Loading...

Loading...
کتب
۱۲۷ احادیث
وقال عبد الله بن سالم عن الزبيدي، قال عبد الرحمن بن القاسم اخبرني القاسم، ان عايشة رضى الله عنها قالت شخص بصر النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال " في الرفيق الاعلى ". ثلاثا، وقص الحديث، قالت فما كانت من خطبتهما من خطبة الا نفع الله بها، لقد خوف عمر الناس وان فيهم لنفاقا، فردهم الله بذلك. ثم لقد بصر ابو بكر الناس الهدى وعرفهم الحق الذي عليهم وخرجوا به يتلون {وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل} الى {الشاكرين}
وقال عبد الله بن سالم عن الزبيدي، قال عبد الرحمن بن القاسم اخبرني القاسم، ان عايشة رضى الله عنها قالت شخص بصر النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال " في الرفيق الاعلى ". ثلاثا، وقص الحديث، قالت فما كانت من خطبتهما من خطبة الا نفع الله بها، لقد خوف عمر الناس وان فيهم لنفاقا، فردهم الله بذلك. ثم لقد بصر ابو بكر الناس الهدى وعرفهم الحق الذي عليهم وخرجوا به يتلون {وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل} الى {الشاكرين}
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا ہم سے جامع بن ابی راشد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابویعلیٰ نے بیان کیا، ان سے محمد بن حنفیہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد ( علی رضی اللہ عنہ ) سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل صحابی کون ہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ میں نے پوچھا پھر کون ہیں؟ انہوں نے بتلایا، اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ مجھے اس کا اندیشہ ہوا کہ اب ( پھر میں نے پوچھا کہ اس کے بعد؟ ) کہہ دیں گے کہ عثمان رضی اللہ عنہ اس لیے میں نے خود کہا، اس کے بعد آپ ہیں؟ یہ سن کر وہ بولے کہ میں تو صرف عام مسلمانوں کی جماعت کا ایک شخص ہوں۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، حدثنا جامع بن ابي راشد، حدثنا ابو يعلى، عن محمد ابن الحنفية، قال قلت لابي اى الناس خير بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ابو بكر. قلت ثم من قال ثم عمر. وخشيت ان يقول عثمان قلت ثم انت قال ما انا الا رجل من المسلمين
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے مالک نے، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جب ہم مقام بیداء یا مقام ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ایک ہار ٹوٹ کر گر گیا، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش کے لیے وہاں ٹھہر گئے اور صحابہ بھی آپ کے ساتھ ٹھہرے لیکن نہ اس جگہ پانی تھا اور نہ ان کے پاس پانی تھا۔ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگے کہ آپ ملاحظہ نہیں فرماتے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہیں روک لیا ہے۔ اتنے صحابہ آپ کے ساتھ ہیں۔ نہ تو یہاں پانی ہے اور نہ لوگ اپنے ساتھ ( پانی ) لیے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنا سر مبارک میری ران پر رکھے ہوئے سو رہے تھے۔ وہ کہنے لگے، تمہاری وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور سب لوگوں کو رکنا پڑا۔ اب نہ یہاں کہیں پانی ہے اور نہ لوگوں کے پاس پانی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ پر غصہ کیا اور جو کچھ اللہ کو منظور تھا انہوں نے کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے۔ میں ضرور تڑپ اٹھتی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے۔ جب صبح ہوئی تو پانی نہیں تھا اور اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کا حکم نازل فرمایا اور سب نے تیمم کیا۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے آل ابوبکر! یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم نے جب اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہار اسی کے نیچے ہمیں ملا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها انها قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض اسفاره، حتى اذا كنا بالبيداء او بذات الجيش انقطع عقد لي، فاقام رسول الله صلى الله عليه وسلم على التماسه، واقام الناس معه، وليسوا على ماء وليس معهم ماء، فاتى الناس ابا بكر، فقالوا الا ترى ما صنعت عايشة اقامت برسول الله صلى الله عليه وسلم وبالناس معه، وليسوا على ماء وليس معهم ماء، فجاء ابو بكر ورسول الله صلى الله عليه وسلم واضع راسه على فخذي قد نام، فقال حبست رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس، وليسوا على ماء وليس معهم ماء قالت فعاتبني، وقال ما شاء الله ان يقول، وجعل يطعنني بيده في خاصرتي، فلا يمنعني من التحرك الا مكان رسول الله صلى الله عليه وسلم على فخذي، فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اصبح على غير ماء فانزل الله اية التيمم، فتيمموا، فقال اسيد بن الحضير ما هي باول بركتكم يا ال ابي بكر. فقالت عايشة فبعثنا البعير الذي كنت عليه فوجدنا العقد تحته
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا میں نے ذکوان سے سنا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے اصحاب کو برا بھلا مت کہو۔ اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کر ڈالے تو ان کے ایک مد غلہ کے برابر بھی نہیں ہو سکتا اور نہ ان کے آدھے مد کے برابر۔“ شعبہ کے ساتھ اس حدیث کو جریر، عبداللہ بن داود، ابومعاویہ اور محاضر نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شعبة، عن الاعمش، قال سمعت ذكوان، يحدث عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تسبوا اصحابي، فلو ان احدكم انفق مثل احد ذهبا ما بلغ مد احدهم ولا نصيفه ". تابعه جرير وعبد الله بن داود وابو معاوية ومحاضر عن الاعمش
ہم سے ابوالحسن محمد بن مسکین نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے شریک بن ابی نمر نے، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا، کہا مجھ کو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے ایک دن اپنے گھر میں وضو کیا اور اس ارادہ سے نکلے کہ آج دن بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر وہ مسجد نبوی میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا تو وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو تشریف لے جا چکے ہیں اور آپ اس طرف تشریف لے گئے ہیں۔ چنانچہ میں آپ کے متعلق پوچھتا ہوا آپ کے پیچھے پیچھے نکلا اور آخر میں نے دیکھا کہ آپ ( قباء کے قریب ) بئراریس میں داخل ہو رہے ہیں، میں دروازے پر بیٹھ گیا اور اس کا دروازہ کھجور کی شاخوں سے بنا ہوا تھا۔ جب آپ قضائے حاجت کر چکے اور آپ نے وضو بھی کر لیا تو میں آپ کے پاس گیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ بئراریس ( اس باغ کے کنویں ) کی منڈیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اپنی پنڈلیاں آپ نے کھول رکھی ہیں اور کنویں میں پاؤں لٹکائے ہوئے ہیں۔ میں نے آپ کو سلام کیا اور پھر واپس آ کر باغ کے دروازے پر بیٹھ گیا۔ میں نے سوچا کہ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دربان رہوں گا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور دروازہ کھولنا چاہا تو میں نے پوچھا کہ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ابوبکر! میں نے کہا تھوڑی دیر ٹھہر جائیے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ابوبکر دروازے پر موجود ہیں اور اندر آنے کی اجازت آپ سے چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی۔ میں دروازہ پر آیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے میں نے کہا کہ اندر تشریف لے جائیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی بشارت دی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے اور اسی کنویں کی منڈیر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داہنی طرف بیٹھ گئے اور اپنے دونوں پاؤں کنویں میں لٹکا لیے۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لٹکائے ہوئے تھے اور اپنی پنڈلیوں کو بھی کھول لیا تھا۔ پھر میں واپس آ کر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ میں آتے وقت اپنے بھائی کو وضو کرتا ہوا چھوڑ آیا تھا۔ وہ میرے ساتھ آنے والے تھے۔ میں نے اپنے دل میں کہا، کاش اللہ تعالیٰ فلاں کو خبر دے دیتا۔ ان کی مراد اپنے بھائی سے تھی اور انہیں یہاں پہنچا دیتا۔ اتنے میں کسی صاحب نے دروازہ پر دستک دی میں نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ کہا کہ عمر بن خطاب۔ میں نے کہا کہ تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر جائیے، چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کے بعد عرض کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہیں اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی پہنچا دو۔ میں واپس آیا اور کہا کہ اندر تشریف لے جائیے اور آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہے۔ وہ بھی داخل ہوئے اور آپ کے ساتھ اسی منڈیر پر بائیں طرف بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں کنویں میں لٹکا لیے۔ میں پھر دروازے پر آ کر بیٹھ گیا اور سوچتا رہا کہ اگر اللہ تعالیٰ فلاں ( ان کے بھائی ) کے ساتھ خیر چاہے گا تو اسے یہاں پہنچا دے گا، اتنے میں ایک اور صاحب آئے اور دروازے پر دستک دی، میں نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ بولے کہ عثمان بن عفان، میں نے کہا تھوڑی دیر کے لیے رک جائیے، میں آپ کے پاس آیا اور میں نے آپ کو ان کی اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور ایک مصیبت پر جو انہیں پہنچے گی جنت کی بشارت پہنچا دو۔ میں دروازے پر آیا اور میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے جائیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی بشارت دی ہے، ایک مصیبت پر جو آپ کو پہنچے گی۔ وہ جب داخل ہوئے تو دیکھا چبوترہ پر جگہ نہیں ہے اس لیے وہ دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے۔ شریک نے بیان کیا کہ سعید بن مسیب نے کہا میں نے اس سے ان کی قبروں کی تاویل لی ہے ( کہ اسی طرح بنیں گی ) ۔
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر احد پہاڑ پر چڑھے تو احد کانپ اٹھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”احد! قرار پکڑ کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔“
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن سعيد، عن قتادة، ان انس بن مالك رضى الله عنه حدثهم ان النبي صلى الله عليه وسلم صعد احدا وابو بكر وعمر وعثمان فرجف بهم فقال " اثبت احد فانما عليك نبي وصديق وشهيدان
مجھ سے ابوعبداللہ احمد بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے صخر نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک کنویں پر ( خواب میں ) کھڑا اس سے پانی کھینچ رہا تھا کہ میرے پاس ابوبکر اور عمر بھی پہنچ گئے۔ پھر ابوبکر نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول کھینچے، ان کے کھینچنے میں ضعف تھا اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے گا۔ پھر ابوبکر کے ہاتھ سے ڈول عمر نے لے لیا اور ان کے ہاتھ میں پہنچتے ہی وہ ایک بہت بڑے ڈول کی شکل میں ہو گیا۔ میں نے کوئی ہمت والا اور بہادر انسان نہیں دیکھا جو اتنی حسن تدبیر اور مضبوط قوت کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہو، چنانچہ انہوں نے اتنا پانی کھینچا کہ لوگوں نے اونٹوں کے پانی پلانے کی جگہیں بھر لیں، وہب نے بیان کیا کہ «العطن» اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ کو کہتے ہیں، عرب لوگ بولتے ہیں، اونٹ سیراب ہوئے کہ ( وہیں ) بیٹھ گئے۔
حدثني احمد بن سعيد ابو عبد الله، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا صخر، عن نافع، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بينما انا على بير انزع منها جاءني ابو بكر وعمر، فاخذ ابو بكر الدلو، فنزع ذنوبا او ذنوبين وفي نزعه ضعف، والله يغفر له، ثم اخذها ابن الخطاب من يد ابي بكر، فاستحالت في يده غربا، فلم ار عبقريا من الناس يفري فريه، فنزع حتى ضرب الناس بعطن ". قال وهب العطن مبرك الابل، يقول حتى رويت الابل فاناخت
