Loading...

Loading...
کتب
۷۱ احادیث
ہم سے عاصم بن علی ابوالحسین نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے مسلمان عورتو! ہرگز کوئی پڑوسن اپنی دوسری پڑوسن کے لیے ( معمولی ہدیہ کو بھی ) حقیر نہ سمجھے، خواہ بکری کے کھر کا ہی کیوں نہ ہو۔“
حدثنا عاصم بن علي، حدثنا ابن ابي ذيب، عن المقبري، {عن ابيه،} عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يا نساء المسلمات لا تحقرن جارة لجارتها، ولو فرسن شاة
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے یزید بن رومان سے، وہ عروہ سے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آپ نے عروہ سے کہا، میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ( یہ حال تھا کہ ) ہم ایک چاند دیکھتے، پھر دوسرا دیکھتے، پھر تیسرا دیکھتے، اسی طرح دو دو مہینے گزر جاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں ( کھانا پکانے کے لیے ) آگ نہ جلتی تھی۔ میں نے پوچھا۔ خالہ اماں! پھر آپ لوگ زندہ کس طرح رہتی تھیں؟ آپ نے فرمایا کہ صرف دو کالی چیزوں کھجور اور پانی پر۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند انصاری پڑوسی تھے۔ جن کے پاس دودھ دینے والی بکریاں تھیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بھی ان کا دودھ تحفہ کے طور پر پہنچا جایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہمیں بھی پلا دیا کرتے تھے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الاويسي، حدثنا ابن ابي حازم، عن ابيه، عن يزيد بن رومان، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها انها قالت لعروة ابن اختي، ان كنا لننظر الى الهلال ثم الهلال، ثلاثة اهلة في شهرين، وما اوقدت في ابيات رسول الله صلى الله عليه وسلم نار. فقلت يا خالة ما كان يعيشكم قالت الاسودان التمر والماء، الا انه قد كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم جيران من الانصار كانت لهم منايح، وكانوا يمنحون رسول الله صلى الله عليه وسلم من البانهم، فيسقينا
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا شعبہ سے، وہ سلیمان سے، وہ ابوحازم سے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر مجھے بازو اور پائے ( کے گوشت ) پر بھی دعوت دی جائے تو میں قبول کر لوں گا اور مجھے بازو یا پائے ( کے گوشت ) کا تحفہ بھیجا جائے تو اسے بھی قبول کر لوں گا۔“
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن سليمان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لو دعيت الى ذراع او كراع لاجبت، ولو اهدي الى ذراع او كراع لقبلت
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان، کہا ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہاجرہ عورت کے پاس ( اپنا آدمی ) بھیجا۔ ان کا ایک غلام بڑھئی تھا۔ ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے غلام سے ہمارے لیے لکڑیوں کا ایک منبر بنانے کے لیے کہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے غلام سے کہا۔ وہ غابہ سے جا کر جھاؤ کاٹ لایا اور اسی کا ایک منبر بنا دیا۔ جب وہ منبر بنا چکے تو اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ منبر بن کر تیار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا کہ اسے میرے پاس بھجوا دیں۔ جب لوگ اسے لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے اٹھایا اور جہاں تم اب دیکھ رہے ہو۔ وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھا۔
حدثنا ابن ابي مريم، حدثنا ابو غسان، قال حدثني ابو حازم، عن سهل رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم ارسل الى امراة من المهاجرين، وكان لها غلام نجار قال لها " مري عبدك فليعمل لنا اعواد المنبر ". فامرت عبدها، فذهب فقطع من الطرفاء، فصنع له منبرا، فلما قضاه ارسلت الى النبي صلى الله عليه وسلم انه قد قضاه، قال صلى الله عليه وسلم " ارسلي به الى ". فجاءوا به فاحتمله النبي صلى الله عليه وسلم فوضعه حيث ترون
