Loading...

Loading...
کتب
۱۷۳ احادیث
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں! اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہو تو اللہ کے سوا اور کسی کی قسم نہ کھائے۔“
حدثنا قتيبة، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الا من كان حالفا فلا يحلف الا بالله ". فكانت قريش تحلف بابايها، فقال " لا تحلفوا بابايكم
مجھ سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا کہ ان کے والد قاسم بن محمد جنازہ کے آگے آگے چلا کرتے تھے اور جنازہ کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے وہ بیان کرتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ جنازہ کے لیے کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور اسے دیکھ کر دو بار کہتے تھے کہ اے مرنے والے جس طرح اپنی زندگی میں تو اپنے گھر والوں کے ساتھ تھا اب ویسا ہی کسی پرندے کے بھیس میں ہے۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال اخبرني عمرو، ان عبد الرحمن بن القاسم، حدثه ان القاسم كان يمشي بين يدى الجنازة ولا يقوم لها، ويخبر عن عايشة قالت كان اهل الجاهلية يقومون لها، يقولون اذا راوها كنت في اهلك ما انت. مرتين
مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا جب تک دھوپ ثبیر پہاڑی پر نہ آ جاتی قریش ( حج میں ) مزدلفہ سے نہیں نکلا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے کوچ کیا۔
حدثني عمرو بن عباس، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، قال قال عمر رضى الله عنه ان المشركين كانوا لا يفيضون من جمع حتى تشرق الشمس على ثبير، فخالفهم النبي صلى الله عليه وسلم فافاض قبل ان تطلع الشمس
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا، کیا تم لوگوں سے یحییٰ بن مہلب نے یہ حدیث بیان کی تھی کہ ان سے حصین نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے (قرآن مجید کی آیت میں) کے متعلق فرمایا کہ اس کے ( معنی ٰ ہیں ) بھرا ہوا پیالہ جس کا مسلسل دور چلے۔
حدثني اسحاق بن ابراهيم، قال قلت لابي اسامة حدثكم يحيى بن المهلب، حدثنا حصين، عن عكرمة، {وكاسا دهاقا} قال ملاى متتابعة
عکرمہ نے بیان کیا اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ کہتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں ( یہ لفظ استعمال کرتے تھے ) «اسقنا كأسا دهاقا.» یعنی ہم کو بھرپور جام شراب پلاتے رہو۔
قال وقال ابن عباس سمعت ابي يقول، في الجاهلية اسقنا كاسا دهاقا
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے سچی بات جو کوئی شاعر کہہ سکتا تھا وہ لبید شاعر نے کہی ”ہاں اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔“ اور امیہ بن ابی الصلت ( جاہلیت کا ایک شاعر ) مسلمان ہونے کے قریب تھا۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن عبد الملك، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اصدق كلمة قالها الشاعر كلمة لبيد الا كل شىء ما خلا الله باطل وكاد امية بن ابي الصلت ان يسلم
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو روزانہ انہیں کچھ کمائی دیا کرتا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اسے اپنی ضرورت میں استعمال کیا کرتے تھے۔ ایک دن وہ غلام کوئی چیز لایا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں سے کھا لیا۔ پھر غلام نے کہا آپ کو معلوم ہے؟ یہ کیسی کمائی سے ہے؟ آپ نے دریافت فرمایا کیسی ہے؟ اس نے کہا میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک شخص کے لیے کہانت کی تھی حالانکہ مجھے کہانت نہیں آتی تھی، میں نے اسے صرف دھوکہ دیا تھا لیکن اتفاق سے وہ مجھے مل گیا اور اس نے اس کی اجرت میں مجھ کو یہ چیز دی تھی، آپ کھا بھی چکے ہیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ سنتے ہی اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور پیٹ کی تمام چیزیں قے کر کے نکال ڈالیں۔
