Loading...

Loading...
کتب
۲۶ احادیث
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة بن الزبير، انه سمع مروان، والمسور بن مخرمة، رضى الله عنهما يخبران عن اصحاب، رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لما كاتب سهيل بن عمرو يوميذ كان فيما اشترط سهيل بن عمرو على النبي صلى الله عليه وسلم انه لا ياتيك منا احد وان كان على دينك الا رددته الينا، وخليت بيننا وبينه. فكره المومنون ذلك، وامتعضوا منه، وابى سهيل الا ذلك، فكاتبه النبي صلى الله عليه وسلم على ذلك، فرد يوميذ ابا جندل على ابيه سهيل بن عمرو، ولم ياته احد من الرجال الا رده في تلك المدة، وان كان مسلما، وجاء المومنات مهاجرات، وكانت ام كلثوم بنت عقبة بن ابي معيط ممن خرج الى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوميذ وهى عاتق، فجاء اهلها يسالون النبي صلى الله عليه وسلم ان يرجعها اليهم، فلم يرجعها اليهم لما انزل الله فيهن {اذا جاءكم المومنات مهاجرات فامتحنوهن الله اعلم بايمانهن} الى قوله {ولا هم يحلون لهن}
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة بن الزبير، انه سمع مروان، والمسور بن مخرمة، رضى الله عنهما يخبران عن اصحاب، رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لما كاتب سهيل بن عمرو يوميذ كان فيما اشترط سهيل بن عمرو على النبي صلى الله عليه وسلم انه لا ياتيك منا احد وان كان على دينك الا رددته الينا، وخليت بيننا وبينه. فكره المومنون ذلك، وامتعضوا منه، وابى سهيل الا ذلك، فكاتبه النبي صلى الله عليه وسلم على ذلك، فرد يوميذ ابا جندل على ابيه سهيل بن عمرو، ولم ياته احد من الرجال الا رده في تلك المدة، وان كان مسلما، وجاء المومنات مهاجرات، وكانت ام كلثوم بنت عقبة بن ابي معيط ممن خرج الى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوميذ وهى عاتق، فجاء اهلها يسالون النبي صلى الله عليه وسلم ان يرجعها اليهم، فلم يرجعها اليهم لما انزل الله فيهن {اذا جاءكم المومنات مهاجرات فامتحنوهن الله اعلم بايمانهن} الى قوله {ولا هم يحلون لهن}
عروہ نے کہا کہ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرنے والی عورتوں کا اس آیت کی وجہ سے امتحان لیا کرتے تھے «{ يا أيها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن } إلى { غفور رحيم }.» ”اے مسلمانو! جب تمہارے یہاں مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لے لو غفور رحیم تک۔“ عروہ نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ان عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ میں نے تم سے بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف زبان سے بیعت کرتے تھے۔ قسم اللہ کی! بیعت کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کسی بھی عورت کے ہاتھ کو کبھی نہیں چھوا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف زبان سے بیعت لیا کرتے تھے۔
قال عروة فاخبرتني عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يمتحنهن بهذه الاية {يا ايها الذين امنوا اذا جاءكم المومنات مهاجرات فامتحنوهن } الى {غفور رحيم}. قال عروة قالت عايشة فمن اقر بهذا الشرط منهن قال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد بايعتك ". كلاما يكلمها به، والله ما مست يده يد امراة قط في المبايعة، وما بايعهن الا بقوله
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زیاد بن علاقہ نے بیان کیا کہ میں نے جریر رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی شرط پر بیعت کی تھی۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن زياد بن علاقة، قال سمعت جريرا رضى الله عنه يقول بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشترط على والنصح لكل مسلم
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی شرطوں کے ساتھ بیعت کی تھی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن اسماعيل، قال حدثني قيس بن ابي حازم، عن جرير بن عبد الله رضى الله عنه قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على اقام الصلاة وايتاء الزكاة والنصح لكل مسلم
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کوئی ایسا کھجور کا باغ بیچا جس کی پیوند کاری ہو چکی تھی تو اس کا پھل ( اس سال کے ) بیچنے والے ہی کا ہو گا۔ ہاں اگر خریدار شرط لگا دے ( تو پھل سمیت بیع سمجھی جائے گی ) ۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من باع نخلا قد ابرت فثمرتها للبايع الا ان يشترط المبتاع
