Loading...

Loading...
کتب
۱۲۷ احادیث
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ اہل اسلام کی جماعتیں جہاد کریں گی تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی صحابی بھی ہے؟ وہ کہیں گے کہ ہاں ہیں۔ تب ان کی فتح ہو گی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ مسلمانوں کی جماعتیں جہاد کریں گی اور اس موقع پر یہ پوچھا جائے گا کہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کی صحبت اٹھانے والے ( تابعی ) بھی موجود ہیں؟ جواب ہو گا کہ ہاں ہیں اور ان کے ذریعہ فتح کی دعا مانگی جائے گی، اس کے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی جماعتیں جہاد کریں گی اور اس وقت سوال اٹھے گا کہ کیا یہاں کوئی بزرگ ایسے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے شاگردوں میں سے کسی بزرگ کی صحبت میں رہے ہوں؟ جواب ہو گا کہ ہاں ہیں، تو ان کے ذریعہ فتح کی دعا مانگی جائے گی پھر ان کی فتح ہو گی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، قال سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما يقول حدثنا ابو سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ياتي على الناس زمان فيغزو فيام من الناس، فيقولون فيكم من صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقولون نعم. فيفتح لهم. ثم ياتي على الناس زمان فيغزو فيام من الناس، فيقال هل فيكم من صاحب اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقولون نعم. فيفتح لهم، ثم ياتي على الناس زمان فيغزو فيام من الناس، فيقال هل فيكم من صاحب من صاحب اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقولون نعم. فيفتح لهم
مجھ سے اسحٰق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں ابوجمرہ نے، کہا میں نے زہدم بن مضرب سے سنا، کہا کہ میں نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔ پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جو بغیر کہے گواہی دینے کے لیے تیار ہو جایا کرے گی اور ان میں خیانت اور چوری اتنی عام ہو جائے گی کہ ان پر کسی قسم کا بھروسہ باقی نہیں رہے گا۔ اور نذریں مانیں گے لیکن انہیں پورا نہیں کریں گے ( حرام مال کھا کھا کر ) ان پر مٹاپا عام ہو جائے گا۔
حدثني اسحاق، حدثنا النضر، اخبرنا شعبة، عن ابي جمرة، سمعت زهدم بن مضرب، سمعت عمران بن حصين رضى الله عنهما يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير امتي قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ". قال عمران فلا ادري اذكر بعد قرنه قرنين او ثلاثا " ثم ان بعدكم قوما يشهدون ولا يستشهدون، ويخونون ولا يوتمنون، وينذرون ولا يفون، ويظهر فيهم السمن
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ بن قیس سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین زمانہ میرا ہے۔ پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے پھر ان لوگوں کا جو اس کے بعد آئیں گے۔ اس کے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی کہ گواہی دینے سے پہلے قسم ان کی زبان پر آ جایا کرے گی اور قسم کھانے سے پہلے گواہی ان کی زبان پر آ جایا کرے گی۔ ابراہیم نے بیان کیا کہ جب ہم چھوٹے تھے تو گواہی اور عہد ( کے الفاظ زبان پر لانے ) کی وجہ سے ہمارے بڑے بزرگ ہم کو مارا کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن عبيدة، عن عبد الله رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " خير الناس قرني، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم، ثم يجيء قوم تسبق شهادة احدهم يمينه ويمينه شهادته ". قال ابراهيم وكانوا يضربونا على الشهادة والعهد ونحن صغار
