Loading...

Loading...
کتب
۷۱ احادیث
ہم سے عبداللہ بن عثمان بن جبلہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی شعبہ سے، ان سے سلمہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض تھا ( اس نے سختی کے ساتھ تقاضا کیا ) تو صحابہ اس کی طرف بڑھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو، حق والے کو کچھ نہ کچھ کہنے کی گنجائش ہوتی ہی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے لیے ایک اونٹ اسی کے اونٹ کی عمر کا خرید کر اسے دے دو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اس سے اچھی عمر کا ہی اونٹ مل رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی کو خرید کر دے دو کہ تم میں سب سے اچھا آدمی وہ ہے جو قرض کے ادا کرنے میں سب سے اچھا ہو۔
حدثنا عبد الله بن عثمان بن جبلة، قال اخبرني ابي، عن شعبة، عن سلمة، قال سمعت ابا سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال كان لرجل على رسول الله صلى الله عليه وسلم دين فهم به اصحابه، فقال " دعوه فان لصاحب الحق مقالا. وقال اشتروا له سنا فاعطوها اياه ". فقالوا انا لا نجد سنا الا سنا هي افضل من سنه. قال " فاشتروها فاعطوها اياه، فان من خيركم احسنكم قضاء
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، ان مروان بن الحكم، والمسور بن مخرمة، اخبراه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال حين جاءه وفد هوازن مسلمين، فسالوه ان يرد اليهم اموالهم وسبيهم فقال لهم " معي من ترون، واحب الحديث الى اصدقه، فاختاروا احدى الطايفتين اما السبى واما المال، وقد كنت استانيت ". وكان النبي صلى الله عليه وسلم انتظرهم بضع عشرة ليلة حين قفل من الطايف، فلما تبين لهم ان النبي صلى الله عليه وسلم غير راد اليهم الا احدى الطايفتين قالوا فانا نختار سبينا. فقام في المسلمين فاثنى على الله بما هو اهله ثم قال " اما بعد فان اخوانكم هولاء جاءونا تايبين، واني رايت ان ارد اليهم سبيهم، فمن احب منكم ان يطيب ذلك فليفعل، ومن احب ان يكون على حظه حتى نعطيه اياه من اول ما يفيء الله علينا فليفعل ". فقال الناس طيبنا يا رسول الله لهم. فقال لهم " انا لا ندري من اذن منكم فيه ممن لم ياذن، فارجعوا حتى يرفع الينا عرفاوكم امركم ". فرجع الناس فكلمهم عرفاوهم، ثم رجعوا الى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبروه انهم طيبوا واذنوا. وهذا الذي بلغنا من سبى هوازن هذا اخر قول الزهري، يعني فهذا الذي بلغنا
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، ان مروان بن الحكم، والمسور بن مخرمة، اخبراه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال حين جاءه وفد هوازن مسلمين، فسالوه ان يرد اليهم اموالهم وسبيهم فقال لهم " معي من ترون، واحب الحديث الى اصدقه، فاختاروا احدى الطايفتين اما السبى واما المال، وقد كنت استانيت ". وكان النبي صلى الله عليه وسلم انتظرهم بضع عشرة ليلة حين قفل من الطايف، فلما تبين لهم ان النبي صلى الله عليه وسلم غير راد اليهم الا احدى الطايفتين قالوا فانا نختار سبينا. فقام في المسلمين فاثنى على الله بما هو اهله ثم قال " اما بعد فان اخوانكم هولاء جاءونا تايبين، واني رايت ان ارد اليهم سبيهم، فمن احب منكم ان يطيب ذلك فليفعل، ومن احب ان يكون على حظه حتى نعطيه اياه من اول ما يفيء الله علينا فليفعل ". فقال الناس طيبنا يا رسول الله لهم. فقال لهم " انا لا ندري من اذن منكم فيه ممن لم ياذن، فارجعوا حتى يرفع الينا عرفاوكم امركم ". فرجع الناس فكلمهم عرفاوهم، ثم رجعوا الى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبروه انهم طيبوا واذنوا. وهذا الذي بلغنا من سبى هوازن هذا اخر قول الزهري، يعني فهذا الذي بلغنا
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی شعبہ سے، انہیں ابوسلمہ بن کہیل نے، انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ بطور قرض لیا، قرض خواہ تقاضا کرنے آیا ( اور نازیبا گفتگو کی ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حق والے کو کہنے کا حق ہوتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اچھی عمر کا اونٹ اسے دلا دیا اور فرمایا ”تم میں افضل وہ ہے جو ادا کرنے میں سب سے بہتر ہو۔“
حدثنا ابن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا شعبة، عن سلمة بن كهيل، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم انه اخذ سنا فجاء صاحبه يتقاضاه فقال " ان لصاحب الحق مقالا ". ثم قضاه افضل من سنه وقال " افضلكم احسنكم قضاء
