Loading...

Loading...
کتب
۴۴ احادیث
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی نافع سے ‘ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلمان کے لیے جن کے پاس وصیت کے قابل کوئی بھی مال ہو درست نہیں کہ دو رات بھی وصیت کو لکھ کر اپنے پاس محفوظ رکھے بغیر گزارے۔“ امام مالک کے ساتھ اس روایت کی متابعت محمد بن مسلم نے عمرو بن دینار سے کی ہے ‘ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما حق امري مسلم له شىء، يوصي فيه يبيت ليلتين، الا ووصيته مكتوبة عنده ". تابعه محمد بن مسلم عن عمرو عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابراہیم بن حارث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ ابن ابی بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے زہیر بن معاویہ جعفی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسبتی بھائی عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ نے جو جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ( ام المؤمنین ) کے بھائی ہیں ‘ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے بعد سوائے اپنے سفید خچر ‘ اپنے ہتھیار اور اپنی زمین کے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وقف کر گئے تھے نہ کوئی درہم چھوڑا تھا نہ دینار نہ غلام نہ باندی اور نہ کوئی چیز۔
حدثنا ابراهيم بن الحارث، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا زهير بن معاوية الجعفي، حدثنا ابو اسحاق، عن عمرو بن الحارث، ختن رسول الله صلى الله عليه وسلم اخي جويرية بنت الحارث قال ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم عند موته درهما ولا دينارا ولا عبدا ولا امة ولا شييا، الا بغلته البيضاء وسلاحه وارضا جعلها صدقة
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے طلحہ بن مصرف نے بیان کیا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر میں نے پوچھا کہ پھر وصیت کس طرح لوگوں پر فرض ہوئی؟ یا ( راوی نے اس طرح بیان کیا ) کہ لوگوں کو وصیت کا حکم کیوں کر دیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کی تھی ( اور کتاب اللہ میں وصیت کرنے کے لیے حکم موجود ہے ) ۔
حدثنا خلاد بن يحيى، حدثنا مالك، حدثنا طلحة بن مصرف، قال سالت عبد الله بن ابي اوفى رضى الله عنهما هل كان النبي صلى الله عليه وسلم اوصى فقال لا. فقلت كيف كتب على الناس الوصية او امروا بالوصية قال اوصى بكتاب الله
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا ‘ کہ ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی عبداللہ بن عون سے ‘ انہیں ابراہیم نخعی نے ‘ ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں کچھ لوگوں نے ذکر کیا کہ علی رضی اللہ عنہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ) وصی تھے تو آپ نے کہا کہ کب انہیں وصی بنایا۔ میں تو آپ کے وصال کے وقت سر مبارک اپنے سینے پر یا انہوں نے ( بجائے سینے کے ) کہا کہ اپنے گود میں رکھے ہوئے تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پانی کا ) طشت منگوایا تھا کہ اتنے میں ( سر مبارک ) میری گود میں جھک گیا اور میں سمجھ نہ سکی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو وصی کب بنایا۔
حدثنا عمرو بن زرارة، اخبرنا اسماعيل، عن ابن عون، عن ابراهيم، عن الاسود، قال ذكروا عند عايشة ان عليا رضى الله عنهما كان وصيا. فقالت متى اوصى اليه وقد كنت مسندته الى صدري او قالت حجري فدعا بالطست، فلقد انخنث في حجري، فما شعرت انه قد مات، فمتى اوصى اليه
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا سعد بن ابراہیم سے ‘ ان سے عامر بن سعد نے اور ان سے سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حجۃ الوداع میں ) میری عیادت کو تشریف لائے ‘ میں اس وقت مکہ میں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سر زمین پر موت کو پسند نہیں فرماتے تھے جہاں سے کوئی ہجرت کر چکا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ ابن عفراء ( سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ ) پر رحم فرمائے۔“ میں عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے سارے مال و دولت کی وصیت کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں“ میں نے پوچھا پھر آدھے کی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی یہی فرمایا ”نہیں“ میں نے پوچھا پھر تہائی کی کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہائی کی کر سکتے ہو اور یہ بھی بہت ہے ‘ اگر تم اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ‘ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب تم اپنی کوئی چیز ( اللہ کے لیے خرچ کرو گے ) تو وہ خیرات ہے ‘ یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے ( وہ بھی خیرات ہے ) اور ( ابھی وصیت کرنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ) ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں شفاء دے اور اس کے بعد تم سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہو اور دوسرے بہت سے لوگ ( اسلام کے مخالف ) نقصان اٹھائیں۔ اس وقت سعد رضی اللہ عنہ کی صرف ایک بیٹی تھی۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن سعد بن ابراهيم، عن عامر بن سعد، عن سعد بن ابي وقاص رضى الله عنه قال جاء النبي صلى الله عليه وسلم يعودني وانا بمكة، وهو يكره ان يموت بالارض التي هاجر منها قال " يرحم الله ابن عفراء ". قلت يا رسول الله، اوصي بمالي كله قال " لا ". قلت فالشطر قال " لا ". قلت الثلث. قال " فالثلث، والثلث كثير، انك ان تدع ورثتك اغنياء خير من ان تدعهم عالة يتكففون الناس في ايديهم، وانك مهما انفقت من نفقة فانها صدقة، حتى اللقمة التي ترفعها الى في امراتك، وعسى الله ان يرفعك فينتفع بك ناس ويضر بك اخرون ". ولم يكن له يوميذ الا ابنة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کاش ! لوگ (وصیت کو) چوتھائی تک کم کر دیتے تو بہتر ہوتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ” تم تہائی (کی وصیت کر سکتے ہو) اور تہائی بھی بہت ہے ۔ “ یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ) ” یہ بہت زیادہ رقم ہے ۔ “
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لو غض الناس الى الربع، لان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الثلث، والثلث كثير او كبير
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زکریا بن عدی نے بیان کیا ‘ ان سے مروان بن معاویہ نے ‘ ان سے ہاشم ابن ہاشم نے ‘ ان سے عامر بن سعد نے اور ان سے ان کے باپ سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا کہ میں مکہ میں بیمار پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کیلئے تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے لیے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے الٹے پاؤں واپس نہ کر دے ( یعنی مکہ میں میری موت نہ ہو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں صحت دے اور تم سے بہت سے لوگ نفع اٹھائیں۔ میں نے عرض کیا میرا ارادہ وصیت کرنے کا ہے۔ ایک لڑکی کے سوا اور میرے کوئی ( اولاد ) نہیں۔ میں نے پوچھا کیا آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدھا تو بہت ہے۔ پھر میں نے پوچھا تو تہائی کی کر دوں؟ فرمایا کہ تہائی کی کر سکتے ہو اگرچہ یہ بھی بہت ہے یا ( یہ فرمایا کہ ) بڑی ( رقم ) ہے۔ چنانچہ لوگ بھی تہائی کی وصیت کرنے لگے اور یہ ان کیلئے جائز ہو گئی۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، حدثنا زكرياء بن عدي، حدثنا مروان، عن هاشم بن هاشم، عن عامر بن سعد، عن ابيه رضى الله عنه قال مرضت فعادني النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله ادع الله ان لا يردني على عقبي. قال " لعل الله يرفعك وينفع بك ناسا ". قلت اريد ان اوصي، وانما لي ابنة قلت اوصي بالنصف قال " النصف كثير ". قلت فالثلث. قال " الثلث، والثلث كثير او كبير ". قال فاوصى الناس بالثلث، وجاز ذلك لهم
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعبنی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک نے ابن شہاب سے ‘ وہ عروہ بن زبیر سے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص نے مرتے وقت اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو وصیت کی تھی کہ زمعہ کی باندی کا لڑکا میرا ہے ‘ اس لیے تم اسے لے لینا چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لے لیا اور کہا کہ میرے بھائی کا لڑکا ہے۔ انہوں نے اس بارے میں مجھے اس کی وصیت کی تھی۔ پھر عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہنے لگے کہ یہ تو میرا بھائی ہے میرے باپ کی لونڈی نے اس کو جنا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ پھر یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے ‘ مجھے اس نے وصیت کی تھی۔ لیکن عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ میرا بھائی اور میرے والد کی باندی کا لڑکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ یہ فرمایا کہ لڑکا تمہارا ہی ہے عبد بن زمعہ! بچہ فراش کے تحت ہوتا ہے اور زانی کے حصے میں پتھر ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اس لڑکے سے پردہ کر کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ کی مشابہت اس لڑکے میں صاف پائی تھی۔ چنانچہ اس کے بعد اس لڑکے نے سودہ رضی اللہ عنہا کو کبھی نہ دیکھا تاآنکہ آپ اللہ تعالیٰ سے جا ملیں۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت كان عتبة بن ابي وقاص عهد الى اخيه سعد بن ابي وقاص ان ابن وليدة زمعة مني، فاقبضه اليك. فلما كان عام الفتح اخذه سعد فقال ابن اخي، قد كان عهد الى فيه. فقام عبد بن زمعة فقال اخي، وابن امة ابي، ولد على فراشه. فتساوقا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقال سعد يا رسول الله، ابن اخي، كان عهد الى فيه. فقال عبد بن زمعة اخي وابن وليدة ابي. وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو لك يا عبد ابن زمعة، الولد للفراش، وللعاهر الحجر ". ثم قال لسودة بنت زمعة " احتجبي منه ". لما راى من شبهه بعتبة، فما راها حتى لقي الله