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( ان کے والد ) عازب رضی اللہ عنہ سے ایک پالان تیرہ درہم میں خریدا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عازب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ براء ( اپنے بیٹے ) سے کہو کہ وہ میرے گھر یہ پالان اٹھا کر پہنچا دیں اس پر عازب رضی اللہ عنہ نے کہا یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک آپ وہ واقعہ بیان نہ کریں کہ آپ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ سے ہجرت کرنے کے لیے ) کس طرح نکلے تھے حالانکہ مشرکین آپ دونوں کو تلاش بھی کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ سے نکلنے کے بعد ہم رات بھر چلتے رہے اور دن میں بھی سفر جاری رکھا۔ لیکن جب دوپہر ہو گئی تو میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی کہ کہیں کوئی سایہ نظر آ جائے اور ہم اس میں کچھ آرام کر سکیں۔ آخر ایک چٹان دکھائی دی اور میں نے اس کے پاس پہنچ کر دیکھا کہ سایہ ہے۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک فرش وہاں بچھا دیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ اب آرام فرمائیں۔ چنانچہ آپ لیٹ گئے۔ پھر میں چاروں طرف دیکھتا ہوا نکلا کہ کہیں لوگ ہماری تلاش میں نہ آئے ہوں۔ پھر مجھ کو بکریوں کا ایک چرواہا دکھائی دیا جو اپنی بکریاں ہانکتا ہوا اسی چٹان کی طرف آ رہا تھا۔ وہ بھی ہماری طرح سایہ کی تلاش میں تھا۔ میں نے بڑھ کر اس سے پوچھا کہ لڑکے تم کس کے غلام ہو۔ اس نے قریش کے ایک شخص کا نام لیا تو میں نے اسے پہچان لیا۔ پھر میں نے اس سے پوچھا: کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے۔ اس نے کہا جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا تم دودھ دوہ سکتے ہوں؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا اور اس نے اپنے ریوڑ کی ایک بکری باندھ دی۔ پھر میرے کہنے پر اس نے اس کے تھن کے غبار کو جھاڑا۔ اب میں نے کہا کہ اپنا ہاتھ بھی جھاڑ لے۔ اس نے یوں اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارا اور میرے لیے تھوڑا سا دودھ دوہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن میں نے پہلے ہی سے ساتھ لے لیا تھا اور اس کے منہ کو کپڑے سے بند کر دیا تھا ( اس میں ٹھنڈا پانی تھا ) پھر میں نے دودھ پر وہ پانی ( ٹھنڈا کرنے کے لیے ) ڈالا اتنا کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا تو اسے آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا۔ آپ بھی بیدار ہو چکے تھے۔ میں نے عرض کیا: دودھ پی لیجئے۔ آپ نے اتنا پیا کہ مجھے خوشی حاصل ہو گئی، پھر میں نے عرض کیا کہ اب کوچ کا وقت ہو گیا ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے، چلو۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے اور مکہ والے ہماری تلاش میں تھے لیکن سراقہ بن مالک بن جعشم کے سوا ہم کو کسی نے نہیں پایا، وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا، میں نے اسے دیکھتے ہی کہا کہ یا رسول اللہ! ہمارا پیچھا کرنے والا دشمن ہمارے قریب آ پہنچا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فکر نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے ثابت نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم غار ثور میں چھپے تھے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر مشرکین کے کسی آدمی نے اپنے قدموں پر نظر ڈالی تو وہ ضرور ہم کو دیکھ لے گا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے ابوبکر! ان دو کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔“
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا همام، عن ثابت، عن انس، عن ابي بكر رضى الله عنه قال قلت للنبي صلى الله عليه وسلم وانا في الغار لو ان احدهم نظر تحت قدميه لابصرنا. فقال " ما ظنك يا ابا بكر باثنين الله ثالثهما
