان يحمل مع النبي صلى الله عليه وسلم اداوة لوضويه وحاجته، فبينما هو يتبعه بها فقال " من هذا ". فقال انا ابو هريرة. فقال " ابغني احجارا استنفض بها، ولا تاتني بعظم ولا بروثة ". فاتيته باحجار احملها في طرف ثوبي حتى وضعت الى جنبه ثم انصرفت، حتى اذا فرغ مشيت، فقلت ما بال العظم والروثة قال " هما من طعام الجن، وانه اتاني وفد جن نصيبين ونعم الجن، فسالوني الزاد، فدعوت الله لهم ان لا يمروا بعظم ولا بروثة الا وجدوا عليها طعاما
مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے، کہا ہم سے مثنیٰ نے، ان سے ابوجمرہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے بھائی انیس سے کہا مکہ جانے کے لیے سواری تیار کر اور اس شخص کے متعلق جو نبی ہونے کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے۔ میرے لیے خبریں حاصل کر کے لا۔ اس کی باتوں کو خود غور سے سننا اور پھر میرے پاس آنا۔ ان کے بھائی وہاں سے چلے اور مکہ حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں خود سنیں پھر واپس ہو کر انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے، وہ اچھے اخلاق کا لوگوں کو حکم کرتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا وہ شعر نہیں ہے۔ اس پر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا جس مقصد کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا مجھے اس پر پوری طرح تشفی نہیں ہوئی، آخر انہوں نے خود توشہ باندھا، پانی سے بھرا ہوا ایک پرانا مشکیزہ ساتھ لیا اور مکہ آئے، مسجد الحرام میں حاضری دی اور یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھا، کچھ رات گزر گئی کہ وہ لیٹے ہوئے تھے۔ علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس حالت میں دیکھا اور سمجھ گئے کہ کوئی مسافر ہے۔ علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ میرے گھر پر چل کر آرام کیجئے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے لیکن کسی نے ایک دوسرے کے بارے میں بات نہیں کی۔ جب صبح ہوئی تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنا مشکیزہ اور توشہ اٹھایا اور مسجد الحرام میں آ گئے۔ یہ دن بھی یونہی گزر گیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے۔ شام ہوئی تو سونے کی تیاری کرنے لگے۔ علی رضی اللہ عنہ پھر وہاں سے گزرے اور سمجھ گئے کہ ابھی اپنے ٹھکانے جانے کا وقت اس شخص پر نہیں آیا، وہ انہیں وہاں سے پھر اپنے ساتھ لے آئے اور آج بھی کسی نے ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی، تیسرا دن جب ہوا اور علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ یہی کام کیا اور اپنے ساتھ لے گئے تو ان سے پوچھا کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ یہاں آنے کا باعث کیا ہے؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کر لو کہ میری راہ نمائی کرو گے تو میں تم کو سب کچھ بتا دوں گا۔ علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کر لیا تو انہوں نے اپنے خیالات کی خبر دی۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ حق پر ہیں اور اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اچھا صبح کو تم میرے پیچھے پیچھے میرے ساتھ چلنا۔ اگر میں ( راستے میں ) کوئی ایسی بات دیکھوں گا جس سے مجھے تمہارے بارے میں خطرہ ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا۔ ( کسی دیوار کے قریب ) گویا مجھے پیشاب کرنا ہے، اس وقت تم میرا انتظار نہ کرنا اور جب میں پھر چلنے لگوں تو میرے پیچھے آ جانا تاکہ کوئی سمجھ نہ سکے کہ یہ دونوں ساتھ ہیں اور اس طرح جس گھر میں، میں داخل ہوں تم بھی داخل ہو جانا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور پیچھے پیچھے چلے تاآنکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ آپ کی باتیں سنیں اور وہیں اسلام لے آئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اب اپنی قوم غفار میں واپس جاؤ اور انہیں میرا حال بتاؤ تاآنکہ جب ہمارے غلبہ کا علم تم کو ہو جائے ( تو پھر ہمارے پاس آ جانا ) ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ان قریشیوں کے مجمع میں پکار کر کلمہ توحید کا اعلان کروں گا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے واپس وہ مسجد الحرام میں آئے اور بلند آواز سے کہا کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ یہ سنتے ہی سارا مجمع ان پر ٹوٹ پڑا اور انہیں اتنا مارا کہ زمین پر لٹا دیا اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ آ گئے اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے اوپر اپنے آپ کو ڈال کر قریش سے کہا افسوس کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے اور شام جانے والے تمہارے تاجروں کا راستہ ادھر ہی سے پڑتا ہے اس طرح سے ان سے ان کو بچایا۔ پھر ابوذر رضی اللہ عنہ دوسرے دن مسجد الحرام میں آئے اور اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ قوم پھر بری طرح ان پر ٹوٹ پڑی اور مارنے لگی اس دن بھی عباس رضی اللہ عنہ ان پر اوندھے پڑ گئے۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے بیان کیا کہ میں نے کوفہ کی مسجد میں سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ایک وقت تھا جب عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے سے پہلے مجھے اس وجہ سے باندھ رکھا تھا کہ میں نے اسلام کیوں قبول کیا لیکن تم لوگوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی وجہ سے اگر احد پہاڑ بھی اپنی جگہ سے سرک جائے تو اسے ایسا کرنا ہی چاہئے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن اسماعيل، عن قيس، قال سمعت سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، في مسجد الكوفة يقول والله لقد رايتني وان عمر لموثقي على الاسلام قبل ان يسلم عمر، ولو ان احدا ارفض للذي صنعتم بعثمان لكان محقوقا ان يرفض
مجھ سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے، انہیں قیس بن ابی حازم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد ہم لوگ ہمیشہ عزت سے رہے۔
حدثني محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه قال ما زلنا اعزة منذ اسلم عمر
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے دادا زید بن عبداللہ بن عمرو نے خبر دی، ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ ( اسلام لانے کے بعد قریش سے ) ڈرے ہوئے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابوعمرو عاص بن وائل سہمی اندر آیا، ایک دھاری دار چادر اور ریشمی کرتہ پہنے ہوئے تھا۔ وہ قبیلہ بنو سہم سے تھا جو زمانہ جاہلیت میں ہمارے حلیف تھے۔ عاص نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کیا بات ہے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہاری قوم بنو سہم والے کہتے ہیں کہ اگر میں مسلمان ہوا تو وہ مجھ کو مار ڈالیں گے۔ عاص نے کہا ”تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا“ جب عاص نے یہ کلمہ کہہ دیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں بھی اپنے کو امان میں سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد عاص باہر نکلا تو دیکھا کہ میدان لوگوں سے بھر گیا ہے۔ عاص نے پوچھا کدھر کا رخ ہے؟ لوگوں نے کہا ہم ابن خطاب کی خبر لینے جاتے ہیں جو بےدین ہو گیا ہے۔ عاص نے کہا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، یہ سنتے ہی لوگ لوٹ گئے۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال حدثني عمر بن محمد، قال فاخبرني جدي، زيد بن عبد الله بن عمر عن ابيه، قال بينما هو في الدار خايفا، اذ جاءه العاص بن وايل السهمي ابو عمرو، عليه حلة حبرة، وقميص مكفوف بحرير، وهو من بني سهم، وهم حلفاونا في الجاهلية فقال له ما بالك قال زعم قومك انهم سيقتلوني ان اسلمت. قال لا سبيل اليك. بعد ان قالها امنت، فخرج العاص، فلقي الناس قد سال بهم الوادي فقال اين تريدون فقالوا نريد هذا ابن الخطاب الذي صبا. قال لا سبيل اليه. فكر الناس