ہم سے حسان بن ابی عباد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ایک یہودی نے ایک ( انصاری ) لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان میں رکھ کر کچل دیا تھا۔ لڑکی سے پوچھا گیا کہ تمہارا سر اس طرح کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں شخص نے کیا؟ فلاں نے کیا؟ آخر یہودی کا بھی نام لیا گیا ( جس نے اس کا سر کچل دیا تھا ) تو لڑکی نے سر کے اشارے سے ہاں میں جواب دیا۔ پھر وہ یہودی بلایا گیا اور آخر اس نے بھی اقرار کر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا بھی پتھر سے سر کچل دیا گیا۔
حدثنا حسان بن ابي عباد، حدثنا همام، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه ان يهوديا، رض راس جارية بين حجرين، فقيل لها من فعل بك، افلان او فلان حتى سمي اليهودي، فاومات براسها، فجيء به، فلم يزل حتى اعترف، فامر النبي صلى الله عليه وسلم فرض راسه بالحجارة
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ورقاء سے ‘ انہوں نے ابن ابی نجیح سے ‘ ان سے عطاء نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ شروع اسلام میں ( میراث کا ) مال اولاد کو ملتا تھا اور والدین کے لیے وصیت ضروری تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے جس طرح چاہا اس حکم کو منسوخ کر دیا پھر لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر قرار دیا اور والدین میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور بیوی کا ( اولاد کی موجودگی میں ) آٹھواں حصہ اور ( اولاد کے نہ ہونے کی صورت میں ) چوتھا حصہ قرار دیا۔ اسی طرح شوہر کا ( اولاد نہ ہونے کی صورت میں ) آدھا ( اولاد ہونے کی صورت میں ) چوتھائی حصہ قرار دیا۔
حدثنا محمد بن يوسف، عن ورقاء، عن ابن ابي نجيح، عن عطاء، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كان المال للولد، وكانت الوصية للوالدين، فنسخ الله من ذلك ما احب، فجعل للذكر مثل حظ الانثيين، وجعل للابوين لكل واحد منهما السدس، وجعل للمراة الثمن والربع، وللزوج الشطر والربع
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا سفیان ثوری سے ‘ وہ عمارہ سے ‘ ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا یہ کہ صدقہ تندرستی کی حالت میں کر کہ ( تجھ کو اس مال کو باقی رکھنے کی ) خواہش بھی ہو جس سے کچھ سرمایہ جمع ہو جانے کی تمہیں امید ہو اور ( اسے خرچ کرنے کی صورت میں ) محتاجی کا ڈر ہو اور اس میں تاخیر نہ کر کہ جب روح حلق تک پہنچ جائے تو کہنے بیٹھ جائے کہ اتنا مال فلاں کے لیے ‘ فلانے کو اتنا دینا ‘ اب تو فلانے کا ہو ہی گیا ( تو تو دنیا سے چلا ) ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن سفيان، عن عمارة، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم يا رسول الله، اى الصدقة افضل قال " ان تصدق وانت صحيح حريص. تامل الغنى، وتخشى الفقر، ولا تمهل حتى اذا بلغت الحلقوم قلت لفلان كذا ولفلان كذا، وقد كان لفلان
ہم سے سلیمان بن داؤد ابوالربیع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے اسمٰعیل بن جعفر نے ‘ انہوں نے کہا ہم سے نافع بن مالک بن ابی عامر ابوسہیل نے ‘ انہوں نے اپنے باپ سے ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کہے تو جھوٹ کہے اور جب اس کے پاس امانت رکھیں تو خیانت کرے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے۔“
حدثنا سليمان بن داود ابو الربيع، حدثنا اسماعيل بن جعفر، حدثنا نافع بن مالك بن ابي عامر ابو سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اية المنافق ثلاث، اذا حدث كذب، واذا اوتمن خان، واذا وعد اخلف