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سالم ابوالنضر نے بیان کیا، ان سے بسر بن سعید نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا میں اور جو کچھ اللہ کے پاس آخرت میں ہے ان دونوں میں سے کسی ایک کا اختیار دیا تو اس بندے نے وہ اختیار کر لیا جو اللہ کے پاس تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ ابوسعید کہتے ہیں کہ ہم کو ان کے رونے پر حیرت ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اختیار دیا گیا تھا، لیکن بات یہ تھی کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ بندے تھے جنہیں اختیار دیا گیا تھا اور ( واقعتاً ) ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر ابوبکر کا سب سے زیادہ احسان ہے اور اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو جانی دوست بنا سکتا تو ابوبکر کو بناتا۔ لیکن اسلام کا بھائی چارہ اور اسلام کی محبت ان سے کافی ہے۔ دیکھو مسجد کی طرف تمام دروازے ( جو صحابہ کے گھروں کی طرف کھلتے تھے ) سب بند کر دیئے جائیں۔ صرف ابوبکر کا دروازہ رہنے دو۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا ابو عامر، حدثنا فليح، قال حدثني سالم ابو النضر، عن بسر بن سعيد، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه قال خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس وقال " ان الله خير عبدا بين الدنيا وبين ما عنده فاختار ذلك العبد ما عند الله ". قال فبكى ابو بكر، فعجبنا لبكايه ان يخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عبد خير. فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم هو المخير وكان ابو بكر اعلمنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من امن الناس على في صحبته وماله ابا بكر، ولو كنت متخذا خليلا غير ربي لاتخذت ابا بكر، ولكن اخوة الاسلام ومودته، لا يبقين في المسجد باب الا سد، الا باب ابي بكر
ہم سے عبدالعزیزبن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ہی میں جب ہمیں صحابہ کے درمیان انتخاب کے لیے کہا جاتا تو سب میں افضل اور بہتر ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قرار دیتے، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا سليمان، عن يحيى بن سعيد، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كنا نخير بين الناس في زمن النبي صلى الله عليه وسلم فنخير ابا بكر، ثم عمر بن الخطاب، ثم عثمان بن عفان رضى الله عنهم
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میں اپنی امت کے کسی فرد کو اپنا جانی دوست بنا سکتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن وہ میرے دینی بھائی اور میرے ساتھی ہیں۔“
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا وهيب، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ولو كنت متخذا من امتي خليلا لاتخذت، ابا بكر ولكن اخي وصاحبي
ہم سے معلیٰ بن اسد اور موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے ( یہی روایت ) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو جانی دوست بنا سکتا تو ابوبکر کو بناتا۔ لیکن اسلام کا بھائی چارہ کیا کم ہے۔ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالوہاب نے اور ان سے ایوب نے ایسی ہی حدیث بیان کی۔
حدثنا معلى، وموسى، قالا حدثنا وهيب، عن ايوب، وقال، " لو كنت متخذا خليلا لاتخذته خليلا، ولكن اخوة الاسلام افضل ". حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الوهاب، عن ايوب، مثله
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم کو حماد بن زید نے خبر دی، انہیں ایوب نے، ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ کوفہ والوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو دادا (کی میراث کے سلسلے میں) سوال لکھا تو آپ نے انہیں جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر اس امت میں کسی کو میں اپنا جانی دوست بنا سکتا تو ابوبکر کو بناتا۔ ( وہی ) ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے کہ دادا، باپ کی طرح ہے ( یعنی جب میت کا باپ زندہ نہ ہو تو باپ کا حصہ دادا کی طرف لوٹ جائے گا۔ یعنی باپ کی جگہ دادا وارث ہو گا ) ۔
حدثنا سليمان بن حرب، اخبرنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن عبد الله بن ابي مليكة، قال كتب اهل الكوفة الى ابن الزبير في الجد. فقال اما الذي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو كنت متخذا من هذه الامة خليلا لاتخذته ". انزله ابا يعني ابا بكر