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ابوحازم سے، وہ عبداللہ بن ابی قتادہ سلمی سے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ مکہ کے راستے میں ایک جگہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے آگے قیام فرما تھے۔ ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) اور لوگ تو احرام باندھے ہوئے تھے لیکن میرا احرام نہیں تھا۔ میرے ساتھیوں نے ایک گورخر دیکھا۔ میں اس وقت اپنی جوتی گانٹھنے میں مشغول تھا۔ ان لوگوں نے مجھ کو کچھ خبر نہیں دی۔ لیکن ان کی خواہش یہی تھی کہ کسی طرح میں گورخر کو دیکھ لوں۔ چنانچہ میں نے جو نظر اٹھائی تو گورخر دکھائی دیا۔ میں فوراً گھوڑے کے پاس گیا اور اس پر زین کس کر سوار ہو گیا، مگر اتفاق سے ( جلدی میں ) کوڑا اور نیزہ دونوں بھول گیا۔ اس لیے میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ مجھے کوڑا اور نیزہ اٹھا دیں۔ انہوں نے کہا ہرگز نہیں قسم اللہ کی، ہم تمہارے ( شکار میں ) کسی قسم کی مدد نہیں کر سکتے۔ ( کیونکہ ہم سب لوگ حالت احرام میں ہیں ) مجھے اس پر غصہ آیا اور میں نے خود ہی اتر کر دونوں چیزیں لے لیں۔ پھر سوار ہو کر گورخر پر حملہ کیا اور اس کو شکار کر لایا۔ وہ مر بھی چکا تھا۔ اب لوگوں نے کہا کہ اسے کھانا چاہئے۔ لیکن پھر احرام کی حالت میں اسے کھانے ( کے جواز ) پر شبہ ہوا۔ ( لیکن بعض لوگوں نے شبہ نہیں کیا اور گوشت کھایا ) پھر ہم آگے بڑھے اور میں نے اس گورخر کا ایک بازو چھپا رکھا تھا۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو اس کے متعلق آپ سے سوال کیا، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے لیے شکار کے گوشت کھانے کا فتویٰ دیا ) اور دریافت فرمایا کہ اس میں سے کچھ بچا ہوا گوشت تمہارے پاس موجود بھی ہے؟ میں نے کہا کہ جی ہاں! اور وہی بازو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا۔ یہاں تک کہ وہ ختم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس وقت احرام سے تھے ( ابوحازم نے کہا کہ ) مجھ سے یہی حدیث زید بن اسلم نے بیان کی، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني محمد بن جعفر، عن ابي حازم، عن عبد الله بن ابي قتادة السلمي، عن ابيه رضى الله عنه قال كنت يوما جالسا مع رجال من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في منزل في طريق مكة ورسول الله صلى الله عليه وسلم نازل امامنا والقوم محرمون، وانا غير محرم، فابصروا حمارا وحشيا، وانا مشغول اخصف نعلي، فلم يوذنوني به، واحبوا لو اني ابصرته، والتفت فابصرته، فقمت الى الفرس فاسرجته ثم ركبت ونسيت السوط والرمح فقلت لهم ناولوني السوط والرمح. فقالوا لا والله، لا نعينك عليه بشىء. فغضبت فنزلت فاخذتهما، ثم ركبت، فشددت على الحمار فعقرته، ثم جيت به وقد مات، فوقعوا فيه ياكلونه، ثم انهم شكوا في اكلهم اياه، وهم حرم، فرحنا وخبات العضد معي، فادركنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالناه عن ذلك فقال " معكم منه شىء ". فقلت نعم. فناولته العضد فاكلها، حتى نفدها وهو محرم. فحدثني به زيد بن اسلم عن عطاء بن يسار عن ابي قتادة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے، کہا کہ مجھ سے ابوطوالہ نے جن کا نام عبداللہ بن عبدالرحمٰن تھا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اسی گھر میں تشریف لائے اور پانی طلب فرمایا۔ ہمارے پاس ایک بکری تھی، اسے ہم نے دوہا۔ پھر میں نے اسی کنویں کا پانی ملا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( لسی بنا کر ) پیش کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ سامنے تھے اور ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پی کر فارغ ہوئے تو ( پیالے میں کچھ دودھ بچ گیا تھا اس لیے ) عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیہاتی کو عطا فرمایا۔ ( کیونکہ وہ دائیں طرف تھا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دائیں طرف بیٹھنے والے، دائیں طرف بیٹھنے والے ہی حق رکھتے ہیں۔ پس خبردار دائیں طرف ہی سے شروع کیا کرو۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہی سنت ہے، یہی سنت ہے، تین مرتبہ ( آپ نے اس بات کو دہرایا ) ۔
حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان بن بلال، قال حدثني ابو طوالة اسمه عبد الله بن عبد الرحمن قال سمعت انسا رضى الله عنه يقول اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم في دارنا هذه، فاستسقى، فحلبنا له شاة لنا، ثم شبته من ماء بيرنا هذه، فاعطيته وابو بكر عن يساره، وعمر تجاهه واعرابي عن يمينه فلما فرغ قال عمر هذا ابو بكر. فاعطى الاعرابي، ثم قال " الايمنون، الايمنون، الا فيمنوا ". قال انس فهى سنة فهى سنة. ثلاث مرات