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمرو بن دینار سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو لوگ ان کے گھر کے قریب جمع ہو گئے اور کہنے لگے کہ عمر بےدین ہو گیا ہے۔ میں ان دنوں بچہ تھا اور اس وقت اپنے گھر کی چھت پر چڑھا ہوا تھا۔ اچانک ایک شخص آیا جو ریشم کی قباء پہنے ہوئے تھا، اس شخص نے لوگوں سے کہا ٹھیک ہے عمر بےدین ہو گیا لیکن یہ مجمع کیسا ہے؟ دیکھو میں عمر کو پناہ دے چکا ہوں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ اس کی یہ بات سنتے ہی لوگ الگ الگ ہو گئے۔ میں نے پوچھا یہ کون صاحب تھے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ عاص بن وائل ہیں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال عمرو بن دينار سمعته قال قال عبد الله بن عمر رضى الله عنهما لما اسلم عمر اجتمع الناس عند داره وقالوا صبا عمر. وانا غلام فوق ظهر بيتي، فجاء رجل عليه قباء من ديباج فقال قد صبا عمر. فما ذاك فانا له جار. قال فرايت الناس تصدعوا عنه فقلت من هذا قالوا العاص بن وايل
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن محمد بن زید نے بیان کیا، ان سے سالم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب بھی عمر رضی اللہ عنہ نے کسی چیز کے متعلق کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ اس طرح ہے تو وہ اسی طرح ہوئی جیسا وہ اس کے متعلق اپنا خیال ظاہر کرتے تھے۔ ایک دن وہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خوبصورت شخص وہاں سے گزرا۔ انہوں نے کہا یا تو میرا گمان غلط ہے یا یہ شخص اپنے جاہلیت کے دین پر اب بھی قائم ہے یا یہ زمانہ جاہلیت میں اپنی قوم کا کاہن رہا ہے۔ اس شخص کو میرے پاس بلاؤ۔ وہ شخص بلایا گیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے بھی یہی بات دہرائی۔ اس پر اس نے کہا میں نے تو آج کے دن کا سا معاملہ کبھی نہیں دیکھا جو کسی مسلمان کو پیش آیا ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن میں تمہارے لیے ضروری قرار دیتا ہوں کہ تم مجھے اس سلسلے میں بتاؤ۔ اس نے اقرار کیا کہ زمانہ جاہلیت میں، میں اپنی قوم کا کاہن تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا غیب کی جو خبریں تمہاری جنیہ تمہارے پاس لاتی تھی، اس کی سب سے حیرت انگیز کوئی بات سناؤ؟ شخص مذکور نے کہا کہ ایک دن میں بازار میں تھا کہ جنیہ میرے پاس آئی۔ میں نے دیکھا کہ وہ گھبرائی ہوئی ہے، پھر اس نے کہا جنوں کے متعلق تمہیں معلوم نہیں۔ جب سے انہیں آسمانی خبروں سے روک دیا گیا ہے وہ کس درجہ ڈرے ہوئے ہیں، مایوس ہو رہے ہیں اور اونٹنیوں کے پالان کی کملیوں سے مل گئے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے سچ کہا۔ ایک مرتبہ میں بھی ان دنوں بتوں کے قریب سویا ہوا تھا۔ ایک شخص ایک بچھڑا لایا اور اس نے بت پر اسے ذبح کر دیا اس کے اندر سے اس قدر زور کی آواز نکلی کہ میں نے ایسی شدید چیخ کبھی نہیں سنی تھی۔ اس نے کہا: اے دشمن! ایک بات بتلاتا ہوں جس سے مراد مل جائے ایک فصیح خوش بیان شخص یوں کہتا ہے لا الہٰ الا اللہ یہ سنتے ہی تمام لوگ ( جو وہاں موجود تھے ) چونک پڑے ( چل دئیے ) میں نے کہا میں تو نہیں جانے کا، دیکھو اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔ پھر یہی آواز آئی ارے دشمن تجھ کو ایک بات بتلاتا ہوں جس سے مراد بر آئے ایک فصیح شخص یوں کہہ رہا ہے لا الہٰ الا اللہ۔ اس وقت میں کھڑا ہوا اور ابھی کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ لوگ کہنے لگے یہ ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے سچے رسول ہیں۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال حدثني عمر، ان سالما، حدثه عن عبد الله بن عمر، قال ما سمعت عمر، لشىء قط يقول اني لاظنه كذا. الا كان كما يظن، بينما عمر جالس اذ مر به رجل جميل فقال لقد اخطا ظني، او ان هذا على دينه في الجاهلية، او لقد كان كاهنهم، على الرجل، فدعي له، فقال له ذلك، فقال ما رايت كاليوم استقبل به رجل مسلم، قال فاني اعزم عليك الا ما اخبرتني. قال كنت كاهنهم في الجاهلية. قال فما اعجب ما جاءتك به جنيتك قال بينما انا يوما في السوق جاءتني اعرف فيها الفزع، فقالت الم تر الجن وابلاسها وياسها من بعد انكاسها ولحوقها بالقلاص واحلاسها قال عمر صدق، بينما انا عند الهتهم اذ جاء رجل بعجل فذبحه، فصرخ به صارخ، لم اسمع صارخا قط اشد صوتا منه يقول يا جليح، امر نجيح رجل فصيح يقول لا اله الا انت. فوثب القوم قلت لا ابرح حتى اعلم ما وراء هذا ثم نادى يا جليح، امر نجيح، رجل فصيح، يقول لا اله الا الله. فقمت فما نشبنا ان قيل هذا نبي
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے قیس نے، کہا کہ میں نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا ایک وقت تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ جب اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے تو مجھے اور اپنی بہن کو اس لیے باندھ رکھا تھا کہ ہم اسلام کیوں لائے اور آج تم نے جو کچھ عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ برتاؤ کیا ہے اگر اس پر احد پہاڑ بھی اپنی جگہ سے سرک جائے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، حدثنا اسماعيل، حدثنا قيس، قال سمعت سعيد بن زيد، يقول للقوم لو رايتني موثقي عمر على الاسلام انا واخته وما اسلم، ولو ان احدا انقض لما صنعتم، بعثمان لكان محقوقا ان ينقض
مجھ سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کفار مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نشانی کا مطالبہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھا دئیے۔ یہاں تک کہ انہوں نے حرا پہاڑ کو ان دونوں ٹکڑوں کے بیچ میں دیکھا۔
حدثني عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان اهل، مكة سالوا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يريهم اية، فاراهم القمر شقتين، حتى راوا حراء بينهما
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ محمد بن میمون نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جس وقت چاند کے دو ٹکڑے ہوئے تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے میدان میں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لوگو! گواہ رہنا اور چاند کا ایک ٹکڑا دوسرے سے الگ ہو کر پہاڑ کی طرف چلا گیا تھا اور ابوالضحیٰ نے بیان کیا، ان سے مسروق نے، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ شق قمر کا معجزہ مکہ میں پیش آیا تھا۔ ابراہیم نخعی کے ساتھ اس کی متابعت محمد بن مسلم نے کی ہے، ان سے ابونجیح نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے، ان سے ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے۔
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن ابي معمر، عن عبد الله رضى الله عنه قال انشق القمر ونحن مع النبي صلى الله عليه وسلم بمنى فقال " اشهدوا ". وذهبت فرقة نحو الجبل وقال ابو الضحى عن مسروق عن عبد الله انشق بمكة. وتابعه محمد بن مسلم عن ابن ابي نجيح عن مجاهد عن ابي معمر عن عبد الله
ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے بکر بن مضر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عراک بن مالک نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بلا شک و شبہ چاند پھٹ گیا تھا۔
حدثنا عثمان بن صالح، حدثنا بكر بن مضر، قال حدثني جعفر بن ربيعة، عن عراك بن مالك، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن عبد الله بن عباس رضى الله عنهما ان القمر، انشق على زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا، ان سے ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ چاند پھٹ گیا تھا۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا ابراهيم، عن ابي معمر، عن عبد الله رضى الله عنه قال انشق القمر