ہم سے حمیدی اور محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر آنا۔ اس نے کہا: اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو؟ گویا وہ وفات کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم مجھے نہ پا سکو تو ابوبکر کے پاس چلی آنا۔
حدثنا الحميدي، ومحمد بن عبد الله، قالا حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، قال اتت امراة النبي صلى الله عليه وسلم فامرها ان ترجع اليه. قالت ارايت ان جيت ولم اجدك كانها تقول الموت. قال عليه السلام " ان لم تجديني فاتي ابا بكر
ہم سے احمد بن ابی طیب نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی مجالد نے بیان کیا، ان سے بیان بن بشر نے کہا، ان سے وبرہ بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ہمام نے بیان کیا کہ میں نے عمار رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھا ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( اسلام لانے والوں میں صرف ) پانچ غلام، دو عورتوں اور ابوبکر رضی اللہ عنہم کے سوا اور کوئی نہ تھا۔
حدثني احمد بن ابي الطيب، حدثنا اسماعيل بن مجالد، حدثنا بيان بن بشر، عن وبرة بن عبد الرحمن، عن همام، قال سمعت عمارا، يقول رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وما معه الا خمسة اعبد وامراتان وابو بكر
مجھ سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے صدقہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے زید بن واقد نے بیان کیا، ان سے بسر بن عبیداللہ نے، ان سے عائذ اللہ ابوادریس نے اور ان سے ابودرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کا کنارہ پکڑے ہوئے، گھٹنا ظاہر کئے ہوئے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے تمہارے دوست کسی سے لڑ کر آئے ہیں۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حاضر ہو کر سلام کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے اور عمر بن خطاب کے درمیان کچھ تکرار ہو گئی تھی اور اس سلسلے میں، میں نے جلدی میں ان کو سخت لفظ کہہ دیئے لیکن بعد میں مجھے سخت ندامت ہوئی تو میں نے ان سے معافی چاہی، اب وہ مجھے معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسی لیے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوبکر! تمہیں اللہ معاف کرے۔ تین مرتبہ آپ نے یہ جملہ ارشاد فرمایا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی ندامت ہوئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے اور پوچھا کیا ابوبکر گھر پر موجود ہیں؟ معلوم ہوا کہ نہیں تو آپ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک غصہ سے بدل گیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ڈر گئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عرض کرنے لگے، یا رسول اللہ! اللہ کی قسم زیادتی میری ہی طرف سے تھی۔ دو مرتبہ یہ جملہ کہا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا تھا۔ اور تم لوگوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تم جھوٹ بولتے ہو لیکن ابوبکر نے کہا تھا کہ آپ سچے ہیں اور اپنی جان و مال کے ذریعہ انہوں نے میری مدد کی تھی تو کیا تم لوگ میرے دوست کو ستانا چھوڑتے ہو یا نہیں؟ آپ نے دو دفعہ یہی فرمایا: آپ کے یہ فرمانے کے بعد پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کسی نے نہیں ستایا۔
حدثني هشام بن عمار، حدثنا صدقة بن خالد، حدثنا زيد بن واقد، عن بسر بن عبيد الله، عن عايذ الله ابي ادريس، عن ابي الدرداء رضى الله عنه قال كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه وسلم اذ اقبل ابو بكر اخذا بطرف ثوبه حتى ابدى عن ركبته، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اما صاحبكم فقد غامر ". فسلم، وقال اني كان بيني وبين ابن الخطاب شىء فاسرعت اليه ثم ندمت، فسالته ان يغفر لي فابى على، فاقبلت اليك فقال " يغفر الله لك يا ابا بكر ". ثلاثا، ثم ان عمر ندم فاتى منزل ابي بكر فسال اثم ابو بكر فقالوا لا. فاتى الى النبي صلى الله عليه وسلم، فسلم فجعل وجه النبي صلى الله عليه وسلم يتمعر حتى اشفق ابو بكر، فجثا على ركبتيه فقال يا رسول الله، والله انا كنت اظلم مرتين. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان الله بعثني اليكم فقلتم كذبت. وقال ابو بكر صدق. وواساني بنفسه وماله، فهل انتم تاركو لي صاحبي ". مرتين فما اوذي بعدها