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ بریرہ، عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں اپنی مکاتبت کے بارے میں ان سے مدد لینے کے لیے آئیں، انہوں نے ابھی تک اس معاملے میں ( اپنے مالکوں کو ) کچھ دیا نہیں تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا کہ اپنے مالکوں کے یہاں جا کر ( ان سے دریافت کرو ) اگر وہ یہ صورت پسند کریں کہ تمہاری مکاتبت کی ساری رقم میں ادا کر دوں اور تمہاری ولاء میرے لیے ہو جائے تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ بریرہ نے اس کا تذکرہ جب اپنے مالکوں کے سامنے کیا تو انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ وہ ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) اگر چاہیں تو یہ کار ثواب تمہارے ساتھ کر سکتی ہیں لیکن ولاء تو ہمارے ہی رہے گی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم انہیں خرید کر آزاد کر دو، ولاء تو بہرحال اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کر دے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، ان عايشة، رضى الله عنها اخبرته ان بريرة جاءت عايشة تستعينها في كتابتها، ولم تكن قضت من كتابتها شييا، قالت لها عايشة ارجعي الى اهلك، فان احبوا ان اقضي عنك كتابتك، ويكون ولاوك لي فعلت. فذكرت ذلك بريرة الى اهلها فابوا وقالوا ان شاءت ان تحتسب عليك فلتفعل، ويكون لنا ولاوك. فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لها " ابتاعي فاعتقي، فانما الولاء لمن اعتق
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عامر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ( ایک غزوہ کے موقع پر ) اپنے اونٹ پر سوار آ رہے تھے، اونٹ تھک گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو ایک ضرب لگائی اور اس کے حق میں دعا فرمائی، چنانچہ اونٹ اتنی تیزی سے چلنے لگا کہ کبھی اس طرح نہیں چلا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ایک اوقیہ میں مجھے بیچ دو۔ میں نے انکار کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچ دیا، لیکن اپنے گھر تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کرا لیا۔ پھر جب ہم ( مدینہ ) پہنچ گئے، تو میں نے اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت بھی ادا کر دی، لیکن جب میں واپس ہونے لگا تو میرے پیچھے ایک صاحب کو مجھے بلانے کے لیے بھیجا ( میں حاضر ہوا تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارا اونٹ کوئی لے تھوڑا ہی رہا تھا، اپنا اونٹ لے جاؤ، یہ تمہارا ہی مال ہے۔ ( اور قیمت واپس نہیں لی ) شعبہ نے مغیرہ کے واسطے سے بیان کیا، ان سے عامر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تک اونٹ پر مجھے سوار ہونے کی اجازت دی تھی، اسحاق نے جریر سے بیان کیا اور ان سے مغیرہ نے کہ ( جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ) پس میں نے اونٹ اس شرط پر بیچ دیا کہ مدینہ پہنچنے تک اس پر میں سوار رہوں گا۔ عطاء وغیرہ نے بیان کیا کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ) اس پر مدینہ تک کی سواری تمہاری ہے۔ محمد بن منکدر نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے مدینہ تک سواری کی شرط لگائی تھی۔ زید بن اسلم نے جابر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ) مدینہ تک اس پر تم ہی رہو گے۔ ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ مدینہ تک کی سواری کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی تھی۔ اعمش نے سالم سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) اپنے گھر تک تم اسی پر سوار ہو کے جاؤ۔ عبیداللہ اور ابن اسحاق نے وہب سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ اونٹ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ میں خریدا تھا۔ اس روایت کی متابعت زید بن اسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔ ابن جریج نے عطاء وغیرہ سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ) میں تمہارا یہ اونٹ چار دینار میں لیتا ہوں، اس حساب سے کہ ایک دینار دس درہم کا ہوتا ہے، چار دینار کا ایک اوقیہ ہو گا۔ مغیرہ نے شعبی کے واسطہ سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے ( ان کی روایت میں اور ) اسی طرح ابن المنکدر اور ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں قیمت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اعمش نے سالم سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں ایک اوقیہ سونے کی وضاحت کی ہے۔ ابواسحاق نے سالم سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں دو سو درہم بیان کیے ہیں اور داود بن قیس نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن مقسم نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ تبوک کے راستے میں ( غزوہ سے واپس ہوتے ہوئے ) خریدا تھا۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ چار اوقیہ میں ( خریدا تھا ) ابونضرہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت میں بیان کیا کہ بیس دینار میں خریدا تھا۔ شعبی کے بیان کے مطابق ایک اوقیہ ہی زیادہ روایتوں میں ہے۔ اسی طرح شرط لگانا بھی زیادہ روایتوں سے ثابت ہے اور میرے نزدیک صحیح بھی یہی ہے، یہ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے فرمایا۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی۔ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار رضوان اللہ علیہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( مؤاخات کے بعد ) یہ پیش کش کی کہ ہمارے کھجور کے باغات آپ ہم میں اور ہمارے بھائیوں ( مہاجرین ) میں تقسیم فرما دیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس پر انصار نے مہاجرین سے کہا کہ آپ لوگ ہمارے باغوں کے کام کر دیا کریں اور ہمارے ساتھ پھل میں شریک ہو جائیں، مہاجرین نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور ہم ایسا ہی کریں گے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قالت الانصار للنبي صلى الله عليه وسلم اقسم بيننا وبين اخواننا النخيل. قال " لا ". فقال تكفونا الميونة ونشرككم في الثمرة. قالوا سمعنا واطعنا
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو اس شرط پر دی تھی کہ اس میں کام کریں اور اسے بوئیں تو آدھی پیداوار انہیں دی جایا کرے گی۔
حدثنا موسى، حدثنا جويرية بن اسماء، عن نافع، عن عبد الله رضى الله عنه قال اعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر اليهود ان يعملوها ويزرعوها، ولهم شطر ما يخرج منها
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ شرطیں جن کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے، پوری کی جانے کی سب سے زیادہ مستحق ہیں۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احق الشروط ان توفوا به ما استحللتم به الفروج
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے حنظلہ زرقی سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ ہم اکثر انصار کاشتکاری کیا کرتے تھے اور ہم زمین بٹائی پر دیتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ کسی کھیت کے ایک ٹکڑے میں پیداوار ہوتی اور دوسرے میں نہ ہوتی، اس لیے ہمیں اس سے منع کر دیا گیا۔ لیکن چاندی ( روپے وغیرہ ) کے لگان سے منع نہیں کیا گیا۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا ابن عيينة، حدثنا يحيى بن سعيد، قال سمعت حنظلة الزرقي، قال سمعت رافع بن خديج رضى الله عنه يقول كنا اكثر الانصار حقلا، فكنا نكري الارض، فربما اخرجت هذه ولم تخرج ذه، فنهينا عن ذلك، ولم ننه عن الورق
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال تجارت نہ بیچے۔ کوئی شخص نجش نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی لگائی ہوئی قیمت پر بھاؤ بڑھائے۔ نہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کے پیغام نکاح کی موجودگی میں اپنا پیغام بھیجے اور نہ کوئی عورت ( کسی مرد سے ) اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے ( جو اس مرد کے نکاح میں ہو ) تاکہ اس طرح اس کا حصہ بھی خود لے لے۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا معمر، عن الزهري، عن سعيد، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يبيع حاضر لباد، ولا تناجشوا، ولا يزيدن على بيع اخيه، ولا يخطبن على خطبته، ولا تسال المراة طلاق اختها لتستكفي اناءها
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ليث، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد الجهني، رضى الله عنهم انهما قالا ان رجلا من الاعراب اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله انشدك الله الا قضيت لي بكتاب الله. فقال الخصم الاخر وهو افقه منه نعم فاقض بيننا بكتاب الله، وايذن لي. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قل ". قال ان ابني كان عسيفا على هذا، فزنى بامراته، واني اخبرت ان على ابني الرجم، فافتديت منه بماية شاة ووليدة، فسالت اهل العلم فاخبروني انما على ابني جلد ماية، وتغريب عام، وان على امراة هذا الرجم. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله، الوليدة والغنم رد، وعلى ابنك جلد ماية وتغريب عام، اغد يا انيس الى امراة هذا فان اعترفت فارجمها ". قال فغدا عليها فاعترفت، فامر بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجمت