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن زید بن انس بن مالک نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مرالظہران نامی جگہ میں ہم نے ایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ لوگ ( اس کے پیچھے ) دوڑے اور اسے تھکا دیا اور میں نے قریب پہنچ کر اسے پکڑ لیا۔ پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاں لایا۔ انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کے پیچھے کا یا دونوں رانوں کا گوشت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ ( شعبہ نے بعد میں یقین کے ساتھ ) کہا کہ دونوں رانیں انہوں نے بھیجی تھیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا تھا میں نے پوچھا اور اس میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ تناول بھی فرمایا؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں! کچھ تناول فرمایا تھا۔ اس کے بعد پھر انہوں نے کہا کہ آپ نے وہ ہدیہ قبول فرما لیا تھا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن هشام بن زيد بن انس بن مالك، عن انس رضى الله عنه قال انفجنا ارنبا بمر الظهران، فسعى القوم فلغبوا، فادركتها فاخذتها، فاتيت بها ابا طلحة فذبحها، وبعث بها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم بوركها او فخذيها قال فخذيها لا شك فيه فقبله. قلت واكل منه قال واكل منه. ثم قال بعد قبله
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ابن شہاب سے، وہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور اور وہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گورخر کا تحفہ پیش کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مقام ابواء یا مقام ودان میں تھے ( راوی کو شبہ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تحفہ واپس کر دیا۔ پھر ان کے چہرے پر ( رنج کے آثار ) دیکھ کر فرمایا کہ میں نے یہ تحفہ صرف اس لیے واپس کیا ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن عبد الله بن عباس، عن الصعب بن جثامة رضى الله عنهم انه اهدى لرسول الله صلى الله عليه وسلم حمارا وحشيا وهو بالابواء او بودان فرد عليه، فلما راى ما في وجهه قال " اما انا لم نرده عليك الا انا حرم
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ لوگ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) تحائف بھیجنے کے لیے عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اپنے ہدایا سے، یا اس خاص دن کے انتظار سے ( راوی کو شک ہے ) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی حاصل کرنا چاہتے تھے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، حدثنا عبدة، حدثنا هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها ان الناس، كانوا يتحرون بهداياهم يوم عايشة، يبتغون بها او يبتغون بذلك مرضاة رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جعفر بن ایاس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان کی خالہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پنیر، گھی اور گوہ ( ساہنہ ) کے تحائف بھیجے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پنیر اور گھی میں سے تو تناول فرمایا لیکن گوہ پسند نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ دی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( اسی ) دستر خوان پر گوہ ( ساہنہ ) کو بھی کھایا گیا اور اگر وہ حرام ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر کیوں کھائی جاتی۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا جعفر بن اياس، قال سمعت سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال اهدت ام حفيد خالة ابن عباس الى النبي صلى الله عليه وسلم اقطا وسمنا واضبا، فاكل النبي صلى الله عليه وسلم من الاقط والسمن، وترك الضب تقذرا. قال ابن عباس فاكل على مايدة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولو كان حراما ما اكل على مايدة رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا انہوں نے محمد بن زیاد سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی کھانے کی چیز لائی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے یہ تحفہ ہے یا صدقہ؟ اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سے فرماتے کہ کھاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود نہ کھاتے اور اگر کہا جاتا کہ تحفہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ہاتھ بڑھاتے اور صحابہ کے ساتھ اسے کھاتے۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا معن، قال حدثني ابراهيم بن طهمان، عن محمد بن زياد، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم "اذا اتي بطعام سال عنه اهدية ام صدقة فان قيل صدقة. قال لاصحابه كلوا. ولم ياكل، وان قيل هدية. ضرب بيده صلى الله عليه وسلم فاكل معهم