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد حذاء نے، کہا ہم سے ابوعثمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ ذات السلاسل کے لیے بھیجا ( عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے پوچھا کہ سب سے زیادہ محبت آپ کو کس سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ سے میں نے پوچھا، اور مردوں میں؟ فرمایا کہ اس کے باپ سے۔ میں نے پوچھا، اس کے بعد؟ فرمایا کہ عمر بن خطاب سے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی آدمیوں کے نام لیے۔
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا عبد العزيز بن المختار، قال خالد الحذاء حدثنا عن ابي عثمان، قال حدثني عمرو بن العاص رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم بعثه على جيش ذات السلاسل، فاتيته فقلت اى الناس احب اليك قال " عايشة ". فقلت من الرجال فقال " ابوها ". قلت ثم من قال " ثم عمر بن الخطاب ". فعد رجالا
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں چرا رہا تھا کہ بھیڑیا آ گیا اور ریوڑ سے ایک بکری اٹھا کر لے جانے لگا۔ چرواہے نے اس سے بکری چھڑانی چاہی تو بھیڑیا بول پڑا۔ درندوں والے دن میں اس کی رکھوالی کرنے والا کون ہو گا جس دن میرے سوا اور کوئی چرواہا نہ ہو گا۔ اسی طرح ایک شخص بیل کو اس پر سوار ہو کر لیے جا رہا تھا، بیل اس کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا کہ میری پیدائش اس کے لیے نہیں ہوئی ہے۔ میں تو کھیتی باڑی کے کاموں کے لیے پیدا کیا گیا ہوں۔ وہ شخص بول پڑا۔ سبحان اللہ! ( جانور اور انسانوں کی طرح باتیں کرے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان واقعات پر ایمان لاتا ہوں اور ابوبکر اور عمر بن خطاب بھی۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " بينما راع في غنمه عدا عليه الذيب، فاخذ منها شاة، فطلبه الراعي، فالتفت اليه الذيب فقال من لها يوم السبع، يوم ليس لها راع غيري، وبينا رجل يسوق بقرة قد حمل عليها، فالتفتت اليه فكلمته فقالت اني لم اخلق لهذا، ولكني خلقت للحرث ". قال الناس سبحان الله. قال النبي صلى الله عليه وسلم " فاني اومن بذلك وابو بكر وعمر بن الخطاب رضى الله عنهما
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو ابن المسیب نے خبر دی اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سو رہا تھا کہ خواب میں میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا جس پر ڈول تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جتنا چاہا میں نے اس ڈول سے پانی کھینچا، پھر اسے ابن ابی قحافہ ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے لے لیا اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے، ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری سی معلوم ہوئی اللہ ان کی اس کمزوری کو معاف فرمائے۔ پھر اس ڈول نے ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر لی اور اسے عمر بن خطاب ( رضی اللہ عنہ ) نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ میں نے ایسا شہ زور پہلوان آدمی نہیں دیکھا جو عمر ( رضی اللہ عنہ ) کی طرح ڈول کھینچ سکتا۔ انہوں نے اتنا پانی نکالا کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو حوض سے سیراب کر لیا۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، قال اخبرني ابن المسيب، سمع ابا هريرة رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " بينا انا نايم رايتني على قليب عليها دلو، فنزعت منها ما شاء الله، ثم اخذها ابن ابي قحافة، فنزع بها ذنوبا او ذنوبين، وفي نزعه ضعف، والله يغفر له ضعفه، ثم استحالت غربا، فاخذها ابن الخطاب، فلم ار عبقريا من الناس ينزع نزع عمر، حتى ضرب الناس بعطن