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ليث، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد الجهني، رضى الله عنهم انهما قالا ان رجلا من الاعراب اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله انشدك الله الا قضيت لي بكتاب الله. فقال الخصم الاخر وهو افقه منه نعم فاقض بيننا بكتاب الله، وايذن لي. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قل ". قال ان ابني كان عسيفا على هذا، فزنى بامراته، واني اخبرت ان على ابني الرجم، فافتديت منه بماية شاة ووليدة، فسالت اهل العلم فاخبروني انما على ابني جلد ماية، وتغريب عام، وان على امراة هذا الرجم. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله، الوليدة والغنم رد، وعلى ابنك جلد ماية وتغريب عام، اغد يا انيس الى امراة هذا فان اعترفت فارجمها ". قال فغدا عليها فاعترفت، فامر بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجمت
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن مکی نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے بتلایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہ میرے یہاں آئیں، انہوں نے کتابت کا معاملہ کر لیا تھا۔ مجھ سے کہنے لگیں کہ اے ام المؤمنین! مجھے آپ خرید لیں، کیونکہ میرے مالک مجھے بیچنے پر آمادہ ہیں، پھر آپ مجھے آزاد کر دینا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہاں ( میں ایسا کر لوں گی ) لیکن بریرہ رضی اللہ عنہا نے پھر کہا کہ میرے مالک مجھے اسی وقت بیچیں گے جب وہ ولاء کی شرط اپنے لیے لگا لیں۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پھر مجھے ضرورت نہیں ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا ( راوی کو شبہ تھا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بریرہ ( رضی اللہ عنہا ) کا کیا معاملہ ہے؟ تم انہیں خرید کر آزاد کر دو، وہ لوگ جو چاہیں شرط لگا لیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے بریرہ کو خرید کر آزاد کر دیا اور اس کے مالک نے ولاء کی شرط اپنے لیے محفوظ رکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ ولاء اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے ( دوسرے ) جو چاہیں شرط لگاتے رہیں۔
حدثنا خلاد بن يحيى، حدثنا عبد الواحد بن ايمن المكي، عن ابيه، قال دخلت على عايشة رضى الله عنها قالت دخلت على بريرة وهى مكاتبة، فقالت يا ام المومنين اشتريني فان اهلي يبيعوني فاعتقيني قالت نعم. قالت ان اهلي لا يبيعوني حتى يشترطوا ولايي. قالت لا حاجة لي فيك. فسمع ذلك النبي صلى الله عليه وسلم او بلغه، فقال " ما شان بريرة فقال اشتريها فاعتقيها وليشترطوا ما شاءوا ". قالت فاشتريتها فاعتقتها، واشترط اهلها ولاءها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الولاء لمن اعتق، وان اشترطوا ماية شرط
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تجارتی قافلوں کی ) پیشوائی سے منع فرمایا تھا اور اس سے بھی کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان تجارت بیچے اور اس سے بھی کہ کوئی عورت اپنی ( دینی یا نسبی ) بہن کے طلاق کی شرط لگائے اور اس سے کہ کوئی اپنے کسی بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ لگائے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجش اور تصریہ سے بھی منع فرمایا۔ محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس حدیث کو معاذ بن معاذ اور عبدالصمد بن عبدالوارث نے بھی شعبہ سے روایت کیا ہے اور غندر اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے یوں کہا کہ ممانعت کی گئی تھی ( مجہول کے صیغے کے ساتھ ) آدم بن ابی ایاس نے یوں کہا کہ ہمیں منع کیا گیا تھا نضر اور حجاج بن منہال نے یوں کہا کہ منع کیا تھا ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ۔
حدثنا محمد بن عرعرة، حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، عن ابي حازم، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التلقي، وان يبتاع المهاجر للاعرابي، وان تشترط المراة طلاق اختها، وان يستام الرجل على سوم اخيه، ونهى عن النجش، وعن التصرية. تابعه معاذ وعبد الصمد عن شعبة. وقال غندر وعبد الرحمن نهي. وقال ادم نهينا. وقال النضر وحجاج بن منهال نهى