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ گوشت پیش کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے بطور صدقہ کے دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ان کے لیے یہ صدقہ ہے اور ہمارے لیے ( جب ان کے یہاں سے پہنچا تو ) ہدیہ ہے۔“
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم بلحم فقيل تصدق على بريرة قال " هو لها صدقة، ولنا هدية
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا عبدالرحمٰن بن قاسم سے، شعبہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عبدالرحمٰن سے سنی تھی اور انہوں نے قاسم سے روایت کی، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو ( آزاد کرنے کے لیے ) خریدنا چاہا۔ لیکن ان کے مالکوں نے ولاء کی شرط اپنے لیے لگائی۔ جب اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو انہیں خرید کر آزاد کر دے، ولاء تو اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ اور بریرہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ( صدقہ کا ) گوشت آیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا یہ وہی ہے جو بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے۔ یہ ان کے لیے تو صدقہ ہے لیکن ہمارے لیے ( چونکہ ان کے گھر سے بطور ہدیہ ملا ہے ) ہدیہ ہے اور ( آزادی کے بعد بریرہ کو ) اختیار دیا گیا تھا ( کہ اگر چاہیں تو اپنے نکاح کو فسخ کر سکتی ہیں ) عبدالرحمٰن نے پوچھا بریرہ رضی اللہ عنہ کے خاوند ( مغیث رضی اللہ عنہ ) غلام تھے یا آزاد؟ شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمٰن سے ان کے خاوند کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں وہ غلام تھے یا آزاد۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن القاسم، قال سمعته منه، عن القاسم، عن عايشة رضى الله عنها انها ارادت ان تشتري بريرة، وانهم اشترطوا ولاءها، فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اشتريها فاعتقيها، فانما الولاء لمن اعتق ". واهدي لها لحم، فقيل للنبي صلى الله عليه وسلم هذا تصدق على بريرة. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هو لها صدقة ولنا هدية ". وخيرت. قال عبد الرحمن زوجها حر او عبد قال شعبة سالت عبد الرحمن عن زوجها. قال لا ادري احر ام عبد
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو خالد بن عبداللہ نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے حفصہ بنت سیرین سے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے اور دریافت فرمایا، کیا کوئی چیز ( کھانے کی ) تمہارے پاس ہے؟ انہوں نے کہا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں جو آپ نے صدقہ کی بکری بھیجی تھی، اس کا گوشت انہوں نے بھیجا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اپنی جگہ پہنچ چکی۔
حدثنا محمد بن مقاتل ابو الحسن، اخبرنا خالد بن عبد الله، عن خالد الحذاء، عن حفصة بنت سيرين، عن ام عطية، قالت دخل النبي صلى الله عليه وسلم على عايشة رضى الله عنها فقال " عندكم شىء ". قالت لا، الا شىء بعثت به ام عطية من الشاة التي بعث اليها من الصدقة. قال " انها قد بلغت محلها
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ہشام سے، ان سے ان کے والد نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لوگ تحائف بھیجنے کے لیے میری باری کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا میری سوکنیں ( امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن ) جمع تھیں اس وقت انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بطور شکایت لوگوں کی اس روش کا ) ذکر کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان الناس يتحرون بهداياهم يومي. وقالت ام سلمة ان صواحبي اجتمعن. فذكرت له، فاعرض عنها