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں سالم بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنا کپڑا ( پاجامہ یا تہبند وغیرہ ) تکبر اور غرور کی وجہ سے زمین پر گھسیٹتا چلے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا بھی نہیں، اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے کپڑے کا ایک حصہ لٹک جایا کرتا ہے۔ البتہ اگر میں پوری طرح خیال رکھوں تو وہ نہیں لٹک سکے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ تو ایسا تکبر کے خیال سے نہیں کرتے ( اس لیے آپ اس حکم میں داخل نہیں ہیں ) موسیٰ نے کہا کہ میں نے سالم سے پوچھا، کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس حدیث میں یہ فرمایا تھا کہ جو اپنی ازار کو گھسیٹتے ہوئے چلے، تو انہوں نے کہا کہ میں نے تو ان سے یہی سنا کہ جو کوئی اپنا کپڑا لٹکائے۔
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا موسى بن عقبة، عن سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله اليه يوم القيامة ". فقال ابو بكر ان احد شقى ثوبي يسترخي الا ان اتعاهد ذلك منه. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انك لست تصنع ذلك خيلاء " قال موسى فقلت لسالم اذكر عبد الله من جر ازاره قال لم اسمعه ذكر الا ثوبه
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اللہ کے راستے میں کسی چیز کا ایک جوڑا خرچ کیا ( مثلاً دو روپے، دو کپڑے، دو گھوڑے اللہ تعالیٰ کے راستے میں دیے ) تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! ادھر آ، یہ دروازہ بہتر ہے پس جو شخص نمازی ہو گا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص مجاہد ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص اہل صدقہ میں سے ہو گا اسے صدقہ کے دروازہ سے بلایا جائے گا اور جو شخص روزہ دار ہو گا اسے صیام اور ریان ( سیرابی ) کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جس شخص کو ان تمام ہی دروازوں سے بلایا جائے گا پھر تو اسے کسی قسم کا خوف باقی نہیں رہے گا اور پوچھا کیا کوئی شخص ایسا بھی ہو گا جسے ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم بھی انہیں میں سے ہو گے اے ابوبکر!۔
حدثنا ابو اليمان، حدثنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني حميد بن عبد الرحمن بن عوف، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من انفق زوجين من شىء من الاشياء في سبيل الله دعي من ابواب يعني الجنة يا عبد الله هذا خير، فمن كان من اهل الصلاة دعي من باب الصلاة، ومن كان من اهل الجهاد دعي من باب الجهاد، ومن كان من اهل الصدقة دعي من باب الصدقة، ومن كان من اهل الصيام دعي من باب الصيام، وباب الريان ". فقال ابو بكر ما على هذا الذي يدعى من تلك الابواب من ضرورة، وقال هل يدعى منها كلها احد يا رسول الله قال " نعم، وارجو ان تكون منهم يا ابا بكر
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، حدثنا سليمان بن بلال، عن هشام بن عروة، عن عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مات وابو بكر بالسنح قال اسماعيل يعني بالعالية فقام عمر يقول والله ما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم. قالت وقال عمر والله ما كان يقع في نفسي الا ذاك وليبعثنه الله فليقطعن ايدي رجال وارجلهم. فجاء ابو بكر فكشف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقبله قال بابي انت وامي طبت حيا وميتا، والذي نفسي بيده لا يذيقك الله الموتتين ابدا. ثم خرج فقال ايها الحالف على رسلك. فلما تكلم ابو بكر جلس عمر. فحمد الله ابو بكر واثنى عليه وقال الا من كان يعبد محمدا صلى الله عليه وسلم فان محمدا قد مات، ومن كان يعبد الله فان الله حى لا يموت. وقال {انك ميت وانهم ميتون} وقال {وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افان مات او قتل انقلبتم على اعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شييا وسيجزي الله الشاكرين} قال فنشج الناس يبكون قال واجتمعت الانصار الى سعد بن عبادة في سقيفة بني ساعدة فقالوا منا امير ومنكم امير، فذهب اليهم ابو بكر وعمر بن الخطاب وابو عبيدة بن الجراح، فذهب عمر يتكلم فاسكته ابو بكر، وكان عمر يقول والله ما اردت بذلك الا اني قد هيات كلاما قد اعجبني خشيت ان لا يبلغه ابو بكر، ثم تكلم ابو بكر فتكلم ابلغ الناس فقال في كلامه نحن الامراء وانتم الوزراء. فقال حباب بن المنذر لا والله لا نفعل، منا امير ومنكم امير. فقال ابو بكر لا، ولكنا الامراء وانتم الوزراء هم اوسط العرب دارا، واعربهم احسابا فبايعوا عمر او ابا عبيدة. فقال عمر بل نبايعك انت، فانت سيدنا وخيرنا واحبنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم. فاخذ عمر بيده فبايعه، وبايعه الناس، فقال قايل قتلتم سعد بن عبادة. فقال عمر قتله الله