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے یعلیٰ بن مسلم اور عمرو بن دینار نے خبر دی سعید بن جبیر سے اور ان میں ایک دوسرے سے زیادہ بیان کرتا ہے، ابن جریج نے کہا مجھ سے یہ حدیث یعلیٰ اور عمرو کے سوا اوروں نے بھی بیان کی، وہ سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خضر سے جو جا کر ملے تھے وہ موسیٰ علیہ السلام تھے۔“ پھر آخر تک حدیث بیان کی کہ خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کیا میں آپ کو پہلے ہی نہیں بتا چکا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے ( موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے ) پہلا سوال تو بھول کر ہوا تھا، بیچ کا شرط کے طور پر اور تیسرا جان بوجھ کر ہوا تھا۔ آپ نے خضر سے کہا تھا کہ ”میں جس کو بھول گیا آپ اس میں مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے اور نہ میرا کام مشکل بنائیے۔“ دونوں کو ایک لڑکا ملا جسے خضر علیہ السلام نے قتل کر دیا وہ وہ آگے بڑھے تو انہیں ایک دیوار ملی جو گرنے والی تھی لیکن خضر علیہ السلام نے اسے درست کر دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «وراءهم ملك» «وراءهم» کے بجائے «أمامهم ملك.» پڑھا ہے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، ان ابن جريج، اخبره قال اخبرني يعلى بن مسلم، وعمرو بن دينار، عن سعيد بن جبير، يزيد احدهما على صاحبه وغيرهما قد سمعته يحدثه عن سعيد بن جبير قال انا لعند ابن عباس رضى الله عنهما قال حدثني ابى بن كعب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " موسى رسول الله " فذكر الحديث {قال الم اقل انك لن تستطيع معي صبرا} كانت الاولى نسيانا، والوسطى شرطا، والثالثة عمدا {قال لا تواخذني بما نسيت ولا ترهقني من امري عسرا}. {لقيا غلاما فقتله} فانطلقا فوجدا جدارا يريد ان ينقض فاقامه. قراها ابن عباس امامهم ملك
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں کہ میں نے اپنے مالک سے نو اوقیہ چاندی پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ دینا ہو گا۔ آپ بھی میری مدد کیجئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اگر تمہارے مالک چاہیں تو میں ایک دم انہیں اتنی قیمت ادا کر سکتی ہوں۔ لیکن تمہاری ولاء میری ہو گی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے یہاں گئیں اور ان سے اس صورت کا ذکر کیا لیکن انہوں نے ولاء کے لیے انکار کیا۔ جب وہ ان کے یہاں سے واپس ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے مالکوں کے سامنے یہ صورت رکھی تھی، لیکن وہ کہتے تھے کہ ولاء انہیں کی ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ بات سنی اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو انہیں خرید لے اور انہیں ولاء کی شرط لگانے دے۔ ولاء تو اسی کے ساتھ قائم ہو سکتی ہے جو آزاد کرے۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ میں گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا کہ کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کا کوئی پتہ ( سند، دلیل ) کتاب اللہ میں نہیں ہے ایسی کوئی بھی شرط جس کا پتہ ( سند، دلیل ) کتاب اللہ میں نہ ہو باطل ہے خواہ سو شرطیں کیوں نہ لگالی جائیں۔ اللہ کا فیصلہ ہی حق ہے اور اللہ کی شرطیں ہی پائیدار ہیں اور ولاء تو اسی کو ملے گی جو آزاد کرے گا۔
حدثنا اسماعيل، حدثنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت جاءتني بريرة فقالت كاتبت اهلي على تسع اواق في كل عام اوقية، فاعينيني. فقالت ان احبوا ان اعدها لهم، ويكون ولاوك لي فعلت. فذهبت بريرة الى اهلها، فقالت لهم، فابوا عليها، فجاءت من عندهم ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس، فقالت اني قد عرضت ذلك عليهم فابوا الا ان يكون الولاء لهم. فسمع النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرت عايشة النبي صلى الله عليه وسلم فقال " خذيها واشترطي لهم الولاء، فانما الولاء لمن اعتق ". ففعلت عايشة، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس، فحمد الله واثنى عليه، ثم قال " ما بال رجال يشترطون شروطا ليست في كتاب الله ما كان من شرط ليس في كتاب الله فهو باطل، وان كان ماية شرط، قضاء الله احق، وشرط الله اوثق، وانما الولاء لمن اعتق