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ ہم سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیار نے خبر دی، انہیں مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث ان دونوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہا کہ تم اپنے ماموں ( امیرالمؤمنین ) عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے باب میں گفتگو کیوں نہیں کرتے ( ہوا یہ تھا کہ لوگوں نے اس پر بہت اعتراض کیا تھا جو عثمان نے ولید کے ساتھ کیا تھا ) ۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے نکلے تو میں ان کے راستے میں کھڑا ہو گیا اور میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، آپ کو ایک خیر خواہانہ مشورہ دینا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بھلے آدمی! تم سے تو میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ یہ سن کر میں وہاں سے واپس چلا آیا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں مسور بن مخرمہ اور ابن عبدیغوث کی خدمت میں حاضر ہوا اور عثمان رضی اللہ عنہ سے جو کچھ میں نے کہا تھا اور انہوں نے اس کا جواب مجھے جو دیا تھا، سب میں نے بیان کر دیا۔ ان لوگوں نے کہا تم نے اپنا حق ادا کر دیا۔ ابھی میں اس مجلس میں بیٹھا تھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا آدمی میرے پاس ( بلانے کے لیے ) آیا۔ ان لوگوں نے مجھ سے کہا تمہیں اللہ تعالیٰ نے امتحان میں ڈالا ہے۔ آخر میں وہاں سے چلا اور عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے دریافت کیا تم ابھی جس خیر خواہی کا ذکر کر رہے تھے وہ کیا تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے کہا اللہ گواہ ہے پھر میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی، آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے دو ہجرتیں کیں ( ایک حبشہ کو اور دوسری مدینہ کو ) آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو دیکھا ہے۔ بات یہ ہے کہ ولید بن عقبہ کے بارے میں لوگوں میں اب بہت چرچا ہونے لگا ہے۔ اس لیے آپ کے لیے ضروری ہے کہ اس پر ( شراب نوشی کی ) حد قائم کریں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے بھتیجے یا میرے بھانجے کیا تم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی باتیں اس طرح میں نے حاصل کی تھیں جو ایک کنواری لڑکی کو بھی اپنے پردے میں معلوم ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ سن کر پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ کو گواہ کر کے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر اپنی کتاب نازل کی تھی اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر ( ابتداء ہی میں ) لبیک کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لے کر آئے تھے میں اس پر ایمان لایا اور جیسا کہ تم نے کہا میں نے دو ہجرتیں کیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی۔ اللہ کی قسم! میں نے آپ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی۔ آخر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دے دی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتحب ہوئے۔ اللہ کی قسم! میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ ان کے کسی معاملہ میں کوئی خیانت کی۔ ان کے بعد عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی۔ اس کے بعد میں خلیفہ ہوا۔ کیا اب میرا تم لوگوں پر وہی حق نہیں ہے جو ان کا مجھ پر تھا؟ عبیداللہ نے عرض کیا یقیناً آپ کا حق ہے پھر انہوں نے کہا پھر ان باتوں کی کیا حقیقت ہے جو تم لوگوں کی طرف سے پہنچ رہی ہیں؟ جہاں تک تم نے ولید بن عقبہ کے بارے میں ذکر کیا ہے تو ہم ان شاءاللہ اس معاملے میں اس کی گرفت حق کے ساتھ کریں گے۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر ( گواہی کے بعد ) ولید بن عقبہ کو چالیس کوڑے لگوائے گئے اور علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کوڑے لگائیں۔ علی رضی اللہ عنہ ہی نے اس کو کوڑے مارے تھے۔ اس حدیث کو یونس اور زہری کے بھتیجے نے بھی زہری سے روایت کیا اس میں عثمان رضی اللہ عنہ کا قول اس طرح بیان کیا، کیا تم لوگوں پر میرا وہی حق نہیں ہے جو ان لوگوں کا تم پر تھا۔