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام اوزاعی نے خبر دی ‘ انہوں نے زہری سے ‘ انہوں نے سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر سے کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ ( مشہور صحابی ) نے بیان کیا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا آپ نے مجھ کو دیا ‘ پھر مانگا پھر آپ نے دیا ‘ پھر فرمانے لگے حکیم یہ دنیا کا روپیہ پیسہ دیکھنے میں خوشنما اور مزے میں شیریں ہے لیکن جو کوئی اس کو سیر چشمی سے لے اس کو برکت ہوتی ہے اور جو کوئی جان لڑا کر حرص کے ساتھ اس کو لے اس کو برکت نہ ہو گی۔ اس کی مثال ایسی ہے جو کماتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اوپر والا ( دینے والا ) ہاتھ نیچے والے ( لینے والے ) ہاتھ سے بہتر ہے۔ حکیم نے عرض کیا یا رسول اللہ! قسم اس کی جس نے آپ کو سچا پیغمبر کر کے بھیجا ہے میں تو آج سے آپ کے بعد کسی سے کوئی چیز کبھی نہیں لوں گا مرنے تک پھر ( حکیم کا یہ حال رہا ) کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کا سالانہ وظیفہ دینے کے لیے ان کو بلاتے ‘ وہ اس کے لینے سے انکار کرتے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت میں ان کو بلایا ان کا وظیفہ دینے کے لیے لیکن انہوں نے انکار کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے مسلمانو! تم گواہ رہنا حکیم کو اس کا حق جو لوٹ کے مال میں اللہ نے رکھا ہے دیتا ہوں وہ نہیں لیتا۔ غرض حکیم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پھر کسی شخص سے کوئی چیز قبول نہیں کی ( اپنا وظیفہ بھی بیت المال میں نہ لیا ) یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی۔ اللہ ان پر رحم کرے۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، وعروة بن الزبير، ان حكيم بن حزام رضى الله عنه قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعطاني، ثم سالته فاعطاني ثم قال لي " يا حكيم، ان هذا المال خضر حلو، فمن اخذه بسخاوة نفس بورك له فيه، ومن اخذه باشراف نفس لم يبارك له فيه، وكان كالذي ياكل ولا يشبع، واليد العليا خير من اليد السفلى ". قال حكيم فقلت يا رسول الله، والذي بعثك بالحق لا ارزا احدا بعدك شييا حتى افارق الدنيا. فكان ابو بكر يدعو حكيما ليعطيه العطاء فيابى ان يقبل منه شييا، ثم ان عمر دعاه ليعطيه فيابى ان يقبله فقال يا معشر المسلمين، اني اعرض عليه حقه الذي قسم الله له من هذا الفىء فيابى ان ياخذه. فلم يرزا حكيم احدا من الناس بعد النبي صلى الله عليه وسلم حتى توفي رحمه الله
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو یونس نے، انہوں نے زہری سے ‘ انہوں نے کہا مجھ کو سالم نے خبر دی ‘ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے کہا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ حاکم بھی نگہبان ہے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا اور مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگہبان ہے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھی جائے گی اور غلام اپنے صاحب کے مال کا نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ مرد اپنے باپ کے مال کا نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
حدثنا بشر بن محمد السختياني، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، قال اخبرني سالم، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " كلكم راع ومسيول عن رعيته، والامام راع ومسيول عن رعيته، والرجل راع في اهله ومسيول عن رعيته، والمراة في بيت زوجها راعية ومسيولة عن رعيتها، والخادم في مال سيده راع ومسيول عن رعيته ". قال وحسبت ان قد قال " والرجل راع في مال ابيه
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ سے فرمایا ( جب انہوں نے اپنا باغ بیرحاء اللہ کی راہ میں دینا چاہا ) میں مناسب سمجھتا ہوں تو یہ باغ اپنے عزیزوں کو دیدے۔ ابوطلحہ نے کہا بہت خوب ایسا ہی کروں گا۔ پھر ابوطلحہ نے وہ باغ اپنے عزیزوں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا جب ( سورۃ الشعراء کی ) یہ آیت اتری «وأنذر عشيرتك الأقربين» اور اپنے قریب کے ناطے والوں کو ( اللہ کے عذاب سے ) ڈرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے خاندانوں بنی فہر ‘ بنی عدی کو پکارنے لگے ( ان کو ڈرایا ) اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا جب یہ آیت اتری «وأنذر عشيرتك الأقربين» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے قریش کے لوگو! ( اللہ سے ڈرو ) ۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، انه سمع انسا رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم لابي طلحة " ارى ان تجعلها في الاقربين ". قال ابو طلحة افعل يا رسول الله. فقسمها ابو طلحة في اقاربه وبني عمه. وقال ابن عباس لما نزلت {وانذر عشيرتك الاقربين} جعل النبي صلى الله عليه وسلم ينادي " يا بني فهر، يا بني عدي ". لبطون قريش. وقال ابو هريرة لما نزلت {وانذر عشيرتك الاقربين} قال النبي صلى الله عليه وسلم " يا معشر قريش