ہم سے ولید بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن سعید بن ابی الحسین مکی نے ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے دعائیں کر رہے تھے، اس وقت ان کا جنازہ چارپائی پر رکھا ہوا تھا، اتنے میں ایک صاحب نے میرے پیچھے سے آ کر میرے شانوں پر اپنی کہنیاں رکھ دیں اور ( عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے ) کہنے لگے اللہ آپ پر رحم کرے۔ مجھے تو یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ ( دفن ) کرائے گا، میں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے سنا کرتا تھا کہ ”میں اور ابوبکر اور عمر تھے“، ”میں نے اور ابوبکر اور عمر نے یہ کام کیا“، ”میں اور ابوبکر اور عمر گئے“ اس لیے مجھے یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان ہی دونوں بزرگوں کے ساتھ رکھے گا۔ میں نے جو مڑ کر دیکھا تو وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔
حدثني الوليد بن صالح، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا عمر بن سعيد بن ابي الحسين المكي، عن ابن ابي مليكة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال اني لواقف في قوم، فدعوا الله لعمر بن الخطاب وقد وضع على سريره، اذا رجل من خلفي قد وضع مرفقه على منكبي، يقول رحمك الله، ان كنت لارجو ان يجعلك الله مع صاحبيك، لاني كثيرا مما كنت اسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول كنت وابو بكر وعمر، وفعلت وابو بكر وعمر، وانطلقت وابو بكر وعمر. فان كنت لارجو ان يجعلك الله معهما. فالتفت فاذا هو علي بن ابي طالب
مجھ سے محمد بن یزید کوفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے، ان سے یحییٰ ابن ابی کثیر نے، ان سے محمد بن ابراہیم نے اور ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مشرکین مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی تھی تو انہوں نے بتلایا کہ میں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اس بدبخت نے اپنی چادر آپ کی گردن مبارک میں ڈال کر کھینچی جس سے آپ کا گلا بڑی سختی کے ساتھ پھنس گیا۔ اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور اس بدبخت کو دفع کیا اور کہا کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمہارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے۔
حدثني محمد بن يزيد الكوفي، حدثنا الوليد، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن محمد بن ابراهيم، عن عروة بن الزبير، قال سالت عبد الله بن عمرو عن اشد، ما صنع المشركون برسول الله صلى الله عليه وسلم قال رايت عقبة بن ابي معيط جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلي، فوضع رداءه في عنقه فخنقه به خنقا شديدا، فجاء ابو بكر حتى دفعه عنه فقال اتقتلون رجلا ان يقول ربي الله. وقد جاءكم بالبينات من ربكم
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز ماجشون نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ( خواب میں ) جنت میں داخل ہوا تو وہاں میں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی رمیصاء کو دیکھا اور میں نے قدموں کی آواز سنی تو میں نے پوچھا یہ کون صاحب ہیں؟ بتایا گیا کہ یہ بلال رضی اللہ عنہ ہیں اور میں نے ایک محل دیکھا اس کے سامنے ایک عورت تھی، میں نے پوچھا یہ کس کا محل ہے؟ تو بتایا کہ یہ عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ میرے دل میں آیا کہ اندر داخل ہو کر اسے دیکھوں، لیکن مجھے عمر کی غیرت یاد آئی ( اور اس لیے اندر داخل نہیں ہوا ) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یا رسول اللہ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا عبد العزيز الماجشون، حدثنا محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " رايتني دخلت الجنة، فاذا انا بالرميصاء امراة ابي طلحة وسمعت خشفة، فقلت من هذا فقال هذا بلال. ورايت قصرا بفنايه جارية، فقلت لمن هذا فقال لعمر. فاردت ان ادخله فانظر اليه، فذكرت غيرتك ". فقال عمر بامي وابي يا رسول الله اعليك اغار
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔ پھر مجھے ان کی غیرت و حمیت یاد آئی اور میں وہیں سے لوٹ آیا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ رو دیئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ پر بھی غیرت کروں گا؟