حدثنا اسماعيل، حدثني اخي، عن سليمان، عن يحيى بن سعيد، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن القاسم بن محمد، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان لابي بكر غلام يخرج له الخراج، وكان ابو بكر ياكل من خراجه، فجاء يوما بشىء فاكل منه ابو بكر فقال له الغلام تدري ما هذا فقال ابو بكر وما هو قال كنت تكهنت لانسان في الجاهلية وما احسن الكهانة، الا اني خدعته، فلقيني فاعطاني بذلك، فهذا الذي اكلت منه. فادخل ابو بكر يده فقاء كل شىء في بطنه
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے کہا، مجھ کو نافع نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ «حبل الحبلة» تک قیمت کی ادائیگی کے وعدہ پر، اونٹ کا گوشت ادھار بیچا کرتے تھے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ «حبل الحبلة» کا مطلب یہ ہے کہ کوئی حاملہ اونٹنی اپنا بچہ جنے پھر وہ نوزائیدہ بچہ ( بڑھ کر ) حاملہ ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی خرید و فروخت ممنوع قرار دے دی تھی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، اخبرني نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كان اهل الجاهلية يتبايعون لحوم الجزور الى حبل الحبلة، قال وحبل الحبلة ان تنتج الناقة ما في بطنها، ثم تحمل التي نتجت، فنهاهم النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ غیلان بن جریر نے بیان کیا کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ وہ ہم سے انصار کے متعلق بیان فرمایا کرتے تھے اور مجھ سے فرماتے کہ تمہاری قوم نے فلاں موقع پر یہ کارنامہ انجام دیا، فلاں موقع پر یہ کارنامہ انجام دیا۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا مهدي، قال غيلان بن جرير كنا ناتي انس بن مالك فيحدثنا عن الانصار،، وكان، يقول لي فعل قومك كذا وكذا يوم كذا وكذا، وفعل قومك كذا وكذا يوم كذا وكذا
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے قطن ابوالہیثم نے کہا، ہم سے ابویزید مدنی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا جاہلیت میں سب سے پہلا قسامہ ہمارے ہی قبیلہ بنو ہاشم میں ہوا تھا، بنو ہاشم کے ایک شخص عمرو بن علقمہ کو قریش کے کسی دوسرے خاندان کے ایک شخص ( خداش بن عبداللہ عامری ) نے نوکری پر رکھا، اب یہ ہاشمی نوکر اپنے صاحب کے ساتھ اس کے اونٹ لے کر شام کی طرف چلا وہاں کہیں اس نوکر کے پاس سے ایک دوسرا ہاشمی شخص گزرا، اس کی بوری کا بندھن ٹوٹ گیا تھا۔ اس نے اپنے نوکر بھائی سے التجا کی میری مدد کر اونٹ باندھنے کی مجھے ایک رسی دیدے، میں اس سے اپنا تھیلا باندھوں اگر رسی نہ ہو گی تو وہ بھاگ تھوڑے جائے گا۔ اس نے ایک رسی اسے دے دی اور اس نے اپنی بوری کا منہ اس سے باندھ لیا ( اور چلا گیا ) ۔ پھر جب اس نوکر اور صاحب نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا تو تمام اونٹ باندھے گئے لیکن ایک اونٹ کھلا رہا۔ جس صاحب نے ہاشمی کو نوکری پر اپنے ساتھ رکھا تھا اس نے پوچھا سب اونٹ تو باندھے، یہ اونٹ کیوں نہیں باندھا گیا کیا بات ہے؟ نوکر نے کہا اس کی رسی موجود نہیں ہے۔ صاحب نے پوچھا کیا ہوا اس کی رسی؟ اور غصہ میں آ کر ایک لکڑی اس پر پھینک ماری اس کی موت آن پہنچی۔ اس کے ( مرنے سے پہلے ) وہاں سے ایک یمنی شخص گزر رہا تھا۔ ہاشمی نوکر نے پوچھا کیا حج کے لیے ہر سال تم مکہ جاتے ہو؟ اس نے کہا ابھی تو ارادہ نہیں ہے لیکن میں کبھی جاتا رہتا ہوں۔ اس نوکر نے کہا جب بھی تم مکہ پہنچو کیا میرا ایک پیغام پہنچا دو گے؟ اس نے کہا ہاں پہنچا دوں گا۔ اس نوکر نے کہا کہ جب بھی تم حج کے لیے جاؤ تو پکارنا: اے قریش کے لوگو! جب وہ تمہارے پاس جمع ہو جائیں تو پکارنا: اے بنی ہاشم! جب وہ تمہارے پاس آ جائیں تو ان سے ابوطالب پوچھنا اور انہیں بتلانا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک رسی کے لیے قتل کر دیا۔ اس وصیت کے بعد وہ نوکر مر گیا، پھر جب اس کا صاحب مکہ آیا تو ابوطالب کے یہاں بھی گیا۔ جناب ابوطالب نے دریافت کیا ہمارے قبیلہ کے جس شخص کو تم اپنے ساتھ نوکری کے لیے لے گئے تھے اس کا کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ وہ بیمار ہو گیا تھا میں نے خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ( لیکن وہ مر گیا تو ) میں نے اسے دفن کر دیا۔ ابوطالب نے کہا کہ اس کے لیے تمہاری طرف سے یہی ہونا چاہئے تھا۔ ایک مدت کے بعد وہی یمنی شخص جسے ہاشمی نوکر نے پیغام پہنچانے کی وصیت کی تھی، موسم حج میں آیا اور آواز دی: اے قریش کے لوگو! لوگوں نے بتا دیا کہ یہاں ہیں قریش اس نے آواز دی، اے بنو ہاشم! لوگوں نے بتایا کہ بنو ہاشم یہ ہیں اس نے پوچھا ابوطالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا تو اس نے کہا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک پیغام پہنچانے کے لیے کہا تھا کہ فلاں شخص نے اسے ایک رسی کی وجہ سے قتل کر دیا ہے۔ اب جناب ابوطالب اس صاحب کے یہاں آئے اور کہا کہ ان تین چیزوں میں سے کوئی چیز پسند کر لو اگر تم چاہو تو سو اونٹ دیت میں دے دو کیونکہ تم نے ہمارے قبیلہ کے آدمی کو قتل کیا ہے اور اگر چاہو تو تمہاری قوم کے پچاس آدمی اس کی قسم کھا لیں کہ تم نے اسے قتل نہیں کیا۔ اگر تم اس پر تیار نہیں تو ہم تمہیں اس کے بدلے میں قتل کر دیں گے۔ وہ شخص اپنی قوم کے پاس آیا تو وہ اس کے لیے تیار ہو گئے کہ ہم قسم کھا لیں گے۔ پھر بنو ہاشم کی ایک عورت ابوطالب کے پاس آئی جو اسی قبیلہ کے ایک شخص سے بیاہی ہوئی تھی اور اپنے اس شوہر سے اس کا بچہ بھی تھا۔ اس نے کہا: اے ابوطالب! آپ مہربانی کریں اور میرے اس لڑکے کو ان پچاس آدمیوں میں معاف کر دیں اور جہاں قسمیں لی جاتی ہیں ( یعنی رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان ) اس سے وہاں قسم نہ لیں۔ ابوطالب نے اسے معاف کر دیا۔ اس کے بعد ان میں کا ایک اور شخص آیا اور کہا: اے ابوطالب! آپ نے سو اونٹوں کی جگہ پچاس آدمیوں سے قسم طلب کی ہے، اس طرح ہر شخص پر دو دو اونٹ پڑتے ہیں۔ یہ دو اونٹ میری طرف سے آپ قبول کر لیں اور مجھے اس مقام پر قسم کھانے کے لیے مجبور نہ کریں جہاں قسم لی جاتی ہے۔ ابوطالب نے اسے بھی منظور کر لیا۔ اس کے بعد بقیہ جو اڑتالیس آدمی آئے اور انہوں نے قسم کھائی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ابھی اس واقعہ کو پورا سال بھی نہیں گزرا تھا کہ ان اڑتالیس آدمیوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں رہا جو آنکھ ہلاتا۔
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بعاث کی لڑائی اللہ تعالیٰ نے ( مصلحت کی وجہ سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے برپا کرا دی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں انصار کی جماعت میں پھوٹ پڑی ہوئی تھی۔ ان کے سردار مارے جا چکے تھے یا زخمی ہو چکے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی کو اس لیے پہلے برپا کیا تھا کہ انصار اسلام میں داخل ہو جائیں۔
حدثني عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان يوم بعاث يوما قدمه الله لرسوله صلى الله عليه وسلم، فقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد افترق ملوهم، وقتلت سرواتهم وجرحوا، قدمه الله لرسوله صلى الله عليه وسلم في دخولهم في الاسلام
اور عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں عمرو نے خبر دی، انہیں بکیر بن اشج نے اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مولا کریب نے ان سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا صفا اور مروہ کے درمیان نالے کے اندر زور سے دوڑنا سنت نہیں ہے یہاں جاہلیت کے دور میں لوگ تیزی کے ساتھ دوڑا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو اس پتھریلی جگہ سے دوڑ ہی کر پار ہوں گے۔
وقال ابن وهب اخبرنا عمرو، عن بكير بن الاشج، ان كريبا، مولى ابن عباس حدثه ان ابن عباس رضى الله عنهما قال ليس السعى ببطن الوادي بين الصفا والمروة سنة، انما كان اهل الجاهلية يسعونها ويقولون لا نجيز البطحاء الا شدا