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد (عروہ بن زبیر) نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اس کے اندر تصویریں تھیں۔ انہوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب ان میں کوئی نیک مرد ہوتا اور اس کی وفات ہو جاتی تو اس کی قبر کو وہ لوگ مسجد بناتے اور پھر اس میں اس کی تصویریں رکھتے۔ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بدترین مخلوق ہوں گے۔“
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن هشام، قال حدثني ابي، عن عايشة رضى الله عنها ان ام، حبيبة وام سلمة ذكرتا كنيسة راينها بالحبشة، فيها تصاوير، فذكرتا للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " ان اوليك اذا كان فيهم الرجل الصالح فمات بنوا على قبره مسجدا، وصوروا فيه تيك الصور، اوليك شرار الخلق عند الله يوم القيامة
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسحاق بن سعید سعیدی نے بیان کیا۔ ان سے ان کے والد سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نے، ان سے ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں جب حبشہ سے آئی تو بہت کم عمر تھی۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر عنایت فرمائی اور پھر آپ نے اس کی دھاریوں پر اپنا ہاتھ پھیر کر فرمایا «سناه، سناه .» ۔ حمیدی نے بیان کیا کہ «سناه، سناه .» حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی اچھا اچھا۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا اسحاق بن سعيد السعيدي، عن ابيه، عن ام خالد بنت خالد، قالت قدمت من ارض الحبشة وانا جويرية، فكساني رسول الله صلى الله عليه وسلم خميصة لها اعلام، فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح الاعلام بيده ويقول " سناه، سناه ". قال الحميدي يعني حسن حسن
ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ ( ابتداء اسلام میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور ہم آپ کو سلام کرتے تو آپ نماز ہی میں جواب عنایت فرماتے تھے۔ لیکن جب ہم نجاشی کے ملک حبشہ سے واپس ( مدینہ ) آئے اور ہم نے ( نماز پڑھتے میں ) آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب نہیں دیا۔ نماز کے بعد ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم پہلے آپ کو سلام کرتے تھے تو آپ نماز ہی میں جواب عنایت فرمایا کرتے تھے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ ہاں نماز میں آدمی کو دوسرا شغل ہوتا ہے۔ سلیمان اعمش نے بیان کیا کہ میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا ایسے موقعہ پر آپ کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں دل میں جواب دے دیتا ہوں۔
حدثنا يحيى بن حماد، حدثنا ابو عوانة، عن سليمان، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله رضى الله عنه قال كنا نسلم على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلي فيرد علينا، فلما رجعنا من عند النجاشي سلمنا عليه فلم يرد علينا، فقلنا يا رسول الله انا كنا نسلم عليك فترد علينا قال " ان في الصلاة شغلا ". فقلت لابراهيم كيف تصنع انت قال ارد في نفسي