حدثنا سعيد بن ابي مريم، اخبرنا الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ قال " بينا انا نايم رايتني في الجنة، فاذا امراة تتوضا الى جانب قصر، فقلت لمن هذا القصر قالوا لعمر فذكرت غيرته فوليت مدبرا ". فبكى وقال اعليك اغار يا رسول الله
مجھ سے ابوجعفر محمد بن صلت کوفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو حمزہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دودھ پیا، اتنا کہ میں دودھ کی سیرابی دیکھنے لگا جو میرے ناخن یا ناخنوں پر بہ رہی ہے، پھر میں نے پیالہ عمر کو دے دیا۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی تعبیر علم ہے۔
حدثني محمد بن الصلت ابو جعفر الكوفي، حدثنا ابن المبارك، عن يونس، عن الزهري، قال اخبرني حمزة، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينا انا نايم شربت يعني اللبن حتى انظر الى الري يجري في ظفري او في اظفاري، ثم ناولت عمر ". فقالوا فما اولته قال " العلم
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوبکر بن سالم نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنویں سے ایک اچھا بڑا ڈول کھینچ رہا ہوں، جس پر ”لکڑی کا چرخ“ لگا ہوا ہے، پھر ابوبکر آئے اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچے مگر کمزوری کے ساتھ اور اللہ ان کی مغفرت کرے۔ پھر عمر آئے اور ان کے ہاتھ میں وہ ڈول ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر گیا۔ میں نے ان جیسا مضبوط اور باعظمت شخص نہیں دیکھا جو اتنی مضبوطی کے ساتھ کام کر سکتا ہو۔ انہوں نے اتنا کھینچا کہ لوگ سیراب ہو گئے اور اپنے اونٹوں کو پلا کر ان کے ٹھکانوں پر لے گئے۔ ابن جبیر نے کہا کہ «عبقري» کا معنی عمدہ اور «زرابي» اور «عبقري» سردار کو بھی کہتے ہیں ( حدیث میں «عبقري» سے یہی مراد ہے ) یحییٰ بن زیاد فری نے کہا، «زرابي» ان بچھونوں کو کہتے ہیں جن کے حاشیے باریک، پھیلے ہوئے بہت کثرت سے ہوتے ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا عبيد الله، قال حدثني ابو بكر بن سالم، عن سالم، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اريت في المنام اني انزع بدلو بكرة على قليب، فجاء ابو بكر فنزع ذنوبا او ذنوبين نزعا ضعيفا، والله يغفر له، ثم جاء عمر بن الخطاب فاستحالت غربا، فلم ار عبقريا يفري فريه حتى روي الناس وضربوا بعطن ". قال ابن جبير العبقري عتاق الزرابي. وقال يحيى الزرابي الطنافس لها خمل رقيق {مبثوثة} كثيرة
ہم سے علی بن عبداللہ بن مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھ کو عبدالحمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں محمد بن سعد بن ابی وقاص نے خبر دی اور ان سے ان کے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا (دوسری سند) اور مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید نے، ان سے محمد بن سعد بن ابی وقاص نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ اس وقت آپ کے پاس قریش کی چند عورتیں ( امہات المؤمنین میں سے ) بیٹھی باتیں کر رہی تھیں اور آپ کی آواز پر اپنی آواز اونچی کرتے ہوئے آپ سے نان و نفقہ میں زیادتی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ جوں ہی عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو وہ تمام کھڑی ہو کر پردے کے پیچھے جلدی سے بھاگ کھڑی ہوئیں۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی اور وہ داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ خوش رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان عورتوں پر ہنسی آ رہی ہے جو ابھی میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، لیکن تمہاری آواز سنتے ہی سب پردے کے پیچھے بھاگ گئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ڈرنا تو انہیں آپ سے چاہیے تھا۔ پھر انہوں نے ( عورتوں سے ) کہا اے اپنی جانوں کی دشمنو! تم مجھ سے تو ڈرتی ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں، عورتوں نے کہا کہ ہاں، آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں آپ کہیں زیادہ سخت ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر شیطان تمہیں کسی راستے پر چلتا دیکھتا ہے تو اسے چھوڑ کر وہ کسی دوسرے راستے پر چل پڑتا ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثني ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، اخبرني عبد الحميد، ان محمد بن سعد، اخبره ان اباه قال ح حدثني عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد، عن محمد بن سعد بن ابي وقاص، عن ابيه، قال استاذن عمر بن الخطاب على رسول الله صلى الله عليه وسلم، وعنده نسوة من قريش يكلمنه ويستكثرنه، عالية اصواتهن على صوته فلما استاذن عمر بن الخطاب قمن فبادرن الحجاب فاذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل عمر ورسول الله صلى الله عليه وسلم يضحك، فقال عمر اضحك الله سنك يا رسول الله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " عجبت من هولاء اللاتي كن عندي فلما سمعن صوتك ابتدرن الحجاب ". فقال عمر فانت احق ان يهبن يا رسول الله. ثم قال عمر يا عدوات انفسهن، اتهبنني ولا تهبن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلن نعم، انت افظ واغلظ من رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايها يا ابن الخطاب والذي نفسي بيده ما لقيك الشيطان سالكا فجا قط الا سلك فجا غير فجك
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد پھر ہمیں ہمیشہ عزت حاصل رہی۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن اسماعيل، حدثنا قيس، قال قال عبد الله ما زلنا اعزة منذ اسلم عمر
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم سے عمر بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کو ( شہادت کے بعد ) ان کی چارپائی پر رکھا گیا تو تمام لوگوں نے نعش مبارک کو گھیر لیا اور ان کے لیے ( اللہ سے ) دعا اور مغفرت طلب کرنے لگے، نعش ابھی اٹھائی نہیں گئی تھی، میں بھی وہیں موجود تھا۔ اسی حالت میں اچانک ایک صاحب نے میرا شانہ پکڑ لیا، میں نے دیکھا تو وہ علی رضی اللہ عنہ تھے، پھر انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعا رحمت کی اور ( ان کی نعش کو مخاطب کر کے ) کہا: آپ نے اپنے بعد کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل کرتے ہوئے میں اللہ سے جا ملوں اور اللہ کی قسم! مجھے تو ( پہلے سے ) یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا۔ میرا یہ یقین اس وجہ سے تھا کہ میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے تھے کہ ”میں، ابوبکر اور عمر گئے۔ میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے۔ میں، ابوبکر اور عمر باہر آئے۔“
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، حدثنا عمر بن سعيد، عن ابن ابي مليكة، انه سمع ابن عباس، يقول وضع عمر على سريره، فتكنفه الناس يدعون ويصلون قبل ان يرفع، وانا فيهم، فلم يرعني الا رجل اخذ منكبي، فاذا علي فترحم على عمر، وقال ما خلفت احدا احب الى ان القى الله بمثل عمله منك، وايم الله، ان كنت لاظن ان يجعلك الله مع صاحبيك، وحسبت اني كنت كثيرا اسمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول ذهبت انا وابو بكر وعمر، ودخلت انا وابو بكر وعمر، وخرجت انا وابو بكر وعمر
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سواء اور کہمس بن منہال نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے تو آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے، پہاڑ لرزنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں سے اسے مارا اور فرمایا ”احد! ٹھہرا رہ کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہی تو ہیں۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، وقال، لي خليفة حدثنا محمد بن سواء، وكهمس بن المنهال، قالا حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال صعد النبي صلى الله عليه وسلم الى احد ومعه ابو بكر وعمر وعثمان فرجف بهم، فضربه برجله، قال " اثبت احد فما عليك الا نبي او صديق او شهيدان