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مطرف نے خبر دی، کہا میں نے ابوالسفر سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا انہوں نے کہا: اے لوگو! میری باتیں سنو کہ میں تم سے بیان کرتا ہوں اور ( جو کچھ تم نے سمجھا ہے ) وہ مجھے سناؤ۔ ایسا نہ ہو کہ تم لوگ یہاں سے اٹھ کر ( بغیر سمجھے ) چلے جاؤ اور پھر کہنے لگو کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں کہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں کہا۔ جو شخص بھی بیت اللہ کا طواف کرے تو وہ حطیم کے پیچھے سے طواف کرے اور حجر کو حطیم نہ کہا کرو یہ جاہلیت کا نام ہے اس وقت لوگوں میں جب کوئی کسی بات کی قسم کھاتا تو اپنا کوڑا، جوتا یا کمان وہاں پھینک دیتا۔
حدثنا عبد الله بن محمد الجعفي، حدثنا سفيان، اخبرنا مطرف، سمعت ابا السفر، يقول سمعت ابن عباس رضى الله عنهما يقول يا ايها الناس، اسمعوا مني ما اقول لكم، واسمعوني ما تقولون، ولا تذهبوا فتقولوا قال ابن عباس، قال ابن عباس من طاف بالبيت فليطف من وراء الحجر، ولا تقولوا الحطيم، فان الرجل في الجاهلية كان يحلف فيلقي سوطه او نعله او قوسه
ہم سے نعیم بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے حصین نے، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندریا دیکھی اس کے چاروں طرف بہت سے بندر جمع ہو گئے تھے اس بندریا نے زنا کرایا تھا اس لیے سبھوں نے مل کر اسے رجم کیا اور ان کے ساتھ میں بھی پتھر مارنے میں شریک ہوا۔
حدثنا نعيم بن حماد، حدثنا هشيم، عن حصين، عن عمرو بن ميمون، قال رايت في الجاهلية قردة اجتمع عليها قردة قد زنت، فرجموها فرجمتها معهم
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے اور انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ جاہلیت کی عادتوں میں سے یہ عادتیں ہیں۔ نسب کے معاملہ میں طعنہ مارنا، میت پر نوحہ کرنا، تیسری عادت کے متعلق ( عبیداللہ راوی ) بھول گئے تھے اور سفیان نے بیان کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ تیسری بات ستاروں کو بارش کی علت سمجھنا ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عبيد الله، سمع ابن عباس رضى الله عنهما قال خلال من خلال الجاهلية الطعن في الانساب والنياحة، ونسي الثالثة، قال سفيان ويقولون انها الاستسقاء بالانواء
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، کہا ان سے ہشام نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چالیس سال کی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا او آپ مدینہ منورہ ہجرت کر کے چلے گئے۔ وہاں دس سال رہے پھر آپ نے وفات فرمائی اس حساب سے آپ کی کل عمر شریف تریسٹھ سال ہوتی ہے اور یہی صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن ابي رجاء، حدثنا النضر، عن هشام، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال انزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ابن اربعين، فمكث ثلاث عشرة سنة، ثم امر بالهجرة، فهاجر الى المدينة، فمكث بها عشر سنين، ثم توفي صلى الله عليه وسلم
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے بیان بن بشر اور اسماعیل بن ابوخالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے قیس بن ابوحازم سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے خباب بن ارت سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے تلے چادر پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ہم لوگ مشرکین سے انتہائی تکالیف اٹھا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے آپ دعا کیوں نہیں فرماتے؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے بیٹھ گئے۔ چہرہ مبارک غصہ سے سرخ ہو گیا اور فرمایا تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں کہ لوہے کے کنگھوں کو ان کے گوشت اور پٹھوں سے گزار کر ان کی ہڈیوں تک پہنچا دیا گیا اور یہ معاملہ بھی انہیں ان کے دین سے نہ پھیر سکا، کسی کے سر پر آرا رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دئیے گئے اور یہ بھی انہیں ان کے دین سے نہ پھیر سکا، اس دین اسلام کو تو اللہ تعالیٰ خود ہی ایک دن تمام و کمال تک پہنچائے گا کہ ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک ( تنہا ) جائے گا اور ( راستے ) میں اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف تک نہ ہو گا۔ بیان نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا کہ ”سوائے بھیڑیئے کے کہ اس سے اپنی بکریوں کے معاملہ میں اسے ڈر ہو گا۔“
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا بيان، واسماعيل، قالا سمعنا قيسا، يقول سمعت خبابا، يقول اتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو متوسد بردة، وهو في ظل الكعبة، وقد لقينا من المشركين شدة فقلت الا تدعو الله فقعد وهو محمر وجهه فقال " لقد كان من قبلكم ليمشط بمشاط الحديد ما دون عظامه من لحم او عصب ما يصرفه ذلك عن دينه، ويوضع المنشار على مفرق راسه، فيشق باثنين، ما يصرفه ذلك عن دينه، وليتمن الله هذا الامر حتى يسير الراكب من صنعاء الى حضرموت ما يخاف الا الله ". زاد بيان والذيب على غنمه
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی اور سجدہ کیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام لوگوں نے سجدہ کیا صرف ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ اپنے ہاتھ میں اس نے کنکریاں اٹھا کر اس پر اپنا سر رکھ دیا اور کہنے لگا کہ میرے لیے بس اتنا ہی کافی ہے۔ میں نے پھر اسے دیکھا کہ کفر کی حالت میں وہ قتل کیا گیا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عبد الله رضى الله عنه قال قرا النبي صلى الله عليه وسلم النجم، فسجد فما بقي احد الا سجد، الا رجل رايته اخذ كفا من حصا فرفعه فسجد عليه وقال هذا يكفيني. فلقد رايته بعد قتل كافرا بالله
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز پڑھتے ہوئے ) سجدہ کی حالت میں تھے، قریش کے کچھ لوگ وہیں اردگرد موجود تھے۔ اتنے میں عقبہ بن ابی معیط اونٹ کی اوجھڑی بچہ دان لایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ مبارک پر اسے ڈال دیا۔ اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر نہیں اٹھایا پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور گندگی کو پیٹھ مبارک سے ہٹایا اور جس نے ایسا کیا تھا اسے بددعا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ! قریش کی اس جماعت کو پکڑ لے۔ ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف یا ( امیہ کے بجائے آپ نے بددعا ) ابی بن خلف ( کے حق میں فرمائی ) شبہ راوی حدیث شعبہ کو تھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے دیکھا کہ بدر کی لڑائی میں یہ سب لوگ قتل کر دئیے گئے اور ایک کنویں میں انہیں ڈال دیا گیا تھا سوائے امیہ یا ابی کے کہ اس کا ہر ایک جوڑ الگ الگ ہو گیا تھا اس لیے کنویں میں نہیں ڈالا جا سکا۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله رضى الله عنه قال بينا النبي صلى الله عليه وسلم ساجد وحوله ناس من قريش جاء عقبة بن ابي معيط بسلى جزور، فقذفه على ظهر النبي صلى الله عليه وسلم، فلم يرفع راسه فجاءت فاطمة عليها السلام فاخذته من ظهره، ودعت على من صنع فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اللهم عليك الملا من قريش ابا جهل بن هشام، وعتبة بن ربيعة، وشيبة بن ربيعة، وامية بن خلف او ابى بن خلف ". شعبة الشاك فرايتهم قتلوا يوم بدر، فالقوا في بير غير امية او ابى تقطعت اوصاله، فلم يلق في البير