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید بن ابی اویس نے، ان سے سلیمان نے ہشام بن عروہ سے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج دو گروہ میں تھیں۔ ایک میں عائشہ، حفصہ، صفیہ اور سودہ رضوان اللہ علیہن اور دوسری میں ام سلمہ اور بقیہ تمام ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن تھیں۔ مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ محبت کا علم تھا اس لیے جب کسی کے پاس کوئی تحفہ ہوتا اور وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تو انتظار کرتا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی باری ہوتی تو تحفہ دینے والے صاحب اپنا تحفہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجتے۔ اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی جماعت کی ازواج مطہرات نے آپس میں مشورہ کیا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے فرما دیں کہ جسے آپ کے یہاں تحفہ بھیجنا ہو وہ جہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں وہیں بھیجا کرے۔ چنانچہ ان ازواج کے مشورہ کے مطابق انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر ان خواتین نے پوچھا تو انہوں نے بتا دیا کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ازواج مطہرات نے کہا کہ پھر ایک مرتبہ کہو۔ انہوں نے بیان کیا پھر جب آپ کی باری آئی تو دوبارہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا کوئی جواب ہی نہیں دیا۔ ازواج نے اس مرتبہ ان سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسئلہ پر بلواؤ تو سہی۔ جب ان کی باری آئی تو انہوں نے پھر کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ فرمایا۔ عائشہ کے بارے میں مجھے تکلیف نہ دو۔ عائشہ کے سوا اپنی بیویوں میں سے کسی کے کپڑے میں بھی مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر انہوں نے عرض کیا، آپ کو ایذا پہنچانے کی وجہ سے میں اللہ کے حضور میں توبہ کرتی ہوں۔ پھر ان ازواج مطہرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ کہلوایا کہ آپ کی ازواج ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے بارے میں اللہ کے لیے آپ سے انصاف چاہتی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میری بیٹی! کیا تم وہ پسند نہیں کرتی جو میں پسند کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں، اس کے بعد وہ واپس آ گئیں اور ازواج کو اطلاع دی۔ انہوں نے ان سے پھر دوبارہ خدمت نبوی میں جانے کے لیے کہا۔ لیکن آپ نے دوبارہ جانے سے انکار کیا تو انہوں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو بھیجا۔ وہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئیں تو انہوں نے سخت گفتگو کی اور کہا کہ آپ کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے بارے میں آپ سے اللہ کے لیے انصاف مانگتی ہیں اور ان کی آواز اونچی ہو گئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا وہیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے ( ان کے منہ پر ) انہیں بھی برا بھلا کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھنے لگے کہ وہ کچھ بولتی ہیں یا نہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی بول پڑیں اور زینب رضی اللہ عنہا کی باتوں کا جواب دینے لگیں اور آخر انہیں خاموش کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ یہ ابوبکر کی بیٹی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ آخر کلام فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے متعلق ہشام بن عروہ نے ایک اور شخص سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے زہری سے روایت کی اور انہوں نے محمد بن عبدالرحمٰن سے اور ابومروان نے بیان کیا کہ ہشام سے اور انہوں نے عروہ سے کہ لوگ تحائف بھیجنے کے لیے عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار کیا کرتے تھے اور ہشام کی ایک روایت قریش کے ایک صاحب اور ایک دوسرے صاحب سے جو غلاموں میں سے تھے، بھی ہے۔ وہ زہری سے نقل کرتے ہیں اور وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ( اندر آنے کی ) اجازت چاہی تو میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی خدمت میں موجود تھی۔