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہوں نے زہری سے ‘ کہا مجھ کو سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا جب ( سورۃ الشعراء کی ) یہ آیت اللہ تعالیٰ نے اتاری «وأنذر عشيرتك الأقربين» اور اپنے نزدیک ناطے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریش کے لوگو! یا ایسا ہی کوئی اور کلمہ تم لوگ اپنی اپنی جانوں کو ( نیک اعمال کے بدل ) مول لے لو ( بچا لو ) میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ( یعنی اس کی مرضی کے خلاف میں کچھ نہیں کر سکوں گا ) عبد مناف کے بیٹو! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ عباس عبدالمطلب کے بیٹے! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ صفیہ میری پھوپھی! اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ فاطمہ! بیٹی تو چاہے میرا مال مانگ لے لیکن اللہ کے سامنے تیرے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ ابوالیمان کے ساتھ حدیث کو اصبغ نے بھی عبداللہ بن وہب سے ‘ انہوں نے یونس سے ‘ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سعيد بن المسيب، وابو سلمة بن عبد الرحمن ان ابا هريرة رضى الله عنه قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم حين انزل الله عز وجل {وانذر عشيرتك الاقربين } قال " يا معشر قريش او كلمة نحوها اشتروا انفسكم، لا اغني عنكم من الله شييا، يا بني عبد مناف لا اغني عنكم من الله شييا، يا عباس بن عبد المطلب لا اغني عنك من الله شييا، ويا صفية عمة رسول الله لا اغني عنك من الله شييا، ويا فاطمة بنت محمد سليني ما شيت من مالي لا اغني عنك من الله شييا ". تابعه اصبغ عن ابن وهب عن يونس عن ابن شهاب
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص قربانی کا اونٹ ہانکے لیے جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا۔ اس صاحب نے کہا یا رسول اللہ! یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا افسوس! سوار بھی ہو جا یا آپ نے «ويلك» کی بجائے «ويحك» فرمایا جس کے معنی بھی وہی ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم راى رجلا يسوق بدنة، فقال له " اركبها ". فقال يا رسول الله انها بدنة. قال في الثالثة او الرابعة " اركبها، ويلك، او ويحك
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان نے اعرج سے اور ان ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک صاحب قربانی کا اونٹ ہانکے لیے جا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا لیکن انہوں نے معذرت کی کہ یا رسول اللہ! یہ تو قربانی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ سوار بھی ہو جا۔ افسوس! یہ کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا تھا۔
حدثنا اسماعيل، حدثنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يسوق بدنة، فقال " اركبها ". قال يا رسول الله انها بدنة. قال " اركبها، ويلك ". في الثانية او في الثالثة
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے یعلیٰ بن مسلم نے خبر دی، انہوں نے عکرمہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ہمیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی ماں عمرہ بنت مسعود کا انتقال ہوا تو وہ ان کی خدمت میں موجود نہیں تھے۔ انہوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! میری والدہ کا جب انتقال ہوا تو میں ان کی خدمت میں حاضر نہیں تھا۔ کیا اگر میں کوئی چیز صدقہ کروں تو اس سے انہیں فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے کہا کہ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخراف نامی باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔
حدثنا محمد، اخبرنا مخلد بن يزيد، اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني يعلى، انه سمع عكرمة، يقول انبانا ابن عباس رضى الله عنهما ان سعد بن عبادة رضى الله عنه توفيت امه وهو غايب عنها، فقال يا رسول الله ان امي توفيت وانا غايب عنها، اينفعها شىء ان تصدقت به عنها قال " نعم ". قال فاني اشهدك ان حايطي المخراف صدقة عليها
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میری توبہ ( غزوہ تبوک میں نہ جانے کی ) قبول ہونے کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں دیدوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اپنے مال کا ایک حصہ اپنے پاس ہی باقی رکھو تو تمہارے حق میں یہ بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا کہ پھر میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے پاس محفوظ رکھتا ہوں۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب، ان عبد الله بن كعب، قال سمعت كعب بن مالك رضى الله عنه. قلت يا رسول الله، ان من توبتي ان انخلع من مالي صدقة الى الله والى رسوله صلى الله عليه وسلم. قال " امسك عليك بعض مالك فهو خير لك ". قلت فاني امسك سهمي الذي بخيبر