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا عمرو سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ وہ سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور عمر رضی اللہ عنہ کے ایک سرکش اونٹ پر سوار تھے۔ وہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آگے بڑھ جایا کرتا تھا۔ اس لیے ان کے والد ( عمر رضی اللہ عنہ ) کو تنبیہ کرنی پڑتی تھی کہ اے عبداللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے کسی کو نہ ہونا چاہئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! کہ عمر! اسے مجھے بیچ دے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یہ تو آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا۔ پھر فرمایا، عبداللہ یہ اب تیرا ہے۔ جس طرح تو چاہے استعمال کر۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا ابن عيينة، عن عمرو، عن ابن عمر رضى الله عنهما انه كان مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فكان على بكر لعمر صعب، فكان يتقدم النبي صلى الله عليه وسلم فيقول ابوه يا عبد الله لا يتقدم النبي صلى الله عليه وسلم احد. فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " بعنيه ". فقال عمر هو لك. فاشتراه ثم قال " هو لك يا عبد الله، فاصنع به ما شيت
اور حمیدی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ ہم سے عمرو نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور میں ایک سرکش اونٹ پر سوار تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے بیچ دے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا اور پھر فرمایا عبداللہ! تو یہ اونٹ لے جا ( میں نے یہ تجھ کو بخش دیا ) ۔
وقال الحميدي حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر، وكنت على بكر صعب فقال النبي صلى الله عليه وسلم لعمر " بعنيه ". فابتاعه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هو لك يا عبد الله
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے نافع سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسجد کے دروازے پر ایک ریشمی حلہ ( فروخت ہو رہا ) ہے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، کہ کیا اچھا ہوتا اگر آپ اسے خرید لیتے اور جمعہ کے دن اور وفود کی ملاقات کے موقع پر اسے زیب تن فرما لیا کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب یہ دیا کہ اسے وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ کچھ دنوں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بہت سے ( ریشمی ) حلے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلہ ان میں سے عمر رضی اللہ عنہ کو بھی عنایت فرمایا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر عرض کیا کہ آپ یہ مجھے پہننے کے لیے عنایت فرما رہے ہیں۔ حالانکہ آپ خود عطارد کے حلوں کے بارے میں جو کچھ فرمانا تھا فرما چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا ہے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا، جو مکے میں رہتا تھا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال راى عمر بن الخطاب حلة سيراء عند باب المسجد فقال يا رسول الله لو اشتريتها فلبستها يوم الجمعة وللوفد قال " انما يلبسها من لا خلاق له في الاخرة ". ثم جاءت حلل فاعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم عمر منها حلة، وقال اكسوتنيها وقلت في حلة عطارد ما قلت. فقال " اني لم اكسكها لتلبسها ". فكسا عمر اخا له بمكة مشركا
ہم سے ابوجعفر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن فضیل نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے نافع سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے، لیکن اندر نہیں گئے۔ اس کے بعد علی رضی اللہ عنہ گھر آئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ذکر کیا ( کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف نہیں لائے ) علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اس کے دروازے پر دھاری دار پردہ لٹکا دیکھا تھا ( اس لیے واپس چلا آیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے دنیا ( کی آرائش و زیبائش ) سے کیا سروکار۔ علی رضی اللہ عنہ نے آ کر ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ مجھے جس طرح کا چاہیں اس سلسلے میں حکم فرمائیں۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات پہنچی تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں گھر میں اسے بھجوا دیں۔ انہیں اس کی ضرورت ہے۔
حدثنا محمد بن جعفر ابو جعفر، حدثنا ابن فضيل، عن ابيه، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم بيت فاطمة فلم يدخل عليها، وجاء علي فذكرت له ذلك فذكره للنبي صلى الله عليه وسلم قال " اني رايت على بابها سترا موشيا ". فقال " ما لي وللدنيا ". فاتاها علي فذكر ذلك لها فقالت ليامرني فيه بما شاء. قال ترسل به الى فلان. اهل بيت بهم حاجة
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھے عبدالمالک بن میسرہ نے خبر دی، کہا کہ میں نے زید بن وہب سے سنا کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی حلہ ہدیہ میں دیا تو میں نے اسے پہن لیا۔ لیکن جب غصے کے آثار روئے مبارک پر دیکھے تو اسے اپنی عورتوں میں پھاڑ کر تقسیم کر دیا۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، قال اخبرني عبد الملك بن ميسرة، قال سمعت زيد بن وهب، عن علي رضى الله عنه قال اهدى الى النبي صلى الله عليه وسلم حلة سيراء فلبستها، فرايت الغضب في وجهه، فشققتها بين نسايي
