Loading...

Loading...
کتب
۸ احادیث
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زرہ جَو کے بدلے گروی رکھی تھی۔ ایک دن میں خود آپ کے پاس جَو کی روٹی اور باسی چربی لے کر حاضر ہوا تھا۔ میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ آل محمد پر کوئی صبح اور کوئی شام ایسی نہیں آئی کہ ایک صاع سے زیادہ کچھ اور موجود رہا ہو، حالانکہ آپ کے نو گھر تھے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، حدثنا قتادة، عن انس رضى الله عنه قال ولقد رهن النبي صلى الله عليه وسلم درعه بشعير، ومشيت الى النبي صلى الله عليه وسلم بخبز شعير واهالة سنخة، ولقد سمعته يقول " ما اصبح لال محمد صلى الله عليه وسلم الا صاع، ولا امسى ". وانهم لتسعة ابيات
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ ہم نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے یہاں قرض میں رہن اور ضامن کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم سے اسود نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ خریدا ایک مقررہ مدت کے قرض پر اور اپنی زرہ اس کے ہاں گروی رکھی تھی۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الاعمش، قال تذاكرنا عند ابراهيم الرهن، والقبيل في السلف، فقال ابراهيم حدثنا الاسود عن عايشة رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم اشترى من يهودي طعاما الى اجل ورهنه درعه
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعب بن اشرف ( یہودی اسلام کا پکا دشمن ) کا کام کون تمام کرے گا کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو بہت تکلیف دے رکھی ہے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ( یہ خدمت انجام دوں گا ) چنانچہ وہ اس کے پاس گئے اور کہا کہ ایک یا دو وسق غلہ قرض لینے کے ارادے سے آیا ہوں۔ کعب نے کہا لیکن تمہیں اپنی بیویوں کو میرے یہاں گروی رکھنا ہو گا۔ محمد بن مسلمہ اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم اپنی بیویوں کو تمہارے پاس کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں جب کہ تم سارے عرب میں خوبصورت ہو۔ اس نے کہا کہ پھر اپنی اولاد گروی رکھ دو۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی اولاد کس طرح رہن رکھ سکتے ہیں اسی پر انہیں گالی دی جایا کرے گی کہ ایک دو وسق غلے کے لیے رہن رکھ دیے گئے تھے تو ہمارے لیے بڑی شرم کی بات ہو گی۔ البتہ ہم اپنے ہتھیار تمہارے یہاں رہن رکھ سکتے ہیں۔ سفیان نے کہا کہ لفظ «لأمة» سے مراد ہتھیار ہیں۔ پھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس سے دوبارہ ملنے کا وعدہ کر کے ( چلے آئے اور رات کو اس کے یہاں پہنچ کر ) اسے قتل کر دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال عمرو سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لكعب بن الاشرف فانه اذى الله ورسوله صلى الله عليه وسلم ". فقال محمد بن مسلمة انا. فاتاه فقال اردنا ان تسلفنا وسقا او وسقين. فقال ارهنوني نساءكم. قالوا كيف نرهنك نساءنا، وانت اجمل العرب قال فارهنوني ابناءكم. قالوا كيف نرهن ابناءنا فيسب احدهم، فيقال رهن بوسق او وسقين هذا عار علينا ولكنا نرهنك اللامة قال سفيان يعني السلاح فوعده ان ياتيه فقتلوه، ثم اتوا النبي صلى الله عليه وسلم فاخبروه
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گروی جانور پر اس کا خرچ نکالنے کے لیے سواری کی جائے، دودھ والا جانور گروی ہو تو اس کا دودھ پیا جائے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا زكرياء، عن عامر، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يقول " الرهن يركب بنفقته، ويشرب لبن الدر اذا كان مرهونا
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں زکریا نے خبر دی، انہیں شعبی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، گروی جانور پر اس کے خرچ کے بدل سواری کی جائے۔ اسی طرح دودھ والے جانور کا جب وہ گروی ہو تو خرچ کے بدل اس کا دودھ پیا جائے اور جو کوئی سواری کرے یا دودھ پئے وہی اس کا خرچ اٹھائے۔
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا زكرياء، عن الشعبي، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم. " الرهن يركب بنفقته اذا كان مرهونا، ولبن الدر يشرب بنفقته اذا كان مرهونا، وعلى الذي يركب ويشرب النفقة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مدت ٹھہرا کر ایک یہودی سے غلہ خریدا اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت اشترى رسول الله صلى الله عليه وسلم من يهودي طعاما ورهنه درعه
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ( دو عورتوں کے مقدمہ میں ) لکھا تو اس کے جواب میں انہوں نے تحریر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تھا کہ ( اگر مدعی گواہ نہ پیش کر سکے ) تو مدعیٰ علیہ سے قسم لی جائے گی۔
حدثنا خلاد بن يحيى، حدثنا نافع بن عمر، عن ابن ابي مليكة، قال كتبت الى ابن عباس فكتب الى ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى ان اليمين على المدعى عليه
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، قال قال عبد الله رضى الله عنه من حلف على يمين، يستحق بها مالا وهو فيها فاجر، لقي الله وهو عليه غضبان، فانزل الله تصديق ذلك {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا} فقرا الى {عذاب اليم}.ثم ان الاشعث بن قيس خرج الينا فقال ما يحدثكم ابو عبد الرحمن قال فحدثناه قال فقال صدق لفي والله انزلت، كانت بيني وبين رجل خصومة في بير فاختصمنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " شاهدك او يمينه ". قلت انه اذا يحلف ولا يبالي. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين يستحق بها مالا هو فيها فاجر، لقي الله وهو عليه غضبان ". فانزل الله تصديق ذلك، ثم اقترا هذه الاية {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا} الى {ولهم عذاب اليم}
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، قال قال عبد الله رضى الله عنه من حلف على يمين، يستحق بها مالا وهو فيها فاجر، لقي الله وهو عليه غضبان، فانزل الله تصديق ذلك {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا} فقرا الى {عذاب اليم}.ثم ان الاشعث بن قيس خرج الينا فقال ما يحدثكم ابو عبد الرحمن قال فحدثناه قال فقال صدق لفي والله انزلت، كانت بيني وبين رجل خصومة في بير فاختصمنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " شاهدك او يمينه ". قلت انه اذا يحلف ولا يبالي. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين يستحق بها مالا هو فيها فاجر، لقي الله وهو عليه غضبان ". فانزل الله تصديق ذلك، ثم اقترا هذه الاية {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا} الى {ولهم عذاب اليم}