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ کے بعض حالات پوچھے، جو میں نے انہیں بتا دیئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نے کسی شخص کو دین میں اتنی زیادہ کوشش کرنے والا اور اتنا زیادہ سخی نہیں دیکھا اور یہ خصائل عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر ختم ہو گئے۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال حدثني عمر، هو ابن محمد ان زيد بن اسلم، حدثه عن ابيه، قال سالني ابن عمر عن بعض، شانه يعني عمر فاخبرته. فقال، ما رايت احدا قط بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم من حين قبض كان اجد واجود حتى انتهى من عمر بن الخطاب
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب ( ذوالخویصرہ یا ابوموسیٰ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے قیامت کے لیے تیاری کیا کی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کچھ بھی نہیں، سوا اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہارا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہو گا جن سے تمہیں محبت ہے۔“ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں کبھی اتنی خوشی کسی بات سے بھی نہیں ہوئی جتنی آپ کی یہ حدیث سن کر ہوئی کہ ”تمہارا حشر انہیں کے ساتھ ہو گا جن سے تمہیں محبت ہے۔“ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتا ہوں اور ان سے اپنی اس محبت کی وجہ سے امید رکھتا ہوں کہ میرا حشر انہیں کے ساتھ ہو گا، اگرچہ میں ان جیسے عمل نہ کر سکا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس رضى الله عنه ان رجلا، سال النبي صلى الله عليه وسلم عن الساعة، فقال متى الساعة قال " وماذا اعددت لها ". قال لا شىء الا اني احب الله ورسوله صلى الله عليه وسلم. فقال " انت مع من احببت ". قال انس فما فرحنا بشىء فرحنا بقول النبي صلى الله عليه وسلم " انت مع من احببت ". قال انس فانا احب النبي صلى الله عليه وسلم وابا بكر وعمر، وارجو ان اكون معهم بحبي اياهم، وان لم اعمل بمثل اعمالهم
حدثنا محمد بن مسكين ابو الحسن، حدثنا يحيى بن حسان، حدثنا سليمان، عن شريك بن ابي نمر، عن سعيد بن المسيب، قال اخبرني ابو موسى الاشعري، انه توضا في بيته ثم خرج، فقلت لالزمن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولاكونن معه يومي هذا. قال فجاء المسجد، فسال عن النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا خرج ووجه ها هنا، فخرجت على اثره اسال عنه، حتى دخل بير اريس، فجلست عند الباب، وبابها من جريد حتى قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم حاجته، فتوضا فقمت اليه، فاذا هو جالس على بير اريس، وتوسط قفها، وكشف عن ساقيه ودلاهما في البير، فسلمت عليه ثم انصرفت، فجلست عند الباب، فقلت لاكونن بواب رسول الله صلى الله عليه وسلم اليوم، فجاء ابو بكر فدفع الباب. فقلت من هذا فقال ابو بكر. فقلت على رسلك. ثم ذهبت فقلت يا رسول الله هذا ابو بكر يستاذن. فقال " ايذن له وبشره بالجنة ". فاقبلت حتى قلت لابي بكر ادخل، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يبشرك بالجنة. فدخل ابو بكر فجلس عن يمين رسول الله صلى الله عليه وسلم معه في القف، ودلى رجليه في البير، كما صنع النبي صلى الله عليه وسلم، وكشف عن ساقيه، ثم رجعت فجلست وقد تركت اخي يتوضا ويلحقني، فقلت ان يرد الله بفلان خيرا يريد اخاه يات به. فاذا انسان يحرك الباب. فقلت من هذا فقال عمر بن الخطاب. فقلت على رسلك. ثم جيت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه، فقلت هذا عمر بن الخطاب يستاذن. فقال " ايذن له وبشره بالجنة ". فجيت فقلت ادخل وبشرك رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجنة. فدخل، فجلس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في القف عن يساره، ودلى رجليه في البير، ثم رجعت فجلست، فقلت ان يرد الله بفلان خيرا يات به. فجاء انسان يحرك الباب، فقلت من هذا فقال عثمان بن عفان. فقلت على رسلك. فجيت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته. فقال " ايذن له وبشره بالجنة على بلوى تصيبه " فجيته فقلت له ادخل وبشرك رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجنة على بلوى تصيبك. فدخل فوجد القف قد ملي، فجلس وجاهه من الشق الاخر. قال شريك قال سعيد بن المسيب فاولتها قبورهم