ہم سے ابواحمد مرار بن حمویہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے محمد بن یحییٰ ابوغسان کنانی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی نافع سے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب ان کے ہاتھ پاؤں خیبر والوں نے توڑ ڈالے تو عمر رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کے یہودیوں سے ان کی جائیداد کا معاملہ کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں قائم رکھے ہم بھی قائم رکھیں گے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہاں اپنے اموال کے سلسلے میں گئے تو رات میں ان کے ساتھ مار پیٹ کا معاملہ کیا گیا جس سے ان کے پاؤں ٹوٹ گئے۔ خیبر میں ان کے سوا اور کوئی ہمارا دشمن نہیں ‘ وہی ہمارے دشمن ہیں اور انہیں پر ہمیں شبہ ہے اس لیے میں انہیں جلا وطن کر دینا ہی مناسب جانتا ہوں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا پختہ ارادہ کر لیا تو بنو ابی حقیق ( ایک یہودی خاندان ) کا ایک شخص تھا ’ آیا اور کہا یا امیرالمؤمنین کیا آپ ہمیں جلا وطن کر دیں گے حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں باقی رکھا تھا اور ہم سے جائیداد کا ایک معاملہ بھی کیا تھا اور اس کی ہمیں خیبر میں رہنے دینے کی شرط بھی آپ نے لگائی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھول گیا ہوں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ تمہارا کیا حال ہو گا جب تم خیبر سے نکالے جاؤ گے اور تمہارے اونٹ تمہیں راتوں رات لیے پھریں گے۔ اس نے کہا یہ ابوالقاسم ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ایک مذاق تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کے دشمن! تم نے جھوٹی بات کہی۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں شہر بدر کر دیا اور ان کے پھلوں کی کچھ نقد قیمت کچھ مال اور اونٹ اور دوسرے سامان یعنی کجاوے اور رسیوں کی صورت میں ادا کر دی۔ اس کی روایت حماد بن سلمہ نے عبیداللہ سے نقل کی ہے جیسا کہ مجھے یقین ہے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختصر طور پر۔
حدثنا ابو احمد، حدثنا محمد بن يحيى ابو غسان الكناني، اخبرنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال لما فدع اهل خيبر عبد الله بن عمر، قام عمر خطيبا فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عامل يهود خيبر على اموالهم، وقال " نقركم ما اقركم الله ". وان عبد الله بن عمر خرج الى ماله هناك فعدي عليه من الليل، ففدعت يداه ورجلاه، وليس لنا هناك عدو غيرهم، هم عدونا وتهمتنا، وقد رايت اجلاءهم، فلما اجمع عمر على ذلك اتاه احد بني ابي الحقيق، فقال يا امير المومنين، اتخرجنا وقد اقرنا محمد صلى الله عليه وسلم وعاملنا على الاموال، وشرط ذلك لنا فقال عمر اظننت اني نسيت قول رسول الله صلى الله عليه وسلم " كيف بك اذا اخرجت من خيبر تعدو بك قلوصك، ليلة بعد ليلة ". فقال كانت هذه هزيلة من ابي القاسم. قال كذبت يا عدو الله. فاجلاهم عمر واعطاهم قيمة ما كان لهم من الثمر مالا وابلا وعروضا، من اقتاب وحبال وغير ذلك. رواه حماد بن سلمة عن عبيد الله، احسبه عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، اختصره
حدثنا ابو نعيم، حدثنا زكرياء، قال سمعت عامرا، يقول حدثني جابر رضى الله عنه انه كان يسير على جمل له قد اعيا، فمر النبي صلى الله عليه وسلم فضربه، فدعا له، فسار بسير ليس يسير مثله ثم قال " بعنيه بوقية ". قلت لا. ثم قال " بعنيه بوقية ". فبعته فاستثنيت حملانه الى اهلي، فلما قدمنا اتيته بالجمل، ونقدني ثمنه، ثم انصرفت، فارسل على اثري، قال " ما كنت لاخذ جملك، فخذ جملك ذلك فهو مالك ". قال شعبة عن مغيرة عن عامر عن جابر افقرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ظهره الى المدينة. وقال اسحاق عن جرير عن مغيرة فبعته على ان لي فقار ظهره حتى ابلغ المدينة. وقال عطاء وغيره لك ظهره الى المدينة، وقال محمد بن المنكدر عن جابر شرط ظهره الى المدينة. وقال زيد بن اسلم عن جابر ولك ظهره حتى ترجع. وقال ابو الزبير عن جابر افقرناك ظهره الى المدينة. وقال الاعمش عن سالم عن جابر تبلغ عليه الى اهلك. وقال عبيد الله وابن اسحاق عن وهب عن جابر اشتراه النبي صلى الله عليه وسلم بوقية. وتابعه زيد بن اسلم عن جابر. وقال ابن جريج عن عطاء وغيره عن جابر اخذته باربعة دنانير. وهذا يكون وقية على حساب الدينار بعشرة دراهم. ولم يبين الثمن مغيرة عن الشعبي عن جابر، وابن المنكدر وابو الزبير عن جابر. وقال الاعمش عن سالم عن جابر وقية ذهب. وقال ابو اسحاق عن سالم عن جابر بمايتى درهم. وقال داود بن قيس عن عبيد الله بن مقسم عن جابر اشتراه بطريق تبوك، احسبه قال باربع اواق. وقال ابو نضرة عن جابر اشتراه بعشرين دينارا. وقول الشعبي بوقية اكثر. الاشتراط اكثر واصح عندي. قاله ابو عبد الله