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، ان سے شیبان نے بیان کیا قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دبیز قسم کے ریشم کا ایک جبہ ہدیہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے استعمال سے ( مردوں کو ) منع فرماتے تھے۔ صحابہ کو بڑی حیرت ہوئی ( کہ کتنا عمدہ ریشم ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تمہیں اس پر حیرت ہے ) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا شيبان، عن قتادة، حدثنا انس رضى الله عنه قال اهدي للنبي صلى الله عليه وسلم جبة سندس، وكان ينهى عن الحرير، فعجب الناس منها فقال " والذي نفس محمد بيده لمناديل سعد بن معاذ في الجنة احسن من هذا ". وقال سعيد عن قتادة، عن انس، ان اكيدر دومة اهدى الى النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، ان سے شیبان نے بیان کیا قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دبیز قسم کے ریشم کا ایک جبہ ہدیہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے استعمال سے ( مردوں کو ) منع فرماتے تھے۔ صحابہ کو بڑی حیرت ہوئی ( کہ کتنا عمدہ ریشم ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تمہیں اس پر حیرت ہے ) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا شيبان، عن قتادة، حدثنا انس رضى الله عنه قال اهدي للنبي صلى الله عليه وسلم جبة سندس، وكان ينهى عن الحرير، فعجب الناس منها فقال " والذي نفس محمد بيده لمناديل سعد بن معاذ في الجنة احسن من هذا ". وقال سعيد عن قتادة، عن انس، ان اكيدر دومة اهدى الى النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ہشام بن زید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زہر ملا ہوا بکری کا گوشت لائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا ( لیکن فوراً ہی فرمایا کہ اس میں زہر پڑا ہوا ہے ) پھر جب اسے لایا گیا ( اور اس نے زہر ڈالنے کا اقرار بھی کر لیا ) تو کہا گیا کہ کیوں نہ اسے قتل کر دیا جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس زہر کا اثر میں نے ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو میں محسوس کیا۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، عن هشام بن زيد، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان يهودية، اتت النبي صلى الله عليه وسلم بشاة مسمومة، فاكل منها فجيء بها فقيل الا نقتلها. قال " لا ". فما زلت اعرفها في لهوات رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم ایک سو تیس آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( ایک سفر میں ) تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا کسی کے ساتھ کھانے کی بھی کوئی چیز ہے؟ ایک صحابی کے ساتھ تقریباً ایک صاع کھانا ( آٹا ) تھا۔ وہ آٹا گوندھا گیا۔ پھر ایک لمبا تڑنگا مشرک پریشان حال بکریاں ہانکتا ہوا آیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ بیچنے کے لیے ہیں۔ یا کسی کا عطیہ ہے یا آپ نے ( عطیہ کی بجائے ) ہبہ فرمایا۔ اس نے کہا کہ نہیں بیچنے کے لیے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی پھر وہ ذبح کی گئی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کلیجی بھوننے کے لیے کہا۔ قسم اللہ کی ایک سو تیس اصحاب میں سے ہر ایک کو اس کلیجی میں سے کاٹ کے دیا۔ جو موجود تھے انہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً ہی دے دیا اور جو اس وقت موجود نہیں تھے ان کا حصہ محفوظ رکھ لیا۔ پھر بکری کے گوشت کو دو بڑی قابوں میں رکھا گیا اور سب نے خوب سیر ہو کر کھایا۔ جو کچھ قابوں میں بچ گیا تھا اسے اونٹ پر رکھ کر ہم واپس لائے۔ او کما قال۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا المعتمر بن سليمان، عن ابيه، عن ابي عثمان، عن عبد الرحمن بن ابي بكر رضى الله عنهما قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثين وماية فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هل مع احد منكم طعام ". فاذا مع رجل صاع من طعام او نحوه، فعجن ثم جاء رجل مشرك مشعان طويل بغنم يسوقها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " بيعا ام عطية او قال ام هبة ". قال لا، بل بيع. فاشترى منه شاة، فصنعت وامر النبي صلى الله عليه وسلم بسواد البطن ان يشوى، وايم الله ما في الثلاثين والماية الا قد حز النبي صلى الله عليه وسلم له حزة من سواد بطنها، ان كان شاهدا اعطاها اياه، وان كان غايبا خبا له، فجعل منها قصعتين، فاكلوا اجمعون، وشبعنا، ففضلت القصعتان، فحملناه على البعير. او كما قال
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ایک شخص کے یہاں ایک ریشمی جوڑا فروخت ہو رہا ہے۔ تو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ یہ جوڑا خرید لیجئیے تاکہ جمعہ کے دن اور جب کوئی وفد آئے تو آپ اسے پہنا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سے ریشمی جوڑے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اسے کس طرح پہن سکتا ہوں جب کہ آپ خود ہی اس کے متعلق جو کچھ ارشاد فرمانا تھا، فرما چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا بلکہ اس لیے دیا کہ تم اسے بیچ دو یا کسی ( غیر مسلم ) کو پہنا دو۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مکے میں اپنے ایک بھائی کے گھر بھیج دیا جو ابھی اسلام نہیں لایا تھا۔
حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان بن بلال، قال حدثني عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال راى عمر حلة على رجل تباع فقال للنبي صلى الله عليه وسلم ابتع هذه الحلة تلبسها يوم الجمعة واذا جاءك الوفد. فقال " انما يلبس هذا من لا خلاق له في الاخرة ". فاتي رسول الله صلى الله عليه وسلم منها بحلل فارسل الى عمر منها بحلة. فقال عمر كيف البسها وقد قلت فيها ما قلت قال " اني لم اكسكها لتلبسها، تبيعها او تكسوها ". فارسل بها عمر الى اخ له من اهل مكة قبل ان يسلم
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ہشام سے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میری والدہ ( قتیلہ بنت عبدالعزیٰ ) جو مشرکہ تھیں، میرے یہاں آئیں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، میں نے یہ بھی کہا کہ وہ ( مجھ سے ملاقات کی ) بہت خواہشمند ہیں، تو کیا میں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کر۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن اسماء بنت ابي بكر رضى الله عنهما قالت قدمت على امي وهى مشركة، في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاستفتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت {ان امي قدمت} وهى راغبة، افاصل امي قال " نعم صلي امك
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام اور شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا سعید بن مسیب سے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لینے والا ایسا ہے جیسے اپنی کی ہوئی قے کو چاٹنے والا۔“
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، وشعبة، قالا حدثنا قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " العايد في هبته كالعايد في قييه
ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا عکرمہ سے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہم مسلمانوں کو بری مثال نہ اختیار کرنی چاہئے۔ اس شخص کی سی جو اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لے لے، وہ اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے خود چاٹتا ہے۔“
حدثنا عبد الرحمن بن المبارك، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ليس لنا مثل السوء، الذي يعود في هبته كالكلب يرجع في قييه
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا زید بن اسلم سے، ان سے ان کے باپ نے کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے ( ایک شخص کو ) دیا ) ۔ جسے میں نے وہ گھوڑا دیا تھا، اس نے اسے دبلا کر دیا۔ اس لیے میرا ارادہ ہوا کہ اس سے اپنا وہ گھوڑا خرید لوں، میرا یہ بھی خیال تھا کہ وہ شخص وہ گھوڑا سستے داموں پر بیچ دے گا۔ لیکن جب میں نے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تم اسے نہ خریدو، خواہ تمہیں وہ ایک ہی درہم میں کیوں نہ دے۔ کیونکہ اپنے صدقہ کو واپس لینے والا شخص اس کتے کی طرح ہے جو اپنی ہی قے خود چاٹتا ہے۔
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، سمعت عمر بن الخطاب رضى الله عنه يقول حملت على فرس في سبيل الله، فاضاعه الذي كان عنده، فاردت ان اشتريه منه، وظننت انه بايعه برخص، فسالت عن ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال " لا تشتره، وان اعطاكه بدرهم واحد، فان العايد في صدقته كالكلب يعود في قييه
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی کہ ابن جدعان کے غلام بنوصہیب نے دعویٰ کیا کہ دو مکان اور ایک حجرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صہیب رضی اللہ عنہ کو عنایت فرمایا تھا ( جو وراثت میں انہیں ملنا چاہئے ) خلیفہ مروان بن حکم نے پوچھا کہ تمہارے حق میں اس دعویٰ پر گواہ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما۔ مروان نے آپ کو بلایا تو آپ نے گواہی دی کہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صہیب رضی اللہ عنہ کو دو مکان اور ایک حجرہ دیا تھا۔ مروان نے آپ کی گواہی پر فیصلہ ان کے حق میں کر دیا۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام بن يوسف، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني عبد الله بن عبيد الله بن ابي مليكة، ان بني صهيب، مولى ابن جدعان ادعوا بيتين وحجرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعطى ذلك صهيبا، فقال مروان من يشهد لكما على ذلك قالوا ابن عمر. فدعاه فشهد لاعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم صهيبا بيتين وحجرة. فقضى مروان بشهادته لهم
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ کے متعلق فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس کا ہو جاتا ہے جسے ہبہ کیا گیا ہو۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن جابر رضى الله عنه قال قضى النبي صلى الله عليه وسلم بالعمرى انها لمن وهبت له