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، حدثنا سليمان بن بلال، عن هشام بن عروة، عن عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مات وابو بكر بالسنح قال اسماعيل يعني بالعالية فقام عمر يقول والله ما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم. قالت وقال عمر والله ما كان يقع في نفسي الا ذاك وليبعثنه الله فليقطعن ايدي رجال وارجلهم. فجاء ابو بكر فكشف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقبله قال بابي انت وامي طبت حيا وميتا، والذي نفسي بيده لا يذيقك الله الموتتين ابدا. ثم خرج فقال ايها الحالف على رسلك. فلما تكلم ابو بكر جلس عمر. فحمد الله ابو بكر واثنى عليه وقال الا من كان يعبد محمدا صلى الله عليه وسلم فان محمدا قد مات، ومن كان يعبد الله فان الله حى لا يموت. وقال {انك ميت وانهم ميتون} وقال {وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افان مات او قتل انقلبتم على اعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شييا وسيجزي الله الشاكرين} قال فنشج الناس يبكون قال واجتمعت الانصار الى سعد بن عبادة في سقيفة بني ساعدة فقالوا منا امير ومنكم امير، فذهب اليهم ابو بكر وعمر بن الخطاب وابو عبيدة بن الجراح، فذهب عمر يتكلم فاسكته ابو بكر، وكان عمر يقول والله ما اردت بذلك الا اني قد هيات كلاما قد اعجبني خشيت ان لا يبلغه ابو بكر، ثم تكلم ابو بكر فتكلم ابلغ الناس فقال في كلامه نحن الامراء وانتم الوزراء. فقال حباب بن المنذر لا والله لا نفعل، منا امير ومنكم امير. فقال ابو بكر لا، ولكنا الامراء وانتم الوزراء هم اوسط العرب دارا، واعربهم احسابا فبايعوا عمر او ابا عبيدة. فقال عمر بل نبايعك انت، فانت سيدنا وخيرنا واحبنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم. فاخذ عمر بيده فبايعه، وبايعه الناس، فقال قايل قتلتم سعد بن عبادة. فقال عمر قتله الله
حدثنا عبد الله بن رجاء، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال اشترى ابو بكر رضى الله عنه من عازب رحلا بثلاثة عشر درهما فقال ابو بكر لعازب مر البراء فليحمل الى رحلي. فقال عازب لا حتى تحدثنا كيف صنعت انت ورسول الله صلى الله عليه وسلم حين خرجتما من مكة والمشركون يطلبونكم قال ارتحلنا من مكة، فاحيينا او سرينا ليلتنا ويومنا حتى اظهرنا وقام قايم الظهيرة، فرميت ببصري هل ارى من ظل فاوي اليه، فاذا صخرة اتيتها فنظرت بقية ظل لها فسويته، ثم فرشت للنبي صلى الله عليه وسلم فيه، ثم قلت له اضطجع يا نبي الله. فاضطجع النبي صلى الله عليه وسلم ثم انطلقت انظر ما حولي، هل ارى من الطلب احدا فاذا انا براعي غنم يسوق غنمه الى الصخرة يريد منها الذي اردنا، فسالته فقلت له لمن انت يا غلام قال لرجل من قريش سماه فعرفته. فقلت هل في غنمك من لبن قال نعم. قلت فهل انت حالب لبنا قال نعم. فامرته فاعتقل شاة من غنمه، ثم امرته ان ينفض ضرعها من الغبار، ثم امرته ان ينفض كفيه، فقال هكذا ضرب احدى كفيه بالاخرى فحلب لي كثبة من لبن، وقد جعلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم اداوة على فمها خرقة، فصببت على اللبن حتى برد اسفله، فانطلقت به الى النبي صلى الله عليه وسلم فوافقته قد استيقظ، فقلت اشرب يا رسول الله. فشرب حتى رضيت ثم قلت قد ان الرحيل يا رسول الله. قال " بلى ". فارتحلنا والقوم يطلبونا، فلم يدركنا احد منهم غير سراقة بن مالك بن جعشم على فرس له. فقلت هذا الطلب قد لحقنا يا رسول الله. فقال " لا تحزن ان الله معنا