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عزرہ بن ثابت انصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ثمامہ بن عبداللہ نے بیان کیا، عزرہ نے کہا کہ میں ثمامہ بن عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے خوشبو عنایت فرمائی اور بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ خوشبو کو واپس نہیں کرتے تھے۔ ثمامہ نے کہا کہ انس رضی اللہ عنہ کا گمان تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو کو واپس نہیں فرمایا کرتے تھے۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا عزرة بن ثابت الانصاري، قال حدثني ثمامة بن عبد الله، قال دخلت عليه فناولني طيبا، قال كان انس رضى الله عنه لا يرد الطيب. قال وزعم انس ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يرد الطيب
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال ذكر عروة ان المسور بن مخرمة، رضى الله عنهما ومروان اخبراه ان النبي صلى الله عليه وسلم حين جاءه وفد هوازن قام في الناس، فاثنى على الله بما هو اهله، ثم قال " اما بعد، فان اخوانكم جاءونا تايبين، واني رايت ان ارد اليهم سبيهم، فمن احب منكم ان يطيب ذلك فليفعل، ومن احب ان يكون على حظه حتى نعطيه اياه من اول ما يفيء الله علينا ". فقال الناس طيبنا لك
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال ذكر عروة ان المسور بن مخرمة، رضى الله عنهما ومروان اخبراه ان النبي صلى الله عليه وسلم حين جاءه وفد هوازن قام في الناس، فاثنى على الله بما هو اهله، ثم قال " اما بعد، فان اخوانكم جاءونا تايبين، واني رايت ان ارد اليهم سبيهم، فمن احب منكم ان يطيب ذلك فليفعل، ومن احب ان يكون على حظه حتى نعطيه اياه من اول ما يفيء الله علينا ". فقال الناس طيبنا لك
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبل الهدية ويثيب عليها. لم يذكر وكيع ومحاضر عن هشام عن ابيه عن عايشة
حدثنا اسماعيل، قال حدثني اخي، عن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها ان نساء، رسول الله صلى الله عليه وسلم كن حزبين فحزب فيه عايشة وحفصة وصفية وسودة، والحزب الاخر ام سلمة وساير نساء رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان المسلمون قد علموا حب رسول الله صلى الله عليه وسلم عايشة، فاذا كانت عند احدهم هدية يريد ان يهديها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم اخرها، حتى اذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيت عايشة بعث صاحب الهدية الى رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيت عايشة، فكلم حزب ام سلمة، فقلن لها كلمي رسول الله صلى الله عليه وسلم يكلم الناس، فيقول من اراد ان يهدي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم هدية فليهده اليه حيث كان من بيوت نسايه، فكلمته ام سلمة بما قلن، فلم يقل لها شييا، فسالنها. فقالت ما قال لي شييا. فقلن لها فكلميه. قالت فكلمته حين دار اليها ايضا، فلم يقل لها شييا، فسالنها. فقالت ما قال لي شييا. فقلن لها كلميه حتى يكلمك. فدار اليها فكلمته. فقال لها " لا توذيني في عايشة، فان الوحى لم ياتني، وانا في ثوب امراة الا عايشة ". قالت فقالت اتوب الى الله من اذاك يا رسول الله. ثم انهن دعون فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم فارسلن الى رسول الله صلى الله عليه وسلم تقول ان نساءك ينشدنك الله العدل في بنت ابي بكر. فكلمته. فقال " يا بنية، الا تحبين ما احب ". قالت بلى. فرجعت اليهن، فاخبرتهن. فقلن ارجعي اليه. فابت ان ترجع، فارسلن زينب بنت جحش، فاتته فاغلظت، وقالت ان نساءك ينشدنك الله العدل في بنت ابن ابي قحافة. فرفعت صوتها، حتى تناولت عايشة. وهى قاعدة، فسبتها حتى ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لينظر الى عايشة هل تكلم قال فتكلمت عايشة ترد على زينب، حتى اسكتتها. قالت فنظر النبي صلى الله عليه وسلم الى عايشة، وقال " انها بنت ابي بكر ". قال البخاري الكلام الاخير قصة فاطمة يذكر عن هشام بن عروة عن رجل عن الزهري عن محمد بن عبد الرحمن. وقال ابو مروان عن هشام عن عروة كان الناس يتحرون بهداياهم يوم عايشة. وعن هشام عن رجل من قريش، ورجل من الموالي، عن الزهري عن محمد بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام قالت عايشة كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم فاستاذنت فاطمة