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، کہا مجھ سے سعید بن جبیر نے بیان کیا یا (منصور نے) اس طرح بیان کیا کہ مجھ سے حکم نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان دونوں آیتوں کے متعلق پوچھو کہ ان میں مطابقت کس طرح پیدا کی جائے ( ایک آیت «ولا تقتلوا النفس التي حرم الله» اور دوسری آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے میں نے پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ جب سورۃ الفرقان کی آیت نازل ہوئی تو مشرکین مکہ نے کہا ہم نے تو ان جانوں کا بھی خون کیا ہے جن کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا تھا ہم اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کی عبادت بھی کرتے رہے ہیں اور بدکاریوں کا بھی ہم نے ارتکاب کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی «إلا من تاب وآمن» ”وہ لوگ اس حکم سے الگ ہیں جو توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں“ تو یہ آیت ان کے حق میں نہیں ہے لیکن سورۃ النساء کی آیت اس شخص کے بارے میں ہے جو اسلام اور شرائع اسلام کے احکام جان کر بھی کسی کو قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے۔ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس ارشاد کا ذکر مجاہد سے کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ لوگ اس حکم سے الگ ہیں جو توبہ کر لیں۔)
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، حدثني سعيد بن جبير، او قال حدثني الحكم، عن سعيد بن جبير، قال امرني عبد الرحمن بن ابزى قال سل ابن عباس عن هاتين الايتين، ما امرهما {ولا تقتلوا النفس التي حرم الله } {ومن يقتل مومنا متعمدا} فسالت ابن عباس فقال لما انزلت التي في الفرقان قال مشركو اهل مكة فقد قتلنا النفس التي حرم الله، ودعونا مع الله الها اخر، وقد اتينا الفواحش. فانزل الله {الا من تاب وامن} الاية فهذه لاوليك واما التي في النساء الرجل اذا عرف الاسلام وشرايعه، ثم قتل فجزاوه جهنم. فذكرته لمجاهد فقال الا من ندم
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا قطن ابو الهيثم، حدثنا ابو يزيد المدني، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال ان اول قسامة كانت في الجاهلية لفينا بني هاشم، كان رجل من بني هاشم استاجره رجل من قريش من فخذ اخرى، فانطلق معه في ابله، فمر رجل به من بني هاشم قد انقطعت عروة جوالقه فقال اغثني بعقال اشد به عروة جوالقي، لا تنفر الابل. فاعطاه عقالا، فشد به عروة جوالقه، فلما نزلوا عقلت الابل الا بعيرا واحدا، فقال الذي استاجره ما شان هذا البعير لم يعقل من بين الابل قال ليس له عقال. قال فاين عقاله قال فحذفه بعصا كان فيها اجله، فمر به رجل من اهل اليمن، فقال اتشهد الموسم قال ما اشهد، وربما شهدته. قال هل انت مبلغ عني رسالة مرة من الدهر قال نعم. قال فكنت اذا انت شهدت الموسم فناد يا ال قريش. فاذا اجابوك، فناد يا ال بني هاشم. فان اجابوك فسل عن ابي طالب، فاخبره ان فلانا قتلني في عقال، ومات المستاجر، فلما قدم الذي استاجره اتاه ابو طالب فقال ما فعل صاحبنا قال مرض، فاحسنت القيام عليه، فوليت دفنه. قال قد كان اهل ذاك منك. فمكث حينا، ثم ان الرجل الذي اوصى اليه ان يبلغ عنه وافى الموسم فقال يا ال قريش. قالوا هذه قريش. قال يا ال بني هاشم. قالوا هذه بنو هاشم. قال اين ابو طالب قالوا هذا ابو طالب. قال امرني فلان ان ابلغك رسالة ان فلانا قتله في عقال. فاتاه ابو طالب فقال له اختر منا احدى ثلاث، ان شيت ان تودي ماية من الابل، فانك قتلت صاحبنا، وان شيت حلف خمسون من قومك انك لم تقتله، فان ابيت قتلناك به فاتى قومه، فقالوا نحلف. فاتته امراة من بني هاشم كانت تحت رجل منهم قد ولدت له. فقالت يا ابا طالب احب ان تجيز ابني هذا برجل من الخمسين ولا تصبر يمينه حيث تصبر الايمان. ففعل فاتاه رجل منهم فقال يا ابا طالب، اردت خمسين رجلا ان يحلفوا مكان ماية من الابل، يصيب كل رجل بعيران، هذان بعيران فاقبلهما عني ولا تصبر يميني حيث تصبر الايمان. فقبلهما، وجاء ثمانية واربعون فحلفوا. قال ابن عباس فوالذي نفسي بيده، ما حال الحول ومن الثمانية واربعين عين تطرف