حدثني عمرو بن عباس، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا المثنى، عن ابي جمرة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لما بلغ ابا ذر مبعث النبي صلى الله عليه وسلم قال لاخيه اركب الى هذا الوادي، فاعلم لي علم هذا الرجل الذي يزعم انه نبي، ياتيه الخبر من السماء، واسمع من قوله، ثم ايتني. فانطلق الاخ حتى قدمه وسمع من قوله، ثم رجع الى ابي ذر، فقال له رايته يامر بمكارم الاخلاق، وكلاما ما هو بالشعر. فقال ما شفيتني مما اردت، فتزود وحمل شنة له فيها ماء حتى قدم مكة، فاتى المسجد، فالتمس النبي صلى الله عليه وسلم ولا يعرفه، وكره ان يسال عنه حتى ادركه بعض الليل، فراه علي فعرف انه غريب. فلما راه تبعه، فلم يسال واحد منهما صاحبه عن شىء حتى اصبح، ثم احتمل قربته وزاده الى المسجد، وظل ذلك اليوم ولا يراه النبي صلى الله عليه وسلم حتى امسى، فعاد الى مضجعه، فمر به علي فقال اما نال للرجل ان يعلم منزله فاقامه، فذهب به معه لا يسال واحد منهما صاحبه عن شىء، حتى اذا كان يوم الثالث، فعاد علي مثل ذلك، فاقام معه ثم قال الا تحدثني ما الذي اقدمك قال ان اعطيتني عهدا وميثاقا لترشدنني فعلت ففعل فاخبره. قال فانه حق وهو رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاذا اصبحت فاتبعني، فاني ان رايت شييا اخاف عليك قمت كاني اريق الماء، فان مضيت فاتبعني حتى تدخل مدخلي. ففعل، فانطلق يقفوه حتى دخل على النبي صلى الله عليه وسلم ودخل معه، فسمع من قوله، واسلم مكانه فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " ارجع الى قومك، فاخبرهم حتى ياتيك امري ". قال والذي نفسي بيده لاصرخن بها بين ظهرانيهم، فخرج حتى اتى المسجد فنادى باعلى صوته اشهد ان لا اله الا الله، وان محمدا رسول الله. ثم قام القوم فضربوه حتى اضجعوه، واتى العباس فاكب عليه قال ويلكم الستم تعلمون انه من غفار وان طريق تجاركم الى الشام فانقذه منهم، ثم عاد من الغد لمثلها، فضربوه وثاروا اليه، فاكب العباس عليه
حدثنا عبد الله بن محمد الجعفي، حدثنا هشام، اخبرنا معمر، عن الزهري، حدثنا عروة بن الزبير، ان عبيد الله بن عدي بن الخيار، اخبره ان المسور بن مخرمة وعبد الرحمن بن الاسود بن عبد يغوث قالا له ما يمنعك ان تكلم خالك عثمان في اخيه الوليد بن عقبة وكان اكثر الناس فيما فعل به. قال عبيد الله فانتصبت لعثمان حين خرج الى الصلاة فقلت له ان لي اليك حاجة وهى نصيحة. فقال ايها المرء، اعوذ بالله منك، فانصرفت، فلما قضيت الصلاة جلست الى المسور والى ابن عبد يغوث، فحدثتهما بالذي قلت لعثمان وقال لي. فقالا قد قضيت الذي كان عليك. فبينما انا جالس معهما، اذ جاءني رسول عثمان، فقالا لي قد ابتلاك الله. فانطلقت حتى دخلت عليه، فقال ما نصيحتك التي ذكرت انفا قال فتشهدت ثم قلت ان الله بعث محمدا صلى الله عليه وسلم وانزل عليه الكتاب، وكنت ممن استجاب لله ورسوله صلى الله عليه وسلم وامنت به، وهاجرت الهجرتين الاوليين، وصحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم ورايت هديه، وقد اكثر الناس في شان الوليد بن عقبة، فحق عليك ان تقيم عليه الحد. فقال لي يا ابن اخي ادركت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قلت لا، ولكن قد خلص الى من علمه ما خلص الى العذراء في سترها. قال فتشهد عثمان فقال ان الله قد بعث محمدا صلى الله عليه وسلم بالحق وانزل عليه الكتاب، وكنت ممن استجاب لله ورسوله صلى الله عليه وسلم وامنت بما بعث به محمد صلى الله عليه وسلم. وهاجرت الهجرتين الاوليين كما قلت، وصحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم وبايعته، والله ما عصيته ولا غششته حتى توفاه الله، ثم استخلف الله ابا بكر فوالله ما عصيته ولا غششته، ثم استخلف عمر، فوالله ما عصيته ولا غششته، ثم استخلفت، افليس لي عليكم مثل الذي كان لهم على قال بلى. قال فما هذه الاحاديث التي تبلغني عنكم فاما ما ذكرت من شان الوليد بن عقبة، فسناخذ فيه ان شاء الله بالحق قال فجلد الوليد اربعين جلدة، وامر عليا ان يجلده، وكان هو يجلده. وقال يونس وابن اخي الزهري عن الزهري افليس لي عليكم من الحق مثل الذي كان لهم. قال ابو عبد الله بلاء من ربكم ما ابتليتم به من شدة وفي موضع البلاء الابتلاء والتمحيص من بلوته ومحصته اي استخرجت ما عنده يبلو يختبر مبتليكم مختبركم واما قوله بلاء عظيم النعم وهي من ابليته وتلك من ابتليته